اردو جنس – اوہ ماےگاڈ

Share

اوہ ماےگاڈ نام روما ہے। میں22 سال کی ھوںاور دیکھنے بھی خوبصورت ھی لگتی ھوں , سمارٹ کہ سکتےہیں।مجھےلگتا ہے کہ سبھی کےجیون میں پہلی بار کچھ نہ سیکسی ھوتا ہے , میرےساتھ بھی ئیسا ھی کچھ ہوا تھا جو میںیہاںآپکو بتا رہی ھون। یہ بات پچھلی بارش کی ھی ہے , میںکالیج سےواپس آ رہی تھی , سڑکوںپر سب جگہ پانی ھی پانی بھرا ہوا تھا , میںبہت بچ بچ کر اپنے کپڑوںکو اور اپنے آپ کو بچاتےہوئے چل رہی تھی اور بچی بھی ہوئی تھی کہ اَچانک ایک بائیک سوار 25 – 26 سال کا لڑکا تیجی سےمیرےپاس سےگجرا اور چھپاک سےسڑک کا کافی پانی میرےکپڑوںپر گرا اور توازن بگڑنےسےمیںجمیںپر جا گری। ئتنا غصہ آیا مجھے , ویسےبھی میرا غصہ تیز ھی ہے , میںزور سےچللائی – یو باسٹرڈ اَندھا ہے کیا? اؤر اُسنےبائیک گھمائی , مجھےلگا کہ لڑنےآ رہا ہے , میںبھی تیار تھی لیکن جب اُسنےآ کر اپنا ہےلمیٹ اُتارا , بالو کو جھٹکتےہوئے مجھےاُٹھانےکو اپنا ھاتھ بڈھایا , اور ساری بولا تو , تو میںاُسےدکھتی ھی رہ گئی , کیا ہیںڈسم , سمارٹ اور سیکسی لڑکا تھا سچ بتااُوںتو میری گالیاںگلےمیں ھی اَٹک گئی اور میںنے اُسکی طرف ھاتھ بڑہا دیا। اُسنےمجھےجیسےھی اُٹھایا , مجھےاپنے پیر میں چوٹ کا احساس ہوا , میںکھڑی نہیںرہ سکی , اُسکی باہوںمیں جھول سی گئی اور منہ سےایک پیڑادایی آہ نکلی। “اوہ ساری لگتا ہے تمہیںتو چوٹ لگی ہے !” اُسکےسینےسےلگتےھی میرےگیلےبدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی , میںنے اپنے آپکو الگ کیا , بولی – کوئی نہیں , ٹھیک ہے ! پر میںلنگڑا رہی تھی। وہ بولا – نہیں , میںتمہیںڈاکٹر کو دکھا کر گھر چھوڑ دونگا। پھر میرےپاس کوئی چارا بھی نہیںتھا اُسکےساتھ سٹ کر بائیک پر بیٹھنا مجھےاچھا لگا। اُسنےڈاکٹر کو دکھایا , گھٹنےپر کھرونچ تھی , پین رلیپھ کریم , بینڈ – ئیڈ لگا کر اُسنےمجھےگھر چھوڑ دیا اور مجھ سےمیرا پھون نمبر مانگا , میرےحال چال لینےکےلئے , جو میںنے اُسےدے دیا। اؤر میںدو دن اُسکےکھیالو میں کھوئی رہی , پھر اُسکا پھون آیا , میںنے اُسےبتایا کہ میںاب ٹھیک ھوںتو اُسنےاپنی اُس دن کی گلتی کےلئے مجھےٹریٹ دنےکو کہا। میںفؤرن تیار ھو گئی , ھم بائیک پر نکل پڑے , مجھےاُسکےساتھ بہت اچھا لگ رہا تھا , ایک اچھے ریسطحاںمیں ہم نے پھاسٹ فوڈ لئے اس درمیان ایک دوسرےکی پڑہائی کی , شؤککی بات ھوتی رہی , پھر کافی آ گئی। میںاُس پر فدا ھوتی جا رہی تھی , کافی جب لگ بھگ ختم ھونےکو تھی کہ میرا موبائل بجا , اَچانک اُسکی گھنٹی سےمیںاَچکچا سی گئی اور ساری کافی میری ڈریس پر گر گئی। میںگھبرا گئی , وہ بھی مجھےسنبھالنےکےلئے کھڑا ھو گیا , مجھےاپنے آپ پر غصہ آیا , میںبولی – اوہ , میںچلتی ھوں , مجھےاسےفؤرن ھی ساف کرنا ہے। وہ بولا – یار تمہارا گھر تو دور ہے , اپھ یو ڈونٹ مائنڈ , میرا کمرا پاس ھی ہے , وہاںچلو پلیج ! میرا دل دھڑک رہا تھا پر مجھےجانا ھی تھا کیونکہ ڈریس خراب دکھ رہی تھی। اور اصل میں اُسکا کمرا پاس ھی تھا اور ئیکانت میں بھی تھا , وہاںجاتےھی وہ مجھےباتھروم میں لےگیا। سچ بتااُوں , نہ جانےکیوںمیرا دل دھڑک رہا تھا پر اس سے ڈر بھی نہیںلگ رہا تھا , میںنے کہا – یہ تو دھونےپڑینگے , کیسےھوگا یار? وہ بولا – تم تب تک میرےکپڑےپہن لینا। اؤر اُسنےاپنی ٹیشرٹ اور ایک لواَر دے دیا। ایک اکیلے لڑکےکےکمرےمیں اپنے کپڑےاُتارنا مجھےعجیب لگ رہا تھا لیکن مجبوری تھی تو کیا کرتی। اُسکےکپڑوںمیں ایک عجیب سی گندھ تھی جو مجھےبےقابو کر رہی تھی , میںاُسکےکپڑوںمیں اور بھی زیادہ سیکسی لگنےلگی , وہ مجھےدکھتا ھی رہ گیا। میںنے گیلےکپڑےپنکھےکےنیچےفیلا دئی , اُسنےتیز پنکھا چلا دیا। وہ مجھےھی دکھےجا رہا تھا , مجھےاُسکا یوںدیکھنا اور بھی زیادہ گدگدا رہا تھا اور کمرےمیں ایک عجیب سی کھاموشی چھا گئی تھی। پھر اُسی نےہمت دکھائی اور بولا – روما , یاران کپڑوںمیں بھی تم تو اچھی لگ رہی ھو। میںآنکھےتریر کر بولی – ان کپڑوںسےتمہارا کیا مطلب ہے ؟ میںتو ھوںھی اچھی ! “اوہ نہیں!” وہ بات کو سنبھالنےکےلئے بولا – میرا مطلب تھا ک… “خوب جانتی ھوںمیںتمہارا مطلب یوںکہو نا کہان کپڑوںمیں میںسیکسی لگ رہی ھوں , ہے نا?” اؤر میرےاس طرح بیدھڑک بولنےسےوہ ھککا – بککا رہ گیا , لیکن اُسمیں بھی ہمت آ گئی , بولا – ھاںیار ! پھر وہ میرےنجدیک آنےلگا , اب میری سٹٹی – پٹٹی گم ھونےلگی اور میںتھوڑا پیچھےکی طرف سرکی , تو اَچانک کچھ سوچ کر وہ وہیںرک گیا اور بولا – تم اپنے کپڑےسکھااو , میںابھی آیا بس دس منٹ میں ! میںکچھ سمجھ نہیںپائی , لگا کہ میرا رویہ اُسےاچھا نہیںلگا , مجھےاپنے آپ پر غصہ بھی آیا کیونکہ اُس لڑکےکا نشا مجھ پر چھاتا جا رہا تھا , میںنے اُسےروکنےکی کوشش کی پر وہ جلدی ھی آنےکا کہ کر چلا ھی گیا। اؤر میں‘دھتت’ بول کر اُسکےبیڈ پر پسر گئی। اؤر تبھی مجھےگد کےنیچےکچھ موٹی موٹی سی چیجیںچبھی , میںنے سوچا کہ کیا ہے یہ , اور گدا پلٹ دیا। اؤر وہاںجو کچھ دکھا , اُسےدیکھ کر میری آنکھیںپھٹی پھٹی رہ گئی… وہاںنہایت ھی اَشلیل , کامک , نگن اور سیکس میں لپت چتروںسےبھری پڑی پترکااوںاور اُپنیاسوںکا ڈھیر پڑا تھا جو شاید اَچانک میرےکمرےمیں آ جانےکی وجہ سےپانیدباجی میں چھپایا گیا تھا। اؤر میںئیکٹک وہ سب دکھتی رہ گئی , گھبرا کر جیسےھی پیچھےھٹی تو اس سے ٹکرا گئی , وہ نا جانےکب میرےپیچھےآ گیا تھا , وہ میرےھاتھ سےوہ کتابیںچھینتےہوئے بولا – ساری روما , پلیج یہ تمہارےدیکھنے کی نہیںہیں। اؤر جانےمجھےکیا ہوا اُس دن , “کیوں؟ میرےدیکھنے کی کیوںنہیںہیں?” کہتےہوئے واپس اُسکےھاتھ سےوہ اَشلیل میگزین چھین لی کیونکہ میںویسےھی اُسکےاَچانک جانےسےغصے میں تھی। وہ بولا – اوکےبابا , دیکھ لو لیکن مجھےغلط تو نہیںسمجھوگی نا? میںبولی – ھاںسمجھونگی تو ! وہ بولا – ساری یار ! “ئٹس اوکی” میںبولی اور اُن پترکااوںکو دیکھنے لگی , ان میں ننگی لڑکیوںکےبہت سارےپھوٹو تھے , میںنے کہا – تمہیںلڑکیوںکو ننگا دیکھنے میں مزا آتا ہے? وہ پھر جھینپتےہوئے بولا – ساری یار ! میںنے ڈانٹتےہوئے کہا – کہو نا کہ آتا ہے ! اؤر پھر آگے کےپننےپلٹےتو وہاںعورت – مرد کےسنبھوگرت تصویر تھے , میںنے اَنجان بنتےہوئے پوچھا – ھاےرام یہ کیا کر رہےہیں/ وہ تھوڑا دور کھڑا تھا , بولا – کیا? میںنے اُسےاپنے پاس کھینچ لیا اور کہا – اکیلے میں تو خوب دیکھتے ھو। اب مجھےنہیںبتااوگی? ویسےبھی میرےکپڑےسوکھنےمیں وقت لگیگا। اؤر اب میںبیڈ پر بیٹھی تھی , اُسےمیںنے اپنے پیچھےبٹھا لیا اور ایک ایک کرکےاور دھیان سےھم دونوںاُن چتروںکو دیکھ رہےتھے , لیکن میری چوت میں کچھ گیلا گیلا سا ھونےلگا تھا , چھاتیاںبھی کسمسانےلگی تھی , اور اُسکی جو ٹیشرٹ میںنے پہنی ہوئی تھی اُسکا گلا کافی کھلا تھا , برا میںنے پہنی نہیںتھی اور وہ اس طرح میرےپیچھےتھا کہ اُسےسب کچھ دکھ رہا تھا اور مجھےیہاںلکھتےہوئے اب شرم آ رہی ہے کہ میںخود اُسےدکھانا چاہ رہی تھی , اور شاید اسی لئے میںنے ٹی شرٹ میں ھاتھ ڈال کر اپنے دونوںستنوںکو مسلا। اَب اُسکی بھی ہمت بڑھ گئی تھی , وہ بولا – کیا ہوا روما ؟ ائےنی پروبلم? میںنے کہا – ھاں , جانےکیا ھو رہا ہے ؟ ابانہیںمسلوںیا کتاب سنبھالون? وہ بولا – یار , تم تو کتاب ھی سنبھالو , اوکیانہیںمیںسہلا دتا ھون। اؤر اُس بدماش نےبنا میرےجواب کی انتظار کیہ میرےدونوںاُبھار اپنے ھاتھو میں بھر لئے , اور جیسےھی اُسنےمیرےچوچوںکو مسلنا شروع کیا , میںواسنا کےسمندر میں گوتےلگانےلگی اور میری آنکھیںبند سی ھو گئی , آگے کوئی اَشلیل سی کہانی تھی , میںنے کہا – اوکےاب یہ کہانی تم مجھےپڑہ کر سنااو। اُسنےکہا – اوکے! اؤر اب اُسنےمجھےپیچھےھٹ کےاپنی گودی میں لیٹا لیا اور اُسکےدونوںھاتھ ٹی شرٹ کےراستےمیرےستنوںتک جا رہےتھےتو میںنے کہا – تمہاری ٹیشرٹ پھٹ جایہگی آج ! وہ بولا – ھاںیار , صیح کہا ! اؤر اُسکی ٹی شرٹ کی فکر کرنا میرےلئے غلط ھو گیا اُس سالےنےاپنی ٹیشرٹ میرےجسم سےنکال ھی دی اور یہ سباتنا اَچانک ہوا کہ مجھےپتہ ھی نہیںچلا اور اب میںنگن – وکشا اُسکی باہوںمیں تھی , وہ مجھےوہ اُتتیجک کہانی اور بھی اُتتیجک بنا کر سناتا جا رہا تھا। اَب میںپوری طرح سےاُسکےکابو میں تھی اور خود بھی بہت زیادہ بےقابو ھو چکی تھی। کہانی میں اُسنےجب یہ بولا کہ لڑکےنےاپنے سارےکپڑےاُتار دئی تو یہ سن کر میںاس سے بولی – چلو , تم بھی اُتارو اپنے سارےکپڑے! اؤر صیح میں اُسنےاپنے سارےکپڑےایک ایک کر کےاُتار دئی , اور اُسکا طاقتور , سکھت , بری طرح تنا ہوا اُٹھا ہوا لنڈ ! “اوہ ماےگاڈ !” کالی گھنی جھاڑیوںمیں سےاُٹھا ہوا کتب مینار ! میںتو دیکھ کر ھی اَچمبھت رہ گئی , اور مجھےپورےبدن میں جھرجھری سی آ گئی , منہ سوکھ گیا , چہرا لال اور گرم ھو گیا। وہ بھی میری حالت دیکھ کر شاید سمجھ گیا کہ یہ لڑکی تو گئی آج کام سے , وہ بولا – کیا ہوا? اؤر میرےپاس آیا تو اُسکا لنڈ مست ھل رہا تھا , اُسنےکہا – آگے لکھا ہے ! یہ کہتےہوئے میری ٹھوڑی پکڑ کر چہرا اُوپر کیا , بولا – تمہارےیہ بوبس ! اؤراتنا کہ کر دونوںکو پکڑ لیاانکےدرمیان میں اپنا یہ لنڈ رکھ کر ھلانا ہے ! اُسنےاپنا لنڈ میرےدونوںبوبس کےدرمیان میں دبا لیا اور اُوپر – نیچےکرکےھلانےلگا , لنڈ کڑک تھا , میرےاُروج نرم , پر مزا آ رہا تھا। پھر اُس شیتان نےلنڈ کو نیچےکم اور اُوپر زیادہ کیا , اس سے ہوا یہ کہ اب اُسکا لنڈ میرےھوٹھوںکو چھونےلگا تھا। مجھےیہ عجیب لگ رہا تھا اور اچھا بھی , ایسے خواہش ھو رہی تھی کہ کھا جااُوں! اؤر یہ کام بھی ھو گیا , اُسنےاَچانک لنڈ کو چوچوںسےھٹا کر میرا چہرا کس کر پکڑ کےاُسےاپنے لنڈ پر دبا دیا اور اُسکا لنڈ میرےمنہ میں اندر تک جا گھسا , میرا دم گھٹنےسا لگا لیکن وہ اُسےھلاتا رہا اور آخر مجھےاُسےزور سےدھکا دکر دور کرنا پڑا। وہ ساری بولتےہوئے معافی مانگنےلگا , پھر اُسنےمجھےپیچھےپلنگ پر لیٹا دیا اور بنا وقت گنوائی جو ابھی میںنے پہن رکھا تھا کو کھینچ کر نکال دیا। اَندر میںنے اَنڈرویر نہیںپہن رکھی تھی تو میںپوری ننگی ھو گئی। میری پینٹی گیلی ھو گئی تھی تو میںنے سوکھنےڈال رکھی تھی। اَب میری چوت اُسکےسامنےتھی جس پر بالو کا گھنا گچچھا تھا , مجھےبے حد شرم آئی اور اُسےچھپانےکےلئے میںنے اپنے پانو سکوڑ لئے لیکن اُسنےپوری طاقت لگا کر اُنہیںواپس فیلا دیا اور اس بار پیر چؤڑےکرتےھی اُسنےمیری چوت پر اپنا منہ رکھ دیا। اؤر تھوڑی ھی دیر میں میری جھانٹوںکو میری چوت کو چیرتی ہوئی اُسکی جیبھ مجھےاندر جاتی محسوس ہوئی , میرےمنہ سےچیکھ نکل گئی اور بہت زیادہ گیلا گیلا سا لگنےلگا। وہاتمینان سےاُسےچوستا – چاٹتا رہا , اور پھر وہ مجھےچودنےکی تیاری کرنےلگا تو میںگھبرا گئی اور اُٹھ بیٹھی – پلیج یہ مت کرو , کچھ گڑبڑ ھو سکتی ہے। لیکن وہ بولا – کچھ گڑبڑ نہیںھوگی جان یہ دکھو ابھی میںمارکٹ یہ ھی لینےگیا تھا। یہ کہتےہوئے اُسنےمجھےکنڈوم دکھایا , یعنی اُسکی تو پوری تیاری تھی مجھےچودنےکی ! پھر اُسنےکنڈوم لنڈ پر چڑہا کر ایک ھاتھ سےمیرا منہ بند کرکےاور لنڈ کو چوت کےمنہ پر رکھ کر اندر گھسا دیا اور میرےمنہ سےبھیانک چیکھ نکلی , میںدرد سےبلبلا اُٹھی لیکن میری چیکھ اُسکی ھتھیلی میں دب کر رہ گئی। سچ بتااُوں , مجھےاُس وقت تو مزا نہیںآیا , اور جلدی ھی دونوںجھڑ بھی گئی। پھر ھم دونوںکافی دیر تک یوںھی نروستر پڑےرہے , اور جب میںتھوڑی عام ہوئی تو تو اُٹھ کر باتھروم حصہی , اپنے آپکو ساف کرنےکےلئے , لیکن وہ بھی پیچھےپیچھےآ گیا اور شاور چلا دیا اور شیمپو اُڑیل کر مجھےاور خود کو جھاگ میں سرابور کر دیا اور پھر یہاںجو لپٹا – چپٹی کا دور چلا , وہ مجھےبہت اچھا لگا , اور اُسنےپھر اپنا لنڈ میری چوت پر ٹکا دیا। میںنے کہا – اب پھر کیون? اُسنےبہت نادان سا جواب دیا – یار کنڈوم دو لایا تھا , کر لو ورنا یہ بیکار جائیگا। اؤر میںپاگل پھر اُسکی باتو میں آ گئی اور ہم نے پھر سیکس کیا لیکن اچھا ھی کیا کیونکہ اس بار مجھےبہت – بہت مجا آیا।

Share
Article By :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *