افریقہ میں سیکس سیکس

Share

میر ا نام خاور ندیم ہے پاکستان کے شہر کراچی کے علاقہ ڈیفنس میں رہتا ہوں میری عمر 25سال ہے گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہے آج کل بزنس کے سلسلہ میںافریقہ جارہا ہو ں کراچی سے Emraitائیر لائن سے دبئی اور دبئی سے پھر ساؤتھ افریقہ کے شہر جوہانسبر گ جانا تھا ۔
امیگریشن کلئیر ہونے کے بعد جب جہاز میں پہنچا تو میری سیٹ خالی تھی اور ساتھ کی سیٹیں بھی خالی تھیں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ نہ جانے کون ساتھ آئے گا کہ دیکھا ایک لڑکی بلیک پینٹ اور اس پر ہالف بلیک شرٹ جو کہ اسکے جسم پر بڑی فٹ تھی آئی اور مجھ سے سیٹ کا نمبر پوچھ کرمیرے برابر میں بیٹھ گئی اسکا بازو مجھ سے ٹچ ہورہا تھا اپنا سامان وغیرہ سیٹ کرنے کے بعد میری طرف متوجہ ہوئی اور اپنا ہاتھ ملانے کیلئے میری طرف بڑھایا اور اپنا نام علیشابتایا اسکے ہاتھ کو جب میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑا توبڑا نرم وملائم ہاتھ تھا خیر اس نے بتایا کہ وہ دبئی اپنے بھائی کے پاس جارہی ہے اور کراچی میں ڈیفنس میں رہتی ہے میں نے بتایا میں بھی ڈیفنس میں رہتاہوں تو بڑی خوش ہوئی کہ چلو کوئی تو اپنا ملا۔
جہاز فلائی کرگیا جب ڈنر ملا تو میں نے فش لی اور اس نے چکن میں نے اس سے پوچھا کہ فش کھاتی ہو کہنے لگی نہیں میں نے کہا کیوں؟ تو کہنے لگی فش گرم ہوتی ہے اسکے بعد گرمی لگتی ہے میں نے کہا میں تو گرمی بڑھانے کیلئے فش ہی کھاتا ہوں ٹھنڈا رہ کرکیا کرنا ٹھنڈا کرنے کیلئے اور چیزیں جو بہت ہیں تو وہ ہنسنے لگی اور پھر اپنے آئی پوڈ سے ہیڈ فون لگاکر گانے سننے لگی میں نے بھی اپنا آئی پیڈ نکالا اور اس پر ہالی وڈ کی فلمیں دیکھنے لگا جب اس نے محسوس کیا کہ میں کچھ دیکھ رہا ہوں تو کہنے لگی کیا دیکھ ہے میں نے بتایا ہالی وڈ کی فلم کہنے لگی کیا میں بھی دیکھ سکتی ہوں میں کہا okاتنے میں جہاز کی لائٹس آف ہوگئیں اور وہ میرے قریب آکر میرے گھٹنے پر اپنا گھٹنا رکھ کر میرے ہیڈ فون کو کان سے لگاکر فلم دیکھنے لگی اور اپنا سر میرے کندھے پر رکھ دیا اتنے میں ایک سیکسی سین آگیا تومیرے لنڈ میں حرکت ہوئی جسے اس نے بھی محسوس کرلیا اور وہ اپنا ہاتھ میری ران پر پھیرنے لگی میں نے اسکے چہرہ کی طرف دیکھا تو اسکے چہرہ پر ایک رنگ آکر جارہا تھا میں نے اپناہاتھ اسکی کمر کے پیچھے ڈال کر اسکو اپنی طرف کھینچ لیا تو اسکے بوبس میرے سینے سے ٹکراگئے چونکہ لائٹ آف تھی اس لئے کوئی ہماری طرف نہیں دیکھ رہا تھا تو میں نے اسکے گال پر ایک کس کی ،اس نے جوابا میرے ہونٹ پر کس کی اور پھر میںنے ایک ہاتھ سے اسکے چہرہ کو پکڑ کو اپنے منہ کے قریب کیا اور کس شروع کردی اور دوسرے ہاتھ سے انکے بوبس سہلانے لگا جس سے وہ اور ہاٹ ہوگئی اور اپنا ہاتھ میری پینٹ کی طرف بڑھاکر لنڈ پر پھیرنی لگی میں بھی ہاٹ ہوگیامیں نے شرٹ کے نیچے ہاتھ ڈال کر اسکے پیٹ پر سے ہاتھ پھیرتا ہوا اسکے سینے تک لے گیا تو میرا ڈائرکٹ ہاتھ اسکے بوبس سے ٹکرایا اس نے بریز نے پہنی ہوئی تھی جیسے ہی میں نے اسکے بوبس کو پکڑا وہ تڑپ گئی اور کسنگ میں فل ہوگئی اور میرے ہونٹ کاٹنے لگی اور میری پینٹ کی زپ کھولکر اس نے ہاتھ اندر ڈال لیا اور لنڈ کو مسلنے لگی پھر کچھ دیر بعدوہ جھکی اور میرا لنڈپینٹ سے نکال کر اسے چوسنے لگی اور میں اسکے بوبس سہلانے لگا پھر میں نے اسکا منہ اٹھا یا اور اسکی پینٹ کی زپ کھول کر اسکی چوت سہلانے لگااسکی چوت پر کوئی بال نہ تھا اسکی چوت میں انگلی ڈالی تو کچھ دیر بعد وہ فارغ ہوگئی اور مجھ سے لپٹ کر مجھے کس کرنے لگی اور شکریہ ادا کیا اتنے میں دبئی بھی آگیا اورہم دونوں جدا ہوگئے میں دبئی ائیر پورٹ پر اتر کر اپنی اگلی فلائٹ کا انتظار کرنے لگا دبئی میں نیم برہنہ خوبصورت عورتوں کو دیکھ کر میں اور بھی ہاٹ ہوگیا اور پھر میری ساؤتھ افریقہ کی فلائٹ کی اناؤنسمنٹ ہوگئی اور میں اسکی طرف بڑھ گیا۔
اب آگے دیکھیں اور کیا ہوتا ہے؟

جہاز میں سوار ہوا تو دیکھا کہ کافی انگریز اس جہا زمیں سوار ہیں اور مکمل ماحول یورپین ہے ائیر ہوسٹس سے اپنی سیٹ کا پوچھ کر اسکی طرف بڑھا تو دیکھا میری سیٹ جہاز کی سب سے آخری تین سیٹوں میں سے کھڑکی والی سائٹ کی تھی اور میرے ساتھ والی دو سیٹوں پر دو انگریز لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں میں نے انگلش میں ان سے اجازت لیکر اپنی سیٹ پر کھڑکی طرف بیٹھ گیا وہ دونوں آپس میں باتیں کررہی تھیں میں نے ان سے اپنا تعارف کروایا اور دونوں سے ہاتھ ملایا ان دونوں نے بتایا کہ وہ دونوں بہنیں ہیں اور ساؤتھ افریقہ میں رہتی ہیں اسٹڈی کے سلسلہ میں لندن گئی تھیں اب واپس ساؤتھ اپنے والدین کے پاس چھٹیاں گزرنے جارہی ہیں انہوں نے ہاف اسکرٹ اور تقریبا ہاف ہی شرٹ پہنی ہوئی تھی میں نے اپنا تعارف کروایا کہ بزنس کے سلسلہ میں ساؤتھ جارہا ہوں تو وہ بہت خوش ہوئیں کہ چلو 8گھنٹے کا سفر آپ کے ساتھ اچھا گزرے گا کہنے لگیں ہم یہی سوچ رہے تھے کہ نہ جانے ہمارا پارٹنر کون ہوگا کیونکہ ہم ویسے بھی آخری سیٹ پر ہیں خیر ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے جہاز فلائی ہوگیا اور پھر جوس اور وائن پیش کیاگیا میں نے فروٹ جوس لیاا اور انہوں نے وائن لی ۔
انہوں نے مجھ سے پوچھا تمھاری کوئی گرل فرینڈ ہیں میں نے کہا بہت؟کہنے لگیں کیسے؟ میں نے کہا جو مل جائے اس سے دوستی کرلیتا ہوں جیسے آپ لوگوں سے 8گھنٹے کیلئے دوستی کرلی تو وہ بہت خوش ہوئیں اور ہنس کرکہنے لگیں بہت چالاک ہو میں نے کہا تمھارا کوئی بوائے فرینڈ تو بولیں اسپیشل تو کوئی نہیں مگر آپ جیسا مل جائے تو کیا ہی بات ہے۔
میں نے چونکہ دبئی ائیر پورٹ اپنے کپڑے چینج کرکے جبہ پہن لیا تھا اور نیچے کچھ نہیں پہنا تھا کیونکہ وہاں گرمی تھی اس لئے وہ مجھے عربی سمجھ رہی تھیں پھر وہ ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگیں اور میں بھی اپنے آئی پیڈ میں مصروف ہوگیا اور سیکسی پکچر دیکھنے لگا اتنے میں میرے ساتھ والی لڑکی میرے قریب آئی اور میرے آئی پیڈ میں دیکھ کر بولی کیا دیکھ رہے ہومیں نے اسے آائی پیڈ دکھا دیا اس میں سیکسی تصاویر کھلی ہوئی تھیں اس نے مجھ سے آئی پیڈ لیکر اپنی بہن کو دکھانا شروع کردیا خیر کچھ دیر تک وہ دونوں تصاویر دیکھتی رہیں پھر مجھ سے پوچھنے لگیں کہ تمھارے پاس صرف لڑکیوں کی سیکسی تصاویر ہیں لڑکوں کی نہیں میں نے کہا : ہاں ہیں تو کہنے لگیں دکھاؤ میں نے اپنا gayوالا فولڈر کھول کر انہیں دیدیا وہ بڑے انہماک سے لڑکوں کے لنڈ کی تصاویر دیکھنے لگیں اور جب کوئی برا لنڈا دیکھتی تو خوش ہوتیں اور آواز نکالتی اتنا بڑا!
جب وہ کافی ہاٹ ہوگئیں تو میں نے کہا حقیقت میں کبھی اتنے بڑے لنڈ دیکھے ہیں بولی نہیں یہ تو صرف گرافکس کا کمال ہے اتنا بڑا کیسے ہوسکتا ہے میں نے کہا ہوتا ہے تمھارے انگریزوں میں نہیں ہوتا ہوگا مگر ہمارے عربیوں کے پاس تو بہت بڑے ہوتے ہیں اسی لئے وہ جبہ پہنتے ہیں تاکہ کھڑا ہو بھی تو پتہ نہ چلے ان میں سے چھوٹی والی بولی ہاںمیں نے سنا ہے تو عربی شہزادوںکے بہت بڑے ہوتے ہیں بڑی آہستہ سے چھوٹی سے بولی یہ بھی توعربی ہے اسکا چیک کرلیتے ہیں میں نے بھی سن لیا اور ذہن میں آگے کے خیالات گھومنے لگے خیر اتنے میں ناشتہ سرو کیا گیا ناشتہ میں جیم ،مکھن اورپنیر بھی تھامیں نے سارا ناشتہ کرلیا تو دیکھاکہ ان دونوں نے مکھن جیم بچاکرسامنے والی سیٹ کی جیب میں رکھ لیااور باقی سب کچھ کھالیا میںنے پوچھا یہ کیوں نہیں کھایاتو بولیں بعد میں مزے لیکر کھائیں گے ائیر ہوسٹس نے سامان اٹھالیا اور لائٹ آف ہوگئیں ۔
کم وبیش7گھنٹے باقی تھے جب لائٹس بند ہوگئیںتو انہو ں نے ائر ہوسٹس سے شال مانگی اوڑھنے کیلئے مجھ سے بھی انہوں پوچھا آپ کیلئے بھی لے لیں میں نے کہا ہاں!مجھے سردی لگ رہی میں نے نیچے کچھ بھی نہیں پہنا ہوا صرف یہی جبہ ہے وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگیں اور جب شال ملی تو ایک مجھے دی اور ایک ایک دونوں نے لے لی پھر ایک کھڑی ہوئی اور اپنی شرٹ اتار کر اوپر بیگ میں رکھ دی اور صرف بریزر میں شال اوڑھ کر بیٹھ گئی دوسری نے بھی یہی کیا میںان دونوں کو دیکھ ہی رہا تھا کہ یہ کیا کررہی ہیں کہ شرٹ اتار کر شال کیوں اوڑھ رہی ہیں خیر تھوڑی دیر دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرتیں رہیں اور ایک دوسرے کی شال میں ہاتھ ڈال کر ایک دوسرے کے ممے دباتی رہیں پھر ایک نے مجھ سے کہاکیا آپ بیچ والی سیٹ پر آسکتے ہیں تاکہ میں کھڑکی طرف بیٹھ جاؤں اور اس پر سر رکھ کر سوجاؤں تو میں نے کہا میں کہا ںسر رکھ رکر سوؤ ں گا تو وہ کہنے لگی آپ میرے کندھے پر سر رکھ کر سوجانا میں نے کہا okاور میں بیچ میں آگیا اب ایک ایک لڑکی میرے دونوں طرف تھی میرا لنڈ بار بار جبہ میں کھڑا ہورہاتھا مگر ٹانگ اوپر رکھ کر بیٹھا ہوا تھا اس لئے انہیںدکھائی نہیں دے رہا تھامیں نے ان سے کہامیں سیٹ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتا ہوں آپ کی رانوں پرمیری رانیں آئیں گی آپ برا تو نہیں مانیں گی کہنے لگیں نہیں دوست ہو تو ایسی باتیں مت کرو جیسے چاہو سکون سے سوجاؤ ۔
میں نے ٹانگیں اوپر کیں اور ایک کی ننگی ران پر ہاتھ رکھا تو مزہ آیا اور شہوت بھڑک اٹھی اور ہاتھ فورا ہٹالیا وہ کہنے لگی نو پرابلم تم ہاتھ رکھ سکتے ہو۔میں اسکی ننگی ران پر ہاتھ کر بیٹھ گیا اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی شال میں کرلیا اور ایک ہاتھ سے میرا ہاتھ سہلانے لگی میں بھی ہاٹ ہونے لگا دوسری طرف اسکی چھوٹی بہن آنکھیںبند کر کے سوگئی میں نے بھی اپنا منہ بڑی والی کی طرف کرلیا تو اس نے مجھے شال کاکچھ حصہ ہٹاکر دکھا یا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ صرف پنک بریز اور پینٹی میں شال کے اندر ہے شرٹ اس نے پہلے اتار دی تھی اور کھڑکی کی طرف بیٹھ کر اسنے اپنا سکرٹ بھی اتار دیا اور میرا ہاتھ اپنے مموں کی طرف لے جانے لگی میں نے جب اسکے مموںکو پکڑا تو اسکے منہ سے سسکاری نکلی جس سے مجھے معلوم ہوا کہ وہ کافی ہاٹ ہوچکی ہے ۔
اس نے میری گردن پر ہاتھ کر میرے منہ کو شال میں کھینچ لیا میں نے کہا: کوئی دیکھ لے گا کہنے لگی کوئی نہیں دیکھے گا ہماری آخری سیٹ ہے کسی کو نظر نہیں آئے گا اور ائیر ہوسٹس بھی اس طرف نہیں آئے گی سب سورہے ہیں میں نے کہا: تمھاری چھوٹی بہن دیکھ لے گی تو کہنے لگی نہیں وہ بہت گہری نیند سوتی ہے وہ سوچکی ہے تو میں نے اسکی شال میںمنہ ڈالااسکے بریزر کے اوپر سے ہی اسکے مموں کو چوسنے لگا وہ میری گردن کو کس کرنے لگی پھر میں ایک جھٹکے سے اسکے بریزر کے کلپ جو کے آگے کی طرف لگے ہوئے تھے کھول دئے تو دو سفید خربوزے میرے منہ سے آکر ٹکرائے بہت بڑے نہیںتھے میرا خیال ہے 34کا سائز ہوگا میں نے اسکا نپل کاٹا تو کہنے لگی آہستہ ورنہ آواز نکل جائے گی خیر میں کافی دیر تک اسکے ممے چوستا رہا پھر آہستہ آہستہ ہاتھ اسکی پینٹی کی طرف بڑھا تو وہاں اسکی چوت پر کوئی بال نہیں تھے میں نے منہ نیچے کرکے اسکی چوت کو چاٹنے لگا جیسے زبان اسکی چوت میں ڈالی تو وہ تڑپ اٹھی اور مجھ دونوں ہاتھ سے پکڑ لیا پھر کافی دیر بعد میں نے فنگرنگ کی تو وہ فارغ ہوگئی۔
فارغ ہونے کے بعد کہنے لگی اپنا جبہ اٹھاؤ میں بھی دیکھوں عربیوں کا کتنا بڑا ہوتا ہے تم بڑی تعریف کررہے تھے میں نے کہا یہاں کیسے اٹھاؤں تو کہنے لگی جیسے میں شال میں ننگی ہوئی اسی طرح تم بھی شال اوڑھ کر جبہ اوپر کرلومیں نے اچھی طرح شال اوڑھی تاکہ کہیں سے دکھائی نہ دے اور جبہ اوپر کرلیا نیچے تو کچھ پہنا نہیں تھا لہذا 7انچ کا لنڈ سانپ کی طرف پھنکارتے ہوئے باہر آگیا اس نے شال میں ہاتھ ڈال کر پکڑا اور کہنے لگی اتنا بڑا مجھے دکھاؤ میں نے کہا شال میں گھس کر دیکھ لو کہنے گی اندھیرے میںکیا خاک نظر آئے گامیں نے اپنے موبائل کا ٹارچ جلاکر دیا تو ووہ ٹارچ ہاتھ میں پکڑ کر میری شال میں گھس گئی اور بولی اف اتنا بڑا اور اتنا موٹا میں نے کہا ابے آہستہ بولو! بولی اچھا پھر اس نے منہ میں لیا اور چوسنے لگی انگلش فلموں کی طرح کبھی ٹٹے چوستے کبھی ران تو کبھی لنڈ ایسے چوس رہی تھی جیسے اسکے باپ نے لالی پاپ اسکو دلایا ہوا ہے کافی دیر تک چوسنے کے بعد کہنے لگی یہ کچھ نکالتا بھی ہے یا نہیں نے میں نے کہا جب اسکو نکالنے کی اصل جگہ ملے گی اس وقت نکالے گا تو وہ ہنسنے لگی اور بولی چلو موقع ملا تو اسکا پانی ضرور اپنے اندر لوں گی۔ پھر کہنے لگی میں فارغ ہوچکی ہوں اب نیند آرہی اس لئے سونے دو اور تم بھی سوجاؤ میں نے لنڈ کی طرف اشارہ کرکے اسے جگادیا ہے اب یہ مجھے کہاں سونے دے گا تو ہنسنے لگی اور بولی okمیں سورہی میرے ہونٹوں پر کس کی اور اپنا سکرٹ پہن کر شال اوڑھ کر سوگئی۔

 

میں نے بھی جبہ نیچے کیا اور شال اوڑھ کر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اتنے میں ساتھ بیٹھی ہوئی اسکی چھوٹی بہن نے جنبش کی اور میرے کندھے پر سر رکھ میری طرف جھک گئی اسکی شال سامنے کھلی تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنی بہن کی طرح صرف بریزر اورپینٹی میں ہے اسکا ننگا بدن دیکھ کر میرا لنڈ دوبارہ کھڑا ہونے لگا کیونکہ میں فارغ تو ہوا نہیں تھا میں اسکے ننگے بدن کی طرف دیکھ ہی رہا تھا کہ کہ وہ میرے کان میں بولی باجی سے فارغ ہوگئے ہو تو میرے پاس آجاؤ میں سمجھ گیا کہ وہ سوئی نہیں تھی بلکہ سب کچھ دیکھ رہی تھی اسی لئے وہ ہاٹ بھی تھی میں نے اسکو اپنی طرف کھینچا تو کہنے لگی پہلے اپنا جبہ اٹھاؤ میں نے جبہ اٹھایا تو میری شال میں میری رانوں پر آکر ننگی اس طرح بیٹھ گئی کہ دونون ٹانگیں میرے ارد گرد کرلیں صرف پینٹی اور بریز میں تھی اور میرے ہونٹوںکو چوسنے لگی میں نے اسکا بریز کھول کر اسکو اپنے سینے لگالیا کیا اسکے ممے تھے اپنی بہن سے بھی خوبصورت اور نرم ملائم میں نے ہونٹ اسکے منہ سے نکالے اور اسکے ممے چوسنے لگا وہ میری پیٹھ کر ہاتھ پھیرنے لگی پھر ایک ہاتھ میرے لنڈ کی طرف بڑھا کر بولی اف اتنا بڑا واقعی عربیوں کے لن بڑے ہوتے ہیں میں دل ہی دل میں ہنسنے لگا کہ پاکستانی کے لنڈ سے ڈر گئی ہے تو عربی کا دیکھ کر نہ جانے اسکا کیا حال ہوگا ؟
میرا لن کھڑا ہوکراسکی چوت سے ٹکرانے لگا میں ہاتھ بڑھا کر اسکی چوت سے پینٹی کو ہٹانے لگا تو پینٹی پھٹ گئی میں نے کہا: سوری بولی :نو پرابلم اسکو اتار دومیں نے اسکو پھاڑ کر اتار دیا اور اسے سیٹ کے نیچے پھینک دیا اب وہ مکمل طور پر ننگی میرے بانھوں اور میرے لنڈ پر تھی میں نے آہستہ آہستہ لنڈاسکی چوت کے قریب کرکے لنڈ سے اسکی چوت کوسہلانا شروع کیا تو وہ مچل اٹھی اور بولی انسرٹ میں یعنی اندر کرو میں نے کہا تھوڑا اوپر اٹھو وہ تھوڑا اوپر اٹھی اور لنڈ کو اپنی چوت میں لینے لگی تو لنڈ نہیں گیا کیونکہ کافی موٹا تھا توبولی سیٹ کی جیب میں مکھن ہے وہ لیکر اپنے لنڈ پر لگاؤ میں نے کہا اچھا اس لئے تم دونوں نے یہ بچایا تھا وہ ہنستے ہوئے بولی ویسے کھانے کا کیا مزہ تھا جو اب مزہ آئے گامیں نے مکھن نکال کر اپنے لنڈ پر ملا اور پھر لنڈ کو اسکی چوت میں ڈالا تو وہ بولی درد ہورہا ہے میں پہلی بار کروارہی ہوں میری بہن تو پہلے بھی کرواچکی ہے آہستہ آہستہ کرو میں نے آہستہ آہستہ آادھا لنڈ اندر لیکر بولی بس پھر اوپر نیچے ہونے لگی اور چند منٹوں میں فارغ ہوکر میرے لنڈ سے اتر کر میری رانوںپر بیٹھ گئی اور اپنا ممے میرے سینے سے لگاکر گلے لگ کر شال میں سوگئی میں نے تھوڑی دیر بعد اٹھا یا کہ اٹھو کیا کررہی ہو بولی فارغ ہوونے کے بعد بڑے مزے کی نیند آرہی تھی اس لئے کچھ دیر تیری بانہوں میں سوگئی تھی پھر وہ میرے پاس سے اتر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی اور سکرٹ پہن کر شال اوڑھ کر سونے لگی میں نے ٹشو سے لنڈ صاف کیا اور واش روم کی طرف چلاگیا ۔
جس وقت میں یہ سیٹ پر انہیں چود رہا تھا تو اگلی سیٹ پر ایک شیخ عرب کی نوجوان بیوی سیٹھ کے کنااروں سے ہمیں دیکھ رہی تھی جیسے ہی میں واش روم میں گیا اور کموڈ پر بیٹھا اور میںنے جان بوجھ کر دروزہ بند نہیںکیا کہ شاید یہاں بھی کوئی چانس لگ جائے چنانچہ تھوڑی دیر بعد اس عربی کی نوجوان بیوی جو کہ واقعی بڑی خوبصورت تھی اور مکمل عربی برقعہ میں تھی باتھ روم میں آئی اور آتے ہی دروازہ بند کردیا اسکی پیٹھ میری طرف تھی میں جبہ اوپر کرکے اپنی ٹانگیں ننگی کرکے کموڈ پر بیٹھا ہوا تھا اس نے جب میری طرف منہ کیا تو سامنے سے مکمل برقعہ کھلا ہوا اور اس نے برقعہ کے نیچے کچھ بھی نہیں پہنا تھا مکمل ننگی تھی و ہ فورا میری رانوں پر بیٹھ کر بولی جلدی سے میرے اندر ڈالو تم نے اتنی دیر سے میرے اندر آگ لگائی ہوئی ہے کب سے تمھاری چدائی دیکھ رہی اور انگلی چوت میں ڈال کر گزارہ کررہی تھی میرا بڈھا تو سورہا ہے چنانچہ وہ میری رانوں پر بیٹھ کر میرا لنڈ اپنی چوت کے اندر لینے کی کوشش کرنے لگی مگر کامیاب نہ ہوئی تو میں نے اسکو کموڈ پر گھوڑی بنایا اور پیچھے کی طرف اسکی چوت میں لنڈ ڈالا اور دھکا لگایا تو بولی اف اتنا بڑا تو میرے بڈھے کا بھی نہیں ہے میں نے کہا مین جوان جو ہوں وہ ہنسنے لگی اور سیکسی آوازیں نکالنے لگی میں اسکو کم وبیش 10منٹ تک لگاتار چودتا رہا اور اس عرصہ میں وہ دفعہ فارغ ہوگئی میں فارغ ہونے ہی والا تھا کہ واش روم کے دروازے پر دستک ہوئی اور ہم جدا ہوگئے اور ایک ایک کرکے بہار نکل گئے ائیر ہوسٹس مجھے قابل رشک نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔
میں اپنی سیٹ پر جاکر بیٹھ گیا اور ان دونوں بہنوں کو اٹھاکر بولا کہ تم دونوں کافی دیر سے سورہی ہو اب اٹھ جاؤ میں نے بھی لیٹ کر سونا ہے بولی لیٹ کرکیسے ؟میں نے کہا سر ایک کی گود میں رکھوں گا اور ٹانگیں دوسری کی گود میں وہ بولیں okتم لیٹ جاؤ اب ہم جاگتے ہیں نے چھوٹی والی کی گود میں سر رکھنا چاہا تو وہ وہ بولی نہیں پیر میری طرف کرو اور سر اسکی طرف میں نے کہا okمجھے کوئی پرابلم نہیں ہے میں شال اوڑھ کر لیٹ گیادونوں نے بھی شال اوڑھی ہوئی تھی بڑی والی نے اپنی شال کے اندر میرا سر لے لیا اور بریزر کھول دیا اسکے ممے میرے منہ سے ٹکرانے لگے میں بولا سونے بھی دو گی یا نہیں بولی پھر کبھی سولینا ابھی دوستی کا حق توادا کردو۔ میں ہنسنے لگا ۔
چھوٹی نے میرے پاؤں کی جانب سے میرے جبہ میں ہاتھ ڈال کر میری رانوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا میں سمجھ گیا یہ دونوں مجھے سونے نہیں دیں گی اب منہ سے بڑی والے کے ممے چوسنے شروع کئے اور چھوٹی نے میرا لنڈ جبہ سے باہر نکالا اور لولی پاپ کی طرح چوسنے لگی بڑی والی کبھی میرے ہونٹوں کوچوستی تو کبھی میرے سینہ کو جب کہ چھوٹی والی نے میرے نچلے حصہ پر قبضہ کیا ہوا تھا اور اگلی سیٹ سے وہ عربین دیکھ رہی تھی ۔چھوٹی والی نے جیم سیٹ کی جیب سے نکالا اور میرے لنڈ پر مکمل جیم مل کر اسے چاٹنے لگی اور سارا جیم میرے لنڈ پر لگاکر کھاگئی اور بولی اس لئے اسے بچاکر رکھا تھا تاکہ اصل ناشتہ میں کھاسکوں۔
کافی دیر بعد بڑی والی نے چھوٹی کو بولا نیچے میرا بھی حق اب تم ادھر جاؤ چنانچہ باری چینج ہوئی اب چھوٹی کے ممے میرے منہ اور میرا لنڈ بڑی کے منہ تقریبا1گھنٹے بعد دونوں نے مجھے چوس چوس کر میری منی نکالی اور پھر دونوں میرے لنڈ کو چاٹنے لگی اور منی پینے لگیں اور مجھے کچھ سکون ہوا میں واش روم میں گیا اور کپڑے چینج کرکے پینٹ شرٹ پہنی اور واپس اپنی سیٹ پر آیا وہ دونوں ننگی مجھ سے لپٹ گئیں اور بولی Thank youتم نے ہمیں بڑا مزہ دیاساؤتھ میں جب ہمارے گھر کی طرف آناہو تو ضرور آنا میں نے ان سے انکا نمبر لیا جب ان سے نمبر لے رہا تھا اگلی سیٹ سے عربین نے بھی ہاتھ بڑھاکر ایک پرچہ دیا جس پر اس نے اپنا نمبر لکھا ہوا تھا اور پھر ساؤتھ افریقہ آگیا۔

 

امیگریشن سے فارغ ہوکر جب ائیر پورٹ سے باہر آیا توٹیکسی کی تلاش میں نظریں ڈوراہی رکھا تھا کہ ایک افریقن لڑکی چست پاجامہ میں ملبوس بڑے بڑے ممے لہراتے ہوئے میری طرف آئی اور پوچھنے لگی سر ٹیکسی کہاں جانا ہے میں نے بتایا: جوہانسبرگ کہنے لگی آئیں چنانچہ میں اسکے ساتھ اسکی ٹیکسی میں بیٹھ گیا میں نے پوچھا کتنا وقت لگے گا کہنے لگی آدھا گھنٹہ ابھی آدھا راستہ ہی گزرا تھا کہ گاڑی خراب ہوگئی وہ گاڑی صحیح کرنے لگی ہم لوگ ہائی وے پرتھے جب کافی دیر تک گاڑی صحیح نہ ہوئی تو میں نے ہائی وے پر آکر لفٹ کیلئے اشارہ کیاتو کچھ دیر بعد ایک انگریز لڑکی نے کار روکی اور پوچھا کیا ہوا میں نے بتایا گاڑی خراب ہوگئی ہے اگر آپ مجھے کسی قریبی اسٹاپ پر چھوڑدیں تو مہربانی ہوگی کہنے لگی ابھی اپنے گھر جارہی ہوںمیرے ساتھ چلو واپسی میں اسٹاپ پر چھوڑ دوں گی میںنے کہا ok۔
بڑی خوبصورت لڑکی تھی اسکی عمر 20سال کے قریب ہوگی پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور شرٹ جرسی کے چست پہنی ہوئی تھی جس سے اسکے مموں کا پورا فیگر واضح ہورہا تھا 5منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم ایک بڑے سے بنگلے میں پہنچے اس نے گاڑی گیراج میں پارک کی اور مجھے اپنے ساتھ گھر کے اندر لے گئی گھر میں صرف اسکی Momتھیں اس نے مجھے ان سے ملوایا انہوں نے مجھے گلے لگایا تو انکے بڑے بڑے ممے جو کہ تقریبا40کے سائز کے ہونگے میرے سینے سے ٹکڑا ئے اور انہوں نے میرے گال پر کس کی اس لڑکی نے اپنی امی کو کافی کا کہا اور خود مجھے اپنے پرسنل روم میں بٹھاکر اٹیچ باتھ میں نہانے چلی گئی میں چونکہ پیچھے پورا دن کا جاگا ہوا تھا اس لئے اسکے بیڈ پر بیٹھا اور سوگیا رات تقریبا9بجے اس نے مجھے اٹھایا اور کہا: جانا نہیں ہے کیا اسٹاپ پر کب سے سورہے ہو میں نے سوری کی وہ بولی نو پرابلم سامنے اٹیچ باتھ میں جاکر نہاکر فریش ہولو پھر کچھ کھاکر جانا میں اٹیچ باتھ میں داخل ہوا اور باتھ ٹب میں پانی ڈال کر لیٹ گیا کافی سکون مل رہا تھا باتھ روم میں کافی سیکسی تصاویر لگی ہوئی تھیں جس سے مجھے اس لڑکی کی ذہنیت کا اندازہ ہوگیا نہانے کے بعد میں تولیہ لپیٹ کر باہر آیا تو وہ کمرے میں تیا ر ہورہی تھی میں نے کہا باہرچلی جاؤ تو میں کپڑے چینج کرلوںبولی ایسے ہی کرلو میںمنہ دوسری طرف ہے میں نے تولیہ اتاری اور جبہ پہن لیا اور جبہ کے نیچے کچھ نہیں پہنا کیونکہ اس طرح میں ایزی فیل کرتا ہوں اس نے جب مجھے مڑ کو دیکھا تو بولی واؤ بڑے ہینڈ سم ہو کیا تم عربی ہو؟ میں نے کہا ایسا ہی سمجھ لو بولی آؤ کچھ کھالو پھر چلتے ہیں ۔
ڈائننگ ٹیبل پر اسکی والدہ بھی تھیں کھانا کھایا انہوں نے مجھے وائن پیش کی تو میں نے منع کردیا کہ میں وائن نہیں پیتا صرف کوکا کولا دیدیں چنانچہ وہ دونوں وائن پینے لگیں اسکی والدہ نے مجھے رات رکنے کیلئے آفرکردی کہ رات کافی ہوگئی ہے صبح چلے جانا تم شیلا کے ساتھ اسکے کمرے میں آرام کرلو اسکی بیٹی کا نام شیلا تھا میں نے انکی فیملی کے بارے میں پوچھا تو وہ بولیں ہم دونوں اور اسکے والدہیں وہ آج چونکہ ہفتہ ہے اس لئے ویک اینڈ منانے اپنے دوستوں کے ساتھ گئے ہیں میں نے پوچھا آپ لوگوں تو کہیں جانے کا پروگرام تو نہیں تھا بولیں تھا تو بس اب آپ کے ساتھ ویک اینڈ منالیں گے رات تقریبا 12بجے اسکی والدہ اپنے کمرے میں چلی گئیں اور وہ مجھے لیکر اپنے کمرے میں آگئی میںنے پوچھا کہ کوئی موووی ہے دیکھنے کیلئے بولی ہاں چنانچہ اس نے ایک ہالی وڈ کی مووی لگادی اور مجھے بولنے لگی میں کپڑے چینج کررہی ہوں تم نے چینج کرنے ہیں تو بتاؤ اپنے والد کے کپڑے دیدوں میں نے کہا کیا ہے بولی نائٹی ہے میں نے کہا اوکے پہلے تم کپڑے چینج کرلو پھر مجھے لادینا وہ اپنی الماری کی طرف بڑھی اور اس میں اپنی بلیک کلر کی نائٹی نکال کر پہننے لگی میں اسے ہی دیکھ رہا تھا اس نے اپنی پینٹ اتاری اور بلیک کلر کی ہی پینٹی پہنی اور بریز نہیں پہنی اسکی نائٹی نیٹ یعنی جالی کی تھی جس میں سے اسکا مرمری بدن جھلک کر مجھے دعوت گناہ دے رہا تھا مجھے اس نے ایک نیکر گٹھنوں تک کی اور بنیان لاکر دیدی میں نے بھی چینج کرلی اور جبہ اتار کر ٹانگ دیا اور اسکے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا اور ہم دونوں علیحدہ علیحدہ کمبل لیکر بیٹھ گئے اور سینے سے اوپر کاجو مجھے دکھائی دے رہا تھا میں بار بار اسکی طرف دیکھ رہا تھا جسے اس نے بھی محسوس کرلیا اور پھروہ میرے قریب آگئی اور باتیں کرنے لگی کبھی میرے ہاتھ پر ہاتھ مارتی اور کبھی میرے کندھے پر اپنا سر رکھ کر فلم دیکھنے میں مصروف ہوجاتی ہے ۔
فلم میں ایک سیکسی سین آیا تو اسکے منہ سے آواز نکل گئی میں نے پوچھا کیا ہوا بولی کچھ نہیں ویسے ہی فلم دیکھ کر ایکسائٹد ہورہی تھی میں نے کہا فلم دیکھ کر یا سیکسی سین دیکھ کر بولی آپ جو سمجھ لو میں نے اس سے پوچھا کہ کوئی سیکسی فلم ہے بولی سیکسی فلم کا کیا کرنا ہے میں نے کہا دیکھنی ہے بولی دیکھنے کے بعد جو کچھ کرنا ہے وہ دیکھے بغیر ہی کرلو اور اپنے کمبل سے نکل کر میرے کمبل میں آکر مجھ سے لپٹ گئی پھر مجھے نیچے لٹاکر میرے اوپر بیٹھ گئی اور میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی اور پھر نیچے میرے سینے کی طرف آئی اور میری چھاتیوں کو منہ میں لیکر چوسنے لگی میں نے بھی اپنا ہاتھ اسکی نائٹی کے نیچے گھساکر اسکی گانڈ اور رانوں پر پھیرنے لگا وہ مزید ہاٹ ہوگئی اورسینے سے نیچے کی طرف آتے ہوئے نیکر کے اوپر سے میرے لنڈ کو سہلانے لگی اور پھر زپ کھول کر لنڈ باہر نکال لیا جب اس نے اتنا لمبا لنڈ دیکھا تو بولی آج پہلی بار اتنے بڑا لنڈ لینے کا مزہ آئے گا اور پھر لولی پاپ کی طرف چوسنے لگی میں اسکو پکڑا اور نیچے بیڈ پر لٹاکر اسکے اوپر چڑھ گیا اور اسکی پیشانی سے لیکر گردن تک کے حصہ کو کس کرنے لگا پھر میں نے اپنے ہاتھ نیچے کی طرف بڑھائے اور نائٹی کے اوپر سے ہی اسکے ممے دبانے لگا تو سیکسی آوازیں نکالنے لگی اور میرے منہ کو ممے کی طرف کھینچنے لگی تاکہ میں اسکے ممے چوسوں میں نے پہلے نائٹی کے اوپر سے اسکے مموں کو چوسا پھر اسکے کندھے پر سے نائٹی ہٹائی اور اوپر سے اسکا سینہ کھل گیا اور اسکے کھینچ کر نائٹی سے باہر نکال لئے جیسے ہی ننگے مموں پر ہاتھ لگا تو وہ او ر میرے وونوں ہی بے قابوہوگئے اور میں اسکے مموں پر ٹوٹ پڑا کبھی ایک منہ میں لیتا تو کبھی دوسرا پھر زبان کی نوک اسکے نپل کے گرد پھیرنے لگا تو وہ بہت زیادہ ہاٹ ہوگئی اور اپنے ہاتھ سے میرے لنڈ کو پکڑنے کی کو شش کرنے لگی میں اپنا لنڈاسکے مموں کے قریب لے گیا اور دونوں مموںکے بیچ رکھ کر اسے چودنے لگا جب میں آگے لے جاتا وہ زبان نکال کر لنڈ کے ٹوپے پر لگاتی اور مجھے بڑا مزہ پھر اس نے اپنے دونوں میرے پیچھے کی طرف کرکے مجھے آگے کی طرف کھینچا تو میرا لنڈ اسکے منہ کے پاس پہنچ گیا اور میری گانڈ اسکے مموں پر اور وہ پھر میرے لنڈ کو منہ میں لیکر چوسنے لگی ایسے چوس رہی تھی جیسے قلفی کھارہی ہو پھر میں نے اسکے منہ اپنا لنڈ نکالا اور نیچے اسکی چوت پر پینٹی کے اوپر سے ہاتھ پھیرا تو وہ سسک اٹھی میں نے اپنا منہ اسکی چوت کے قریب کرکے اسکی چوت کے سوراخ میں زبان ڈالنے کی کوشش کی پھر آہستہ آہستہ اسکی رانوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پینٹی کے اندر اسکی چوت کی طر ف ہاتھ لے گیا وہاں کوئی بال نہ تھا شاید اس نے آج ہی شیو کی تھی اس نے اپنے ہاتھ بڑھاکر اپنی پینٹی اتارنے کی کوشش کی تو میں نے اسکی پینٹی اتار دی اور پھر اسکی چوت سے اپنی زبان لگادی اوروہ تڑپنا شروع ہوگئی اورتیز تیز آوازیں نکالنے لگ گئی میں نے زبان اسکی چوت کے اندر ڈال دی اور زبان سے اسکو چودنے لگا وہ کہنے لگی لنڈ ڈال دو اتنا مت تڑپاؤ تو پھر میں نے اسکی ٹانگیںاٹھاکر اپنے کندھوں پر رکھیں اور لنڈ سے چوت کا نشانہ لیکر ایک ہی دفعہ میں پورا لنڈ اندر ڈال دیا اور وہ چیخ اٹھی اس قدر زور سے چیخی کہ برابر والے کمرے اسے اسکی مما بھی اٹھ کر آگئیں اور مجھے دیکھ کر بولیں کیا ہوا میں نے کہا آنٹی آپ تو جانتی ہیں کہ اس وقت آواز کیوں نکلتی ہے تو وہ ہنسنے لگیں اور اپنی بیٹی سے پوچھنے لگیں کیا ہوا وہ بولی مما اتنا بڑا لن میری چوت کو پھاڑ کر رکھ دیا تو آنٹی بھی بیڈ پر میرے قریب بیٹھ گئیں اور کہنے لگیں ہمیں بھی تو دکھاؤ کتنا بڑا لن ہے جس نے ہماری بیٹی کو اتنا درد دیا ہے میں نے اپنا لنڈ اسکی چوت سے باہر نکالا تو وہ بھی حیرت سے بولیں اف اتنا بڑا پھر انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا لن کی طرف اور اسے منہ میں لیکر چوسنے لگیں میں نے انکے منہ سے لنڈ نکال کر دوبارہ شیلا کی چوت میں ڈال دیا اور اسکو چودنے لگا تو وہ شیلا کی طرف بڑھ کر اسکے ممے چوسنے لگیں اس نے اپنی مما سے بولا ابھی چلی جاؤ مجھے مزے کرنے دو جب میںفارغ ہوجاؤں تو آپ آجانا چنانچہ وہ جانے لگیں اور مجھے ہنستے ہوئے کہنے لگیں کہ خیال رکھنا میں نے کہا آاپ فکر نہ کریں انکے جانے کے بعد وہ بولی سارا مزہ کرکرہ کردیا مما نے میں بولا تمھاری غلطی کی وجہ سے وہ ہنسنے لگی میں دوبارہ اسے چودنے لگا حتی کہ وہ فارغ ہوگئی اور بولی بس کرو باہر نکالو میں نے کہا مجھے کون فارغ کرے گا بولی اچھا صبر کرومیں واش روم سے آجاؤں وہ واش روم سے واپس آئی تو میں دوبارہ اس پر پل پڑا اور اب اسکی گانڈ کی طرف بڑھا اور اسکو بولا اب تمھاری گانڈ مارنی ہے بولی میں نے کبھی نہیں مروائی درد ہوگا میں نے کہا باڈی لوشن لیکر آؤ اس نے وہ دیا اور میں نے کافی لوشن اسکی گانڈ پر ڈال اور پھر آہستہ آہستہ اپنا لنڈ اسکی گانڈ میں ڈالنے لگا وہ بولی بس درد ہورہا ہے مگر میں اب کہاں رکنے والا تھا میں نے اسکو پکڑا اور پھر پورا لنڈ اسکی گانڈ میں ڈال دیا وہ درد سے کراہنے لگی تو میں اپنا ہاتھ اسکے منہ پر رکھ دیا اور اپنا اسکے مموں پر رکھ کر انہیں چوسنے لگا اور پھر جب اسکا درد کچھ کم ہوا تو اسکی گانڈ میں اپنا لنڈ آگے پیچھے کرنے لگا اسے مزہ آنے لگا اور وہ گانڈ ہلاہلاکر میرا ساتھ دینے لگی کافی دیر تک گانڈ کی چودائی کرتا رہا پھر جب میں فارغ ہونے والا ہوا تو میں نے گانڈ سے نکال کر اسکی چوت میں لنڈ ڈالا اور چار پانچ اسٹروک مارے تو وہ اور میں دونوں ایک ساتھ فارغ ہوگئے۔

Share
Article By :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *