urdu font sex story – Hospital me Sex

Share
دوستوں جیسے کہ آپ سب کو علم ہے کہ میں کوہاٹ کا رہائشی ہوں اور میرا نام عابد حیات ہے، کوہاٹ میں بہت سے دوست مجھے میرے نام خان گل کے نام سے زیادہ جانتے ہیں۔ دوستوں شروع ہی سے میں سکس کا بے حد شوقین تھا اور یہاں تک کے جب بالغ بھی نہیں ہوا کرتا تھا تو اپنے ہمجولیوں کے ساتھ لیٹ کر بھی مجھے بہت سکون ملتا تھا۔ دوستوں جوان ہونے کے بعد سکس کرنے کے بہت سے مواقع ملے کیونکہ آپ سب کو پتہ ہے کہ کوہاٹ میں گشتی عورتیں بہت ہیں اورکوہاٹ نیو آڈے کے ساتھ بھی بہت سے محلے ایسے ہیں جہاں سکس کی عورتیں بہت مل جاتی ہیں۔ ان کی کہانیاں بھی بعد میں سناوں گا اس وقت میں جو کہانی سنانے جا رہا ہوں وہ میرے زندگی کی سب سے انوکھی کہانی ہے کیونکہ یہ سکس میں نےہسپتال میں کیا تھا۔اس وقت میری عمر 17 سال تھی۔
ہوا یوں کے ہمارے رشتہ دارجو کہ بنوں سے تعلق رکھتے تھے کوہآٹ کے ایک ہسپتال میں اپنے ایک مریض کو داخل کیا۔ جب ہم گھر والوں کو پتہ چلا تو ہم سب گھر والے اُن کی عیادت کے لئے چلے گئے۔ یعنی میں ابو اور امی۔ یہ میرے امی کے رشتہ دار تھے اور اُن کی چچی بیمار ہو کر داخل ہوئی تھی۔ خیر عیادت کرنے کے بعد میرے والد نے امی کے آنے والے رشتہ داروں کو بتایا کہ عابد آپ لوگوں کے ساتھ رہے گا۔ اور آپ لوگوں کے لئے کھانا بھی گھر سے عابد ہی لائے گا اور چند راتوں کے لئے اُپ لوگوں کے ساتھ ہسپتال میں رہے گا۔ امی کی چچھی کے ساتھ جو رشتہ دار آئے تھے اُن میں امی کے چچازاد عزیز اور اس کی چچی زاد شمشاد آئی تھی۔ چچی جس کا نام گلاپہ تھا کو ابو کی سفارش پر الگ کمرہ دیا گیا کیونکہ ایم یس ابو کے جاننے والے تھے۔ خیرشام کو کھانا لانے کے بعد اور مہمانوں کو کھانا کھلانے کے میں عزیر کو اپنے گھر لے آیا اور خود واپس ہسپتال چلا گیا۔اور پنے ساتھ گاڑی میں چچی، شماشاد اور اپنے لئے رضایاں بھی لے گیا کیونکہ یہ جنوری کا مہینہ تھا اور سخت سردی پڑ رہی تھی۔ چچی کے کمرے میں چچی کے ساتھ شمشاد تھی۔ میں جب کمرے میں گیا تو شمشاد چچی کی پاوں دبا رہی تھی۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ چچی کی عمر چالیس سال کی ہوگی پر وہ ایک خوبصورت اور دلکش خاتون تھی، بھرا بھرا جسم ، لمبا قد اور نیلی آنکھیں ، نیلی آنکھیں شروع ہی سے میری کمزوری رہی ہے۔ چچی کی شخصیت میں ایک دلکشی تھی۔ اس کی بیٹی شمشاد بھی ایک خوبصورت لڑکی تھی۔ شمشاد کی شادی کو دو سال ہو چکے تھی پر اب تک اولاد کی خوشی سے محروم تھی۔ شمشاد بھی اپنی ماں کی فوٹو کاپی تھی پر دونوں میں فرق یہ تھا کہ چچی صحت مند تھی جب کہ شمشاد ایک سمارٹ لڑکی تھی ۔ اور چچی کے مقابلے میں شمشاد کے ممے بھی تھوڑے چھوٹے تھے پر اس کے جسم کے تناسب سے بہت موزوں لگ رہے تھے۔
اس وقت مجھے کوئی بھی خیال نہیں آیا کیونکہ ایک تو دونوں میرے لئے اجنبی تھے اور دوسرے یہ کہ ہسپتال کا ماحول ہی ایسا تھا کہ بندے کا مزاج مستقیم ہی رہتا ہے۔ نرس نے چچی کو دوایاں دی اور شمشاد کو مشورہ دیا کہ دوایوں میں نیند کی گولیا ں بہت ہیں اس لئے چچی کو آرام کا موقع دیا جائے۔ چچی دوایاں کھا کر سوگئی ۔ اُس روم میں صرف مریض کے لئے ایک بڑا بیڈ اور اس کے ساتھی کے لئے ایک فرد کے سونے کے لئے ایک بینچ پڑا تھا۔ چونکہ بینچ پر کوئی بستر نہیں تھا اس لئے میں نے شمشاد کو انتظار کرنے کے لئے کہا اور جلدی سے گھر آکر شمشاد کے لئے گھر سے بستر لے آیا۔ شمشاد بار بار کہ رہی تھی کہ آپ ہمارے لئے اتنی تکلیف نہ اُٹھایا کریں۔۔میں نے کہا کہ تم آمی کے رشتہ دار ہو تو میرے بھی رشتہ دار ہوئے نہ۔۔تکلیف ہر روز تو نہیں آتی۔ میں نے اُس کی آنکھوں میں احسان مندی کے انسو دیکھے تو اُس کو ڈانٹا کہ خبردار جو آئیندہ آپ نے شکریہ ادا کیا یا روئی۔ بس تم بھی سو جاو۔۔ میں باہرگاڈی میں سوجاوں گا۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو مجھے فورا فون کردو اب ۔ شمشاد نے کہا کہ نہیں اس سخت سردی میں تم کس طرح گاڈی میں سوگے۔اتنا بڑا کمرہ ہے تم بھی کسی کونے میں سو جاومجھے تم پر پورا بھروسہ ہے ۔ بہر حال میں نے بھی سوچا کہ نہ تو گھر جاسکتے ہو اور نہ ہی اس سردی میں گاڈی میں سو سکتے ہو۔ اس لئے راضائی زمین ر بچا کرآنکھیں بند کر لیں ۔ کمرے میں ہیٹیر لگا ہوا تھا اس لئے کمرے کا ماحول گرم تھا۔ پھر پتہ بھی نہیں چلا کہ کب میری آنکھ لگ گئی۔ آدھی رات کو میری آنکھیں اچانک کھل گئی کیونکہ مجھے پیشاب کی طلب ہو رہی تھی اس لئے اُٹھ کر واش روم چلا گیا اور واپس پر آتے ہوئے ایک نظر چچی پر ڈالی تو زیرو لائٹ کے روشنی میں چچی بہت پیاری لگ رہی تھی۔ میں آہستہ اہستہ اس کی بیڈ کی طرف گیا اور قریب پڑے سٹول پر اُس کے قریب بیٹھ گیا اور صرف اُس کو دیکھنے لگا۔ اس کے سنہرے بالوں کی ایک لٹ اس کے چہرے پر تھی میں اپنا ہاتھ سے اس کے چہرے کو چھوا تو جسم میں آگ لگ گئی کیونکہ چچی کے گال بہت ہی نرم تھے ۔ میں نے اہستہ آہستہ اس کے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرنا شروع کیا ۔ مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ چچی اس وقت آرام کی دوائیاں کھا کر ہوش میں نہیں ہیں اس لئے ڈر کیسا۔ آہستہ آہستہ مجھ پر شیطان غالب آنے لگا اور میں چچی کے راضائی کو اس کے سینے سے نیچے کیا تو میرا سانس میرے سینے ہی میں رہ گیا کیونکہ چچی نے چادر نہیں لی تھی اور اندر کوئی برا بھی نہیں پہنا تھا اور اس کو سڈول ممے مجھےچیخ چیخ کر دعوت دے رہے تھے۔ میں اس کے دائیں ممے کو اپنے ہاتھ سے پکڑا تو میں حیران رہ گیا جیسے کسی نوجوان لڑکی کے ممے پکڑے ہوں میں ایک ہاتھ سے چچی کے ممے کو ساتھ کھیل رہا تھا اور ایک ہاتھ سے اپنی شلوار کے اُوپر ہی اپنے لنڈ کو سہلانے لگا جو کہ پوری طرح ٹائٹ ہو چکا تھا۔ میری ہمت اور بھوک آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی اور میں سٹول سے اُٹھ کر چچی کے ساتھ بیڈ پر لیٹ گیا اور اپنا لنڈ اس کے ساتھ مس کرنے لگا اور ساتھ ساتھ اس کے مموں کو ننگا کرکے کھیلنے لگا۔ اسی دوران میں نے اپنے ہونٹ اس کو ہونٹوں پر رکھ کر ہلکا ہلکا کسنگ بھی شروع کی ۔اس وقت میں بہت گرم ہو چکا تھا اور لزت کی بلندیوں پر تھا۔ میں رضائی کے اندر ہی چچی کے شلوار کو نیچے کیا اور اُس کی چوت پر ہاتھ پھرنے لگا بالوں سے بھر ے ہوئے چوت پر ہاتھ پھرنے سے میرے اندر بجلیاں کوند رہی تھی۔ اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہو اجا رہا تھا اس لئے چچی اور اپنی شوارپوری اور چچی کی شلوار اس کے پنڈلیوں تک نیچے کی اور چچی کے پاوں کے درمیان اکر اپنا لوڑا ا س کے چوت پر فٹ کیا اور آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا۔ او میرے خدا جب میرا لنڈ اندر گیا تو اس کے گرم چوت میں جیسے آگ لگی ہوئی تھی اورمجھے لگا کہ جیسے میں جنت میں داخل ہوا ہوں۔ میں نے پہلے آہستہ آہستہ چھٹکے لگانے شروع کئے اور ہر جٹھکے پراتنا مزا آرہا تھا کہ دل چاہ رہا تھا کہ بس یہ ہمحات رک جائیں۔ میں ساتھ ساتھ چچی کے مموں کے ساتھ بھی کھیل رہا تھا۔ پھر میری رفتار بڑھنے لگی اور15 منٹ بعد مجھے لگا کہ اب میں فارغ ہونے لگا ہوں تو فورا اپنا لنڈ چچی کے چوت سے نکال کر اس کے چوت کے اوپر ہی اپنے منی کا فوارا چھوڑیا دیا اور لمبی لمبی سانسی چلنی شروع ہو گئی جیسے کہ لمبا سفر طے کیا ہو۔ پھر بیڈ سے اتر کر اپنے رومال سے چچی کے جسم کو غلاظت سے پاک کیا اور اس کے شلوار کو درست کرلیا۔ اور شمشاد کو بھی چیک کیا کہ وہ سو تو رہی ہےاور وہ بھی گھوڑے بیچ کر سورہی تھی۔ اور میں جو کہ اتنی مستی سے چودائی کر چکا تھا جیسے ہی اپنے رضائی کے اندر گسا سو گیا۔ دوستوں میں نے چچی اور شمشاد کے ساتھ جو تین دن ہسپتال میں گزارے اور شمشاد کے ساتھ بعد میں کس طرح سکس کیا اور نرس کو اور وارڈ میں ایک اور خاتوں کو کس طرح چودا یہ کہانی میں بعد میں سناوںگا۔مجھے بتانا ضرور ہ میری کہانی کیسی لگی۔۔۔ نے کہا اب وہ نہیں آئے گا کیاتم مجھے دوائی کا نام باتا سکتی ہو میں لے آونگا۔ اس نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں ۔ میں نےکہا کہ میں لے آونگاجب پیسے ہوں تو دینا۔ اُس نے جلدی سے ممجھے دوائی کانام بتا دیا اور میں دس منٹ میں وہ دوائی لے آیا۔ ۔
وہ عورت بہت مشکور نظر آرہی تھی اور مجھے خوب دعائیں دیں۔ میں نے کہا کہ اگر پھر بھی میری ضرورت پڑی تو یہ میرا نمبر ہے مجھے مس کال کرلینا میں آجاوں گا۔ اُس عورت نے مجھے بھی اپنا نمبر دے دیا۔ وہ شکل و صورت سے تعلیم یافتہ مگر حالات کی ماری عورت نظر آرہی تھی۔ اس کے بعد میں چچی کے کمرے میں آیا تو رات کے 8 بج رہے تھے ۔ قارئین کو پتہ ہے کہ سردیوں میں عشاکی نماز عموماَ 7 بجے ہو چکی ہوتی ہے۔ اس لئے میں اپنے بستر پر آکر لیٹ گیا اور فیس بک چیک کرنے لگا۔ 15 منٹ بعد میں آٹھا اور شمشاد کے بیڈ کی طرف گیا اور اُس کہ ہلا کر اُواز دیں کہ وہ سو رہی ہے یا جاگ رہی ہے۔ پر وہ تو گھوڑے بیچ کر سوئی ہوئی تھی۔ چچی کی طرف سے تو مجھے کوئی ڈر نہیں تھا کیونکہ کہ کل رات میں اُس کی خواب کی مدہوشی دیکھ چکا تھا۔ اس لئے میں آہستہ سے شمشاد کی رضائی میں گھس گیا۔ اوراُس کے ساتھ ہی اُس کی رضائی میں لیٹ گیا۔ معلوم نہیں یہ اُ س کی جسم کی گرمی تھی یا میرے اندر کی گرمی کے مجھے اچانک ہی کمرا بہت گرم محسوس ہوا۔ بہر حال میں نے پہلے بلب کی روشنی میں ہی شمشاد کے سراپے کو دیکھا تو وہ ایک بھر پور لڑکی تھی۔ میں نے اپنا ہاتھ اُس کے مموں پر پھیرنا شروع کیا اور اپنا سر اُس کے چہرے پر کرکے اُس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔ یوں محسوس ہر رہا تھا کہ جیسے سلگتے ہوئے شعلوں سے کھیل رہا ہوں۔ اسی دوران میرا لن بھی پوری طرح تن چکا تھا اور میں نے اپنا ایک ہاتھ اپنے لن پر پھیرنا شروع کیا ۔ اور اپنا ہاتھ شمشاد کے قمیص کے اندر سے اُس کے پستانوں پر لے گیا ۔ اور اُس کے پستان ہاتھوں میں لے کر جو مزا آیا وہ بیان کرنے کے قابل نہیں۔ میں نے اپنی شلوار اور قمیص اُتار لی اور شمشاد کی قمیص اُپر کرلی ، چونکہ شمشاد گاوں کی تھی اس لئے اُس نے کوئی بریزر نہیں پہنا تھا پر اُس کے پستان بہت تنے ہوئے تھے۔ میں نے اُس کی شلوار بھی اُتار دی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اُس کے چوت پر بہت لمبے لمبے کالے بال تھے۔ پر مجھے بہت اچھے لگے اور میں نے ایک ہاتھ اُس کے چوت کے بالوں ر پھیرنا شروع کیا اور اُس کے پستان کو اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگا۔ پانچ منٹ تک اُس کے ممے چوسنے کے بعد میں اُس کے پاوں کے درمیان بیٹھ گیا اور اور اُس کے پاوں اپنے کاندھوں پر رکھ لئے۔ اور اپنے لن پر ہلکا سا تھوک لگا کر اُس کے چوت کے دہانے پر رکھا دیا اور اپنے موٹا اور تنا ہوا لن اُس کے چوت میں داخل کرنے کی کوشش کرنے لگا پر مجھے حیرانی ہوئی کہ ایک دو سالہ شادی شدہ عورت کے چوت میں لن بہت مشکل سے اندر جا رہا تھا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اُس کے خاوندشاید اُس کے ساتھ بہت کم ملتا ہے۔ بہر حال میں اُس کی تنگ چوت پر کاری ضرب لگانے کا ارداہ کر چکاتھا اس لئے ایک بار جٹھکا لگا کر آدھا لن اندر لے گیا ایک تو اُس کے چوت کی اندر کی گرمی اور دوسری اُس کی چوت کی تنگی مجھے اتنا مزا آنے لگ کہ آدھا اندر گھسا کر اندر باہر کرنے لگا اور دس منٹ تک میں اُس کو گھسے لگاتا رہا اور اسی دوران میرے لن کا لاوا پوری کی پوری طرح اُس کے اندر چلا گیا اور میں نڈھال ہو کر اُس کے اُوپر گرگیا اور لمبی لمبی سانسں لینے لگا پر اپنا لن اندر سے نکالا نہیں ۔۔۔میں اسی حالت میں اُس کے اُوپر لیٹا رہا اور تھوڑی دیر بعد پھر مجھے میرے لن میں جان آتی ہوئی دکھائی دی اور میں نے پھر اُس کو ہونٹوں کو کس کرنا شروع کیا اور دونوں ہاتھوں سے اُس کے پستانوں کو سہلانے لگا ۔۔پانچ منٹ باد میرا لن اندر ہی اندر پوری طرح تن چکا تھا اور میں نے ایک بھر پور جٹھکے سے پورا کے پورا لن اندر ڈال دیا اور بڑے مستی سے شمشاد کو چودنے لگا اور مسلسل دوسری مرتبہ اُس کو بیس منٹ تک چودتا رہا اور آخر اتنے تنگ چوت میں کب تک میرا لن میں جان رہتی اس لئے ایک بار پھر سے اپنی منی اُس کے اندر چھوڑ دی اور اس بار اپنا لن نکال کر اُس کے ساتھ لیٹ گیا ۔ دس منٹ اسی طرح لیٹا رہا اور پھر اُٹھ کر ایک نم کپڑے سے اُس کے چوت کو صاف کیا اور اُس کی شلوار اور قمیص ٹھیک کر لی ۔ اور اُس کے رضائی کو بھی ٹھیک کرنے کے بعد اپنے بستر پر آگیا ۔۔۔۔ابھی میں سونے کی تیاری کر رہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*****************
Share
Article By :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *