مکان مالکن بن مندرجہ ذیل میری مال

Share

مکان مالکن بن مندرجہ ذیل میری مال ہیلو دونستوں , میںشکھر آپکا خیرمقدم کرتا ھون। سبھی قائرین کو سلام کرتا ھون। دونستوں , میںنے ہمیشہ سےکہا ہے کہ بنا عورت اور اُسکی چوت کےیہ جگ سنا ہے। بس ایسے ھی کہانی آپکو سنا رہا ھون। یہ بات کچھ ھپھتوںپہلےکی ہے। میری نوکری جونیرانجینیر کےعہدہ پر بلرامپر میں اتر پردیش بجلی شعبہ میں ھو مندرجہ ذیل تھی। میںبلرامپر میں کھسی کھسی نوکری کرنےلگا। کیونکہ دونستوںمیںبہوت غریب تھا। میرا گھر بھی صیح کنڈیشن میں نہی تھا। مجھےاپنا گھر بنوانا تھا। اسلئے میںکھش خسی بلرامپر میں نوکری کرنےلگا। پر وہ جگہ بڑی دہات ٹائپ تھی। یہ بات صیح ہے کہ پیسہ مجھےبرابر ملتا رہا پر بلرامپر میں کوئی لائپھ سٹینڈرڈ نہی تھا। اسلیے میںنے لکھنو جانےکےلئے ٹرانسپھر کی اَرجی دے دی। کچھ دن بعد میرا ٹرانسپھر ھو گیا। میںلکھنو کےچؤک میں آکر رہنےلگا। مجھےکھانےپینےکا کافی شؤک تھا , اسلیے میںنے چؤک میں کرائی پر کمرا لیا। یہاںکےباجار میں مجھےطرح طرح کےویج نانویج پکوان کھانےکو مل جاتےتھی। اب میںلکھناُ میں رہنےلگا। دن بیتنےلگےاور چداس کی تلب بھی لگنےلگی। میںایک راجپوت گھر میں کرائی پر رہتا تھا। راجپوت فؤج میں تھا اور کشمیر میں پوسٹیڈ تھا। اُنکی بیوی جسکو میںآنٹی کہنےلگا। پر وہ بلکل جوان تھی , کوئی 25 26 کی ھوگی। میںبھی پریشان تھا اُسکو کیا کہون। میرا کمرا اُوپری منزل پر تھا। وہاںبڑا تھا باتھروم میں। یہ میری مکان مالکن اور اُنکےخاندان کےممبر نہانےجاتےتھی। ایک دن مجھے7 بجے آپھس جانا تھا , اسلیے میںٹاویل , نیکر , بنیان مسئلہ باتھروم کی طرح بڑھا। دکھا میری آنٹی نہا رہی تھی।

urdu sex stories, arabic sex stories

اُنہوں نے سوچا ھوگا ساید ابھی 7 بجے اتنی جلدی کوئی نہی آیہگا। پر میںآ گیا। آنٹی کو پیروںکو سابن لگاتےہوئے میںنے دیکھ لیا। چھاتیوںپر لال رنگ کا پیٹیکوٹ باندھےتھی। اپنے ھاتھ پیروںپر لکس سابن مل رہی تھی। دونستوں , میرا تو لنڈ کھڑا ھو گیا। میںباہر آنٹی کا ویٹ کرنےلگا। جب وہ نکلی تو میںباتھروم کےدرواجےکو ھی گھور رہا تھا। میںتھوڑا جھیپ گیا। جااو شکھر!! نہااو جاکی! وہ بولی। میںبھی مسکرا دیا। اُنکا نام رشمی چؤہان تھا। رشمی جی باقی ماکن مالکن جیسی نہی تھی تو کرائیداروںسےسیدھےمنہ بات نہی کرتےہے। رشمی جی کا رویہ دوستانا تھا। دونستوںدوسرےدن , میرےآپھس میں پھر 7 بجے بلایا گیا تھا , میںاگلے دن پھر باتھروم میں نہانےپہنچ گیا। رشمی جی اندر تھی , میںدیکھ نہی پایا। میںکوئی فلمی گانا گنگناتےہوئے دھڑاک سےاندر گھس گیا। رشمی بلکل اپنی پراکرتک روپ میں یعنی کی ننگی تھی। اپنی چوچیوںمیں سابن مل رہی تھی। چھوٹے کالےگھنی بہت لنبےاور کھلےتھی। اور یہاںمیںنے اُنکےروپ کا آج تو دیدار کر لیا। ساری آنٹی!! میںنے کہا। رشمی تھوڑا گھبرا مندرجہذیل। اُنہوں نے فوراً ٹاول کھنچ لی اور اپنی اججت یہی اَپنیںچھاتیوںکو ڈھک لیا। میںباہر آ گیا। کچھ دیر میں رشمی باہر نکلی। مجھےآنٹی مت کہا کرو। وقت می رشمی!! گلتی میری ھی تھی , میںنے درواجا بند نہیںکیا اور نہانےلگی! رشمی بولی اور چلی مندرجہذیل। میںسوچنےلگا کی کتنی مست جوان عورت ہیں। اُسکو پورا ننگےدیکھ لیا। پر پھر بھی کچھ نا بولی। اگر میںکسی دناسکو پکڑ کیاسکا عصمت دری بھی کر دوںتو بھی ساید یہ مجھےکچھ نہی کہیگی। ایسے ھی کچھ دن نکل گئی دونستون। میںتو ابھی کنوارا تھا। کوئی 22 کی عمر ھوگی میری। شادی تو ابھی کم سےکم 6 7 سال دور تھی। اسلئے میںمٹھ مارکےھی اپنی چداس سکون کرتا تھا। اب جب جب میںمٹھ مارنےجاتا تھا رشمی کی نگن تصویر میرےجہن میں آ جاتی تھی। کتنی کھوبسورت عورت ہے। عورت کا بلکل لڑکی ہے। اُوپر والےنےبھی کیا خوب اُسکو پھرست میں بیٹھ کےبنایا ھوگا। تب ھی تواتنی کھوبسورت ہے میری مکان مالکن। بس دونستوں , یہی سب سوچتےسوچتےمیںمٹھ مارنےلگا। میںصرف اور صرف رشمی کا دھیان کر رہا تھا। کچھ دیر بعد میںنے اپنا مال گرا دیا। دونستوںاُس دن مٹھ مارنےمیں خاص مجا آیا تھا। لگا کی اصلی بر آج چودی ہے। جی تو کر رہا تھا کہ کسی دن اپنی مکان مالکن کو پکڑ لون। ایک دن رات میں 10 بجے جب میںٹایلیٹ گیا جو کی باتھروم میں اَٹیچ تھا کچھ دیکھ کر میرےھوش اُڑ گئی। رشمی ھسمیتھن کر رہی تھی। درواجا ابھی بھی کھلا تھا کیونکہ اُسکو درواجا بند کرنےپر گھٹن لگتی تھی। باتھروم میں ھی ایک آئینےکےٹھیک پیچھےایک اَلماری تھی جو مجھےآج تک نہی پتہ تھی।

urdu sex stories, arabic sex stories

رشمی وہیںاپنا ڈلڈو رکھتی تھی। میںنے صاف ساپھ اپنی آنکھوںسےدکھا کی وہ ڈلڈو کو اپنی بر میں جلدی پانیدی ڈال نکال رہی تھی। اوراتنےمیں رشمی نےمجھےدیکھ لیا। میںآج نہی بھگا اور اندر چلا گیا। میںنے درواجا بند کر لیا اندر سی। رشمی تھوڑا بھیبھیت ھو مندرجہذیل। ڈرو مت!! میںتمہارا ریپ نہی کرونگا!! تمہارا کی کام کرنےآیا ھون। میںنے کہا। ڈلڈو میںنے ھاتھ میں لےلیا اور رشمی کی چوت میں اندر باہر کرنےلگا। اُسکی حالت میں سمجھ سکتا تھا। اُسکےشوہر تو کشمیر میں تھی। اُسکا بھی سیکس کرنےکا , چودنےکا من کرتا ھوگا। بیچاری آرٹپھیسیل لنڈ سےھی کام چلا رہی ہے। اب رشمی سےمیرا آتمیےرشتہ بن مندرجہذیل। میںنے اُسکےساتھ کوئی زور جبردستی نہی کی। چاہتا تو کر سکتا تھا। اب رشمی مجھےکوئی ہےوان نہی بلکہ دوست ماننےلگی। میںنے اُس دن اُسکی مٹھ خود اپنے ھاتھوںسےمار دی। اَب ھمدونو کی سیٹنگ ھو مندرجہ ذیل تھی। اَگلی صبح میںنہانےگیا تو رشمی نےمجھکو اندر باتھروم میں کھینچ لیا। ھمدونو نےچمما چاٹی سر کر دی। میںجان گیا کہ بھلےھی میری شادی کئی سال بعد ھوگی پر چوت کاانتجام تو آج ھو گیا ہے। رشمی سےشاور کھول دیا। ھمدونو ساتھ میں نہانےلگا। شکھر!! آئی لو یو!! رشمی بولی رشمی! آئی لو یو ٹو!! میںنے بھی کہا। ہم دونوںمیں اب ھر بات آنکھوںسےھی ھو رہیںتھی। ھم دونوںایک دوسرےکو آنکھوںھی آنکھوںمیں چود رہےتھی। رشمی نےبھی بہت دن سےلنڈ نہی کھایا تھا اورادھر میںنے بھی 1 سال سےبر کےزیارت نہی کیہ تھی। ابھی ھم دونوںننگےنہی ہوئے تھی। میںنے رشمی کو بانہوںمیں بھر لیا تھا। شاور کا پانی سیدھےھمدونو پر گر رہا تھا। میںجادا سوچ خیال نا کرتےہوئے رشمی کےلبوںکو منہ میں بھر لیا تھا। بلکل گلابی ھوٹھ تھےاُسکی। رشمی کافی گوری تھی। میںنے اُسکےھونٹھو پر اپنی اُنگلیاںرکھ دی اور کامکتا سےسہلانےلگا। اُسنےکوئی ورودھ نہی کیا। پھر میںاُسکےھونٹھو کو پینےلگا। اب ھم دونوںمکان مالکن اور کرایہدار اب پوری طرح بھیگ چکےتھی। رشمی کی ساڑی جب پوری بھیگ مندرجہ ذیل تو اُسکا بلااُز بھی پورا بھیگ گیا। اُسکے2 بڑےمممےمجھےدکھ گئی। اب میرےقابل دید کےمرکز وہ دو مممےھو گئی। میںنے پانی سےبھیگا اور پانی چوتا پلل ھٹا دیا। میںنے رشمی کےکالےبلااُز کی بٹنےکھول دی। اُسنےبرا نہی پہن تھی। اسلئے دونوںمممےصاف ساپھ بڑےبڑےگورےگورےمیرےسامنےآ گیہ। میںنے بلااُز پورا اُسکےکندھوںسےنکالا ھی نہی , اتنی جلدی میں تھا کہ ایسے ھی کھڑےکھڑےمیںاُسکےدودھ پینےلگا। دونستوں , میری جندگی آج پوری طرح بدل مندرجہ ذیل تھی। ساید آج مجھیاتنی خشی اور سکھ ملا تھا کہ نوکری والےدن بھی میںکتنا خوش نہی ہوا تھا। رشمی شاور میں سیدھےکھڑی رہی , بنا کسی ورودھ کےاور میںنے اُسکےبھیگتےدودھ کو خوب پیا। دونستوں , پیتےپیتےتھوڑی ہےوانیت جاگ مندرجہذیل। 2 3 بار اُسکیںچچی کےکالےگھیرےمیں درمیان میں ستتھ نپلس کو کاٹ لیا। رشمی سہر اُٹھی। میںپھر سےکھڑےکھڑےدودھ پینےلگا। رشمی میرےساتھ باتھ ٹب میں نہانا چاہتی تھی , اسلیے اُسنےذرا بایہ جھکککر باتھنگ ٹب کا پانی کھول دیا। میںبنا رکےاُسکےبھیگےبوبس پیتا رہا। اُسکی ساڑی اب پوری پانی میں بھیگ رہی تھی اور نیچےسرک چکی تھی। آج میری مکان مالکن کالےپیٹیکوٹ میں تھی اور کمال کی مال لگ رہی تھی। میںنے اپنی اس راسلیلا کا پورا مجا لیا। ایک ھاتھ میرا سوت : رشمی کےکالےپیٹیکوٹ کےاندر چلا گیا। میںنے اُسکےدودھ پینا بند نہی کیا। اور ایک ھاتھ سےاپنی مکان مالکن کی بر ڈھونڈھنےلگا। آج اُسنےچڈڈی بھی نہی پہنی تھی। آخر مجھےکامیابی مل مندرجہذیل। میری اُنگلیاںرشمی کی بر تک پہنچ مندرجہذیل।

urdu sex stories, arabic sex stories

دونستوں , میںنے اپنی 2 لمبی اُنگلیاںاُسکی چوت میں ڈال دی اور جلدی پانیدی اندر باہر کرنےلگا। رشمی کو مجا آ گیا। اُسکےبدن میں کمپن ھونےلگا। یہ دیکھ مجھےبڑا سکھ ملا। میںاور جلدی پانیدی اُسکی بر کو اپنی اُونگلیوںسےپھیٹنےاور چودنےلگا। کچھ دیر تک اُسکی بر متھنےکےبعد اُسکا کچھ مال میری اُونگلی میں چپڑ گیا। میںنے گھی سمجھ کےچاٹ لیا اور بچا کچا رشمی کو چٹا دیا। اب باتھنگ تب بھر گیا تھا। اپنی پریمکا کی طرح اُسکا ھاتھ پکڑ میںاُسکو تب میں لےآیا। پانی ٹھنڈا تھا اور گرمیوںمیں آدمی کو اور کیا چاہیہ। ھم دونوںاب پانی میں لیٹکر چمما چاٹی کرنےلگی। اُسکو شرارت سوجھی اور میرےاُوپر پانی کی چھیٹیںمارنےلگی। تو میںنے بھی جواب دیا اور ٹھنڈےپانی سےبھرےباتھنگ ٹب میں میںبھی اپنے ھاتھوںنےپانی اپنی جوان بے حد کھوبسورت مکان مالکن پر پھیکنےلگا। کچھ دیر بعد ھماری چدائی شروع ھی مندرجہ ذیل دونستون। رشمی باتھنگ تب میں آرام سےلیٹ مندرجہذیل। میںبھی اُسکےساتھ آ گیا اور پانی میں ھی میںنے اُسکی بر میں لنڈ ڈال دیا। میںاُسکو پانی میں ھی چودنےلگا। دونستوںآپ لوگ بھی یہ پانی والی چدائی ٹراےکری। یہ بھی کافی مجا ملتا ہے। خوب کساوٹ بھی یہ ملتی ہے। اور نارمل سےتھوڑا ھٹکر ٹیسٹ ملتا ہے। رشمی نےباتھروم میں خوش سینٹیڈ مومبتتیاںپانیا دی تھی। پانی میں گلاب کی تاجی پنکھڑیاںبکھیر دی تھی। اسلئے آج تو ھم 5 سٹار والےلکزری ھوٹل کا مجا گھر میں ھی لےرہےتھی। میںنے پانی میں چھپ چھپ کرتےہوئے اُسکو خوب پیلا دونستون। اوہ : گرم آہےبھرتی رہی। آآآ ھہہہہہ آیا اَہا کرتی رہی। میںاُنکےکمر پکڑ کر اُسکو ٹھوکتا اور ھؤکتا رہا।پھر کچھ دیر بعد اُسکی بر میں ھی پانی چھوڑ لیا। رشمی کےساتھ کچھ پھرست کےپل بتائی میںنے। دکھا کی اُسکی بر پر تھوڑی جھانٹےتھی। رشمی تیری جھانٹےبنا دون? ؟ میںنے پوچھا। اُسنےسر ھلا دیا। مینےشیونگ برش سےاُسکی جھانٹوںپر شیونگ کریم لگایی اور خوب ملا। بر پر ھر طرف جھاگ ھی جھاگ ھو گیا। پھر میںنے شیونگ مشین سےاُسکی بر بنایین। جھانٹےشیو کرنےکےبعد اُسکی بر بڑی کھوبسورت لگ رہی تھی। گوری اور چکنی نکل آیی تھی। اب میںاُسکی بر پینےلگا। میںنے جیبھ گڑا گڑا کےخوب اُسکی بر پی। خوب مزا آیا دونستون। اَب رشمی کو میرا لنڈ پینےکی چداس بڑی تیز لگی। میںباتھنگ ٹب کےاندر مجےسےسائڈس پر دونوںھاتھ کرکےلیٹ گیا। تھوڑا پانی میںنے بہا دیا। اب تب میں آدھا پانی تھا। میرا لنڈ پانی کی سطح سےاُوپر تھا। اب رشمی بنا کسی دککت کےمیرا لنڈ چوسنےلگی। وہ جلدی پانیدی میرا لنڈ اپنی کومل ناجک اُنگلیوںسےاُپر نیچےپھینٹنےلگی اور لنڈ پینےلگی। میںسکھ جہاں میں ڈوب گیا। اُسکےبعد دونستوںہم نے 5 بار اور چدائی کی। میںنے رشمی کی گانڈ بھی ماری। اگلے ہفتے اُسکا شوہر لوٹ آیا اور اب وہ اُسکو چودنےلگا। اب رشمی مجھسےنہی ملتی تھی। ہمیشہ گھر میں گھسی رہتی تھی। اَب میںپھرسےھستمیتھن کرنےلگا تھا اور بار بار اپنی ماکن مالکن کےساتھ ہوئی اُس گرما گرم چدائی کےبارےمیں میںیاد کرتا تھا اور مٹھ مرتا تھا।

urdu sex stories, arabic sex stories

Share
Article By :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *