Two Sister’s – Urdu Lesbian Sex Stories

Share

Two Sister’s – Urdu Lesbian Sex Stories is a Latest Urdu sex stories which is written in Urdu Language or Two Sister’s – Urdu Lesbian Sex Stories is a Urdu sex kahani or adult sex or kama sutra stories in Urdu.

دو بہنوں کی چدائی

مصنف : آرام مینا

 

میرا نام آرام ہے ، میں ایک چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا ہوں لیکن سرکاری نوکری ملنے کے بعد گاؤں میں کبھی – کبھی جانا ہوتا تھا . جب بھی جاتا ہوں تو 10-15 دن رک کر آتا ہوں . تو میں بتانے جا رہا ہوں کہ میں نے سب سے پہلے جس لڑکی چدائی کی وہ میرے پڑوس کی ہی لڑکی تھی ، جو میری بیٹی اسی طرح لگتی ہے .

میرے گھر کے پیچھے والے گھر میں دو لڑکیاں ہیں ، جو بہت ہی گوری – چٹٹي بالکل ھٹی کریم کی طرح ہیں . بڑی کی عمر 19 سال ہے جس کا نام رینا ہے اور چھوٹی کا نام عبادت ہے جو رینا سے صرف ایک برس چھوٹی ہے مگر پھگر مست ہے اور رینا سے چوگنی خوبصورت بھی ہیں جس کی تصویر آپ دیکھ لو تو آپ بغیر مٹھٹھ ہلاک نہ رہ پائیں گے .

دیکھنے میں لمبی ، دودھ کی طرح گوری ، بڑے – بڑے ممے گیند کی طرح سوٹ میں سے باہر نکلنے کی کوشش میں رہتے ہیں . رینا مجھ سے گھل – مل کر رہتی تھی .

میں جب بھی گاؤں جاتا تھا ، کھانے کی چیزیں ضرور لے جاتا تھا . رینا میرے گھر آ جاتی تھی کہ چاچا کچھ نہ کچھ کھانے کی چیز لائے ہوں گے . ویسے میں اس سے مذاق بھی کر لیا کرتا تھا کہ میں آج کچھ نہیں لایا ، تو وہ مجھ سے ضد کرنے لگتی اور مجھ سے مستی لگتی ، تو میں موقع دیکھ کر آہستہ سے اس کے مموں کو زور سے دبا دیتا . تو وہ کہتی کہ چچا ان میں درد ہوتا ہے ان کو مت دباو . تو مستی – مستی میں میرا لنڈ تنكر کھڑا ہو جاتا تھا .

یہ سلسلہ کافی دنوں تک چلتا رہا . جب میں اگلی بار گاؤں گیا تو رینا کے لئے ایک اچھی سی برا اور پینٹی کا سیٹ لے کر گیا . وہ پہلے کی طرح ہی چیز کے لئے ضد اور مستی کرنے لگی .

تب میں نے کہا – تیرے لئے اب کی بار میں ایک الگ چیز لایا ہوں جو میں اس کو اکیلے میں دینا چاہتا ہوں .

تو رینا نے کہا – چچا ، میں آج دن میں گھر پر اکیلی ہی رہوں گی ، میرے گھر آ کر دے دینا .

اسے برا اور پینٹی کو دینے کے لئے میں اس کے گھر پر گیا تو گھر پر اس کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا . وہ اکیلی تھی اور ٹی وی چلا رکھا تھا .

جیسے ہی میں اندر گیا تو رینا نے ٹی وی بند کر دیا اور کہا – چاچا ، اندر آ جاؤ ، کوئی نہیں ہے .

تو میں رینا کو دیکھتا ہی رہ گیا کیونکہ رینا نے جالیدار شلوار سوٹ پہن رکھا تھا ، جس میں وہ بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی اور اس کے ممے سوٹ سے باہر اچھی طرح ابھار دے رہے تھے . اس کو دیکھ کر میرا اوزار ( لنڈ ) بھی تنكر کھڑا ہو گیا . میں نے دیکھا کہ اس کی نظر میرے لنڈ پر تھی .

میں نے کہا – کیا دیکھ رہی ہو رینا بیٹی !

” نہیں . نہیں .. کچھ نہیں … ” وہ بولی .

اور میں اندر جا کر بیڈ پر بیٹھ گیا . آج میرا موڈ رینا کو چودنے کا تھا . میں پوری تیاری کے ساتھ گیا تھا . جیب میں نرودھ کا پےكٹ بھی لے کر گیا تھا . وہ میرے پاس آئی اور چیز لینے کے لیے ضد کرنے لگی اور مستی کرنے لگی . مستی – مستی میں میں نے اس کے مموں کو زور سے دبایا تو اس نے کوئی مخالفت نہیں کی . میں سمجھ گیا کہ آج رینا چدنے کے لیے تیار ہے .

وہ میری تلاشی لینے لگا تو اس نے جیب میں ہاتھ دیا تو اسے ایک كڈوم کا پےكٹ ملا ، اس کو باہر نکالا اور پوچھا – چاچا یہ کیا چیز ہے ؟ کیا میرے لئے لائے ہو !

میں نے کہا – رینا بیٹی یہ میرے کام کی چیز ہے ، جو بعد میں کام آئے گی ، تب بتاؤں گا . آپ کے کام کی تو یہ ہے .

میں نے جیب سے برا اور پینٹی نکال کر دکھائی ، تو وہ بہت خوش ہوئی .

اس نے میرے گال پر ایک زور سے گھن اور کہا – ویری گڈ چچا ، آپ مجھے بہت اچھے لگتے ہو . آج میری پسند کی چیز لے کر آئے ہو .

میں نے کہا – رینا بیٹی ان کو پہن کر دیکھو . کہیں سايج چھوٹی – بڑی تو نہیں ہے ؟

وہ ان کو پہننے کے لئے اندر چلی گئی . تھوڑی دیر بعد آواز دی ، ” چچا اندر آو ، یہ برا کا ہک نہیں لگ رہا ہے . ”

میں اندر گیا تو کہا – چچا پیچھے سے یہ برا کا ہک نہیں لگ رہا اس آکر لگا دو

تب میں اس کے پیچھے کھڑا رہ کر ہک لگانے لگا کا ڈرامہ کرنے لگا اور آہستہ – آہستہ پیچھے ہاتھ پھیرنے لگا تو رینا گرم ہونے لگی . میرا لنڈ کھڑا ہو گیا اور پھپھكار مارنے لگا . میں نے میرے لنڈ کو پائجامہ کے اندر سے نکال کر رینا کے چوتڑوں پر سٹا دیا اور رگڑا لگانے لگا .

رینا بولی – چاچا میرے پیچھے یہ کیا چبھ رہا ہے ؟

اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور میرے لنڈ کو پکڑ لیا اور کہا – چاچا اس کو اندر ڈال لو کوئی آ جائے گا تو کیا کہے گا .

” نہیں رینا بیٹی ! اب یہ تو تمہاری چوت کے اندر ہی جائے گا . ”

اور میں رینا کے گالوں کو چومنے لگا . رینا بھی گرم ہونے لگی اور میرے لنڈ کو مسلنے لگی . میں نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا اور ہاتھ کو دھیرے – دھیرے نیچے لے جا کر چوتڑوں کو سہلانے لگا .

وہ بہت اتیجت ہو چکی تھی اور بولی – چاچا یہ کیا کر رہے ہو ! کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا !

میں نے کہا – یہاں ہم دونوں کے علاوہ اور کون ہے جو ہمیں دیکھے گا .

” میری ممی کو بہت دیر ہو گئی ہے وہ آتی ہی ہوگئیں . ”

میں نے کہا – رینا میں تیرے لئے بہت تڑپا ہوں ، میں نے تیرے نام سے کئی بار مٹھ ماری ہے .

میں نے ایک جھٹکے کے ساتھ میری بیٹی رینا کو پلنگ پر لٹا دیا اور اس کے گالوں کو چومنے لگا اور وہ بھی برابر میرا ساتھ دے رہی تھی . اس کے بعد میں اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا تو وہ بہت گرم ہو چکی تھی . میرے پاس وقت بہت کم تھا ، جو بھی کرنا تھا وہ جلدی کرنا تھا . کیونکہ اس کی ممی یعنی کہ میری بھابھی آنے والی تھی . میں نے اس کی برا کو الگ کر دیا اور اس کے مموں پر زبان پھیرنے لگا . اس کے ممے بالکل ایک دم تن گیند کی طرح تھے ، میں نے ان کو زور – زور سے مسئلہ .

وہ سسکاریاں بھرنے لگی اور کہنے لگی ، ” چچا ، اب جلدی کرو ، مجھ سے اب رہا نہیں جا رہا . ”

رینا نے میری پینٹ کو کھولا اور میرے لنڈ کو باہر نکالا تو رینا کے ہوش اڑ گئے ، ” ارے باپ رے ! یہ اتنا موٹا ! یہ میری چوت میں کیسے گھسےگا ! میری چوت تو معصوم ہے اور اس کے آگے میری چوت تو پھٹ جائے گی . ”

میں نے آہستہ سے رینا کے سلوار کا ناڑا کھول دیا اور شلوار نیچے کھسکا کر پینٹی اتاری اور اس کی چوت کو چاٹنے لگا . چوت کیا تھی دم ہموار ! بال تو اس کے ابھی اگنے ہی شروع ہوئے تھے . جو ابھی ملائم تھے . رینا کی چوت کے دانے پر زبان رکھتے ہی رینا کے جسم میں ایک دم لہر سی دوڑ گئی . میں نے رینا کی چوت کا دانا پورا کا پورا منہ میں لے لیا . رینا کی چوت رسیلی ہونے لگی اور ایک دم سے پانی چھوڑ دیا . پورا کا پورا گرم – گرم پانی میرے منہ کے اندر چلا گیا ، جو بہت ہی نمکین لگا .

رینا کی تڑپ بڑھتی جا رہی تھی اور کہہ رہی تھی ، ” چاچا اب دیر مت کرو اور چود ڈالو اپنی رینا بیٹی کو . ”

میں نے اپنا كڈوم نکال کر رینا بیٹی کو دیا اور کہا – رینا بیٹی ، یہ كڈوم لے اور اس کو میرے لنڈ کے اوپر چڑھا دے .

كڈوم کے بارے میں رینا ناواقف تھی اور مجھ سے پوچھا – چاچا اس کو لگانے سے کیا ہوگا ؟

میں نے کہا – بیٹی ، اس سے بچہ ٹھہرنے کا خوف نہیں رہے گا .

تو رینا نے میرے لنڈ کے اوپر نرودھ چڑھا دیا اور اپنی چوت کے چھید پر سیٹ کر دیا . میں دھیرے – دھیرے زور دینے لگا ، رینا چلانے لگی ، ” چاچا درد ہو رہا ہے ! باہر نکالو. ”

میں وہیں رک کر دھیرے – دھیرے اندر – باہر کرتا رہا تو اس کو مجا آنے لگا .

تب اس نے کہا – چچا اور اندر ڈالو نہ ! مجا آ رہا ہے .

تب میں نے زور سے ایک جھٹکا مارا تو پورا کا پورا اندر چلا گیا اور رینا کی بیٹی کی چوت سے خون کی دھار چھوٹی اور چادر پر خون چھپ گیا .

وہ خون کو دیکھ کر گھبرا گئی اور کہنے لگی ، ” چاچا میں مر جاؤں گی ، لنڈ کو باہر نکال لو . چچا رہنے دو ! مجھے بہت زور سے درد ہو رہا ہے . ”

میں اس کو ساتونا دے رہا تھا ، ” تھوڑی دیر درد ہوگا پھر مزا آنے لگے گا . ”

تو وہ اس بات سے متفق ہو گئی اور میرے کو زور سے کس کے پکڑ لیا اور جھٹکے پر جھٹکے برداشت لگی .

اب وو مزے میں سسيا رہی تھی ، ” چچا زور – زور سے چودو ! آج آپ کی رینا بیٹی کی چوت کو پھاڑ ڈالو ! اس کو بھوسڑی سے بھوسڑا بنا دو ! ”

میں پانچ منٹ تک مسلسل چودتا رہا پھر رینا کی چوت سے گرم – گرم مادہ نکلنے لگا تو میں سمجھ گیا کہ رینا جھڑ چکی ہے . لیکن میرا پانی نکلنے سے پہلے ہی رینا نے میرے لنڈ کو باہر نکال دیا . میں نے فوری طور پر لنڈ کو رینا کے منہ میں دے دیا اور چسانے لگا . تبھی اچانک مجھے اس کی چھوٹی بہن عبادت دکھائی دی . وہ پتہ نہیں کب سے کھڑی – کھڑی یہ کھیل دیکھ رہی تھی .

میں نے عبادت کو اندر بلایا اور کہا – بیٹی پوجا آپ نے جو دیکھا ہے وہ کسی کو مت بتانا .

تو وہ کہنے لگی – چاچا مجھ کو بھی آپ لنڈ چساو تو یہ بات میں کسی سے نہیں کہوں گی .

میں نے وضاحت کی ، ” بیٹی ابھی تو بچی ہیں تو بڑی ہو جائے گی تب چسا دوں گا . ”

لیکن وہ ضد کرنے لگی اور کہنے لگی ، ” ممی سے کہوں گی . ”

تو میں نے اس سے کہا ، ” ٹھیک ہے تو بھی چوس لینا . ”

اور میں واپس رینا کے اوپر چھا گیا اور رینا کی چوت پر پھر لنڈ رکھ کر زور سے دھکا مارا اور مسلسل 15 منٹ تک چودتا رہا . آخر میں میرے لنڈ نے جواب دے دیا اور میرا پانی نکل گیا .

میں نے لنڈ کو باہر نکال کر عبادت کے منہ میں دے دیا . پوجا میرے لںڈ کو بڑے مزے سے چوس رہی تھی اور جو ویرے نکلا تھا ، اس کو بھی اپنے اندر ڈکار گئی اور کہنے لگی ، ” چاچا کل میرے ساتھ بھی ایسے ہی کرنا ، مزہ آتا ہے . ”

تو میں نے عبادت سے کہا ، ” بیٹی ، پہلے تو اپنی چوت تو دکھا کہ تیری چوت میں میرا لنڈ گھسےگا یا نہیں ؟ ”

اس نے دکھائی تو میں نے اس کی چوت میں انگلی ڈال کر دیکھا تو اس کی چوت ساری کی ساری گیلی ہو رہی تھی کیونکہ اس کا پانی ہمارا کھیل دیکھتے – دیکھتے ہی نکل گیا تھا .

تو میں نے عبادت سے کہا – بیٹی تیری چوت کو کل کام میں لوں گا ، تیل لگا کر تیار رہنا .

بعد میں ہم تینوں نے بیڈ – شیٹ پر لگے خون کو دھو کر صاف کیا اور ٹی وی دیکھنے لگے .

Share
Article By :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *