یہ میرےدل کا کیا کسور! long pakistani sex

Share


یہ میرےدل کا کیا کسور! ویسےتو پروین سےمیرا روز ھی سونےسےپہلےئیکاکار ھوتا تھا। پرن‍ت وہ شوہر – بیوی والا سمبھوگ ھی ھوتا تھا। اُس دن میری شادی کی 11ویںسالگرہ تھی। پروین نےمجھےبڑا سرپرائج دنےکا وعدہ کیا تھا। میںبہت اُت‍سک تھی। کئی بار پروین سےپوچھو بھی چکی تھی کہ وہ مجھےک‍یا سرپرائج دنےوالےہیں ؟ پر وہ بھی تو پورےجدی تھی। میری ھر کوشش بیکار ھو رہی تھی। پروین نےبول دیا تھا کہ اس بار سالگرہ گھر میں ھی منایہنگےکسی باہر کےمہمان کو نہیںبلایہنگےبس ھم دونوںاور ھمارےدو بچ‍چی। میںب‍یوٹی پارلر سےپھیشیل کرواکر بچ‍چوںکےآنےسےپہلےگھر پہنچ گئی। ھم مدھ‍یم ورگیےخاندانوں کی یہی جن‍دگی ھوتی ہے। میںنے شام ھونےسےپہلےھی پروین کےآملکانسار اُنکا منپسند کھانا بناکر رکھ دیا। بچ‍چےکالونی کےپارک میں کھیلنےکےلئیےچلےگیہ। میںخالی وک‍ت میں اپنی شادی کےئیلبم اُٹھاکر بیتےکھشنما پلوںکو یاد کرنےلگی। تبھی درواجےپر گھنٹی بجی اور میری تندرا بھنگ ہوئی। میںاُٹھکر درواجا کھولنےگئی تو پروین درواجےپر تھی। وہ جیسےھی اَن‍در داکھل ہوئے , میںنے پوچھا – آج چھٹی پانی‍دی ھو گئی ک‍یا? اؤر مڑکر پروین کی طرف دکھا। پر یہ ک‍یا ؟ پروین تو درواجےپر ھی رکےکھڑےتھی। میںنے پوچھا – اَن‍در نہیںآاوگےک‍یا? وہ بولے- آاُونگا نا , پر پہلےتم ایک رمال مسئلہ میرےپاس آاو درواجےپر। میرےمنع کرنےپر وہ گس‍سا کرنےلگی। آخر میں ھارنا تو مجھےھی تھا , میںرمال مسئلہ درواجےپر پہنچی। پر یہ ک‍یا اُن‍ہوننےتو رمال میرےھاتھ سےمسئلہ میری آنکھوںپر باندھ دیا , مجھےگھر کےاَن‍در دھکیلتےہوئے بولے- اَندر چلو। اَب مجھےگس‍سا آیا – “میںتو اَن‍در ھی تھی , آپ ھی نےباہر بلایا اور آنکھیںبند کرکےگھر میں لےجا رہےھو… آج ک‍یاارادا ہے ؟ میںنے کہا।” “ہا . . ھا . . ھا . . ھا . . ” ھنستےہوئے پروین بولے11 سال ھو گئے شادی کو پر ابھی تک تمکو مجھےپر یکین نہیںہے। وہ مجھےدھکیل کر اَن‍در لےگئے اور بیڈروم میں لےجاکر بند کر دیا। میںبہت وسمت سی تھی کہ پتہ نہیںان کو ک‍یا ھو گیا ہے ؟ آج ایسے ھرکت ک‍یوںکر رہےہیں ؟ ک‍یونک س‍وبھاو سےپروین بہت ھی سیدھےساد و‍یکت ہیں। اَبھی میںیہ خیال کر ھی رہی تھی کہ پروین درواجا کھولکر اندر داکھل ہوئے اور آتےھی میری آنکھوںکی پٹی کھول دی। میںنے پوچھا , “یہ ک‍یا کر رہےھو آج?” پروین نےجواب دیا , “تم‍ہارےلئیےسرپرائج گپھٹ لایا تھا یار , وہ ھی دکھانےلےجا رہا ھوںتمکو !” سنکر میںبہت خوش ھو گئی , “کہاںہے… . ?” بولتی ہوئی میںکمرےسےباہر نکلی تو دکھا ڈرائنگ روم میں ایک نئی میز اور اُس پر نیا کم‍پ‍یوٹر رکھا تھا। کم‍پ‍یوٹر دیکھ کر میںبہت خوش ھو گئی ک‍یونک ایک تو آج کےجمانےمیں یہ بچ‍چوںکی ضرورت تھی। دوسرا میںنے کبھی اپنے جیون میں کم‍پ‍یوٹر کواتنےپاس سےنہیںدکھا تھا। میرا مایکا تو گاؤں میں تھا , پڑہائی بھی وہیںکےحکومتی س‍کول میں ہوئی تھی… اور شادی کےبعد شہر میں آنےکےبعد بھی گھر سےباہر کبھی ایسا نکلنا ھی نہیںہوا। ھاں , کبھی کبھار پڑوس میں رہنےوالی من‍نی کو جرور کم‍پ‍یوٹر پر کام کرتےیا پک‍چر دیکھتے ہوئے دکھا تھا। پر پروین کےلئیےیہ کچھ بھی نیا نہیںتھا , وہ پچھلے15 سال سےاپنے آپھس میں کم‍پ‍یوٹر پر ھی کام کرتےتھی। مجھےکئی بار بول چکےتھےکہ تم کم‍پ‍یوٹر چلانا سیکھو لو پر میںھی شاید لاپرواہ تھی। پرن‍ت آج گھر میں کم‍پ‍یوٹر دیکھ کر میںبہت خوش تھی। میںنے پروین سےکہا – اسکو چلاکر دکھااو। اُن‍ہوننےکہا – روکو میری جان , ابھیاسکو سیٹ کر دوں , پھر چلا کر دکھاتا ھون। تبھی بچ‍چےبھی کھیلکر آ گئے اور بھوک – بھوک چل‍لانےلگی। میںترن‍ت رسوئی میں گئی। تبھی دونوںبچ‍چوںکا نگاہ کم‍پ‍یوٹر پر پڑی। دونوںخوشی سےکود پڑے , اور پروین سےکم‍پ‍یوٹر چلانےکےجد کرنےلگی। پروین نےبچوںکو کمپیوٹر چلا کر سمجھیا اور وقت ایسی ھی ھنسی – خوشی بیت گیا। کب رات ھو گئی پتہ ھی نہیںچلا। میںدونوںبچ‍چوںکو اُنکےکمرےمیں سلاکر نہانےچلی گئی। پروین کم‍پ‍یوٹر پر ھی تھی। میںنہاکر پروین کا لایا ہوا سیک‍سی سا نائٹ سوٹ پہن کر باہر آئی ک‍یونک مجھےآج رات کو پروین کےساتھ شادی کی سالگرہ جو منانی تھی , پر پروین کم‍پ‍یوٹر پر و‍یس‍ت تھی। مجھےدیکھتے ھی کھینچکر اپنی گودی میں بیٹھا لیا , میرےبالوںمیں سےشیم‍پو کی بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی , پروین اُسکو سونگھنےلگی। اُنکا ایک ساتھ کم‍پ‍یوٹر کےمااُوس پر اور دوسرا میرےگیلےبدن پر گھوم رہا تھا। مجھےاُنکا ھر طرح ھاتھ پھرانا بہت اَچ‍چھا لگتا تھا। پر آج میرا دھ‍یان کم‍پ‍یوٹر کی طرف ج‍یادا تھا ک‍یونک وہ میرےلئیےئیک سپنےجیسا تھا। پروین نےکہا , “تم چلا کر دکھو کم‍پ‍یوٹر !” “پر مجھےتو کم‍پ‍یوٹر کا ‘ک’ بھی نہیںآتا میںکیسےچلااُون?” میںنے پوچھا। پروین نےکہا , “چلو تمکو ایک مس‍ت چیز دکھاتا ھون।” اُنکا بانیا ھاتھ میری چکنی جانگھوںپر چل رہا تھا। مجھےمیٹھی میٹھی گدگدی ھو رہی تھی। میںاُسکا مجا لےرہی تھی کہ میری نگاہ کم‍پ‍یوٹر کی س‍کرین پر پڑی। ایک بہت سن‍در دبلی پتلی لڑکی باتھٹب میں ننگی نہا رہی تھی। لڑکی کی عمر دیکھنے میں کوئی 20 کےآسپاس لگ رہی تھی। اُسکا گوری چٹٹا بدن ماحول میں گرمی پیدا کر رہا تھا। ساتھ ھی پروین میری جانگھ پر گدگدی کر رہےتھی। تبھی اُس س‍کرین والی لڑکی کےسامنےایک لم‍با چؤڑا کوئی 6 فٹ کا آدمی آکر کھڑا ہوا… آدمی کا لنگ پوری طرح سےاُت‍تیجت دکھائی دے رہا تھا। لڑکی نےھاتھ بڑہا کا وہ موٹا اُت‍تیجت لنگ پکڑ لیا… وہ اپنے ملایم ملایم ھاتھوںسےاُسکی اُوپری ت‍وچا کو آگے پیچھےکرنےلگی। میںاَک‍سر یہ سوچکر حیران ھو جاتی کہان پھل‍موںمیں کام کرنےوالےپرشوںکا لنگاتنا موٹا اور بڑا کیسےھوتا ہے اور وہ 15 – 20 منٹ تک لگاتار میتھن کیسےکرتےرہ سکتےہیں। میںاُس درش‍ےکو لگاتار نہار رہی تھی… . اُس لڑکی کی اُنگلیاںپوری طرح سےتنےہوئے لنگ پر بہت پ‍یار سےچل رہی تھی… . آہ… . تبھی مجھےاَہساس ہوا کہ میںتو اپنے شوہر کی گودی میں بیٹھی ھوںاُن‍ہوننےمیرا بانیا س‍تن کو بہت زور سےدبایا جسکا نتائج میرےمنھسےنکلنےوالی ‘آہ… . ’ تھی। پروین میرےنائٹ سوٹ کےآگے کےبٹن کھول چکےتھی… . اُنکی اُنگلیاںلگاتار میرےدونوںاُبھاروںکےاُتار – چڑہاو کا اَدھ‍یین کرنےمیں لگی ہوئی تھی। میںنے پیچھےمڑکر پروین کی طرف دکھا تو پایا کہ اُسکےدونوںھاتھ میرےس‍تنوںسےجرور کھیل رہےتھےپرن‍ت اُنکی نگاہ بھی سامنےچل رہےکم‍پ‍یوٹر کی س‍کرین پر ھی تھی। پروین کی نگاہ کا پیچھا کرتےہوئے میری نگاہ بھی پھر سےاُسی س‍کرین کی طرف چلی گئی। وہ کھوبسورت لڑکی باتھٹب سےباہر نکلکر ٹب کےکنارےپر بیٹھی تھی। پر یہ ک‍یا… . اب وہ موٹا لنگ اُس لڑکی کےمنہ کےاَن‍در جا چکا تھا , وہ بہت پ‍یار سےاپنے ھوٹھوںکو آگے – پیچھےسرکاکر اُس آدمی کےلنگ کو لالیپاپ کی طرح بہت پ‍یار سےچوس رہی تھی। میںنے محسوس کیا کہ نیچےمیرےنتم‍بوںمیں بھی پروین کا لنگ گھسنےکو تیار تھا। وہ پوری طرح سےاُت‍تیجت تھا। میںکھڑی ھوکر پروین کی طرف گھوم گئی , پروین نےاُٹھکر لائٹ بند کر دی اور میرا نائٹ سوٹ اُتار دیا। ویسےبھی اُس ماحول میں بدن پر کپڑوںکی ضرورت محسوس نہیںھو رہی تھی। میںنے کم‍پ‍یوٹر کی س‍کرین کی روشنی میں دکھا پروین بھی اپنے کپڑےاُتار چکےتھی। اُنکا لنگ پورا تنا ہوا تھا। اُن‍ہوننےمجھےپکڑ کر وہیںپڑےہوئے سوپھےپر لٹا دیا… وہ برابر میں بیٹھکر میرا س‍تنپان کر رہےتھے , میںلگاتار کم‍پ‍یوٹر پر چلنےوالےچلچتر کو دیکھ رہی تھی… اور وہی اُت‍تیجنا اپنے اَن‍در محسوس بھی کر رہی تھی। باتھٹب پر بیٹھی ہوئی لڑکی کی دونوںٹانگیںکھل چکی تھی اور وہ آدمی اُس لڑکی کی دونوںٹانگوںکےدرمیان میں بیٹھکر اُس لڑکی کی یون چاٹنےلگا। مجھےیہ درش‍ے , یا یوںکہوںکہ یہ کریا بہت پسن‍د تھی , پر پروین کو نہین। حالانکہ پروین نےکبھی کہا نہیںپر پروین سےکبھی ایسا کیا بھی نہین। اسیلیے مجھےایسا لگا کہ شاید پروین کو یہ سب پسن‍د نہیںہے। ویسےتو پروین سےمیرا روز ھی سونےسےپہلےئیکاکار ھوتا تھا। پرن‍ت وہ شوہر – بیوی والا سمبھوگ ھی ھوتا تھا , جو ھمارےروجمررا کےکامکاج کا ھی ایک ھس‍سا تھا , اُسمیں کچھ بھی نیاپن نہیںتھا। پر جب اُت‍تیجنا ھوتی تھی… اب وہ بھی اَچ‍چھا لگتا تھا। اَب تک پروین نےمیری دونوںٹانگیںپھیلا لی تھی پرن‍ت میری نگاہ کم‍پ‍یوٹر کی س‍کرین سےھٹ ھی نہیںرہی تھی।ادھر پروین کا لنگ میری یون میں پرویش کر گیا… تو مجھی… آہ… . اَہساس ہوا ک… میںکتنی اُت‍تیجت ھون… . پروین میرےاُوپر آکر لگاتار دھک‍کےلگا رہےتھی… اَب میرا دھ‍یان کم‍پ‍یوٹر کی س‍کرین سےھٹ چکا تھا… . اور میںاپنی کامکریڑا میں مگ‍ن ھو گئی تھی… . تبھی پروین کےمنہ سے‘آہ… . ’ نیکلی اور وہ میرےاُوپر ھی ڈھیر ھو گیہ। دو منٹ ایسی ھی پڑےرہنےکےبعد وہ پروین نےمیرےاُوپر سےاُٹھکر اپنا لنگ میری یون سےباہر نکالا اور باتھروم میں جاکر دھونےلگی। تب تک بھی اُس س‍کرین پر وہ لڑکی اُس آدمی سےاپنی یون چٹوا رہی تھی ‘اُفف… ھممنہ…’ کی آواج لگاتار اُس لڑکی کےمنہ سےنکل رہی تھی وہ زور جور سےکود کود کر اپنی یون اُس آدمی کےمنہ میں ڈالنےکا کوشش کر رہی تھی। تبھی پروین آمدنی اور اُن‍ہوننےکم‍پ‍یوٹر بند کر دیا। میںنے بولا , “چلنےدو تھوڑی در?” پروین نےکہا , “کل صبح آپھس جانا ہے بابو… سو جاتےہیں , نہیںتو لیٹ ھو جااُونگا।” اَب یہ کہنےکہ ھم‍مت تو مجھمیں بھی نہیںتھی کہ ‘آپھس تو تمکو جانا ہے نا تو مجھےدیکھنے دو।’ میںایک اَچ‍چھی آدرشوادی بیوی کی طرح آجنا کا پالن کرنےکےلئیےاُٹھی , باتھروم میں جاکر رگڑ – رگڑ کر اپنی یون کو دھویا , باہر آکر اپنا نائٹ سوٹ پہنا اور بیڈروم میں جاکر بس‍تر پر لیٹ گئی। میںنے تھوڑی دیر بعد پروین کی طرف مڑکر دکھا وہ بہت گہری نیند میں سو رہےتھی। اُت‍سکتاوش میری نگاہ نیچےاُسکےلنگ کی طرف گئی تو پایا کہ شاید وہ بھی نائٹ سوٹ کےپجامےکےاَن‍در شان‍ت سےسو رہا تھا ک‍یونک وہاںکوئی ھلچل نہیںتھی। میری آنکھوںکےسامنےابھی بھی وہی پھل‍م گھوم رہی تھی। شادی کےبعد پچھلے11 سالوںمیں صرف 3 بار پروین کےساتھ میںنے ایسے پھل‍م دیکھی , پتہ نہیںایسا میرےساتھ ھی تھا , یا سبھی کےساتھ ھوتا ھوگا پر اُس پھل‍م کو دیکھ کر مجھےاپنے اَن‍در بہت اُت‍تیجنا محسوس ھو رہی تھی। ہالانک تھوڑی دیر پہلےپروین کےساتھ کیہ گئے سیک‍س نےمجھےسکھلت کر دیا تھا। پر پھر بھی جسم میں کہیںکچھ اَدھوراپن محسوس ھو رہا تھا مجھےپتہ تھا یہ ھر بار کی طرح اس بار بھی دو – تین دن ھی رہیگا پر پھر بھی اَدھوراپن تو تھا ھی نا… . ویسےتو جس دن سےمیری شادی ہوئی تھی اُس دن سےمسئلہ آج تک ماسک کےدنوںکےعلاوہ کچھ گنے- چنےدنوںکو چھوڑکر ھم لوگ شاید روز ھی سیک‍س کرتےتھےیہ ھمارےروزنامہ جیون کا ھس‍سا بن چکا تھا। پر چونک پروین نےکبھی میری یون کو پ‍یار نہیںکیا تو میںبھی ایک شرمیلی عورت بنی رہی , میںنے بھی کبھی پروین کےلنگ کو پ‍یار نہیںکیا। مجھےلگتا تھا کہ اپنی طرف سےایسے پہل کرنےپر پروین مجھےچرترہین نا سمجھ لین। سچ تو یہ ہے کہ پچھلے11 سالوںمیں میںنے پروین کا لنگ ھجاروںبار اپنے اندر لیا تھا پر آج تک میںاُسکا صیح رنگ بھی نہیںجانتی تھی… ک‍یونک سیک‍س کرتےوقت پروین ہمیشہ لائٹ بند کر دتےتھےاور میرےاُوپر آ جاتےتھی। میںنے تو کبھی روشنی میں آج تک پروین کو ننگا بھی نہیںدکھا تھا। مجھےلگتا ہے کہ ھم بھارتی ناریوںمیں سےزیادہ تر ایسے ھی جن‍دگی جیتی ہیں… اور اپنے اسی جیون سےسن‍تش‍ٹ بھی ہیں। پرن‍ت کبھی کبھیاک‍کا – دک‍کا بار جب کبھی ایسا کوئی درش‍ےآ سامنےجاتا ہے جیسےآج میرےسامنےکم‍پ‍یوٹر س‍کرین پر آ گیا تھا تو جیون میں کچھ اَدھوراپن سا لگنےلگتا ہے جسکو آسان کرنےمیں 2 – 3 دن لگ ھی جاتےہیں। ہم اؤرتیںپھر سےاپنے گھریلو جیون میں کھو جاتی ہیں اور دھیرے- دھیرےسب کچھ سامان‍ےہو جاتا ہے। پھر بھی ھم اپنے جیون سےسن‍تش‍ٹ ھی ھوتی ہیں। ک‍یونک ھمارا پہلا دھرم شوہر کی خدمت کرنا اور شوہر کیاچ‍چھااوںکو پورا کرنا ہے। اگر ھم شوہر کو سن‍تش‍ٹ نہیںکر پاتی ہیں تو شاید یہی ھمارےجیون کی سب سے بڑی کمی ہے। پرن‍ت میںپروین کو اُنکیاچ‍چھااوںکےھساب سےپوری طرح سےسن‍تش‍ٹ کرنےکا کوشش کرتی تھی। یہی سب سوچتےسوچتےمیںنے آنکھیںبند کرکےسونےکا کوشش کیا। صبح بچ‍چوںکو س‍کول بھی تو بھیجنا تھا اور پروین سےکم‍پ‍یوٹر چلانا بھی سیکھنا تھا। پرن‍ت جیسےھی میںنے آنکھیںبن‍د کی میری آنکھوںکےسامنےپھر سےوہی کم‍پ‍یوٹر س‍کرین والی لڑکی اور اُسکےمنہ میں کھیلتا ہوا لنگ آ گیا। میںجتنا اُسکو بھولنےکا کوشش کرتی اُتنا ھی وہ میری نیند اُڑا دتا। میںبہت پریشان تھی , آنکھوںمیں نیند کا کوئی نام ھی نہیںتھا। پورےبدن میں بہت بیچینی تھی جب بہت دیر تک کوشش کرنےپر بھی مجھےنیند نہیںآئی تو میںاُٹھکر باتھروم میں گئی نائٹ سوٹ اُتارا اور شاور چلا دیا। پانی کی بوند بوند میرےبدن پر پڑنےکا اَہساس دلا رہی تھی। اُس وقت شاور آ پانی مجھےبہت اَچ‍چھا لگ رہا تھا। کا‍پھی دیر تک میںوہیںکھڑی بھیگتی رہی اور پھر شاور بن‍د کرکےبنا بدن سےپانی پونچھےھی گیلےبدن پر ھی نائٹ سوٹ پہن کر جاکر بس‍تر میں لیٹ گئی। ئس بار بس‍تر میں لیٹتےھی مجھےنیند آ گئی। سبہ 6 بجے روز کی طرح میرےموبائل میں اَلارم بجا। میںاُٹھی اور بچ‍چوںکو جگاکر ہمیشہ کی طرح وقت پر تیار کرکےس‍کول بھیج دیا। اب باری پروین کو جگانےکی تھی। پروین سےآج کم‍پ‍یوٹر چلانا بھی تو سیکھنا تھا نا। میںچاہتی تھی کہ پروین مجھےوہ پھل‍م چلانا سکھا دیں تاکہ پروین کےجانےکےبعد میںآرام سےبیٹھکر اُس پھل‍م کا لت‍پھ اُٹھا سکون। پر پروین سےکیسےکہوںسےسمجھ نہیںآ رہا تھا। کھیر , میںنے پروین کو جگایا اور صبح کی چاےکی پیالی اُنکےھاتھ میں رکھ دی। وہ چاےپیکر ٹایلیٹ چلےگئے اور میںسوچنےلگی کہ پروین سےکیسےکہوںکہ مجھےوہ کمپیوٹر میں پھل‍م چلانا سکھا دن। تبھی میرےدماغ میں ایک آئڈیا آیا। میںپروین کےٹایلیٹ سےنکلنےکاانتجار کرنےلگی। جیسےھی پروین ٹایلیٹ سےباہر آمدنی میںنے اپنی منصوبہ کےمطابق اپنی شادی والی سی ڈی اُنکےھاتھ میں رکھ دی اور کہا , “شادی کے11 سال بعد تو کم سےکم اپنے نئے کم‍پ‍یوٹر میں یہ سی ڈی چلا دو , میںتم‍ہارےپیچھےاپنے بیتےلم‍ہےیاد کر لونگی।” پروین ئیکدم مان گئے اور کم‍پ‍یوٹر کی طرف چل دیہ। میںنے کہا , “مجھےبتااو کہاسکو کیسےآن اور کیسےآپھ کرتےہیں تاکہ میںسیکھو بھی جااُون।” پروین کو اس پر کوئی ئیتراج نہیںتھا। اُن‍ہوننےمجھےیو . پی . ئیس . آن کرنےسےمسئلہ کم‍پ‍یوٹر کےبوٹ ھونےکےبعد آئکن پر کلک کرنےتک سب کچھ بتایا , اور بولے , “یہ چار سی ڈی میںاس کم‍پ‍یوٹر میں ھی کاپی کر دتا ھوںتاکہ تم ان کو آرام سےدیکھ سکو نہیںتو تمکو ایک ایک سی ڈی بدلنی پڑیگی।” میںنے کہا , “ٹھیک ہے।” پروین نےسبھی چاروںسی ڈی کم‍پ‍یوٹر میں ایک پھول‍ڈر بنا کر کاپی کر دی اور پھر مجھےسمجھانےلگےکہ کیسےمیںوہ پھول‍ڈر کھول کر سی ڈی چلا سکتی ھون। میںاپنے ھاتھ سےسب کچھ چلانا سیکھو رہی تھی। جیسے- جیسےپروین بتا رہےتھے2 – 3 بار کوشش کرنےپر میںسمجھ گئی کہ پھول‍ڈر میں جاکر کیسےاُس پھل‍م کو چلایا جا سکتا ہے। پر مجھےیہ نہیںپتہ تھا کہ وہ رات والی پھل‍م کون سےپھول‍ڈر میں ہے اور وہاںتک کیسےجایہنگی। میںنے پھر پروین سےپوچھا , “کہیناسکو چلانےسےگلتی سےوہ رات والی پھل‍م تو نہیںچل جایہگی।” “اَرےنہیںپگلی وہ تو الگ پھول‍ڈر میں پڑی ہے।” پروین نےکہا। “پک‍کا نا… . ?” میںنے پھر پوچھا। تب پروین نےکم‍پ‍یوٹر میں وہ پھول‍ڈر کھولا جہاںوہ پھل‍م پڑی تھی اور مجھسےکہا , “یہ دکھو یہاںپڑی ہے وہ پھل‍م بس تم دن میں یہ پھول‍ڈر مت کھولنا।” میری تو جیسےلاٹری لگ گئی تھی। پر میںنے شان‍ت س‍وبھاو سےبس , “ہمم… . ” جواب دیا। میری نگاہ اُس پھول‍ڈر میں گئی تو دکھا یہاںتو بہت ساری پھائل پڑی تھی। میںنے پروین سےپوچھا। تو اُن‍ہانیںنےبتایا , “یہ سبھی ب‍لو پھل‍میں ہیں। آرام سےروز رات کو دکھا کرینگی।” “او…کی…اَب یہ کم‍پ‍یوٹر بند کیسےھوگا… . ” میںنے پوچھا ک‍یونک میرےلائق کام تو ھو ھی چکا تھا। پروین نےمجھےکم‍پ‍یوٹر شٹ ڈااُن کرنا بھی سکھا دیا। میںاب وہاںسےاُٹھکر نہانےچلی گئی , اور پروین بھی آپھس کےلئیےتیاری کرنےلگی। پروین کو آپھس بھیجنےکےبعد میںنے بہت تیزی سےاپنے گھر کےسارےکام 1 گھنٹےمیں نپٹا لیے। پھری ھوکر باہر کا درواجا اَن‍در سےلاک کیا। کم‍پ‍یوٹر کو پروین ذریعے بتائی گئی قانون کےمطابق آن کیا। تھوڑےسےکوشش کےبعد ھی میںنے اپنی شادی کی پھل‍م چلا لی। کچھ دیر تک وہ دیکھنے کےبعد میںنے وہ پھل‍م بن‍د کی اور اپنے پھلیٹ کےسارےکھڑکی درواجےچیک کیہ کہ کوئی کھڑکی کھلی ہوئی تو نہیںہے। سب سے سن‍تش‍ٹ ھوکر میںنے پروین کا وہ خاص والا پھول‍ڈر کھولا اور اُسمیں گننا شروع کیا کل ملاکر 80 پھائل اُسکےاَن‍در پڑی تھی। میںنے درمیان میں سےھی ایک پھائل پر ک‍لک کر دیا। کلک کرتےھی ایک میسیج آیا। اُسکو او . کے. کیا تو پھل‍م چالو ھو گئی। پہلا درش‍ےدیکھ کر ھی میںچؤنک گئی। یہ کل رات والی مووی نہیںتھی। یہ دو لڑکیاںایک دوسرےکو بل‍کل ننگی لپٹی ہوئی تھی। یہ دیکھ کر تو ئیکدم جیسےمجھےسننپات ھو گیا ! ایسا میںنے پتدو کےمنہ سےکئی بار سنا تو تھا… . پر دکھا تو کبھی نہیںتھا। تبھی میںنے دکھا دونوںایک دوسرےسےلپٹی ہوئی پرنےکریا میں لپ‍ت تھی। ئیک لڑکی نیچےلیٹی ہوئی تھی… . اور دوسری اُسکےبل‍کل اُوپر اُل‍ٹی سمت میں। دونوںایک دوسرےکی یون کا رسپان کر رہی تھی… میںآنکھیںگڑایہ کافی دیر تک اُن دونوںکو اس کریا کو دکھتی رہی। س‍پیکر سےلگاتار آہہہ… اُہہ… ھممم… سیئیئیئیئی… . کی آواجیںآ رہی تھی। مدھ‍یم مدھ‍یم گانا کی دھ‍ون ماحول کو اور زیادہ مادک بنا رہی تھی। مجھےبھی اپنے اَندر کچھ کچھ اُت‍تیجنا محسوس ھونےلگی تھی। پرن‍ت سنس‍کاروںکی شرم کہوںیا خود پر کن‍ٹرول… پر میںنے اُس اُت‍تیجنا کو ابھی تک اپنے اُوپر ھاوی نہیںھونےدیا। پرن‍ت میری نگاہیںاُن دونوںلڑکیوںکی بھاوبھنگما کو اپنے لگاتار اندر سنجو رہی تھی। اَچانک اُوپر والی لڑکی نےپہلو بدلا نیچےوالی نیچےآکر بیٹھ گئی। اُسنےنیچےوالی لڑکی کی ٹانگوںمیں اپنی ٹانگیںپھنسا لی ! “ہمممم…!” کی آواج کےساتھ نیچےوالی لڑکی بھی اُسکا ساتھ دے رہی تھی… . آہ… . دونوںلڑکیاںآپس میں ایک دوسرےسےاپنی یون رگڑ رہی تھی। اُوفف… . !! میری اُت‍تیجنا بھی لگاتار بڑہنےلگی। پرن‍ت میری سمجھ میں نہیںآ رہا تھا کہ میںک‍یا کروں؟ کیسےخود کو سن‍تش‍ٹ کروں؟ مجھےبہت پریشانی ھونےلگی। وہ دونوںلڑکیاںلگاتار یون مردن کر رہی تھی। مجھےمیری یون میں بہت کھپانیی محسوس ھو رہی تھی। ایسا لگ رہا تھا جیسےمیری یون کےاَن‍در بہت ساری چینٹیوںنےحملہ کر دیا ھو… . یون کےاَن‍در کا سارا خون چوس رہی ھون… میںنے محسوس کیا کہ میرےچچوک بہت کڑےھو گئے ہیں। مجھےبہت ج‍یادا گرمی لگنےلگی। جسم سےپسینا نکلنےلگا। میرا من ہوا کہ ابھی اپنے کپڑےنکال دون। پرن‍ت یہ کام میںنے اپنے جیون میں پہلےکبھی نہیںکیا تھا اسیلیے شاید ھم‍مت نہیںکر پا رہی تھی میری نگاہیںاُس س‍کرین ھٹنےکو تیار نہیںتھی। میرےبدن کی تپش پر میرا وش نہیںتھا। درجہ حرارت بہت تیزی سےبڑھ رہا تھا। جب مجھسےبرداش‍ت نہیںہوا। تو میںنے اپنی ساڑی نکال دی। یون کےاَن‍دراتنی کھپانیی ھونےلگی। اُوئیئیئیئی… . من ایسا ھو رہا تھا کہ چاکو مسئلہ پوری یون کو اَن‍در سےکھرچ دون। تبھی س‍کرین پر کچھ تبدیلی ہوا , پہلی والی لڑکی الگ ہوئی , اُسنےپاس رکھی میز کی دراج کھولکر پتہ نہیںپ‍لاسٹک یا کسی اور چیزیں کا بنا لچیلا مصنوعی لنگ جیسا بڑا سا سم‍بھوگ ین‍تر نکالا اور پاس ھی رکھی کریم لگاکر اُسکو چکنا کرنےلگی। “اوہ…!” سمبھوگ کےلئے ایسے چیز میںنے پہلےکبھی نہیںدیکھی تھی… پر مجھےوہ نکلی لنگ بہت ھی اَچ‍چھا لگ رہا تھا। جب تک وہ لڑکی اُسکو چکنا کر رہی تھی تب تک میںبھی اپنا ب‍لااُج اور برا اُتار کر پھینک چکی تھی। مجھےپتہ تھا کہ گھر میں اس وقت میرےعلاوہ کوئی اور نہیںہے اسیلیے شاید میری شرم بھی کچھ کم ھونےلگی تھی। تبھی میںنے دکھا کہ پہلی لڑکی سےاُس سم‍بھوگ ین‍تر کا اَگر حصہ بہت پ‍یار سےدوسری لڑکی کی یون میں سرکانا شروع کر دیا। آدھےسےکچھ کم پرن‍ت واس‍توک لنگ کےاَنپات میں کہیںزیادہ وہ سم‍بھوگ ین‍تر پہلی والی لڑکی کےسم‍بھوگ دوار میں پرویش کر چکا تھا। میںنےادھر اُدھر جھانککر دکھا کہ کوئی دیکھ تو نہیںرہا… اور خود ھی اپنے بایہںھاتھ سےاپنی یون کو دبا دیا। “آہ… . ” میرےمنہ سےسیت‍کار نکلی। میری نگاہ کم‍پ‍یوٹر کی س‍کرین پر گئی , ‘اُپھپھپھپھ…’ میری تو حالت ھی خراب ھونےلگی। پہلی لڑکی دوسری لڑکی کےسم‍بھوگ دوار میں وہ سم‍بھوگ ین‍تر بہت پ‍یار سےآگے پیچھےسرکا رہی تھی… دوسری لڑکی بھی چوتڑ اُچھال – اُچھال کر اپنے کامون‍ماد کا پرچےدے رہی تھی , وہ اُس ین‍تر کو پورا اپنے اَن‍در لینےکو آتر تھی। پرن‍ت پہلےوالےلڑکی بھی پوری شرارتی تھی , اب وہ بھی دوسری کےاُوپر آ گئی اور اُس ین‍تر کا دوسری سرا اپنی یون میں سرکا لیا। “اُوپھپھپھپھپھ… . ” ک‍یا نجارا تھا। دونوںایک دوسرےکےساتھ سم‍بھوگرت تھی। اب دونوںاپنے اَپنےچوتڑ اُچکا اُچکا کر اپنا اَپنا یوگدان دے رہی تھی। سیئیئیئی… . شاید کوئی بھی لڑکی دوسری سےکم نہیںرہنا چا‍ہتی تھی… ئدھر میری یون کےاَن‍در کیڑےچلتےمحسوس ھو رہےتھی। میںنے مجبور ھوکر اپنا پیٹیکوٹ اور پینٹی بھی اپنے بدن سےالگ کر دی। اب میںاپنی س‍کرین کےسامنےآدمجات ننگی تھی। مجھےایسا محسوس ھو رہا تھا جیسےجیون میں پہلی بار میںایسی ننگی ہوئی ھون। پر میری واسنا , میری شرم پر ھاوی ھونےلگی تھی। مجھےاس وقت اپنی یون میں لگی کاماگن کو ٹھن‍ڈا کرنےکا کوئی ذریعہ چائیے تھا بس… . اور کچھ نہین… . کاش… اُن لڑکیوںوالا سم‍بھوگ ین‍تر میرےپاس بھی ھوتا تو میںاُسکو اپنی یون میں سرکاکر زور جور سےدھک‍کےمارتی جب تک کہ میری کامج‍والا شان‍ت نہیںھو جاتی پر ایسا کچھ نہیںھو سکتا تھا। میںنے اپنے دایہںھاتھ کی دو اُنگلیوںسےاپنے بھگوش‍ٹھ تیزی سےرگڑنےشروع کر دئی। میری مدنمن اپنی اُپصورتحال کا اَہساس کراتی ہوئی کڑی ھونےلگی। جیون میں پہلی بار تھا کہ مجھےیہ سب کرنا پڑ رہا تھا। پر میںحالت کےھاتھوںمجبور تھی। اَب میرےلئیےکم‍پ‍یوٹر پر چلنےوالی پھل‍م کا کوئی معنٰی نہیںرہ گیا , مجھےتو بس اپنی آگ کو ٹھن‍ڈا کرنا تھا। مجھےلگ رہا تھا کہ کہیںآج اس آگ میں میںپانی ھی نا جااُوں! 11 سال سےپروین میرےساتھ سم‍بھوگ کر رہےتھی… پر ایسے آگ مجھےکبھی نہیںلگی تھی… یا یوںکہوںکہ آگ لگنےسےپہلےھی پروین اُسکو بجھا دتےتھی।اسلیے مجھےکبھیاسکا احساس ھی نہیںہوا। میںنے کم‍پ‍یوٹر بن‍د کر دیا اور گھر میں پاگلوںکی طرح ایسا کچھ کھوجنےلگی جسکو اپنی یون کےاَن‍در ڈال کر یون کی کھپانیی کھت‍م کر سکون। مندر کےکنارےپر ایک پرانی مومبت‍تی مجھےدکھائی اور تو میرےلئیےوہی میرا ھتھیار یا کہیہ کہ میری مرج کا علاج بن گئی। میںمومبت‍تی کو مسئلہ اپنے بیڈروم میں گئی। میںنے دکھا کہ میرےچچوک بل‍کل کڑےاور لال ھو چکےتھی। آہ… کتنا اَچ‍چھا لگ رہا تھا اس وقت اپنے ھی نپ‍پل کو پ‍یار سہلانا ! ہمم… میںنے اپنے بس‍تر پر لیٹکر مومبت‍تی کا پیچھےوالا ھس‍سا اپنے دایہںھاتھ میں پکڑا اور اپنے بایہںھاتھ سےیون کےدونوںموٹےبھگوش‍ٹھوںکو الگ کرکےمومبت‍تی کا اگلا دھاگےوالا ھس‍سا دھیرےسےاپنی یون میں سرکانا شروع کیا। اُئی مانऽऽऽऽऽ… ک‍یا آنن‍د تھا। مجھےیہ اَسیم آنن‍د جیون میں پہلی بار اَنبھو ھو رہا تھا। میںاُن آنن‍دمیی پلوںکا پورا سکھ بھوگنےلگی। میںنے مومبت‍تی کا پیچھےکی سرا پکڑ کر پوری مومبت‍تی اپنی یون میں سرکا دی تھی… . آہہ ھہ ھہ… اپنے جیون میںاتنا زیادہ اُت‍تیجت میںنے خود کو کبھی بھی محسوس نہیںکیا تھا। میںکون ھون… ؟ ک‍یا ھون… ؟ کہاںھون… ؟ کیسےھون… ؟ یہ سب باتیںمیںبھول چکی تھی। بس یاد تھا تو یہ کہ کسی طرح اپنے بدن میں لگی اس کاماگن کو بجھااُوںبس… ھمم اَمم… آہہ… ک‍یا نیسرگک آنن‍د تھا। بایہںھاتھ سےایک ایک میںاپنے دونوںنپ‍پل کو سہلا رہی تھی… . آئیئی ئی… ئیکدم س‍ورگانبھو… اور دایہںھاتھ میں مومبت‍تی میرےلئیےلنگ کا کام کر رہی تھی। مجھےپروش دہ کی آوش‍یکتا محسوس ھونےلگی تھی। کاش: اس وقت کوئی پروش میرےپاس ھوتا جو آکر مجھےنچوڑ دتا… . میرا روم روم آنندت کر دتا… . میںتو سچ‍چی دھن‍ےہی ھو جاتی। میرا دایہںھاتھ اب خود – ب – خود تیزی سےچلنےلگا تھا। آہہ ھہ… اُففپھ… اُئیئی ئی… کی ملا ہوا دھ‍ون میرےکنٹھ سےنکل رہی تھی। میںنتم‍بوںکو اُوپر اُٹھا – اُٹھا کر دایہںھاتھ کےساتھ…ऽऽऽ… تال…ऽऽऽ… . ملانی… . کا… . پریاس…ऽऽऽऽ… . کرنےلگی। تھوڑےسےجدوجہد کےبعد ھی میری دھارا بہ نکلی , مجھےکامیابی کا اَہساس دلانےلگی। میںنے مومبت‍تی یون سےباہر نکالی , دکھا پوری مومبت‍تی میرےکامرس گیلی ھو چکی تھی। مومبت‍تی کو کنارےرکھکر میںوہیںبس‍تر پر لیٹ گئی। مجھےتو پتہ بھی نہیںچلا کب ندرا رانی نےمجھےاپنی آگوش میں لےلیا। درواجےپر گھنٹی کی آواج سےمیری ندرا بھنگ کی। گھنٹی کی آواج کےساتھ میری آنکھ جھٹکےسےکھلی। میںنگ‍ناوس‍تھا میں اپنے بس‍تر پر پڑی تھی। خود کو اس اَوس‍تھا میں دیکھ کر مجھےبہت لج‍جا محسوس ھو رہی تھی। دھیرےدھیرےصبح کی پوری واقعہ میرےسامنےپھل‍م کی طرح چلنےلگی। میںخود پر بہت شرمن‍دا تھی। درواجےپر گھنٹی لگاتار بج رہی تھی। میںسمجھ گئی کہ بچ‍چےس‍کول سےآ گئے ہیں। میںسب کچھ بھول کر بس‍تر سےاُٹھی , کپڑےپہنکر تیزی سےدرواجےکی طرف حصہی। درواجا کھولا تو بچ‍چےمجھ پر چل‍لانےلگی। مجھےاپنی گلتی کا اَہساس ہوا। آج تو لنچ بھی نہیںبنایا ابھی تک گھر کی سپھائی بھی نہیںکی। میںبچ‍چوںکےکپڑےبدلکر تیزی سےرسوئی میں جاکر کچھ کھانےکےلئیےبنانےلگی। گھر میں کاماتنا ج‍یادا تھا کہ صبح والی ساری بات میںبھول چکی تھی। شام کو پروین نےآتےھی پوچھا – آج شادی والی سی ڈی دیکھی تھی ک‍یا? تو میںنے جواب دیا , “ہاں , پر پوری نہیںدیکھ پائی।” وقت کیسےبیت رہا تھا پتہ ھی نہیںچلا। رات کو بچ‍چوںکو سلانےکےبعد میںاپنے بیڈروم میں پہنچی تو پروین میراانتجار کر رہےتھی। وہی روز والا کھیل شروع ہوا। پروین نےمجھےدو – چار چم‍بن کیہ اور اپنا لنگ میری یون میں ڈال کر دھک‍کےلگانےشروع کر دیہ। میںبھی آدرش بھارتی بیوی کی طرح وہ سب کرواکر دوسری طرف منہ کرکےسونےکا ڈرامہ کرنےلگی। نیند میری آنکھوںسےکوسوںدور تھی। آج میںپروین سےکچھ باتیںکرنا چاہ رہی تھی پر شاید میری ھم‍مت نہیںتھی , میری سبھ‍یتا اور لج‍جا اسکی آڑےآ رہی تھی। تھوڑی دیر بعد میںنے پروین کی طرف منہ کیا تو پایا کہ پروین سو چکےتھی। میںبھی اب سونےکی کوشش کرنےلگی। پتہ نہیںکب مجھےنیند آئی। اَگلےدن صبح پھر سےوہی روز والی دنچریا شروع ھو گئی। پرن‍ت اب میری دنچریا میں تھوڑا سا تبدیلی آ چکا تھا। پروین کےجانےکےبعد میںروز کوئی ایک پھل‍م جرور دکھتی… اپنے ھاتھوںسےھی اپنے نپ‍پل اور یون کو سہلاتی نچوڑتی। دھیرےدھیرےمیناسکی آدی ھو گئی تھی। ھاں , اب میںکم‍پ‍یوٹر بھی اَچ‍چھےسےچلانا سیکھو گئی تھی। ئیک دن پروین نےمجھسےکہا کہ مینانٹرنیٹ چلانا سیکھو لوںتو وہ مجھےآئی ڈی بنا دینگے جس سے میںچیٹ کر سکوںاور اپنے نئے نیہ دوس‍ت بنا سکونگی। پھر بھوش‍ےمیں بچ‍چوںکو بھی کم‍پ‍یوٹر سیکھنےمیں آسانی ھوگی। اُن‍ہوننےمجھےپاس کےایک کم‍پ‍یوٹرانس‍ٹیٹیوٹ میںانٹرنیٹ کی ک‍لاس چالو کرا دی। آٹھ – دس دن میں ھی میںنے گوگل پر بہت سی چیجیںسرچ کرنا اور آئی ڈی بنانا بھی سیکھو لیا। میںنے جیمیل اور پھیسبک پر میں اپنی تین – چار الگ اَلگ نام سےآئی ڈی بھی بنا لی। ایک مہینےمیں تو مجھےپھیک آئی ڈی بناکر مس‍ت چیٹ کرنا بھی آ گیا। پرن‍ت میںنے اپنی حدوں کا ہمیشہ دھ‍یان رکھا। اپنی پرسنل آئی ڈی کےعلاوہ پروین کو کچھ بھی نہیںبتایا। اُسمیں پھرین‍ڈس بھی بس میری سہیلیاںھی تھین। میںاُس آئی ڈی کو کھولتی تو روز تھی پر ج‍یادا لوگوںکو نہیںجوڑتی تھی। اپنی سبھ‍یتا ہمیشہ کایم رکھنےکی کوشش کرتی تھی। انٹرنیٹ استعمال کرتےکرتےمجھےکم سےکماتنا ھو پتہ چل ھی گیا تھا کہ پھیک آئی ڈی بنا کر مس‍تی کرنےمیں کوئی بھی پریشانی نہیںہے , بس کچھ خاص باتوںکا دھ‍یان رکھنا چائیے। ایسی ھی چیٹ کرتےکرتےایک دن میری آئی ڈی پر سچن کی رک‍ویس‍ٹ آئی। میںنے اُنکا پروپھائل دکھا کہیں بھی کچھ گندا نہیںتھا। بل‍کل صاف ستھرا پروپھائل। میںنے اُنکو ئییڈ کر لیا। 2 دن بعد جب میںچیٹ کر رہی تھی। تو سچن بھی آنلائن آیہ। باتچیت شروع ہوئی। اُن‍ہوننےبنا لاگ – لپیٹ کےبتا دیا کہ وہ پروش ہیں , شادیشدا ہے اور 38 سال کےہیں। ج‍یاداتر پروش اپنے بارےمیں پوری اور صیح معلومات نہیںدتےتھےاسیلیے اُنکی سچ‍چائی جانکر اَچ‍چھا لگا। میںنے بھی اُنکو اپنے بارےمیں نام , پتہ چھوڑکر سب کچھ صیح صحیح بتا دیا। دھیرےدھیرےھماری چیٹ روز ھی ھونےلگی। مجھےان سے چیٹ کرنا اَچ‍چھا لگتا تھا। ک‍یونک ایک تو وہ کبھی کوئی و‍یکتگت بات نہیںپوچھتی… دوسرےوہ کبھی بھی کوئی گن‍دی چیٹ نہیںکرتےک‍یونک وہ بھی وواہت تھےاور میںبھی। تو ھماری سبھی باتیںبھی دھیرے- دھیرےاُسی دایرےمیں سمٹنےلگی। میںنے اُنکو کیم پر دیکھنے کا توجہ مرکوز کیا تو جھٹ نےاُن‍ہوننےنےبھی مجھسےکیم پر آنےکو بول دیا। میںنے اُنکو پہلےآنےکا اَنرودھ کیا تو وہ مان گئے , اُن‍ہوننےاپنا کیم آن کیا। میںنے دکھا اُنکی عمر 35 کےآسپاس تھی। مطلب وہ مجھسے2 – 3 سال ھی بڑےتھی। اُنکو کیم پر دیکھ کر سن‍تش‍ٹ ھونےکےبعد میںنے بھی اپنا کیم آن کر دیا। وہ مجھےدیکھتے ھی بولے , “تم تو بل‍کل میرےھی ئیج گرپ کی ھو। چلو اَچ‍چھا ہے ھماری دوس‍تی اچھی نبھیگی।” دھیرےدھیرےمیری اُنکےعلاوہ لگ بھگ سبھی پھالتو کی چیٹ کرنےوالوںسےچیٹ بن‍د ھو گئی। ھم دونوںیقینی وقت پر ایک دوسرےکیانتجار کرنےلگی। وہ کبھی کبھی ھل‍کا – پھل‍کا سیک‍سی ھنسی مجاک کرتی… . جو مجھےبھی اَچ‍چھا لگتا। ھاںاُن‍ہوننےکبھی بھی میرا شوشن کرنےکا کوشش نہیںکیا। اگر کبھی کسی بات پر میںناراج بھی ھو جاتی تو وہ بہت پ‍یار سےمجھےمناتی। ھاںوہ کوئی ھیرو نہیںتھی। پرن‍ت ایک سروگن سم‍پن‍ن پروش تھی। ئیک دن اُن‍ہوننےمجھسےپھون پر بات کرنےکو کہا تو میںنے منع کر دیا। اُن‍ہوننےبل‍کل بھی برا نہیںمانا। پر جب میںچیٹ کھت‍م کرنےلگی تو اُن‍ہونےس‍کرین پر اپنا نم‍بر لکھ دیا… اور مجھسےبولے , “کبھی بھی مجھسےبات کرنےکا من ھو یا ایک دوس‍ت کی ضرورت محسوس ھو تو اس نم‍بر پر پھون کر لینا پر مجھےابھی بات کرنےکی کوئی پانی‍دی بھی نہیںہے।” میںنے اُنکا نم‍بر اپنے موبائل میں سیو کر لیا। وہ بات اُس دن آئی گئی ھو گئی। اُسکےبعد ھم پھر سےروز کی طرح چیٹ کرنےلگی। ئیک دن جب میرا نیٹ پیک کھت‍م ھو گیا। میںتین دن لگاتار پروین بولتی رہی। پر اُن‍ہوننےلاپرواہی کی اور ریچارج نہیںکروایا। مجھےروز سچن سےچیٹ کرنےکی لت لگ گئی تھی। اب مجھےبیچینی رہنےلگی। ایک دن مجبور ھوکر سچن کو پھون کرنےکی بات سوچی پر ‘پتا نہیںکون ھوگا پھون پر’ یہ سوچ کر میںنے اپنے موبائل سےسچن کو مس وقت دیا। ترن‍ت ھی اُدھر سےپھون آیا। میںنے پھون اُٹھاکر بات کرنی شروع کی। سچن – ہےل‍لو ! میں- ہےل‍لو ! سچن – کؤن? میں- سونی ! سچن – کؤن? میں- اَچ‍چھا جی , 4 دن چیٹ نہیںکی تو مجھےبھول گیہ। سچن – اوہ , تو تم‍ہارا اصلی نام سونی ہے پر تمنےتو اپنی آئی ڈی میرا کےنام سےبنائی ہے اور وہاںاپنا نام بھی میرا ھی بتایا تھا। مجھےترن‍ت اپنی گلتی کا اَہساس ہوا پر ک‍یا ھو سکتا تھا اب تو تیر کمان سےنکل چکا تھا। میں- وہ میری نکلی آئی ڈی ہے। سچن – اوہ , نکلی آئی ڈی ؟ اور ک‍یا ک‍یا نکلی ہے تم‍ہارا? مجھےاُنکی بات سن کر گس‍سا آ گیا। میں- جی اور کچھ نکلی نہیںہے। لگتا ہے آپکو مجھ پر یکین ھی نہیںہے। سچن – ابھی تمنےھی کہا کہ آئی ڈی نکلی ہے , اور رہی یکین کی بات تو اگر یکین نا ھوتا ھو ھماتنےدنوںتک ایک دوسرےسےبات ھی نا کرتی। چیٹ پر تو لوگ 4 دن بات کرتےدوس‍توںکو بھول جاتےہیں। پر میںہمیشہ دوس‍تی نبھاتا ھوںاور نبھانےوالوںکو ھی پسن‍د بھی کرتا ھون। میں- اَچ‍چھا جی میرےجیسی کتنی سےدوس‍تی نبھا رہےھو آجکل آپ? سچن – چیٹ تو دو سےھوتی ہے پر دونوںھی تم جیسےاَچ‍چھی پاروارک خاتون ہیں। ک‍یونک اب ھم اس عمر میں نہیںہے کہ بچکانی باتیںکر سکین। تو میچ‍یور لوگوںسےھی میچ‍یور دوس‍تی کرنی چائیے। میںسچن کی ست‍یوادتا کی کایل تھی پھر بھی میںنے اور معلومات لینی شروع کی। میں- اَچ‍چھا , یہ بتااو آپنےاپنے جیون میں کتنی عورتوں سےجنسی سم‍بن‍دھ بنایا ہے? سچن نےسیدھےسیدھےجواب دیا – سات کےساتھ 3 شادی سےپہلےاور 4 شادی کےبعد। پرن‍ت میںنے آجتک کسی کا نا تو شوشن کرنا ٹھیک سمجھا اور نا ھی کسی سےسم‍بن‍دھوںکا غلط استعمال کرنےکی کوشش کی। ھاںمیںنے کبھی بھی پیسےدکر یا مسئلہ سم‍بن‍دھ نہیںبنایا। ک‍یونک میںمانتا ھوںسیک‍س پ‍یار کا ھی ایک ھس‍سا ہے اور جسکو آپ جانتےنہیںجسکےلئیےآپکےدل میں پ‍یار نہیںہے اُسکےساتھ سیک‍س نہیںکرنا چائیے। میںپوری طرح ان سے سن‍تش‍ٹ تھی। اب ھم اسی طرح ھم روز اب موبائل پر باتیںکرنےلگی। کبھی کبھی پھون سیک‍س بھی کرتی। ئیک دن سچن نےمجھےبتایا کہ اُنکی میٹنگ ہے اور وہ تین دن بعد دل‍لی آ رہےہیں। میںنے پوچھا , “میٹنگ کس وقت کھت‍م ھوگی?” اُن‍ہوننےجواب دیا , “میٹنگ کو 4 بجے تک کھت‍م ھو جایہگی। پر میری واپسی کی ٹرین رات کو 11 بجے ہے تو میںشام کو تمسےملنا چاہتا ھون। کہیںبھی کسی کاپھی شاپ میں بیٹھینگے , ایک گھنٹا اور ایک دوسرےسےمیٹھی – میٹھی باتیںکرینگی। ک‍یا تمبدہ شام کو چار سےپانچ کا ٹائم نکال سکتی ھو میرےلیے?” میںنے ھنستےہوئے کہا , “یہ بھی پوچھنےکی بات ہے ک‍یا ؟ میںتو ہمیشہ سےآپنےملنا چاہتی تھی پر آپ سرف ایک گھنٹا میرےلئیےنکالوگے , یہ مجھےنہیںپتہ تھا।” اُن‍ہوننےکہا , “تم گھریلو عورت ھو اور ج‍یادا گھر سےباہر بھی نہیںجاتی ھو , میںتو ج‍یادا وقت نکال لونگا پر تم بتااو ک‍یا گھر سےنکل پااوگی… . ؟ اور ک‍یا بولکر نکلوگی?” اَب تو میری بولتی ھی بند ھو گئی। بات تو اُنکی صیح تھی। شاید میںھی پاگل تھی جو یہ سب نہیںسوچ پائی تھی। پر میںاُنکی سوچ کا داد دے رہی تھی। کتنا سوچتےہیں سچن میرےبارےمیں نا? ہم روز بات کرتےاور بس اُس ایک گھنٹا ملنےکی ھی پ‍لاننگ کرنےلگی। آخرانتجار کی گھڑی سماپ‍ت ہوئی اؤربدہ بھی آ ھی گیا। پروین کےجاتےھی میںنے سچن کےموبائل پر پھون کیا। تو اُن‍ہوننےکہا , “بس ایک گھنٹےمیں گاڑی دل‍لی س‍ٹیشن پر پہنچ جایہگی… اور ھاں , ابھی پھون مت کرنا میرےساتھ اور لوگ بھی ہیں ھم ترن‍ت میٹنگ میں جایہنگی। میٹنگ کھت‍م کرکےمیںان سے الگ ھو جااُونگا… پھر 4 بجے کےآسپاس میںتمکو پھون کرونگا।” میرےپاس بہت وقت تھا। میںنے پہلےخود ھی اپنا پھیشیل کیا। مینک‍یور , پیڈک‍یور کرکےمیںنے خود کو سنوارنا شروع کیا। شام کو 4 بجے مجھےسچن سےپہلی بار ملنا تھا… میںبہت اُت‍ساہت تھی… میںچاہتی تھی کہ میری پہلی چھاپ ھی اُن پر جبردس‍ت ھو… . اپنے میکاَپ کٹ سےویٹ کریم نکال کر ویکسنگ بھی کر ڈالی… . نہا دھوکر پھریش ہوئی , اپنے لئیےنئی ساڑی نکالی , پھر سوچا کہ ابھی تیار نہیںھوتی شام کو ھی ھو جااُونگی… اگر ابھی تیار ہوئی تو شام تک تو ساڑی خراب ھو جایہگی। میںنے پھر سےنائٹ گااُون ھی پہن لیا। اَب میںشام ھونےکاانتجار کرنےلگی। وقت کاٹےنہیںکٹ رہا تھا . . میںنے پھر سےکم‍پ‍یوٹر چلا کر وہی پورن مووی چلا لی। پر آج میرا من اُسمیں بھی نہیںلگ رہا تھا। میرےمن میں عجیب سا اُت‍ساہ تھا। شادی سےپہلےجب پروین مجھےدیکھنے آمدنی تھی… تب تو میںبل‍کل اَل‍ہڑ تھی , اتنا اُت‍ساہت تو تب بھی نہیںتھی مین… . میںاپنے بیڈ پر بیٹھکر خیال کرنےلگی , سچن سےملکر ایک گھنٹےمیں ک‍یا ک‍یا باتیںکرونگی ؟ کیسےاُنکےساتھ بیٹھونگی , کیسےوہ مجھسےبات کرینگےوغیرہ آد। مجھےپتہ ھی نہیںلگا یہ سب سوچتےسوچتےکب میری آنکھ لگ گئی। درواجےپر گھنٹی بجی… تو میری آنکھ کھلی میںنے گھڑی میں وقت دکھا। بچ‍چوںکےآنےکا ٹائم ھو چکا تھا। میںنے ترن‍ت اُٹھکر درواجا کھولا। بچ‍چوںکو ڈریس چینج کروا کر کھانا کھلانا , ھومورک کروانا پھر ٹیوشن بھیجنا بس ٹائم کا پتہ ھی نہیںچلا کیسےتین بج بھی گیہ। بچ‍چوںکو ٹیوشن بھیجکر میںتیار ھونےلگی। سچن کےپھون کا بھیانتجار تھا… ابھی میںپیٹیکوٹ ھی پہن رہی تھی کہ درواجےپر گھنٹی بجی… “ئس وقت کون ھوگا?” میںسوچنےلگی। گھنٹی دوبارہ بجی تو میںنے پھر سےنائٹ گااُن پہنا اور درواجا کھولنےگئی। درواجا کھولا تو دکھا باہر پروین کھڑےتھی। میںاُنکو 3 بجے درواجےپر دیکھ کر چؤنک گئی। وہ اَن‍در آمدنی تو میںنے پوچھا , “ک‍یا ہوا ؟ آپ اس ٹائم , سب ٹھیک – ٹھاک نا?” پروین بولے , “ہاں , یار وہ آج 9 بجے رات کی ٹرین سےمجھےجیپر جانا ہے کل وہاںمیری میٹنگ ہے ایک کس‍ٹمر سی। تو تیاری کرنی تھی اسیلیے پانی‍دی آ گیا।” میںنے پوچھا , “تو کس ٹائم جااوگےس‍ٹیشن?” پروین بولے , “ٹکٹ کروا لی ہے , اب 7 بجے نکلونگا سیدھےس‍ٹیشن کےلیے।” اَب میںتو پھنس گئی। سچن میراانتجار کرینگی। گھر سےکیسےنکلوں , یہی خیال کر رہی تھی کہ میرےموبائل کی گھنٹی بجی। میںسمجھ گئی کہ سچن کا ھی پھون ھوگا پر اب کیسےبات کروںسچن سے , اور ک‍یا جواب دوںسچن کو… . سوچنےکا بھی ٹائم نہیںتھا। پھون بجکر خود ھی بند ھو گیا। سب سے پہلےمیںنے پھون اُٹھاکر اُسکو سائلینٹ پر کیا। تبھی پروین نےپوچھا , “کسکا پھون تھا?” میںنے جواب دیا , “کچھ نہیںوہ کم‍پنی والوںکےپھون آتےرہتےہیں , میںتو دکھی ھو جاتی ھون।” پروین نےکہا , “بعد میں مجھےیاد دلانا , میںڈی ئین ڈی ئیک‍ٹیویٹ کر دونگا।” “ہم‍م‍م‍م‍م‍م‍م… . ” بولتی ہوئی میںموبائل مسئلہ ٹایلیٹ میں چلی گئی।تب تک دکھا سچن کی 3 مس کال آ چکی تھی। میںنے سب سے پہلےسچن کو میسیج کیا کہ میرےشوہر گھر آ گئے ہیں। میںتھوڑی دیر میں نکل کر پھون کرتی ھون। پھر سوچنےلگی کہ ک‍یا ترکیب نکالون। پر میںاُس وقت خود کو بہت بیچارا محسوس کر رہی تھی। پروین 7 بجے گھر سےجانےوالےتھی। تو میں7 سےپہلےتو گھر سےنکل ھی نہیںسکتی تھی اور 7 بجے کےبعد اندھیرا ھو جاتا تو بچ‍چوںکو گھر میں اَکیلا چھوڑکر میں7 بجے کےبعد بھی گھر سےنہیںنکل سکتی تھی। میںایک پاروارک خاتون ھی جم‍میداریوںمیں پھنس چکی تھی। میرےپاس اب سچن سےملنےکا کوئی راس‍تا نہیںتھا… اؤر وہاتنی دور سےآمدنی تھےصرف میرےلئیےرات کی ٹرین سےٹکٹ کرائی میںان سے نا ملوںیہ بھی ٹھیک نہیںتھا। سمجھ میں نہیںآ رہا تھا میںک‍یا کرون। میںبہت دیر سےٹائلیٹ میں تھی تو باہر جانا بھی ضروری تھا। میںموبائل کو چھپاکر دھیرےسےباہر نکلی। “سونی , چاےپینےکا من ہے یار। تم چاےبنااو میںبریڈ مسئلہ آتا ھون।” بولتےہوئے پروین گھر سےباہر چلےگیہ। میری تو جیسےسانس میں سانس آئی। اُنکےباہر جاتےھی میںنے درواجا اَن‍در سےبند کیا اور سچن کو پھون کیا। پہلی ھی گھنٹی پر سچن کا پھون اُٹھا وہ بولے , “کہاںھو یار ؟ میںکب سےتم‍ہارا ویٹ کر رہا ھون।” میںنے پوچھا , “کہاںھو آپ?” مجھےاُنکو یہ بتانےمیں بہت ھی شرم محسوس ھو رہی تھی کہ میںنہیںآ پااُونگی… پر بتانا تو تھا ھی। اسیلیے میںباتیںبنا رہی تھی। اُن‍ہوننےبتایا , “کش‍میری گیٹ میٹرو س‍ٹیشن کےنیچےکافی شاپ پر ھون। یہیںتو ملنےکو بولا تھا نا تمنی।” اَب میںک‍یا کرتی , میںنے اُنکو سچ – سچ بتانےکا فیصلہ کیا , “سنو , میںآج نہیںآ پااُونگی।” “کوئی بات نہیں , پر ک‍یا باعث جان سکتا ھوں؟ اگر تم بتانا چاہو تو।” اُن‍ہوننےبل‍کل شان‍ت س‍وبھاو سےپوچھا। میںنے اُنکو ساری بات بتا دی। تو سچن بولے , “تم‍ہارا پہلا پھرج شوہر کا ساتھ دنا ہے , تم اُنکےجانےکی تیاری کرو। جب وہ چلےجایہنگے7 بجے تب مجھسےبات کرنا میری ٹرین رات کو 11 بجے کی ہے।” میںنے کہا , “پر 7 بجے اندھیرا ھو جاتا ہے میںگھر سےاُس وقت نہیںنکل پااُونگی।” “اَرےیار , تم ٹینشن مت لو। میںکب تمکو باہر نکلنےکو بول رہا ھون। میںتو صرف پھون پر بات کرنےکو بول رہا ھون। ابھی تم اپنے شوہر پر دھ‍یان دو।” بولکر سچن نےھی پھون کاٹ دیا। سچ میں سچن کتنےاَچ‍چھے , میچ‍یور اور کوآپریٹوانسان , ہیں نا। میںسوچنےلگی… اور چاےبنانےچلی گئی। تب تک بچ‍چےبھی واپس آ گئے اور پروین بھی। میںنے سبھی کو چاےبریڈ کھلاکر پانی‍دی پانی‍دی کھانا بنانےکی تیاری شروع کر دی। اور پروین اپنی پیکنگ کرنےلگی। وقت کیسےبیت گیا پتہ ھی نہیںچلا। میںنے پروین کےلئیےرات کا کھانا پیک کر دیا। سات بجے پروین نےاپنا بیگ اُٹھایا اور چلنےلگی। میںنے پروین کو ودا کیا اور بچ‍چوںکی طرف دکھا دونوںھی ٹی وی میں و‍یس‍ت تھی। میںنے دوسرےکمرےمیں جاکر ترن‍ت سچن کو پھون کیا। اُدھر سےسچن کی آواج آئی , “ہےل‍لو , ھو گئی ک‍یا پھری?” “ہاںجی , پھری سی ھی ھون… پر اس وقت بچ‍چوںکو گھر میں اَکیلا چھوڑکر نہیںنکل سکتی।” میںنے کہا। “اَرےاَرے , تم ٹینشن مت لو , کوئی بات نہیںاگر کس‍مت میں اس بار تمسےملنا نہیںلکھا تو ک‍یا ہوا ؟ اَگلی بار دیکھتے ہیں।” سچن بولی। “پر میںبہت اُداس ھوں , میرا بہت من ہے آپسےملنےکا , آپ ایک کام کر سکتےھو ک‍یا?” میںنے کچھ سوچتےہوئے پوچھا। “ہاں , بتااو।” سچن نےکہا। “میںبچ‍چوںکو پانی‍دی سلانےکی کوشش کرتی ھون। , آپ 8 بجے تک میرےگھر ھی آ جااو। میںآپکو اپنے ھاتھ کا بنا کھانا بھی کھلااُونگی… اور تسل‍لی سےبیٹھکر باتیںبھی ھونگی। آپکی ٹرین 11 بجے ہے نا آپ 10 . 30 پر بھی نکلکر آٹو سےجااوگےتو 11 بجے تک پرانی دل‍لی س‍ٹیشن پہنچ ھی جااوگی।” میںنے کہا। سچن میری بات سےمتفق ھو گیہ। میںنے اُنکو اپنے گھر کا پتہ سمجھایا اور ترن‍ت آٹو کرنےکو بولا। اُن‍ہوننے‘او کی’ بولکر پھون کاٹا। میںنے بچ‍چوںکو کھانا کھلاکر ترن‍ت سونےکا حکم دے دیا। تھوڑی سی کوشش کرنےکےبعد ھی دونوںبچ‍چےسو گیہ। میںترن‍ت بچ‍چوںکےکمرےسےباہر آئی , سچن کو پھون کیا تو وہ بولےکی آٹو میں ھون। اُتر کر پھون کرتا ھون। میرےپاس اب ج‍یادا وقت نہیںتھا। میںتیزی سےتیار ھونےلگی। اَبھی میںساڑی باندھکر ھل‍کا سا میک اپکر ھی رہی تھی کہ سچن کا پھون آیا। میںنے پھون اُٹھایا تو ئیکدم ھی سچن بولے , “اَرے , دکھو شاید میںتم‍ہاری بل‍ڈنگ کےباہر ھی ھون।” میںنے کھڑکی کھولکر دکھا تو سچن بل‍کل میرےپھلیٹ کےنیچےھی کھڑےتھی। میںنے اُنکو اُوپر دیکھنے کو کہا। وہ میری طرف دیکھتے ھی مس‍کرایہ। میںبہت خوش تھی میںنے اُنکو میرےپھلیٹ تک بنا شور یا آواج کیہ آنےکو کہا। وہ دھیرےسےسیدھےمیرےپھلیٹ کےدرواجےپر آیہ। میںنے درواجا پہلےسےھی کھول رکھا تھا… اُنکو اَن‍در مسئلہ میںنے درواجا بن‍د کر دیا। اب سب ٹھیک تھا کوئی پریشانی نہیںتھی। اُن‍ہوننےاَن‍در آتےھی مجھےگلےلگایا। میںبہت خوش تھی। اُن‍ہوننےکہا , “بہت سن‍در لگ رہی ھو।” میںنے مس‍کراتےہوئے کہا , “اَچ‍چھا ملتےھی چالو ھو گیہ। آپ بیٹھو سب‍جی تیار ہے میںپہلےآپکےلئیےگرم گرم روٹی بناتی ھون।” سچن منع کرنےلگی। پر میںجبردس‍تی کرتی ہوئی رسوئی میں چلی گئی। وہ بھی میرےپیچھےپیچھےوہیںآ گیہ। میںنے کہا , “آپ باہر بیٹھو میںآتی ھون।” سچن بولے , “وقت کم ہے ھمارےپاس میںیہیںتم‍ہارےساتھ بات بھی کرتا رہونگا اور تم کھانا بھی بنا لینا। ویسےبھی اس ساڑی میں مس‍ت لگ رہی ھو। تم‍ہارا تو کڈنیپ کرنا پڑیگا।” میںنے جواب دیا , “ایسی تو کبھی کبھی مل بھی سکتےہیں کڈنیپ کبیماریےتو ایک بار میں ھی کام کھت‍م।” وہ ھنستےہوئے بولے , “لگتا ہے آج ھی ویک‍س بھی کیا ہے باجو بہت چکنی چکنی لگ رہی ہے।” اؤر میرےپیچھےسےکھڑےھوکر میری دونوںباجاوںپر اپنے ھاتھ پھرانےلگی… “سیئیئیئی ئیئیی…” میںسیت‍کار اُٹھی। میںنے وہیںکھڑے- کھڑےاپنے نتم‍بوںکو پیچھےکرکےاُنکو پیچھ کی طرف دھکیلا। سچن بولے , “یہ ک‍یا کر رہی ھو ؟ درمیان میں تم‍ہاری ساڑی آ گئی نہیںتو پتہ ہے تم‍ہارےکولہےکہاںجا ٹکرائیں ہیں ؟ اگر کچھ گڑبڑ ھو جاتی تو…?” “ہا… ھا… ھا… ھا… ھو جانےدو…!” میںنے ھنستےہوئے سچن کو چھیڑا। سچن بولے , “نہیں , وقت نہیںہے… 9 بجنےوالےہیں… اور مجھےاپنی ٹرین بھی پکڑنی ہے। میںتو بس تمسےملنےآیا ھوںاور کچھ نہین।” سچن میرےسب سے اَچ‍چھا دوس‍ت بن گئے تھی… پتہ نہیںک‍یوںپر میںسچن کےساتھ بل‍کل بھی جھجھک محسوس نہیںکر رہی تھی بلکہ میںتو بہت ج‍یادا آسان محسوس کر رہی تھی سچن کےساتھ। ئتنا تو میںنے کبھی پروین کےساتھ بھی محسوس نہیںکیا تھا। پر میںپتہ نہیںآج کس موڈ میں تھی। پر سچن کو کچھ کہوںبھی تو کیسےکہیںوہ مجھےغلط نا سمجھ لین। رو‍ٹی بناکر میںڈایننگ پر دونوںکےلئیےکھانا لگانےلگی , سچن بھی میری مد کر رہےتھےجب کہ پروین نےتو آج تک میرےساتھ گھر کےکام میں ھاتھ بھی نہیںلگایا। میںتو سچن کےو‍یوہار کی کایل ھونےلگی تھی। کھانا کھاتے- کھاتےھی 9 . 30 ھو گیہ। سچن 10 بجے تک واپس جانا چاہتےتھی। میری سمجھ میں نہیںآ رہا تھا کہ اُسکو کیسےروکون। میںنے سچن کو بولا کہ آپ 10 . 30 تک بھی نکلوگےتب بھی آپکو ٹرین مل جایہگی। ابھی تو آپسےبہت ساری باتیںکرنی ہیں। ابھی آپ پانی‍دی مت کرو। وہ میری بات مان گئے اور رلیک‍س ھوکر بیٹھ گیہ। 10 منٹ بیٹھنےکےبعد ھی سچن پھر سےبولے , “سونی ایک کپ چاےپلا دو پھر جانا بھی ہے।” اَب تو مجھےگس‍سا آ گیا , میںنے کہا , “ئتنی پانی‍دی ہے جانےکی تو آپ آمدنی کی ک‍یوںتھے؟ اب میںچاےنہیںبنااُونگی آپکو جانا ہے تو جااو।” “اوہ…ہو… میری بلبل ناراج ھو گئی , چلو میںبلبل کو چاےبناکر پلاتا ھون।” سچن نےکہا। اُنکا اس طرح پ‍یار سےبولنا مجھےبہت ھی اَچ‍چھا لگا… اور چاےتو 11 سالوںمیں مجھےکبھی پروین نےبھی نہیںپلائی , اُنکو تو چاےبنانی آتی بھی نہین। میںتو یہی سوچتی رہی , تب تک سچن اُٹھ کر رسوئی کی طرف چل دیہ। میںنے کہا , “ٹھیک ہے آج چاےآپ ھی پلااو।” سچن بولے , “میںچاےبناکر پلااُونگا تو ک‍یا توہفا دوگی?” “اَگر چاےمجھےپسن‍د آ گئی تو جو آپ مانگوگےوہ دونگی اور اگر نہیںآئی تو کچھ نہین।” میںنے کہا। “اوکی…” بول کر وہ گیس پانیاتےہوئے بولے , “تم بس ساتھ میں کھڑی رہو , ک‍یونک رسوئی تم‍ہاری ہے। مجھےتو سامان کا نہیںپتہ نا…” میںاُنکےساتھ کھڑی اُنکو دکھتی رہی। کتنی سادگی اور اَپناپن تھا نا اُنمیں। مجھےتو ان میں کوئی بھی اَوگن دکھائی ھی نہیںدے رہا تھا। وہ چاےبنانےلگی। میںاُنکو دکھتی رہی। مجھےسچن پر بہت پ‍یار آ رہا تھا پر میںاپنی ساماجک بیڑیوںمیں کید تھی। چاےبناکر سچن کپ میں ڈال کر ٹرےمیں دو کپ سجاکر ڈائننگ ٹیبل پر رکھکر واپس رسوئی میں آیہ… اور میرا ھاتھ بڑی نجاکت سےپکڑکر کسی رانی کی طرح مجھےڈائننگ ٹیبل تک مسئلہ گئے اور بولے , “لیجیہ میڈم , چاےآپکی خدمت میں پرس‍تت ہے।” میںنے چاےکی ایک چس‍کی لیتےھی اُنکی تاریپھ کی تو سچن بولے , “تب تو میرا اُپہار پک‍کا نا?” میںنے کہا , “ک‍یا چائیے آپکو?” “اَپنی مرجی سےجو دے دو।” سچن نےکہا। “نہیں , طے یہ ہوا تھا کہ آپکی مرجی کا گپھٹ ملیگا , تو آپ ھی بتائیہ آپکو ک‍یا چائیے?” میںنے درڑہتا سےکہا। سچن بولے , “دکھ لو , کہیںمیںکچھ اُل‍ٹا سیدھا نا مانگ لوں , پھر تم پھنس جااوگی।” “کوئی بات نہیں , مجھےآپ پر پورا وش‍واس ہے , آپ مانگو।” میںنے پھر سےجواب دیا। “تب ٹھیک ہے , مجھےتم‍ہارےگلابی ھوٹھوںکی… ایک چم‍می چائیے।” سچن نےبیباک کہا। میںنے بنا کوئی جواب دئیے , نجریںنیچےکر لی। سچن نےاُسکو میری منجوری سمجھا اور میرےنزدیک آنےلگی। میری جبان جو ابھی تک کینچی کی طرح چل رہی تھی… اب کھاموش ھو گئی। میںچاہکر بھی کچھ نہیںبول پا رہی تھی। سچن میرےبل‍کل نزدیک آ گیہ। میری سانس دھؤنکنی کی طرح چلنےلگی। سچن نےچہرا اُوپر کرکےاپنے ھونٹھ میرےھوٹھوںپر رکھ دیا। آہہہہ… کتنا میٹھا اَہساس تھا। اُم‍م‍م‍م‍م… بہت مجا آ رہا تھا। میری آنکھیںخود – ب – خود بن‍د ھو گئی। پروین کےبعد وہ پہلےو‍یکت تھےجن‍ہوننےمیرےھوٹھوںکو چوما تھا… اُنکا اَہساس پروین سےبل‍کل الگ تھا। سچن بہت دیر تک میرےھوٹھوںکو لالیپاپ کی طرح چوستےرہی। وہ کبھی میرےاُوپری ھونٹھ کو چوستےتو کبھی نیچےوالی। اُن‍ہوننےمجھےاپنی باہوںمیں جکڑ رکھا تھا। اَچانک اُن‍ہوننےاپنی جیبھ میرےھوٹھوںکےدرمیان سےمیرےمنہ میں سرکا دی। اُنکی جیبھ میری جیبھ سےجو ٹھکرائی تو مجھےایسا لگا جیسےمیںکسی جن‍نت میں آ گئی ھون। اُنکی جیبھ میری جیبھ سےمنہ کےاَن‍در ھی اَٹھکھیلیاںکرنےلگی। اب میںمدہوش ھو رہی تھی। میںبھی اُنکا ساتھ دنےلگی। اُنکا یہ ایک چم‍بن ھی 10 منٹ سےج‍یادا لم‍با چلا। جب اُن‍ہوننےمیرےھوٹھوںکو چھوڑا تو بھی میٹھا میٹھا رس میرےھوٹھوںکو چم‍بن کا اَہساس دلا رہا تھا। میری آنکھیںابھی بھی بن‍د ھی تھی। سچن بولے , “آنکھیںکھولو سونی مجھےجانا ہے।” یہ بولکر وہ چاےپینےلگی। میںاُسانسان کو نہیںسمجھ پا رہی تھی। ک‍یا سچن سچ میںاتنا شریپھ تھی। پرن‍ت اُنکےایک چم‍بن کےاَہساس نےمجھےعورت کےاَن‍در کی واسنا کا اَہساس دلا دیا تھا , میںترن‍ت بولی , “یہ تو آپکا چم‍بن تھا , اب میرا بھی تو دکر جااو।” وہ چاےکھت‍م کرکےمیرےپاس آمدنی اور بولے , “لےلو , میںنے کب بنا کیا پر میرےپاس اب ج‍یادا وقت نہیںہے।” میںبھی وقت نہیںگنوانا چاہتی تھی , میںنے اُنکی گردن میں بانہیںڈال کر اُنکو تھوڑا سا نیچےکیا… اور اپنے ھونٹھ اُنکےھونٹھوںپر رکھ دیہ… اب تو میںبھی چم‍بن کرنا سیکھو ھی گئی تھی , میںنے اُنکےھوٹھوںکی اُسی طرح چوسنا شروع کر دیا جیسےکچھ پل پہلےوہ میرےھوٹھوںکو چوس رہےتھی। اُم‍م‍م… ک‍یا س‍واد تھا اُنکےھوٹھوںکا ! چاےپینےکےبعد تو اُنکےھونٹھ اور بھی میٹھےلگ رہےتھی। میںنے بھی اُنکی نکل کرتےہوئے اپنی جیبھ اُنکےمنہ میں ٹھیل دی। وہ تو بہت ھی اَنبھوی تھے , اُن‍ہوننےاپنی جیبھ کو منہ کےاَن‍در میری جیبھ میں لپیٹنا شروع کر دیا। میںاس چم‍بن میں بہت لم‍با وقت لینا چاہتی تھی। اس بات کا میںدھ‍یان رکھ رہی تھی… اور چم‍بن بہت ھی دھیرےدھیرےپرن‍ت لگاتار کر رہی تھی। درمیان بیچ میں سانس بھی لےرہی تھی , میںاُنکےھوٹھوںکا پورا س‍واد لےرہی تھی। ئس بار شاید میںجیت گئی। کچھ دیر بعد ھی اُن‍ہوننےمجھےاپنی باہوںمیں بھر لیا। اُنکی باہوںکا گھیرا میری پیٹھ کےچاروںطرف بن چکا تھا , وہ اپنے ھاتھوںسےمیری پیٹھ کو سہلانےلگی… ھم‍م‍م… اب تو سچن کےھونٹھ مجھےاور بھی س‍وادش‍ٹ لگنےلگےتھی। آہ…یہ ک‍یا… ؟ سچن نےمیرےدونوںنتم‍بوںکو پکڑکر… سیئیئیئیئیئی… اپنی طرف کھینچ لیا। اس پرگاڑہ چم‍بن کی وجہ سےمیری سانس رکنےلگی تھی , مجھےاپنے ھونٹھ اُنکےھونٹھوںسےالگ کرنےپڑی। جیسےھی ھمارےھونٹھ الگ ہوئی… سچن نےاپنے تپتےہوئے ھونٹھ میرےکن‍دھ‍و پر رکھ دئی। اُئیئی ئیئیئیئی… مانऽऽऽऽऽऽऽ… میںسیت‍کار اُٹھی। وہ لگاتار میرےبانیہںکن‍دھےکو چوم رہےتھی। اُنکےگرم ھونٹھوںکا اَہساس میرےپورےبدن میں ھونےلگا। میرےبانیہںکن‍دھےکو کئی بار چومنےکےبعد… اُن‍ہوننےاَچانک… مجھےپیچھےکی طرف گھما دیا… اب میری پیٹھ اُنکی چھاتی سےچپکی ہوئی تھی… سچن میرےبل‍کل پیچھےآ گیہ… اور اپنے گرم ھونٹھ میرےدایہںکن‍دھےپر رکھ دیہ… اپنے دونوںھاتھوںسےسچن نےمیرےدونوںس‍تنوںکو پ‍یار سےسہلانا شروع کر دیا… مجھےتو جیسےنشا سا چھانےلگا تھا… میںخود ھی پیچھےھوکر سچن سےچپک گئی। وہ دونوںھاتھوںسےلگاتار میرےس‍تنوںکو سہلا رہےتھی… آہہہہہہ… میرےتو چچک بھی کڑےھو گئے تھی… شاید…سچن… کو… بھی…اسکا… اَہساس… ھو… گیا… تھا…! سچن نےاُوپر سےمیرےدونوںچچوکوںکو پکڑ لیا… سیئیئیئیئی ئیئی… کتنی بیدردی سےوہ میرےچچوک مسل رہےتھی… پر مجھےبہت اَچ‍چھا لگ رہا تھا। دھیرےدھیرےاُنکا صرف داہنا ھاتھ ھی میرےس‍تنوںپر رہ گیا… بانیا ھاتھ تو سرک کر نیچےمیرےپیٹ پر… ھمم‍م‍م… نہین… نابھ پر آ گیا تھا… مجھےمیٹھی میٹھی گدگدی ھونےلگی… مجھےتو پتہ ھی نہیںلگا کب میری نابھ سےکھیلتےکھیلتےاُن‍ہوننےمیری ساڑی پیٹیکوٹ میں سےکھولکر… نیچےگرا دی… میںتو مورت بنی سچن کی ھر کریا کا آنن‍د لےرہی تھی। مجھےتو ھوش ھی تب آیا جب سچن کےھاتھ میرےپیٹیکوٹ کےناڑےکو کھینچنےلگی। میںنے جھٹ سےسچن کا ھاتھ پکڑ لیا। سچن نےمؤن رہکر ھی بنا کچھ بولےپھر سےناڑےکو کھیچنےکا کوشش کیا। اس بار میںنے پھر سےبلکہ ج‍یادا مجبوتی سےاُنکا ھاتھ روک لیا। بنا کچھ بولےاُن‍ہوننےوہاںسےھاتھ ھٹا لیا… اور پھر سےمجھےپکڑکر گڑیا کی طرح گھمایا… میرا چہرا اپنی طرف کر لیا… اب اُنکی جبان میرےچہرہ پر گھومنےلگی وہ میرےچہرہ کو چاٹنےلگی… چھی: … شاید اس بارےمیں کبھی کوئی بات بھی کرتا تو مجھےبہت گھنؤنا لگتا… پر… پتہ نہیںک‍یون… سچن کی یہ ھرکت میرےلئیےبہت کامک ھو گئی… اُنکےدونوںھاتھ میری پیٹھ پر سرکنےلگی… اب تو میںنے بھی اپنی دونوںباہیںاُنکی کمر میں ڈال کر اُنکو جکڑ لیا… سچن شاید اسی پل کا…ان‍تجار کر رہےتھی… اُن‍ہوننےجھٹ سےاپنے ایک ھاتھ سےمیرےپیٹیکوٹ کا ناڑا کھینچ دیا… ایک ھی جھٹکےمیں میرا وہ آورن نیچےگر گیا… مجھےتو اُسکا اَہساس بھی تب ہوا جب وہ میرےپیروںپر گرا… پر… میںاُس وقتاتنی کامک اَوس‍تھا میں آ چکی تھی… کہ دوبارہ پیٹیکوٹ کی طرف دھ‍یان بھی نہیںدیا। اَب میںنیچےسےصرف پینٹی میں تھی , سچن لگاتار میرےچہرہ , گردن اور کن‍دھوںپر چم‍بن کر رہےتھی। سیئیئیئیئی… آہہہ ھہ… ھم‍م‍م‍م‍م… میںلگاتار کراہ سی رہی تھی… سچن کی اُنگلیوںمیرےنتم‍بوںپر گدگدی کر رہی تھی مجھےایسا آنن‍د تو جیون میں کبھی ملا ھی نہیںتھا। میرےنتم‍ب تو سچن کی اُنگلیوںکی تال پر خود ھی تھرکنےلگےتھی… کبھی کبھی سچن میری پینٹی میں اُنگلی ڈال کر میرےنتم‍بوںکی درمیان کی درار کرید سی دتی… تو میںسر سےپیر تک ھل جاتی… پر من کہتا کہ وہ ایسا ھی کرتےرہین… پتہ نہیںسچن نےکب اپنے ھاتھ میرےنتم‍بوںسےھٹا کر اُوپر میری پیٹھ پر پھرانےشروع کر دیہ। اَچانک مجھےاپنا ب‍لااُج کچھ ڈھیلا محسوس ھونےلگا , میرا دھ‍یان اُدھر گیا تو پتہ چلا کہ اب تک سچن میرےب‍لااُج کےھک بھی کھول چکےتھی… ھای… ریئیئی… یہان‍ہوننےک‍یا کر دیا… اب تو مجھےلج‍جا محسوس ھونےلگی…اتنی روشنی میں ننگی ھونا… وہ بھی پر – پروش کےسامنی…?? ئتنی روشنی میں تو میںکبھی پروین کےسامنےبھی ننگی نہیںہوئی… اور اُن‍ہوننےکوشش بھی نہیںکی… میںنے جھٹ سےاپنی باہوںسےسچن کی پیٹھ کو اَچ‍چھی طرح جکڑ لیا। وہ مجھےآگے کرکےمیرا ب‍لااُج اُتارنا چاہتےتھی… بار بار کوشش کر رہےتھےپر میںنے اُنکواتنی زور سےپکڑ رکھا تھا کہ کئی کوشش کےبعد بھی وہ مجھےخود سےالگ نہیںکر پایہ। آخر میں اُن‍ہوننےھتھیار ڈال دئیے اور پھر سےمیری پیٹھ پر گدگدی کرنےلگی… میںبہت خوش تھی ایک تو ب‍لااُج اُتارنےسےبچ گئی… دوسرےاُنکی گدگدی میرےاَن‍در بہت ھی مس‍تی پیدا کر رہی تھی… میںنے سمجھا کہ اب تو یہ میرا ب‍لااُج اُتار ھی نہیںپایہنگی… ھایی… پر یہ سچن تو بہت ھی بدماش نکلی… سیئیئیئیئی… میںکہاںپھنس گئی آج…ان‍ہوننےتو میری پیٹھ پر گدگدی کرتےکرتےمیری برا کا ھک بھی کھول دیا… کتنےآرام اور منوبھاو سےوہ میرا ایک ایک وس‍تر کھول رہےتھی… مجھےتو اَن‍داجا بھی تب لگتا تھا جب وہ وس‍تر کھل جاتا تھا… میںنے اُنکو جکڑ کا پکڑا تھا… وہ… مجھی… خود سےالگ کرنےکی کوشش کر رہےتھے , تاکہ میرا ب‍لااُج اور برا نکال سکین… میںشرم سےدوہری سی ہوئی جا رہی تھی… میری ٹانگیںتھر – تھر کانپ رہی تھی… اَب جاکر کہیںاُنکےمنہ سےکوئی آواج نکلی… وہ بولے , “جانیمن , میںتم‍ہاری پوری کھوبسورتی اپنی نجروںمیں کید کرنا چاہتا ھون। صرف ایک سیکین‍ڈ کےلئیےمجھےچھوڑ دو , پھر میںخود ھی تمکو پکڑ لونگا।” میںنے کوئی جواب نہیںدیا। اُن‍ہوننےاپنے ھاتھ سےمیری ٹھوڑی کو پکڑ کر اُوپر کیا اور میری آنکھوںمیں جھانکتےہوئے ونتی سی کرنےلگےجیسےکہ رہےھوں , “پ‍لیج , مجھےاپنی پراکرتک اَوس‍تھا کا زیارت کرااو।” اُنکی نجروںمیں دیکھتے دکھتےپتہ نہیںکب میری پکڑ ڈھیلی ہوئی اور وہ مجھسےتھوڑا سا الگ ہوئی… میری برا اور ب‍لااُج نکل کر اُنکےھاتھ میں آ گیہ। آہہہ… میںتو خود کو اپنے ھاتھوںسےھی چھپانےلگی , ٹیوب کی روشنی میں… مین… اپنا بدن… اُنکی نجروںسےبچانےکی… ناکام کوشش… کر رہی تھی… اور وہ جیسےبیشرموںکی طرح مجھےلگاتار ئیکٹک نہار رہےتھی… ہای… مانऽऽऽऽ… یہ کیسی… ھو… گیا… مجھسی… میںتو کام اور لج‍جا کےسمندر میں ایک ساتھ گوتےلگا رہی تھی। اُن‍ہوننےمجھےپکڑ اور دھیرےسےوہیںسوپھےپر گرا دیا… میںنے لیٹتےھی اپنے س‍تنوںکی اپنی دونوںباجاوںسےڈھک لیا। اُن‍ہوننےآرام سےاپنی پینٹ اور شرٹ اُتاری تو سچن میرےسامنےبنیان اور اَن‍ڈروییر میں تھی… اُنکےاَن‍ڈروییر کو دیکھ کر ھی اُسکےاَن‍در جاگرت ھو چکا ناک بار – بار اپنا پھن اُٹھانےکی کوشش کر رہا تھا। میری نگاہ وہیںرک گئی। سچن آکر میرےبرابر میں پھرش پر بیٹھ گئی اور میرا ھاتھ بڑےھی پ‍یار سےایک س‍تن سےھٹاکر اُس س‍تن کو اَپنی… ھاےری… رسیلی… ھوٹھوںکےھوالےکر دیا। میرےچچوکاتنےکڑےاور موٹےلگ رہےتھےکہ مجھےخود ھی ان میں ھل‍کا ھل‍کا درد محسوس ھونےلگا تھا پر وہ درداتنا میٹھا تھا کہ دل کر رہا تھا یہ درد لگاتار ھوتا رہی… اُفف… اب پتہ نہیںمجھےک‍یا ھونےلگا تھا ؟ جسم کےاَن‍در عجیب اَجیب ترنگیںپیدا ھو رہی تھی। سچن میرےدونوںس‍تنوںسےمس‍تی سےس‍تنپان کا آنن‍د لےرہےتھےاب تو اُنکےھاتھ بھی میرےپیٹ اور ٹانگوںپر چلنےلگےتھی। آہہ… اُففپھ… کی ھی ھل‍کی سی آواج میرےکن‍ٹھ سےاُت‍پن‍ن ھو رہی تھی। سچن میرےکان میں ھل‍کےسےبولے , “کیسا لگ رہا ہے…?” میںتو کچھ جواب دنےکی صورتحال میں ھی نہیںتھی। سچن کی اُنگلیاںمیری نابھ کےآسپاس گھوم رہی تھی। میںاُس وقت خود کو جن‍نت میں محسوس کر رہی تھی। سچن نےدھیرےسےاپنا ھاتھ نابھ سےنیچےسرکایا… ھایی… یہ تو…ان‍ہوننےاپنا ھاتھ… میری پینٹی… کےاَن‍در گھسا دیا… میری پینٹی تو پوری طرح سےمیرےمحبت رس سےبھیگ چکی تھی… اُنکا ھاتھ بھی گیلا ھو گیا… سچن اپنی ایک اُنگلی کبھی میرےیون دوار پر اور کبھی مدنمن پر پھرانےلگی… آہہہ… میرےمنہ سےنکلی… میرا… سارا بدن کانپ رہا تھا… میںخود ھی اپنی ٹانگیںسوپھےپر پٹک رہی تھی… سچن نےمیرےکان میں کہا , “پوری گیلی ھو گئی ھو نیچےسے!” اؤر اپنی ھاتھ میری پینٹی نےنکال کر میرےپریمرس سےبھیگی اپنی اُنگلی کو دھیرے- دھیرےچاٹنےلگی। “چھی…” میرےمنہ سےنکلا। “بہت ٹیس‍ٹی ہے تم‍ہارا رس تو , تم چاٹ کر دکھو।” بولتےبولتےسچن نےاپنی اُنگلیاںمیرےمنہ میں گھسا دی। تھوڑا کسیلا… پر… س‍واد برا نہیںتھا میرےپریمرس کا। سچن پوری طرح میرےبدن پر اپنا زیادہار کر چکےتھی। وہ کھڑےہوئے اور اپنا بنیان اور اَنڈرویر بھی نکال دیا।اتنی روشنی میں پہلی بار میںکسی پروش کو اپنے سامنےننگا دیکھ رہی تھی। پروین نےجب بھی میرےساتھ سیک‍س کیا تھا وہ خود ھی بجلی بجھا دتےتھی। مجھےیہ بہت عجیب لگا اور میںنے اپنی آنکھیںشرم کےبند کر لی। سچن کی سب سے اَچ‍چھی کھوبی یہ تھی کہ وہ میری کسی بھی ھرکت کا برا نہیںمانتی… اور جواب میں ایسے ھرکت کرتےکہ میںخود ھی اُنکےسامنےجھک جاتی। یہاںبھی سچن نےیہی کیا… میرےآنکھیںبن‍د کرتےھی وہ سوپھےپر میرےبرابر میں بیٹھ گئے اَپنی ہاتھ سےمیرا ھاتھ پکڑکر اپنے لنگ پر رکھ دیا… آہہہ… کتنا… گرم لگ رہا تھا… ایسا لگا جیسےمیرےھاتھ میں لوہےکی کوئی گرم چھڑ دے دی ھو। میںنے ایک بار ھاتھ ھٹانےکی کوشش کی… پر سچن نےمیرا ھاتھ پکڑ لیا اور اپنے لنگ پر رکھکر ھؤلے- ھؤلےآگے پیچھےکرنےلگی। مجھےیہ اَچ‍چھا لگا تو میںبھی سچن کا ساتھ دنےلگی। اب سچن نےمیرا ھاتھ چھوڑ دیا। وہ میری دونوںپہاڑیوںسےکھیل رہےتھےاور میںاُنکےاُن‍نت لنگ سی। کچھ دیر تک ایسی ھی چلتا رہا। اَن‍در ھی اَن‍در مجھےیہ سباَچ‍چھا لگ رہا تھا پر میری یون کےاَن‍دراتنی کھپانیی ھو رہی تھی جو میںبرداش‍ت بھی نہیںکر پا رہی تھی। میری یون میں اَن‍در ھی اَن‍در کچھ چل رہا تھا , میرےھاتھ سچن کےلنگ پر تیزی سےچلنےلگی। اُتنی ھی تیزی سےمیری یون کےاَن‍در بھی ھلچل ھونےلگی। سچن تھےکہ میرےچہرہ ھونٹھ اور س‍تنوںپر ھی لگےہوئے تھی… نیچےکتنی آگ لگی ہےاسکا تو اُن‍ہیںاَنمان ھی نہیںتھا। پر . . مین… بہت… ھی… بیچین… ھونی… لگی… تھی , میںتو ٹانگیںبھی پٹکنےلگی تھی سچن نےمیرےھاتھوںسےاپنا لنگ چھڑایا… تھوڑا سا پیچھےکی طرف گھومکر اپنی ھاتھ میری یون پر رکھکر سہلانےلگی। وہ شاید میری آگ کو سمجھ گئے تھےاور اُسکو بجھانےکا کوشش کر رہےتھی। پر اُنکا ھاتھ وہاںلگتےھی تو میری آگ اور تیزی سےبھڑکنےلگی… “آہہہ… ھاےرام… اُئیئیئی… ھاےریریریری… میںتو آج مر ھی جااُونگی… ھای… کچھ کرو ناऽऽऽऽऽ… ” اَنایاس ھی میرےمنہ سےنکلا। سچن نےمجھےسوپھےسےگودی میں اُٹھایا اور میرےبیڈروم میں لےگیہ। بیڈ پر مجھےسیدھا لٹاکر وہ میرےاُوپر اُل‍ٹی اَوس‍تھا میں آ گیہ… اُن‍ہوننےاپنی دونوںٹانگوںکو میرےچہرہ کیارد – گرد رکھکر اپنا چہرا میری یون کےاُوپر سیٹ کیا اور ھای… یہ ک‍یا کیا… ؟ اپنی جیبھ میری یون کےدونوںگلاب پنکھوںکےدرمیان میں گھسا دی। اُوففپھپھ… میںک‍یا کرون…? میرےاَن‍در کی کاماگن نےمیری شرم کو تو شون‍ےکر دیا। اس وقت دل یہ تھا کہ سچن پورےکےپورےمیری یون کےاَن‍در گھس جایہن… پر وہ تو میری یون کو ایسی چاٹ رہےتھےجیسےکوئی گرم آئیسکریم مل گئی ھو… میرا سارا بدن پسینےپسینےھو گیا… اُنکا لنگ میرےبار – بار میرےھوٹھوںکو چھو رہا تھا پر وہ تھےکہ بس یون چاٹنےمیں ھی و‍یس‍ت تھی… پتہ نہیںکب اور کیسےمیرا منہ اپنے آپ ھی کھل گیا… ھونٹھ لنگ کو پکڑنےکا کوشش کرنےلگی। پر وہ تو میرےساتھ اَٹھکھیلیاںکر رہا تھا کبھیادھر – ‍ہل جاتا کبھی اُدھر… میںتو خود پوری طرح اُنکےکب‍جےمیں تھی। میںنے اپنے ھاتھ سےسچن کےلنگ کو پکڑا اور اپنے ھوٹھوںکےدرمیان سیٹ کیا… اب میںبھی اُنکا لنگ آئسکریم کی طرح چوسنےلگی… کچھ ھی دیر میں میرا بدن اَکڑنےلگا। میرےاَن‍در کا لاوا چھلک گیا میںس‍کھلت ھو گئی… اور شان‍ت بھی سچن کا لنگ بھی میرےمنہ سےنکل گیا। میںتو جیسےکچھ پل کےلئیےچیتنا وہین ھو گئی। کچھ سیکین‍ڈ بعد تیری چیتنا جیسےلؤٹنےلگی تو سچن نےگھومکر مجھسےپوچھا , “کیسا لگ رہا ہے?” “بہت اَچ‍چھا ایسی جیون میں پہلےکبھی نہیںلگا।” میںنے بنا کسی سنکوچ کےکہا , “پر آپکا تو نہیںہوا نا।” میںنے کہا। “اَب ھو جایہگا।” بولکر سچن میرےپورےبدن پر اپنی اُنگلیاںچلانےلگےمیری جانگھوںپر ھل‍کی ھل‍کی مالش کرتےاور نابھ کو چومتےمیںکچھ ھی پلوںمیں پن: گرم ھونےلگی। ئس بار میںنے خود ھی سچن کا لنگ اپنے ھاتھوںمیں لےلیا। لنگ کا اَگرحصہ باہر کی طرف نکلکر مجھےجھانک رہا تھا بل‍کل لال ھو چکا پوری ھیکڑی سےکھڑا تھا میرےسامنی। سچن نےمیرےھاتھ سےاپنا لنگ چھڑانےکا کوشش کیا। پر اب میںاُسکو چھوڑنےکو تیار نہیںتھی… میرےلئیےسچن کا لنگ ایک لنگ ھی نہیںبلکہ اُن لاکھوںبھارتی ناریوںکیاچ‍چھا پوری کا ین‍تر بن گیا جو اپنی کامیچ‍چھااوںکو پتورت میں دپھن کرکےکامستی ھو جاتی ہیں। سچن کا وہ موٹا لمبا لؤنڈا (لنگ) مجھےاپنا گلام بنا چکا تھا। اَب سچن نےاپنا موٹا لمبا لؤنڈا میرےھاتھ سےچھڑایا اور میری ٹانگوںکو پھیلاکر اُنکےدرمیان میں آ گیہ। اُن‍ہوننےپھر سےمیرےکامدوار کا اپنے ھوٹھوںسےرسپان کرنا شروع کر دیا। اَب تو یہ مجھسےبرداش‍ت نہیںھو رہا تھا। مجبور ھوکر مجھےاپنی 32 سال کی شرم تاک پر رکھنی پڑی। میںنے ھی سچن کو کہا , “اَن‍در ڈال دو پ‍لیج… نہیںتو میںمر جااُونگی।” پر شاید سچن مجا لینےکےموڑ میں تھے , مجھسےبولے- ک‍یا ڈال دون? اَب میںک‍یا بولتی… پر جب جان پر بن آتی ہے توانسان کسی بھی حد تک گجر جاتا ہے , یہ میںنے اُس رات محسوس کیا جب سچن ج‍یادا ھی مجا لینےلگےاور مجھمیں برداش‍ت کرنےکی ھم‍مت نہیںرہی تو میںنے خود ھی سچن کو دھک‍کا دیا اور بس‍تر پر لٹا دیا। ایک جھٹکےمیں میںسچن کےاُوپر آ گئی اور اُنکا موسل جیسا موٹا لمبا لؤنڈا پکڑکر اپنے پریمدوار پر لگایا , میںاُس پر بیٹھ گئی। آہہہ… ایک ھی جھٹکےمیں پورا اَن‍در… ھممم… ک‍یا آنن‍د تھا…! کاش پروین نےکبھی مجھےایسی ترسایا ھوتا… تو میںیہ سکھ کب کا بھگتنا چکی ھوتی… اب تو سچن میرےنیچےتھے , میںاُنکےموٹا لمبا لؤنڈا پر سواری کر رہی تھی… واہ… ک‍یا آنن‍د…! ک‍یا اَنبھو…! ک‍یا اُت‍ساہ…! ایسا لگ رہا تھا جیسےمجھےیہ آنن‍د دنےس‍ویںکامدو دھرتی پر آ گئے ھون। سچن کا ش‍یام زات موٹا لمبا لؤنڈا … ھایی… مجھےس‍ورگ کی سیر کرا رہا تھا… میںزور جور سےکود کود کر دھک‍کےمار رہی تھی। سچن نےمیرےدونوںمم‍موںکو ھاتھ میں پکڑ کر ھارن کی طرح دبانا شروع کر دیا। آنن‍د ملا ہوا درد کی اَنبھوت ھونےلگی پر آنن‍داتنا زیادہ تھا کہ درد کا اَہساس ھو ھی نہیںرہا تھا। سچن بار بار میرےاُروجوںکو دباتی… میرےس‍تناگروںکو مسلتی… میرےبدن پر ھاتھ پھراتی… ایسا لگ رہا تھا جیسےسچن اس کھیل کےپک‍کےکھلاڑی تھی… اُنکی اُنگلیوںنےمیرےخون میںاتنا اُبال پیدا کر دیا کہ میںخود کو ساتویںآسمان پر تھی। تبھی اَچانک مجھےاپنے اَن‍در جھرنا سا چلتا محسوس ہوا। موٹا لمبا لؤنڈامیرےاَن‍در پریمسالا کرنےلگا। سچن کےھاتھ خود ھی ڈھیلےھو گیہ… اور اُسی پل… آہ… اُئیئیئیئی… مانऽऽऽऽऽ… میںبھی گئی… ھم دونوںکا س‍کھلن ایک ساتھ ہوا… میںاب دھیرےدھیرےاُس س‍ورگ سےباہر نکلنےلگی। میںسچن کےاُوپر ھی نڈھال گر پڑی। سچن میرےبالوںمیں اپنی اُنگلیاںچلانےلگےاور دوسرےھاتھ سےمیری پیٹھ سہلانےلگی। میرےلئیےتو یہ بھی ئیکدم نیا تھا ک‍یونک پروین تو ھر بار کام کرکےالگ ھوکر سونےچلےجاتی। مجھےسمجھ میں آنےلگا کہ سچن میں ک‍یا خاص ہے ؟ کچھ دیر اُنکےاُوپر ایسی ھی پڑ رہنےکےبعد میںھل‍کی سی اُوپر ہوئی تو سچن نےمیرےماتھےپر ایک میٹھا پ‍یار بھرا چم‍بن دیا , پوچھنےلگے , “اَب میںجااُوں , اجاجت ہے ک‍یا?” میںنے دیوار گھڑی کی طرف دکھا اور ھنسنےلگی , “ہا… ھا… ھا… ھا…” “ہنس ک‍یوںرہی ھو?” سچن نےپوچھا। “جناب ایک بجکر بیس منٹ ھو چکےہیں اور آپکی گاڑی تو پک‍کا چلی گئی ھوگی।” سچن نےترن‍ت دیوار گھڑی کی طرف دکھا , پھر میری طرف دیکھ کر مس‍کرانےلگےبولے , “آکھر تمنےمجھ پر اپنا جادو چلا ھی دیا।” “کسنےکس پر جادو چلایا یہ تو بھگوان ھی جانتا ہے।” میںنے ھنس کر کہا। سچن پھر سےمیرےس‍تنوںسےکھیلنےلگی। “آہ… بہت درد ہے।” اَچانک میرےمنہ سےنکلا। سچن میری طرف دیکھ کر پوچھنےلگے , “تم‍ہاری شادی کو 12 سال ھونےوالےہیں اور تم دونوںروز سیک‍س بھی کرتےھو تب بھی آج تم‍ہارےس‍تنوںمیں درد ک‍یوںھونےلگا?” “وہ کبھی بھی ان سےاتنی بیدردی سےنہیںکھیلتی।” بولتےہوئے میںاُنکےاُوپر سےاُٹھ گئی। “اوہ…” سچن کےمنہ سےنکلا। شاید اُنکو اپنی گلتی کا اَہساس ھونےلگا। میںنے پاس ھی پڑےچھوٹےتؤلیے سےاپنی رستی ہوئی یون اور سچن کےبیچارےنریہ سےدکھ رہےلنگ کو صاف کیا اور باتھروم میں دھونےچلی گئی। سچن بھی میرےپیچھےپیچھےباتھروم میں آمدنی اور پانی سے‘سبکچھ’ اَچ‍چھی طرح دھوکر واپس بس‍تر پر جاکر لیٹ گیہ। باتھروم سےواپس آکر میںنے اپنا گااُن اُٹھایا اور پہننےلگی تو سچن نےمجھےاپنی طرف کھینچ لیا। ‘ہاییییی…’ ایک جھٹکےسےمیںسچن کےپاس بس‍تر پر جا گری , سچن بولے , “تھوڑی دیر گااُن مت پہنو پ‍لیج , میرےپاس ایسی ھی لیٹ جااو। ایسی ھی باتیںکرینگی।” پر اب مجھ پر سےسیک‍س کا نشا اُتر چکا تھا , ایسی تو میںکبھی پروین کےسامنےبھی نہیںرہی تھی , اور سچن تو پرپروش تھے , مجھےشرم آ رہی تھی। میںسچن کی باہوںمیں کسمسانےلگی , “پ‍لیج , مجھےشرم آ رہی ہے। میںگااُن پہن کر آپکےپاس بیٹھتی ھوںنا…” میںنے کہا। سچن ھنستےہوئے بولے , “اَب بھی شرم باقی ہے ک‍یا ھم دونوںمیں।” پر میںتھی کہ شرم سےگڑی جا رہی تھی… اور سچن تھےکہ ماننےکو تیار نہیںتھی। کافی دیر تک بحث کرنےکےبعد ھم دونوںمیں اتفاق رائے ھو مندرجہ ذیل سچن بتتی بند کرنےکو راجی ھو گئے اور میںلائٹ آپھ کرنےکےبعد اُنکےساتھ بنا گااُن کےلیٹنےکو। ہم دونوںایسی ھی اپنی خاندان کی اور نہ جانےک‍یا ک‍یا باتیںکرنےلگی। باتیںکرتےکرتےمجھےتو پتہ ھی نہیںچلا کہ سچن کو کب نیند آ گئی। میںنے گھڑی دیکھی رات کے2 بج چکےتھےپر نیند میری آنکھوںسےکوسوںدور تھی। اَچانک سچن نےمیری طرف کروٹ لی اور بولے , “پانی دوگی ک‍یا , پ‍یاس لگی ہے !” میںاُٹھی اور سچن کےلئیےپانی لینےچلی گئی। واپس آئی تو سچن جگ چکےتھےاور میرےھاتھ سےپانی مسئلہ پینےکےبعد مجھےکھینچکر پھر سےاپنے پاس بیٹھا لیا اور اپنا سر میری گودی میں رکھکر لیٹ گیہ। میںاُنکےبالوںکو سہلانےلگی , میںنے دکھا اُنکا لنگ مورچھا سےباہر آنےلگا تھا اُسمیں ھل‍کی ھل‍کی ھرکت ھونےلگی تھی। سچن نےشاید میری نگاہ کو پکڑ لیا। تھوڑا سا گھوم کر وہ میرےبرابر میں آمدنی اور خود ھی میرا ھاتھ پکڑکر اپنے لنگ پر رکھ دیا। اَپنےایک ھاتھ سےاَرن میرےھوٹھوںکو سہلانا شروع کیا اور دوسرےھاتھ سےمیرےاُروجوںکو , اور پھر اَچانک ھی اپنا دوسرا ھاتھ ھٹا لیا। میںنے پوچھا , “ک‍یا ہوا?” اُن‍ہوننےکہا , “میںبھول گیا تھا تمکو درد ہے نا !” پر تب تک تو میرا درد کاپھور ھو چکا تھا। میںنے خود ھی اُنکا ھاتھ پکڑ کا اپنے کچوںپر رکھ دیا اور وہ پھر سےمیرےاُبھاروںسےکھیلنےلگےپر اس بار وہ بہت ھی ھل‍کےاور ملایم طریقے سےمیرےنپ‍پل کو سہلا رہےتھے , شاید وہ کوشش کر رہےتھےکہ مجھےپھر سےدرد نا ھو اُنکو ک‍یا پتہ کہ میںتو اُس درد کو پانےکےلئیےہی تڑپ رہی تھی। اُنکےلنگ پر میرےھاتھوںکی مالش کا اثر دکھائی دنےلگا। وہ پن: کامجنگ کےلئیےتیار تھا। میںبھی اب کھلکر کھیلنا چاہتی تھی। میںخود ھی گھوم کر سچن کےاُوپر آ گئی اور اُنکےھوٹھوںکو اپنے ھوٹھوںمیں دبا لیا। ھم دونوںاپنی دوسری اننگ کھیلنےکےلئیےتیار تھی। سچن میرےنتم‍بوںکو بڑےپ‍یار سےسہلانےلگے , میںاُنکےھوٹھوںکو پھر ٹھوڑی کو , گردن کو , اُنکی چؤڑی چھاتی کو چومتےہوئے نیچےکی طرف بڑہنےلگی। میںاُنکی نابھ میں اپنی جیبھ گھساکر چاٹنےلگی , اُنکا لنگ میری ٹھوڑی سےٹکرانےلگا। میںنے خود کو تھوڑا سا اور نیچےسرکاکر سچن کےلنگ کو اپنی دونوںھوٹھوںکےدرمیان میں دبوچ لیا। اب میںکھل کر منھمیتھن کرنےلگی। سچن کو بھی بہت مجا آ رہا تھا , یہ اُنکےمنہ نےنکلنےوالی سسکاریاںبیان کر رہی تھی। پرن‍ت میری یون میں تو پھر سےکھپانیی ھونےلگی। مجبور ھوکر مجھےپھر سےسچن کےاُوپر 69 کی اَوس‍تھا میں آنا پڑا। تاکہ وہ میری یون کو کچھ آرام دے سکین। وہ تو تھےبھی اپنے کھیل میں ماہر। اُن‍ہوننےترن‍ت اپنی جیبھ سےمیری مدنمن کو سہلانا شروع کر دیا। دھیرےدھیرےمیری یون کےاَن‍در جیبھ ٹھیل دی اور اَن‍در تک یون کی سپھائی کا کوشش کرنےلگی। آہ… ھم دونوںتو پن: آنن‍دوبھور تھی। سچن رت کریا میں منجھےہوئے کھلاڑی تھی। جسکا پرچےوہ پہلی اننگ میں ھی دے چکےتھی। اس بار تو مجھےخود کو ثابت کرنا تھا। میںبہت ھی مجےمسئلہ سچن کےکامدن‍ڈ کو چوس رہی تھی اور اُنکی دونوںگولیوںکےساتھ کھیل بھی رہی تھی। سچن میری یون میں اپنی جیبھ سےکریدتےہوئے اپنے دونوںھاتھوںکو میرےنتم‍بوںکی درار پر پھرا رہےتھی। مجھےاُنکا یہ کرنا بہت ھی اَچ‍چھا لگ رہا تھا। “آہ…” تبھی میںدرد سےکراہ اُٹھی। اُن‍ہوننےاپنی ترجنی اُنگلی میری گدا میں جو دھکیل دی تھی। میںکودکر بس‍تر سےنیچےآ گئی। سچن نےپوچھا , “ک‍یا ہوا?” میںنے کہا , “آپنےپیچھےاُنگلی ک‍یوںڈالی ؟ پتہ ہے کتنا درد ہوا?” سچن بولے , “ئسکا مطلب پیچھےسےبل‍کل کوری ھو ک‍یا?” میںنے اَن‍جان بنتےہوئے کہا , “چھی:… پیچھےبھی کوئی کرتا ہے بھلا?” سچن بولے , “ک‍یا یار ؟ لگتا ہے تم‍ہارےلئیےسیک‍س کا مطلب بس آگے ڈالنا… اور بس پانی نکالنا ھی ہے…?” “متلب?” میںنے پوچھا। سچن بولے , “یار , کیسی باتیںکرتی ھو تم ؟ سیک‍س صرف پانی نکال کو سو جانےکا نام نہیںہے। یہ تو ایک آرٹ ہے , پورا سائنسى دنيا ہے یہ , یہ مانسک اور شاریرک کسرت بھی ہے اور مکمل سن‍تشٹ بھی , کام کو مکمل آنن‍د کےساتھ برداری کبیماریی تبھی سن‍تشٹ ملیگی।” میںتو اُنکا کامجنان سنکر دنگ تھی। ابھی تو اُنکا کامپران اور بھی چلتا اگر میںنیچےپھرش پر بیٹھکر اُنکا کامدن‍ڈ اپنے ھوٹھوںسےنا لگاتی تو। اب تو اُنکا کامدن‍ڈ بھی اپنا پورناکار لےچکا تھا। تبھی سچن بس‍تر سےکھڑےھو گئے اور مجھےبھی پھرش سےکھڑا کر لیا। مجھکو گلےسےلگایا اور کھینچتےہوئے ڈریسنگ ٹیبل کےپاس لےگیہ। کمرےمیں لائٹ پانی رہی تھی ھم دونوںآدمجات ننگےڈریسنگ کےسامنےکھڑےتھی। سچن مجھےاور خود کو اس اَوس‍تھا میں شیشےمیں دیکھنے لگی। میری نگاہ بھی شیشےکی طرف گئی , اس طرح بل‍کل ننگیاتنی روشنی میں میںنے خود کو کبھی پروین کےساتھ بھی نہیںدکھا تھا। میںتو شرم سےپانی پانی ھونےلگی। میںنے پانی‍دی سےوہاںسےھٹنےکی کوشش کی। پر سچن کو شاید میرا وہاںکھڑا ھونا اَچ‍چھا لگ رہا تھا। وہ تو جبردس‍تی مجھےوہیںپکڑکر چومنےچاٹنےلگی। میںاُنکی پکڑ ڈھیلی کرنےکی کوشش کرتی پر وہ مجبوتی سےپکڑکر میرےس‍تنوںکو وہیںآدمکد شیشےکےسامنےچوسنےلگی। میںشیشےمیں اپنے بھورےرنگ کےکڑےھو چکےکچاگر پر بار بار اُنکی جیبھ کی رگڑ لگتےہوئے دیکھ رہی تھی , یہ میرےلئیےبہت ھی رومانچکاری تھا। میری شرم دھیرےدھیرےکھت‍م ھونےلگی। اب میںبھی وہیںسچن کا ساتھ دنےلگی تو اُنکو سینےسےلگاکر اپنے ایک ھاتھ سےاُنکا کامدن‍ڈ سہلانےلگی। شیشےمیں خود کو یہ سب کرتےدیکھ کر ایک الگ ھی رومانچ اُت‍پن‍ن ھونےلگا। شرم تو اب مجھسےکوسوںدور چلی گئی। سچن نےبھی مجھےڈھیلا چھوڑ دیا। وہ نیچےپھرش پر پالتھی مارکر میری دونوںٹانگوںکو کھولکر اُنکےدرمیان میں بیٹھ گیہ। نیچےسےسچن نےمیری یو‍ن کو چاٹنا شروع کر دیا। ایک اُنگلی سےسچن میرےبھنگاکر کو سہیج رہےتھی। “اُئیئیئیئیئیئی…” میرےمنہ سےنکلا , میںتو جیسےنڈھال سی ھونےوالی تھی , اتنا رومانچ جیون میں پہلی بار محسوس کر رہی تھی। میںنے نیچےدکھا سچن پالتھی مار کر بیٹھےتھے , اُنکا کامدن‍ڈ تو جیسےاُوپر کی طرف مجھےھی گھور رہا تھا। میںبھی اپنے گھٹنےموڑ کر وہیںشیشےکےسامنےسچن کی طرف منہ کرکےاُنکی گودی میں جا بیٹھی। اؤر “آہہہہہہ . . ” اُنکا کامدن‍ڈ پورا کا پورا ایک ھی جھٹکےمیں میرےکامدوار میں پرویش کر گیا। میںاَسیم سکھ محسوس کر رہی تھی। میںنے اپنی ٹانگوںسےسچن کی پیٹھ کو جکڑ لیا। سچن نےپھر سےاپنے منہ میں میرےچچوک کو بھر لیا। میرےنتم‍ب خود – ب – خود ھی ایسی اُوپر نیچےھونےلگےجیسےکسی گانا کی تال پر نرت‍ےکر رہےھون। سچن بھی میرےچچوک چوستےچوستےنیچےسےمیرا ساتھ دنےلگی। بنا کسی دھ‍ون کےھی پورا سنگیتمےواتاورن بن گیا , کامسنگیت کا… ھم دونوںکا پن: ئیکاکار ھو چکا تھا। مجھےلگا کہ اس بار میںپہلےشہید ھو گئی ھون। سچن کا دن‍ڈ نیچےسےلگاتار میری بچ‍چیدانی تک چوٹ کر رہا تھا। تبھی مجھےنیچےسےسچن کا پھو‍وارا پھوٹتا ہوا محسوس ہوا। سچن نےاَچانک مجھےاپنے باہپاش میں جکڑ لیا اور میری یون میں اپنا کام پرساد اَرپن کر دیا। میںلگاتار شیشےکی طرف ھی دیکھ رہی تھی। اب مجھےیہ دیکھنا بہت سکھدایی لگ رہا تھا پر جسم میں جان نہیںتھی , میںوہیںپھرش پر لیٹ گئی پرن‍ت سچن اس بار اُٹھکر باتھروم گئے , کھلےدرواجےسےمجھےدکھ رہا تھا کہ اُنہوں نے ایک مگ میں پانی بھرکر اپنے لنگ کو اَچ‍چھےسےدھویا , تؤلیے سےپؤنچھا اور باہر آ گیہ। اُنکےچہرہ پر ذرا سی بھی تھکان محسوس نہیںھو رہی تھی , اُنکو دیکھ کر مجھےبھی کچھ پھورت آئی। میںبھی باتھروم میں جاکر اَچ‍چھی طرح دھو پؤنچھ کر باہر آئی। گھڑی میں دکھا 3 . 15 بجے تھےمیںنے سچن کو آرام کرنےکو کہا। وہ میری طرف دیکھ کر ھنستےہوئے بولے , “جب جا رہا تھا تو جانےنہیںدیا। اب آرام کرنےکو بول رہی ھو ابھی تو کم سےکم 2 رااُنڈ اور لگانےہیں , آج کی رات جب تم‍ہارےساتھ رک ھی گیا ھوںتو اس رات کا پورا فائدہ اُٹھانا ہے।” سچن کی اس بات نےمیرےاَن‍در بھی طاقت پھیلاؤ کیا , میری تھکان بھی مٹنےلگی। میںنے پھرج میں سےایک سیب نکالا , چاکو مسئلہ اُنکےپاس ھی بیٹھکر کاٹنےلگی। وہ بولے , “مجھےیہ سب نہیںکھانا ہے।” میںنے کہا , “آپنےبہت محنت کی ہے ابھی اور بھی کرنےکا موڑ ہے تو کچھ کھا لوگےتو آپکےلئیےاَچ‍چھا ہے।” سچن بولے , “آج تو تمکو ھی کھااُونگا بس।” سیب اور چاکو کو الگ رکھکر میںواپس آکر سچن کےپاس بیٹھ گئی। میرےبیٹھتےھی اُن‍ہوننےاپنا سر میری جانگھوںپر رکھا اور لیٹ گیہ। میںپ‍یار سےاُنکےبالوںمیں اُنگلیاںپھرانےلگی। پر وہ تو بہت ھی بدماش تھےاُن‍ہوننےمنہ کو تھوڑا سا اُوپر کرکےمیرےبانیہ س‍تن کو پھر سےاپنے منہ میں بھر لیا। میںنے ھنستےہوئے چھوٹےسےھو چکےاُنکےلنگ کو ھاتھ میں پکڑ کر مروڑتےہوئے پوچھا , “یہ تھکتا نہیںک‍یا?” سچن بولے- تھکتا تو ہے پر ابھی تو بہت جان ہے ابھی تو لگاتار کم سےکم 4 – 5 رااُنڈ اور کھیل سکتا ہے تم‍ہارےساتھ। “پر میںنے تو کبھی بھی ایک رات میں ایک سےج‍یادا بار نہیںکیا اسیلیے مجھےعادت نہیںہے।” میںنے بتایا। سچن نےترن‍ت ھی اپنے ملنسار و‍یوہار کا پرچےدتےہوئے کہا , “تب تو تم تھک گئی ھونگی تم لیٹ جاؤ , میںتم‍ہاری مالش کر دتا ھوںتاکہ تم‍ہاری تھکان مٹ جائے اور اب آگے کچھ نہیںکرینگی।” میرےلاکھ منع کرنےپر بھی وہ نہیںمانےخود اُٹھکر بیٹھ گئے اور مجھےبس‍تر پر لٹا دیا। ڈریسنگ ٹیبل سےتیل لاکر میری مالش کرنےلگی। اس سے پہلےمیری مالش کبھی بچپن میں میری ماںنےھی کی ھوگی। میری یاد میں تو پہلی بار کوئی میری مالش کر رہا تھا , وہ بھیاتنےپ‍یار سے! میںتو بھاووبھور ھو گئی , میری آنکھیںنم ھونےلگی , گلا روندھنےلگا। سچن نےپوچھا , “ک‍یا ہوا?” “کچھ نہین।” میںنے خود کو سم‍بھالتےہوئے کہا اور سچن کےساتھ مالش کا مزا کرنےلگی , میری باجو پر , س‍تنوںپر , پیٹ پر , پیٹھ پر , نتم‍بوںپر , جانگھوںپر , ٹانگوںپر اور پھر پیروںپر بھی سچن تن‍میتا سےمالش کرنےلگی। واس‍تو میں میری تھکان مٹ گرئ اب تو میںخود ھی سچن کےساتھ اور کھیلنےکےموڑ میں آ گئی। آج میںسچن کےساتھ دو بار ئیکاکار ہوئی اور دونوںبار ھی الگ اَلگ اَوس‍تھا میں। میرےلئیےدونوںھی اَوس‍تھا نئی تھی , اب کچھ نیا کرنا چاہتی تھی پر سچن کو کیسےکہوںسمجھ نہیںآ رہا تھا। پر میںسچن کےاَہسانوںکا بدلا چکانےکےموڈ میں تھی , میںتیزی سےدماغ دؤڑا رہی تھی کہ ایسا ک‍یا کروںجو سچن کو بل‍کل نیا لگےاور مکمل سن‍تشٹ بھی د। سہی سوچکر میںنے سچن کےپورےبدن کو چاٹنا شروع کر دیا। سچن کو میری یہ ھرکت اَچ‍چھی لگی شاید , ایسا مجھےلگا। وہ بھی اپنے جسم کا ھر اَنگ میری جیبھ کےسامنےلانےکا کوشش کرنےلگی। دھیرےدھیرےمیںاُنکےھونٹھوںکو چوسنےلگی پر میںتو اس کھیل میں ابھی بچ‍چی تھی اور سچن پورےکھلاڑی। اُن‍ہوننےمیرےھوٹھوںکو کھولکر اپنی جیبھ میری جیبھ سےبھڑا دی। ایسا لگ رہا تھا جیسےھم دونوںکی جیبھیںھی آپس میں ئیکاکار کر رہی ہیں। میںسچن کےبدن سےچپکتی جا رہی تھی بار – بار। میرا پورا بدن تیل سےچکنا تھا سچن کےھاتھ بھی تیل سےسنےہوئے تھی। سچن نےاپنی ایک اُنگلی سےمیری یون کےاَن‍در کی مالش بھی شروع کر دی। میری یون تو پہلےھی سےگیلی محسوس ھو رہی تھی , اُنکی چکنی اُنگلی یون میں پورا مجا دے رہی تھی , اُنکی اُنگلی بھی میرےیونرس سےسن گئی। اُن‍ہوننےاَچانک اُنگلی باہر نکالی اور میرےنتم‍بوںکےدرمیان میں سہلانا شروع کر دیا। چکنی اور گیلی اُنگلی سےاس طرح سہلانا مجھےبہت اَچ‍چھا لگ رہا تھا। اَچانک “ہاییی… مانऽऽऽऽऽ… ऽऽऽऽ…” پھر سےوہ ھی ھرکت ! اُن‍ہوننےپھر سےاپنی اُنگلی میری گدا میں گھسانےکا کوشش کیا , میںکود کر دور ھٹ گئی। میںنے کہا , “آپ اپنی شرارت سےباج نہیںآاوگےنا…?” سچن بولے , “میںتو تمکو نیا مجا دنا چاہتا ھون। تم ساتھ ھی نہیںدے رہی ھو।” میںنے کہا , “ساتھ ک‍یا دوں؟ پتہ ہے ئیکدم کتنا درد ھوتا ہے !” “تم ساتھ دنےکی کوشش کرو। تھوڑا درد تو ھوگا , پر میںوعدہ کرتا ھوںجہاںبھی تمکو لگیگا کہ اس بار درد برداش‍ت نہیںھو رہا بول دنا میںرک جااُونگا।” سچن نےمجھےسانت‍ونا دتےہوئے کہا। میںگدا میتھن کو اپنے کم‍پ‍یوٹر پر کئی بار دیکھ چکی تھی। میرےاَن‍در بھی نیا رومانچ بھرنےلگا پر درد کےڈر سےمیںھامی نہیںبھر رہی تھی। ھاں , کچھ نیا کرنےکی چاہت جرور تھی میرےاَن‍در , یہی سوچکر میںنے سچن کا ساتھ دنےکی ٹھان لی। سچن نےمجھےبس‍تر پر آگے کی طرف اس طرح جھکاکر بیٹھا دیا کہ میری گدا کا منہ سیدھےاُنکےمنہ کےسامنےکھل گیا। اب سچن میرےپیچھےآ گئے , اُن‍ہوننےڈریسنگ سےبوروپ‍لس کی ٹیوب اُٹھائی اور میری گدا پر لگا کر دبانےلگی। ٹیوب سےکریم نکلکر میری گدا میں جانےلگی।سچن بولے , “جیسےلیٹرین کرتےوقت گدا کھولنےکا کوشش کرتی ھو ایسی ھی ابھی بھی گدا کو بار بار کھولنےبن‍د کرنےکا کوشش کرو تاکہ کریم خود ھی تھوڑی اَن‍در تک چلی جایہ।” کریم گدا میں لگنےسےمجھےھل‍کی ھل‍کی گدگدی ھونےلگی। میںگدا کو بار – بار سنکچت کرتی اور پھر کھولتی , سچن گدادوار پر اپنی اُنگلی پھرا رہےتھےجس سے گدگدی بڑہنےلگی , کچھ کریم بھی اَن‍در تک چلی گئی। ئس بار جیسےھی میںنے گدا کو کھولا , سچن نےاپنی اُنگلی کریم کےساتھ میری گدا میں سرکا دی। جیسےھی میںگدا سنکچت کرنےلگی مجھےاُنگلی کا اَندر تک اَہساس ہوا پر تب تک اُنکی اُنگلیاتنی چکنی ھو گئی تھی کہ گدا میں ھل‍کےھل‍کےسرکنےلگی। درد تو ھو رہا تھا پر چکناہٹ کا بھی کچھ کچھ اثر تھا مجا آنےلگا تھا। میںبھی تو کچھ نیا کرنےکےموڈ میں تھی। سچن نےایک اُنگلی میری گدا میں اور دوسری میری یون میں اَن‍در باہر سرکانی شروع کر دی। دھیرے- دھیرےمیںتو آنن‍د کےسمندر میں ھچکؤلےکھانےلگی। کچھ سیکین‍ڈ بعد ھی سچن بولے , “اَب تو کوئی پریشانی نہیںہے نا?” میںنے سر ھلاکر صرف ‘نا’ میں جواب دیا। باک جواب تو سچن کو میری سسکاریوںسےمل ھی گیا ھوگا। اُن‍ہوننےپھر سےکریم میری گدا میں لگانا شروع کیا। میںخود ھی بنا کہےایک گلام کی طرح اُنکی ھر بات سمجھنےلگی تھی। میںنے بھی اپنی گدا کو پھر سےسنکچت کرکےکھولنا شروع کر دیا। اس بار اَچانک مجھےگدا میں کچھ جانےکا اَہساس ہوا میںنے دھ‍یان دیا تو پایا کہ سچن کی دو اُنگلیاںمیری گدا میں جا چکی تھی। پھر سےوہی درد کا اَہساس تو ھونےلگا। پر آنن‍د کی مقدار درد سےج‍یادا تھی। تو میںنے درد سہنےکا نرنےکیا। اُنکی اُنگلیاںمیری گدا میں اب تیزی سےچلنےلگی تھی। یہ ک‍یا . . ؟ میںتو خود ھی نتم‍ب ھلا ھلا کر گدا میتھن میں اُنکا ساتھ دنےلگی। وہ سمجھ گئے کہ اب مجھےمجا آنےلگا। اُن‍ہوننےاپنا لنگ میری طرف کرکےکہا کہ اپنے ھاتھ سےاس پر کریم لگا دو। میںنے آجناکاری داسی کی طرح اُنکی آجنا کا پالن کیا। لنگ کو چکنا کرنےکےبعد وہ پھر سےمیرےپیچھےآ گئے , مجھسےبولے , “اَب میںتم‍ہارےاَن‍در لنگ ڈالنےکی کوشش کرتا ھون। جب تک برداش‍ت کر سکو ٹھیک , جب لگےکہ برداش‍ت نہیںھو رہا ہے بول دنا।”میںنے ‘ہان’ میں سر ھلا دیا। سچن میرےپیچھےآمدنی اور اپنا کامدن‍ڈ میری گدا پر رکھکر اَن‍در سرکانےکا کوشش کرنےلگی। میںنے بھی ساتھ دتےہوئے گدا کو کھولنےکا کوشش کیا। لنگ کا اگلا سرا یعنی سپارا دھیرےدھیرےاَن‍در جانےلگا। کچھ ٹائٹ جرور تھا پر مجھےکوئی بھی پریشانی نہیںھو رہی تھی। ئیک انچ سےبھی کچھ ج‍یادا ھی شاید میری گدا میں چلا گیا تھا। مجھےکچھ درد کا اَہساس ہوا , “آہہہ…” میرےمنہ سےنکلی ھی تھی… کہ سچن رک گئے , پوچھنےلگے , “ٹھیک ھو نا?” میںنے پن: ‘ہان’ میں سر ھلا دیا اور درد برداش‍ت کرنےکا کوشش کرنےلگی। میںنے پن: گدا کو کھولنےکا کوشش کیا ک‍یونک سنکچن کےوقت تو لنگ اَن‍در جانا سم‍بھو نہیںھو پا رہا تھا بس ایک سیکین‍ڈ کےلئیےجب گدا کو کھولا تبھی کچھ اَن‍در جا سکتا تھا। جیسےھی سچن کو میری گدا کچھ ڈھیلی محسوس ہوئی اُن‍ہوننےاَچانک ایک دھک‍کا مارا। میرا سر سیدھا بس‍تر سےٹکرایا , منہ سے‘آہہہہہ…’ نکلی। تب تک سچن اپنے دونوںھاتھوںسےمیرےس‍تنوںکو تھام چکےتھی। مجھےبہت درد ھونےلگا تھا। سچن میرےچچوک بہت ھی پ‍یار سےسہلانےلگےاور بولے , “جانیمن , بس اور کش‍ٹ نہیںدونگا।” مجھےاُنکا اس طرح چچوک سہلانا بہت ھی آرام دے رہا تھا , گدا میں کوئی ھلچل نہیںھو رہا تھی , درد کا اَہساس کم ھونےلگا। مجھےکچھ آش‍وس‍ت دیکھ کر سچن بولے , “دکھو , تمنےتو پورا اَن‍در لےلیا।” میںنے آش‍چرےسےپیچھےدکھا… سچن میری طرف دیکھ کر مس‍کرا رہےتھی। پر لگاتار میرےوکش – اُبھاروںسےکھیل رہےتھی। اب تو مجھےبھی گدا میں کچھ کھپانیی محسوس ھونےلگی। میںنے خود ھی نتم‍بوںکو آگے پیچھےکرنا شروع کر دیا। کریم کا اثراتنا تھا کہ میرےھلتےھی لنگ خود ھی سرکنےلگا। سچن بھی میرا ساتھ دنےلگی। میںاس نئے سکھ سےبھی سرابور ھونےلگی। دو چار دھک‍کےھل‍کےلگانےکےبعد سچن اپنے اَن‍داج میں جبردس‍ت شاٹ لگانےلگی। مجھےاُنکےھر دھک‍کےمیں ٹیس محسوس ھوتی پرن‍ت آنن‍د کی مقدار ھر بار درد سےج‍یادا ھوتی। اسیلیے مجھےکوئی پریشانی نہیںھو رہی تھی। سچن نےمیرےوکش سےاپنا ایک ھاتھ ھٹاکر میری یون میں اُنگلی سرکا دی। اب تو مجھےاور بھی ج‍یادا مجا آنےلگا। اُنکا ایک ھاتھ میرےچوچےپر , دوسرا یون میں اور لنگ میری گدا میں।میںتو ساتویںآسمان میں اُڑنےلگی। تبھی مجھےگدا میں بؤچھار ھونےکا اَہساس ہوا। سچن کےمنہ سےڈکار جیسی آواج نکلی। میری تو ھنسی چھوٹ گئی , “ہا… ھا… ھا… ھا… ھا… ھا…” مجھےھنستا دیکھ کر اپنا لنگ میری گدا سےباہر نکالتےہوئے سچن نےپوچھا , “بہت مجا آیا ک‍یا?” نےھنستےہوئے کہا , ”مجا تو آپکےساتھ ھر بار ھی آیا پر میںتو یہ سوچکر ھنسی کہ آپکا شیر پھر سےچوہا بن گیا।” میری بات پر ھنستےہوئے سچن وہاںسےاُٹھےاور پھر سےباتھروم میں جاکر اپنا لنگ دھونےلگی। میںبھی اُنکےپیچھے- پیچھےھی باتھروم میں گئی اور شاور چلا کر پورا ھی نہانےلگی… سچن سےسابن مل – مل کر مجھےاَچ‍چھی طرح ن‍ہلانا شروع کر دیا… اور میںنے سچن کو… میںاس رات کو کبھی بھی نہیںبھولنا چاہتی تھی। سچن نےباہر جھانککر گھڑی کو دکھا تو ترن‍ت باہر آیہ। 4 . 50 ھو چکےتھی। سچن نےباہر آکر اپنا بدن پؤنچھا اور تیزی سےکپڑےپہننےلگی। ھجاروںکہانیاںہیں اَنترواسنا پر ! میںنے پوچھا , “ک‍یا ہوا?” سچن بولے , “دن نکلنےکا وقت ھو گیا ہے। کچھ ھی دیر میں روشنی ھو جایہگی میںاس سے پہلےھی چلےجانا چاہتا ھون। تاکہ مجھےیہاںآتے- جاتےکوئی دیکھ نا پایہ।” میںنے بولا , “پر آپ تھک گئے ھونگےنا , کچھ دیر آرام کر لو।” پر سچن نےمیری ایک نہیںسنی اور جانےکی جد کرنےلگی। مجھےاُنکا اس طرح جانا بل‍کل بھی اَچ‍چھا نہیںلگ رہا تھا। پر اُنکی باتوںمیں میرےلئیےچن‍تا تھی। وہ میرا کھ‍یال رکھکر ھی سےسب بول رہےتھی। اُنکو میری کتنی چن‍تا تھی وہ اُسکی باتوںسےس‍پش‍ٹ تھا। وہ بولے , “میںنہیںچاہتا کہ مجھےیہاںسےنکلتےہوئے کوئی دکھےاور تمسےکوئی سوال جواب کرے , پ‍لیج مجھےجانےدو।” میری آنکھوںسےآنسو ٹپکنےلگے , مجھےتو ابھی تک کپڑےپہننےکا بھی ھوش نہیںتھا , سچن نےھی کہا – گااُون پہن لو , مجھےباہر نکال کر درواجا بن‍د کر لو। مجھےھوش آیا میںنے دکھا… میںتو ابھی تک ننگی کھڑی تھی। میںنے جھٹ سےگااُون پہنا اور سچن کو گلےسےلگا لیا , میںنے پوچھا , “کب اَگلی بار کب ملوگی?” سچن نےکہا , “پتا نہیں , ھاںملونگا جرور !”اتنا بولکر سچن خود ھر درواجا کھولکر باہر نکل گیہ। میںتو اُنکو جاتےھی دکھتی رہی। اُن‍ہوننےباہر نکلکر ایک بار چاروںطرف دکھا , پھر پیچھےمڑکر میری طرف دکھا اور ھاتھ سےباےکااشارا کیا بس وہ نکل گیہ… میںدکھتی رہی… سچن چلےگیہ। میںسوچنےلگی। سیک‍س ایک ایسا مضمون ہے جسمیں دنیا کےشاید 99 . 99 فیصد لوگوںکی روچ ہے। پھرک صرفاتنا ہے کہ پروش تو کہیںاور کیسےبھی اپنی بھڑاس نکال لیتا ہے। پر عورتوں کو سماج میں اپنی صورتحال اور سم‍مان کی کھاتر اپنی اساچ‍چھا کو مارنا پڑتا ہے پرن‍ت جب کبھی کوئی ایسا ساتھی مل جاتا ہے جہاںسم‍مان بھی محفوظ ھو اور محبت اور آنن‍د بھی بھرپور ملےتو خاتون بھی کھلکر اس کھیل کو کھل کر کھیل کر مزہ حاصل کرنا چاہتی ہے। ویسےبھی دنیا میں سبکیاچ‍چھا , ‘جسکےپاس جتنا ہے اس سے ج‍یادا پانےکی ہے’ یہ بات سب پر سمان روپ سےلاگو ھوتی ہے। اگر صیح موقع اور سماج میں سم‍مان کھونےکا ڈر نا ھو تو شاید ھرانسان اپنی اچ‍چھا کو بنا دبایہ پوری کر سکتا ہے। سچن کےبعد میری بہت سےلوگوںسےچیٹ ہوئی پر سچن جیسا تو کوئی ملا ھی نہیںاسیلیے شاید 2 – 4 بار چیٹ کرکےمیںنے خود ھی اُسکو ب‍لاک کر دیا। میرےلئیےوہ رات ایک سپنا بن گئی। ایسا سپنا جسکےدوبارہ سچ ھونےکاانتجار میںاُس دن سےکر رہی ھون। میری اب بھی سچن سےہمیشہ چیٹ ھوتی ہے , دو – چار دن میں پھون پر بھی بات ھوتی ہے پر دل کی تسل‍لی نہیںھوتی। بھلا کوئی بتایہ یہ میرےدل کا ک‍یا کسور…

Share
Article By :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *