حياتي الجنس من 1 يوم إلى! غير قادر على القول الاستمرار ..

Share

گروپ8
وردہ انور
قسط 7
میں نے نہال اور عمار کو فون کردیا کہ میں واپس آگئی ہوں اگلی صبح اتوار تھا، اور ہم سب نے بنگلو وزٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا-
صبح میں ناشتہ کرنے کے بعد گھر سے نکل پڑی، عون ابھی تک سویا ہوا تھا- میں رکشا لے کر حسن سکوائر پہنچی جہاں باقی سب بھی میرا انتظار کر رہے تھے، منیب اپنی کرولا لایا تھا ، میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی- اور منیب نے گاڑی سٹارٹ کر لی-
کیسا رہا حیدرآباد کا ٹؤر- عمارہ نے پوچھا-
مت پوچھو یار- بہت بور ہوئی، رونا، دھونا- میں نے جواب دیا-
تم کو رونا آتا ہے- عماد نے ٹوکا-
تم سے اچھا- میں نے چڑ کر جواب دیا-
چلو ٹھیک ہے آئیندہ ہر فوتگی میں تم کو بھیجیں گے- عماد ڈانٹ کھانے کے موڈ میں تھا-
ردالی، ردالی کہتے ہیں، پروفیشنل رونے دھونے والی عورتوں کو- میں نے ڈمپل کپاڈیہ کی مووی دیکھی تھی- نہال بولا-
ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے، بنگلو کے باہر پہنچ گئے، نئے بنگلو تھے، اس والے بنگلو کے ساتھ باقی سب بنگلوز انڈر کنسٹرکشن تھے-
عمارہ میرے پاس آئی اور کان میں کہا- بنگلو دیکھ لیتے ہیں ، مگر وہ فلیٹ والی بات ذہن میں رکھنا-
میں نے سر ہلا دیا-
شاہو پہلے سے بنگلے کے اندر موجود تھا- ہمیں دیکھ کر کھڑا ہوگیا اور حسب معمول دانت نکالنے لگا-

ہم نے بنگلو دیکھا، خاص کرکے اوپر والا پورشن، جس میں تین کمرے تھے دو اٹیچ باتھ، ساتھ ہی میں چھوٹا سا کچن، اونچی باؤنڈری وال اور چھوٹا سا صحن جو بہت ہودار تھا-
تمہیں نیچے والا پورشن پسند ھے؟ میں نے شاہو سے پوچھا-
میڈم اپنے لۓ تو جنت ھے-وہ بولا-
ھممم ، سامان وہ لیاری والا نہیں لانا ، کم سے کم لانا، فریج، ٹیوی وغیرہ، بیڈ اور کرسیوں وغیرہ کے لئے ، میں تمہیں پیسے دے دون گی- میں نے شاہو کو ہدایات دیں-
مہں نے عمارہ کو راجی کرلیا کہ اکے رشتے داروں کے فلیٹ سے یہ جگہ زیادہ سیف تھی- وہ تھوڑے سے اعتراض کرنے کے بعد مان گئی-
شاہو نے بتایا کہ ایڈانس ایک لاکھ روپے اور کرایہ پچیس ھزار تھا-
ہم لوگوں نے وہیں کچھ مشورے کۓ اور کل تک پیسے شاہو کو دینے کا فیصلہ کیا-
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اگلے روز ہم نے شاہو کو دو لاکھ روپے دۓ، جس میں اڈوانس، اڈوانس کرایہ، اور شاہو کے نیچے والے پورشن کے ڈیکور کے لۓ پیسے-
اس کے علاوہ ہم نے فرج ، ٹی وی- کمپیوٹر، انٹرنیٹ کنیکشن فون کے ساتھ، فلور ٹائلڈ تھا اس لۓ کارپیٹ کی ضرورت نہیں تھی- اور چھوٹی موٹی چیزیں جیسے واش روم ایکسیسریز وغیرہ کے لۓ بھی پیسے جمع کرلۓ-ایک ہفتے تک شاہو نے سب کچھ سیٹل کرلیا اور اپنی فیملی کو بھی لیاری سے لے آیا- اسکی نیوی کے علاوہ چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں- ان میں سے صرف بڑا لڑکا شوکت عرف شوکؑو سکول جاتا تھا، مگر اب سکول لیاری میں ہونے کی وجہ سے اسے بھی جوہر میں کوئی سستا سا سکول ارینج کر دینا تھا-
سکول میں پرانے سٹور میں کچھ دن ہم سیکس کرتے رہے، لیکن جب ہمارا پورشن تیار ہوگیا تو ہم نے یہ سلسلہ بند کرنے کا فیصلہ کرلیا-
اب ایگزامز میں بھی تیس دن  رہ گۓ تھے، ھسب معمعول سکول ایڈمن نے ایگزامز پریپریشن کے لۓ سب سٹوڈنٹس کو آپشن دیا کہ وہ گھر پہ تیاری کرنا چھاہیں تو ٹھیک ھے ورنہ ریفریشر کورس سکول میں بھی ہو سکتا ہے-
عماد ہم سب میں ذہین تھا، بہت سے ٹیچرز بھی اس کے سامنے پانی بھرتے تھے، باقی ھم سب بہیت اچھے نہیں تو برے سٹوڈنٹس بھی نہی تھے- عماد نے ذمیداری لے لی- اور ہم سب نے سکول سے چھٹی کرلی-
میں نے ابو ک بتایا کے میں نے سنٹر جوائن کرلیا ھے ، میں نے اور عمارہ نے کلفٹن مال سے بہت سے جینز شارٹس، ٹہ شرٹس سلیو لیس اور وتھ سلیوز خرید لیں-
،،،،،،،،،،،،،،،،،
اس دن پورشن پر ہمارا پہلا دن تھا، میں، منیب اور عماد ایک گاڑی میں آۓ اور نہال،جواد اور عمارہ دوسری گاڑی میں-
اوپر پہنچ کر پتہ چلا کہ نہال نے اور بھی اچھا دیکوریٹ کر دیا تھا پورشن کو- آٹالین صوفوں کے دو نۓ سیٹس، میٹل کی کرسیاں- 52 انچ ایل ای ڈی اور آف وائٹ کرٹینز بہت خوبصورت لگ رھے تھے-
دو کمروں میں ڈبل بیڈز سیٹ کۓ گۓ تھے ایک کمرے کو ڈرائینگ روم بنا لیا تھا-
واؤ یار- اٹز لائیک ہیون- میں صوفے پہ ڈھیر ہوگئی-
باقی سب بھی بیٹھ گۓ سواۓ عمارہ کے جو ابھی تک سب کچھ دیکھ رہی تھی-
گی میں اور جواد تین دن تک رات دن ایک کرکے یہ کر پا ئے ہیں- نہال نے سگریٹ سلگاتے ہوۓ کہا- ہم سب سواۓ جواد کے اسے حیرت سے دیکھنے لگے-
یہ کب سے- عمارہ نے پوچھا-
ایک سال ہوگیا- نہال بولا-
ہم نے تو نہیں دیکھا کبھی- عماد نے کہا-
ضروری نہیں کہ ہر بات تم سے شیئت کروں- نہال ھنس کر بولا-
مجھے بھی دو ناں- میں نے منت کے سے انداز میں کہا-
اس نے ھنس کے ایک اور سگریٹ سلگا کے مجھے دی- میں نے کش لیا اور لیتے ہی کھانسی کا دورہ شروع ہوگیا-
سب ہنسنے لگے- عماد میری پیٹھ سہلانے لگا-
آرام سے پیؤ ناں یار- نہال نے مجھے سمجھایا-
اس نے تین سگیٹ ضائؑ کۓ- مگر آخرکا میں نہ صرف پینے لگی بلکہ انہیل بھی کرنے لگی-
سب نے تالیا ں بجائیں تو میں نے  جھک کر چائینیز انداز میں شکریہ ادا کیا-
اچھا یارو-ٹائیم ٹیبل سیٹ کرتے ہیں پڑھائی کا سب سے پہلے- جواد نے کہا-
عماد نے ٹیبل پر بیٹھ کر ٹائیم ٹیبل سیٹ کیا جس کے مطابق صبح دس بجے سے دوپھر ایک بجے تک مختلف سبجیکٹس کو پڑھنا تھا- اور ایک سے چھ بجے تک مستی اور سات بجے تک واپس گھر پہنچنا تھا-
اس دن ہم نے صرف پلان کیا اور کچھ پورشن کی سیٹنگ کی اور سب واپس گھر آ گۓ-
شام کو کھانے کی ٹیبل پہ ابو نے پوچھا”
تو بھائی، کیسی چل ریہ ہے پڑھائی”
مت پوچھیں ابو سارا سال مستی کی اب تو دن رات ایک کرنا پڑے گا” میں نے برا سا منہ بنایا-
میں نے جب بھی پڑھائی کی بات کی تم ڈانٹ پلا دیتی تھیں اس لۓ تمہاری ڈانٹ کے خوف سے میں نے یاد ہی نہیں دلایا، اب بھگتو- ابو نے نوالا لیتے ہوۓ کہا-
جی، نہیں میں آپ کو تب ڈانٹتی ہوں جب آپ ہر وقت پڑھنے کا کہتے ہو” میں نے کہا-
ابھی اگر ہر وقت پڑھو گی تو ہی بل گیٹس کی جگل لی سکو گی- عون نے لقمہ دیا-
تم تو نہاتے ہوۓ بھہ پڑھتے ہو ناں- میں نے مصنوعی غصے سے کہا-
اس بار نمبر لے گی میری بچی- امی نے پہلی بار میری سائیڈ لی-
نہال مجھے چڑاتا رھا، میں بھی ترکی بہ ترکی جواب دیتی رہی-
کھانے کے بعد کچھ دیر میں نے ٹی وی دیکھا اور گیارہ بجے سو گئی-
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
صبح میں نو بجے تک تیار ہو گئی اور سوا نو بجے مجھے نہال لینے آگیا اس کے ساتھ جواد تھا-
ہم لوگ ھنسی مذاق کرتے ہوۓ دس بجے تک بنگلو پہنچ گۓ، نیچے شاہو کی چھوٹی بچیاں کھیل رہی تھیں میں ان کو دیکھ کر مسکرائی- آج کچھ زیادہ گرمی تھی-
اوپر پہنچے تو عمارہ، منیب اور عماد پہلے ہی موجود تھے، سیلنگ فین چل رھا تھا جس سے بھی گرم ہو آ رہی تھی-
منیب اور عماد نے شرٹس اتاری ہوئی تھیں- اور صوبے پہ لیٹے لمبی لمبی سانسیں لے رہے تھے-
آے سی چلاؤ یار – میں نے کہا-
لائٹ نہیں ہے- منیب نے برا سا منہ بنایا-
ڈیم یار-ایسے میں پڑھنے کا کیا خاک موڈ بنے گا- میں نے کہا-
ۃیلپ لائن سے پوچھ لو کب تک آۓ گی- نہال نے کہا-
تاریں گر گئی ہیں ، تین بجے تک آۓ گی- منیب نے کہا-
مجھے سخت گرمی محسوس ہو رہی تھی،میں نے قمیض اتار دی-
منیب نے سیٹی بجائی- باقی سب لوگ نارمل رھے سب تو ویسے ہی مجھے ننگا دیکھ چکے تھے-
میں نے الماری سے جینز کے شارتس نکالے شلوار اتاری اور پہن لۓ-
دنیا کہاں پہنچ گئی- ہم بجلی کے لۓ پریشان- عمارہ بولی-
میں جواد کے ساتھ صوفے پہ بیٹھ گئی اور پھر اس کے گھٹنوں پر لیٹ گئی-میرے پیر صوفے سے نیچے لٹک رہے تھے-
جواد نے ہلکے سے میرے سر میں مساج شروع کردیا-
مجھے سکون آنے لگا اور میں نے آنکھیں بند کردیں-
عمارہ نے بھی شرٹ اور کاٹن کے شارٹس پہن لۓ۔ لڑکوں نے شرٹس اور پینٹس اتاردیں اور صرف انڈر ویئر میں بیٹھ گۓ-
میں نے کل ایک ایکس مووی دیکھی- ایک لڑکی کو بائیس آدمیوں نے چودا یار- منیب بولا
لڑکی تمہاری رشتےدار تھی- میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا-
سب ھنس پڑے سواۓ منیب کے-
بائیس چودیں یا دو ھزار، کیا فرق پڑتا ہے- میں نے کہا-
درد نہیں ہوا ہوگا بےچاری کو- عماد نے پوچھا-
گانڈ ماری ہوگی تو ہوا ہوگا ورنہ نہیں- میں نے جواب دیا-
یار تم لڑکیوں کو درد نہیں ہوتا چوت میں- عماد نے دوبارہ سوال کیا-
تم کو ہوتا ہے لنڈ میں- عمارہ بولی-
نہیں تو ، ہمیں تو راپچک مزہ آتا ہے- نہال بولا-
تو ہمیں بھی مزہ آتا ہے اور تم سے زیادہ- میں نے کہا-
وہ کیسے- جواد بولا-
دیکھو مجھے تم سب چود چکے ہو- جانتی ہوں تم سب کا اسٹیمنا اچھا ھے، مگر تم دس ، پندرہ یا بیس منٹ میں ایک بار ڈسچارج ہوتے ہو اور میں کم سے کم تین مرتبہ- میں نے کہا-
تو تم چلتی کیوں ہو اتنا زیادہ چدائی کے وقت- منیب نے سوال ٹھوکا-
میں چلاتی نہیں یار، مزے میں آواز نکلتی ھے جسے انگریزی میں موننگ کہتے ہیں- میں نے جواب دیا-
اچھا زیادہ چدوانے سے چوت کھل نہیں جاتی وردہ- عمارہ نے پوچھا-
میں نے نیٹ پر پڑھا تھا- مسلز ہیں یار چدواتے وقت سٹریچ ہوتا ہے ، پھر واپس آجاتا ھے اپنی جگہ-
میں نے جواب دیا-
میں نے حال ہی میں ٹانگیں ویکس کی تھیں، جن کی چمک لڑکوں کے منہ میں پانی لا رہی تھیں اوپر سے تنگ سلیو لیس لال ٹی شرٹ جلتی پر تیل کا کام کر رہی تھی- میں نے جواد کی گود میں لیٹے لیٹے محسوس کرلیا تھا کہ اس کا لنڈ انتہائی سخت ہوگیا تھا-
تمہیں زیادہ مزہ کس چیز میں آتا ہے وردہ- نہال نے پوچھا-
ممممم گردن پہ ہلکی کسز سے- نپل پر چوس اور ھلکی کاٹ سے، اور سیدھی پوزیشن میں چدوانے سے- میں نے جواب دیا-
اور تمہیں عمارہ- نہال نے پوچھا-
نپل کی چوس- لپ کسنگ اور پیچھے سے چدوانے میں- عمارہ نے جواب دیا-
کم آن یا ڈاگی پوزیشن میں لنڈ یوٹریٹس (پیشاب والا چھوٹا سواخ) کو ٹچ ھی نیہں کرتا- میں نے عمارہ سے اختلاف کیا-
ہاں مگر لنڈ کو ایکسیس زیادہ ملتی جتنا زیادہ اندر جاتا ہے اتنا مزہ آتا ہے- عمارہ نے کہا-
اپنی اپنی چوائس ہے، میں نے کہا-
اچھا نہال، ہم دونوں میں سے چوت کس کی اچھی ہے سچی بتاؤ- میں نے شرارتی انداز سے نہال کو مصیبت میں ڈال دیا-
اہہہ اممم دونوں کلاس اے ٹائٹ ہیں- عمارہ کی چوت زرا گیلا ہونے کے بعد کھل جاتی ھے تمہاری شروع سے آخر تک ٹائٹ رہتی ہے- سوری عمارہ، میں یہ ووٹ وردہ کو دوں گا-
عماد نے عمارہ کو ووٹ دیا باقی تینوں نے مجھے-
اچھا میں کل والی ایکس مووی کا بتا رہا تھا- یار اس لڑکی نے دو دو لنڈ لے لئے- ایک گانڈ میں ایک چوت میں- منیب نے کہا-
اس میں کیا بڑی بات ہے اگر لڑکی گانڈ کا درد برداشت کرلے تو ، چوت میں تو درد ہوتا ہی نہیں- عمارہ نے کہا-
مگر اس لڑکی کی تو جان جا رہی تھی- منیب نے کہا-
ھھھھھھھھا ، ڈرامہ ہوگا، سکرپٹ ہوتا ہے ان موویز کا بھی- میں نے کہا-
میرا دل کرتا ہے میں کبھی ایسے چودوں- منیب نے کہا-
عمارہ کو بولو – ایک بار لے چکی ہے گانڈ میں- میں نے اپنی بات پھر سے چھپائی-
گولی ماردوں گی ایسا سوچا بھی تو- شاہو نے اچانک ڈال دیا تھا ورنہ مر جاتی اسے نہ کرنے دیتی- عمارہ نے کہا-
اگر شاہو کا لے چکی ہو تو میرا تو چوزہ ھے- منیب نے کہا-
میں تمہاری گانڈ میں دو انگلیاں ڈالتی ہوں- اگر لے لیں تو مار لینا میری گانڈ- میں نے منیب کو چیلینج کیا-
منیب نے بری سی شکل بنائی-
تم کل رات سے پلان بنا رھے ہوگے کہ ھم لڑکیوں کے دونوں سوارخ بھر دو کسی اور لرکے کے ساتھ ہے ناں؟ میں نے طنز سے منیب کو کہا-
ایسا ہوجاۓ تو مزہ آجاۓ- منیب نے دانت نکالے-
وہ لڑکیاں پروفیشنلی ترینڈ ہوتی ہیں، تمہاری اطلاع کے لۓ- میں نے کہا-
ویسے وردہ، ڈبل پینیٹریشن نہیں، تم اینل ٹرائی تو کرو- ہوسکتا ہے برداشت کرلو- نہال نے کہا-
اور اگر نہ کرسکی تو؟ میں نے پوچھا-
تو نہیں کریں گے واٹس بگ ڈیل- اس نے کہا-ال کے دیکھنے لگی-
غلط جگہ پنگا لیا ہے- میں نے طنزیہ انداز میں کہا-
پھلے ضھٹکے میں نہ بھاگی تو میں بھی پنججابی نہیں- اس نے اعتماد سے کہا-
میں نے جینز شارٹس کی زپ ایک ادا سے کھولی-
اس ادا سے نہال نے اپنی پینٹ کی زپ کھولی-
میں زیرلب مسکر کے اس کے آنکھوں میں دیکھنے لگی-
سب لڑکے منہ پھاڑ کہ دیکھ رھے تھے-
عمارہ تیار کرو مجھے- نہال نے کہا-
عمارہ بھاگ کے آئی اور غھٹنوں کے بل بیٹھ کے اپنے بال پیچھے کرکے پونی ٹیل بنانے لگی-
نہال نے پینٹ اور انڈر ویئروفے پر رکھے اس کا لنڈ آدھا کھڑا تھا-
اس نے عمارہ کو پونی ٹیل سے پکڑا اور اپنا لنڈ آھستہ سے اس کے منہ میں ڈال دیا-
وہ اسکے لنڈ کو جڑ سے مسلتی ہوئی ٹوپی کو چوسنے لگی-
میں کمر پہ ہاتھ رکھے نہال کی آنکھوں میں دیکھ رھی تھی- جیسے جیسے عمارہ اس کے لنڈ کو چوس رہی تھی وہ سخت ہو رھا تھا- میں نے اپنی جینز شارتس اور پینٹیز اتاردی-
واؤ یار- منیب بولا-
نہال نے اپنا لنڈ عمارہ کے منہ سے نکال لیا-
عمارہ اپنا منہ پونچتے ہوۓ ایک سائیڈ میں کھڑی ہو گئی-
میں صوفے پر گھٹنوں کے بل الٹی بیٹھ گئی اور اپنے پیٹ کو نیچے جھکایا اور اپنی گانڈ کو اوپر کی طرف اٹھادیا- سب لوگ صوفے کے گرد جمع ہوگۓ، نہال میرے پیچھے آہستہ سے صوفے کے اوپر چڑھا-
وہ جیل دینا- نہال نے منیب کو موائسچرنگ جیل لانے کو کہا ، جو نہال نے اسے لا کر دیا- میں ہونٹ بھینچ کر نیچے دیکھ رہی تھی-
بی بریو، ڈارلنگ- کچھ نہیں ھوگا- عماد نے مٹھی بند کرکے ہوا میں لہرائی- میں نے مسکرا کر سر ہلادیا-
نہال نے ذرہ سا جیل انگوٹھے پر لگایا- پھر اس کا انگوٹھا مجھے اپنی گانڈ کے رنگ مسل پر گھومتا ہوا محسوس ہوا، وہ میرہ گانڈ کی رنگ کو سافٹ کر رھا تھا- میں نے گانڈ کے مسلز کو ریلیکس چھوڑ دیا، اتنا تو میں شاہو سے گانڈ مروانے کے بعد سیکھ گئی تھی جتنا رٖنگ کو بھینچوں گی اتنا درد ہوگا- اس لۓ مہں نے گانڈ کے مسلز کو باہر کی طرف پُش کرنا شروع کردیا-
نہال نے میری گانڈ کی رنگ کو تھوک سے بھی نرم کیا-
کم آن وردہ یو کین ڈو اٹ- منیب چلایا-
نہال میری گانڈ کے اوپر گھٹنے موڑ کر کھڑا ہوگیا- اور تب تک گھٹنے موڑتا رھا جب تک اس کے لنڈ کی ٹوپی میرے گانڈ کی رنگ کو چھونے لگی- میں نے ہونٹ بھینچ لۓ- کسی وقت بھی وہ میری رنگ چیر سکتا تھا-
وہ لنڈ کو میری گانڈ کے کریک کے اندر اوپر نیچے رگڑنت لگا ، مجھے اس کے لنڈ کی گرم کھال کی رگر اپنی گانڈ کے کریک میں محسوس ہو رہی تھی-
اس نے ھلکا سا جھٹکا دیا- سسسسسسسسسسسس- میرا اوپر والا جسم کس حصہ ذرا اکڑا اور درد کی لہر میری گانڈ کی رنگ کے چاروں طرف پھیل گئی- وہ میری گانڈ کی رنگ کو چیر چکا تھا اس کے لنڈ کی ٹوپی میری گانڈ میں گھس کر اسے بھرے ہوۓ تھی- سب لڑکے مزے سے میرے کھلے ہوۓ سوارخ کو اوپر کھڑے ہوکر دیکھ رھے تھے- میں نے آنکھیں بند کرلیں اور ہونٹ بھینچ لۓ-
یو اوکے وردہ- عمارہ نے فکرمندی سے پوچھا-
میں نے سر ہلا کر ہاں بولا-
وہ اپنے لنڈ کی ٹوپی کو دو منٹ تک اندر باہر کرتا رھا اس سسے میری گانڈ کا سوراخ کچھ نرم ہو ریا تھا-
میں نے سسکی لی اور میری سانس اندر کے اندر آٹک گئی اور میرا اوپری جسم ذرا سا قوپر اٹھ گیا اور آنکھیں کھل گئیں- اس نے اپنا وزن طاقت سے آگے کرکے اپنا سات انچ کا لنڈ دو سیکنڈ میں میری گانڈ میں غھسیڑ دیا-
بس بس بس مشکل کام ہوگیا- بسسسسسس- عمار نے میرے بالوں پر انگلیاں پھیرتے ۃوۓ کہا- میرے گانڈ کی رنگ میں بہت شدید درد ہو رہا تھا دل کہہ رہا تھا کہ کہوں کہ نکال لے مگر اب میں ہارنا نہیں چاہ رہی تھی- میں نے درد برداشت کرنے کا فیصلہ کرلیا-
نہال کے جسم کے وزن کی وجہ سے میرے گھٹنے سیدے ہوگۓ اور میں پیٹ کے بل صوفے پر سیدھی ہوگئی- نہال اپنا لنڈ میرے اندر رکھے ہوۓ دائرے کی شکل میں گھما رھا تھا-
وہ پورا لنڈ اندر رکھے میری گانڈ کو ڈرل کر رہا تھا جس سے مجھے اور بھی درد ہو رہا تھا اس کے منہ سے اھھھھممممم اھھھھمممممم اھممممم کی آواز نکل رہی تھی – مجھے معلوم تھا وہ مزے کی انتہا پر تھا میں نے اس کا مزہ خراب کرنا مناسب نہ سمجھا اور ہونغ بھینچ لۓ-
اب اس بے اپنے جسم کا نچلہ حصہ اٹھا کر لنڈ کو بہر نکالا اور پھر واپس دھکیل دیا- اس نے باقاعدہ مجھے چودنا شرعع کردیا- عماد نے مجھے تکیا دیا جس پر پر میں نے ٹھوڑی رکھ دی-
اامممم انمنممممممم انننمممممممم اممممممممممم امممممممم امممممممممم امممممممما ممممممممممممم اممممممممم- وہ تیز تیز جھٹکے مار کر میری گانڈ کو چیرے جا رہا تھا- اب درد کم ہوگیا تھا- میں ایک ھاتھ اپنے نیچے لے جا کر اپنی چوت کو مسلنے لگی-
وہ مسلسل میری گانڈ سے لنڈ باھر نکال رھا تھا اور تیز اندر ڈالے جا رہا تھا- اب وہ مقابلہ کر رہا تھا کہ میں اسے بس کرنے کو کہوں- مگر میں اب ریلیکس ہوگئی تھی اس کے ہر جھٹکے کو اپنے گانڈ کے مسلز کو ریلکس کر کے برداشت کۓ جا رہی تھی-
وہ میری کمر کو پکٹرے تیزیس سے چودے جا رہا تھا مجھے اس کے لنڈ کے ٹوپی کی نوک اپنی اوجھڑی میں لگتی ہوئی مھسوس ہو رہی تھی-
میں نے اپنی گانڈ کو پیچھے کی جانب ھلانا شرعو کردیا اس سے پہلے وہ لنڈ انر ڈالتا میں خود ہی اپنا سوراخ اس کے لنڈ کے گرد ڈال دیتی-
بسسس اتنا دمممم- میں نے مسکرا کر نہال کو مڑ کر دیکھا اور چڑایا- ھم دونوں پسینے میں شرابور تھے-
سالی، وہ بھی مسکرایا اور جتنا ہوسکتا تھا زور لگا کر میری گانڈ پہ چٹھائی کی-
اس نے میری کمر کو زور سے پکڑا-
آھھھھھھھھھھھ آھھھھھھھھھھ آھھھھھھھھھھھ- اس کا لنڈ مجھے اپنے گانڈ میں پھولتا ہوا محسوس ھوا جس سے درد ھو اور میرے منہ سے ااآآآآآہہہہہہہہہہہ کی آواز نکلی- اس نے تیں چار دھاریں میری گانڈ میں ہی ڈسچارج کردی-
آھھھھھھھھھھھھھھھھھ – وہ صوفے پر ڈھیر ہوگیا-
میں سیدھی ہو رھی تھی کہ مجھے عماد کا ھاتھ اپنی کمر کے گرد محسوس ہوا-
–   نہیں یار بہت گرمی ھے- میں نے احتجاج کیا-
أ‌-   بس دو منٹ میں ویسے ہی ڈسچارج ہونے والا ہوں- اس نے کہا-
اس نے ایک ہی جھٹکے میں لنڈ میری گانٖڈ میں گھسیڑ دیا- جو پھلے سے کھلی تھی-
اس نے چار منٹ تک مجھے چودا اور وہ بھی گانڈ میں ڈسچارج ہوا-
عمارہ ایک سائیڈ میں منیب کے ساتھ شروع ہوگئی تھی- منیب اس کی ٹانگیں کندے پہ اٹھاۓ لنڈ اسکی چوت میں پمپ کر رہا تھا-
عماد کے بعد جواد نے مجھے سیدھا کر کے چوت میں چودا وہ بیس منٹ میں ڈسچارج ہوا- نہال جانور تھا، میری گانڈ مارنے کے باوجود اس نے پندرہ منٹ تک عمارہ کی گانڈ بھی ماری- ھم سب فارغ ہو کر تیز تیز ھانپ رھے تھے- ٹائلز پر جگہ جگی سپرم پھیلا ہو تھا- دس منٹ تک تو ھم سانس صحیح کرتے رھے پھر میں واش روم گئی اور اپنی گانڈ سے نہال اور عماد کا کرم گرم پانی باہر پُش کیا- بہت زیادہ پانی نکلا –نئے نئے جوان ہوۓ تھے اس لۓ ڈسچارج بھی زیادہ ہو رھے تھے-
میں نہس کر ننگی ہی باہر آ گئی- عمارہ دوسرے واش روم سے نہا کے آگئی تھی- پھر لڑکے نہا کر آۓ- میں نے شارٹس کا نیا پیئر پہن لیا- سن لڑکے کلین ہوکر آ گۓ- عمارہ نے پوچا لگا کر لڑکوں کا سپرم صاف کیا- اور ھم سب واپس صوفوں پر بیٹھ گۓ-
تو کل تک، گیزر،اوون اور واتر فلٹر پلانٹ آجانا چاھۓ- میں نے مسکرا کر نہال سے کہا-
جی اوون اور فلٹر آجاۓ گا ، گیزر سردیاں تو آنے دو- نہال نے مسکرا کر کہا-
جی نہیں لگوالو ، چلائیں گے سردیوں میں- میں نے ضد کی-
یہ تمہیں کیا ہوا، کبھی اتنا بے صبرا نہیں دیکھا تمہیں- میں نے عماد  سے پوچھا
ہار جب سے تم نے شارٹس پہنے تھے میرا کھڑا ہو گیا تھا- عماد نے میسنی سی شکل بنائی-
میں مسکرا دی-
زیادہ تکلیف تو نہیں ہوئی؟ عماد نے پوچھا-
میں نے آگے بڑھ کے عماد کی آنکھوں میں دیکھا-
جب بھی کسی لڑکی کی گاانڈ مارلو اس کے بعد یہ سوال مت پوچھنا- بس مزہ لو- میں نے اسے سمجھایا-
اس نے سر ہلا دیا-
ہمیں لیوب چاہۓ، جیل سے لڑکیون کی گانڈ نرم نہیں ہوتی- منیب نے اچانک مشورہ دیا-
اب انی دے ، لڑکیوں کی گانڈ زیدہ نرم کی تو مزہ خاک آۓ گا- نہال نے بولا-
یہ زیادتی ہے- میں نے احتجاج کیا-
ہاں جیل سے درد ہوتا ہے- عمارہ نے میری تائید کی-
یار دوستوں کے لئے ااتنا درد بردشت نہیں کر سکتی تم- نہال نے کہا-
یار- کچھ دن تک لوشن یوز کرو ایک دو مہینے میں ہم کھل جائیں گی تو بے شک جیل یوز کرنا- میں نے کہا-
اوکے کل لے آؤں گا- نہال نے بری سی شکل بنائی-
ابھی ہم باتیں کر رہے تھے کہ لائٹ آگئی- سب نے خوشی کا نعرہ مارا-
عمار نے سب سے پہلے اے سی آن کردیا- کچھ ہی دیر میں کمرا ٹھنڈا ہوگیا-
اب کچھ پڑھ لیں؟ جواد نے کہا-
سب نے اس کی تائید کی-
اگلے تین گھنٹے تک ہم نے میتھس اور انگلش کا ایک ایک چیپٹر کور کیا اور نوٹس لۓ-اس کے بعد عمارہ نے ہمارے لۓ چاۓ بنائی، منیب کہیں سے کیک لے آیا تھا، جس نے چۓ کا لطف دوبالا کردیا-
اچھا- وہ ایکس مووی جو تم نے بتائی- اس کے علاوہ بھی موویز ہیں تمہارے پاس؟ میں نے منیب سے پوچھا-
بہت سی میری یو ایس بی میں ہیں- منیب نے جواب دیا-
کہاں سے لیتے ہو- میں نے پوچھا-
نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرتا ہوں- منیب نے کہا-
کون سی سائیٹس سے؟
منیب نے اپنے بیگ سے کاپی لی اس کا ایک پیپر پھاڑا اور کچھ لکھنے لگا- اور مجھے دیا-
یہ دس بارہ سائیٹس ہیں بلکل فری- منیب نے کہا-
عمارہ نے مجھ سے پیپر چھین لیا اور اپنی کاپی میں لکھنے  لگی-
وہ یو ایس بی کہاں ہے؟ عمار نے پوچھا-
منیب نے بیگ سے یو ایس بی نکالی اور مسکرانے لگا-
واؤ یار ابھی دیکھ سکتے ہیں- جواد بولا-
ایل ای ڈی میں یو ایس بی آپشن ہے لگا لو- منیب نے کہا-
جواد نے بھاگ کر ایل ای ڈی آن کی اور یو ایس بی سپاٹ میں یو ایس بی ڈال کر یو اس بی موڈ میں آن کردی- پوریو ایس بی میں ایکس موویز تھیں-
ھم سب دیوار کے ساتھ تکۓ لگا کر بیٹھ گۓ- اور شو شروع ہو گیا-
پیلی مووی ہی ایک بلونڈ انگریزانی کی تھی گورے کے ساتھ مجھے ھاٹ لگی اور میری نپلز سخت ہونے لگیں اور چوت گرم- تیستے وڈیو تک میں نے شارٹس اتارۓ اور اپنے چوت کے ھُڈ اور یوریٹس کو مسلنے لگی- میں نے دیکھا سب لڑکے بھی پینٹس اتار چکے تھے اور عمارہ بھی-
اب جو وڈیو چل رہا تھا اس میں دو طاقتوز کالے ایک عورت کو مل کے پیل تھے تھے ، دونوں کالوں کے جسم اور لنڈ بہت خوبصورت تھے، میں تیزی سے اپنی چوت کو ہلا رھی تھی اور میری چوت میں مزے کے کرنٹ دوڑ رہے تھے، میرے ساتھ میں جواد بیٹھا اپات لنڈ ہلا رہا تھا-
اس نے میرے ھاتھ کو روکا تو میں نے اسے حیرت سے دیکھا- اس نے میرا ھاتھ اپنے لنڈ پر رکھا اور میری چوت کے اندر پیشاب والے سواراخ کو مالنے لگا- تھوڑی دیر میں ھم سب کی ھممم اھھھ امممم اوووہہہہہہ کی آوازیں نکل رھی تھیں میں تین بار ڈسچارج ہوئی- اچانک جواد کا جسم اکڑ گیا اور اس کے منہ سے آہہہہہ آہہہہہہہہ کی آواز نکلی اس کا گرم پانی کا پھوارا اوپر کی جانب جاکر ٹا ئلز پر گرا اور کچھ میری مٹھی پر- مین نے اس کے لنڈ کے نیچے والی رگ کو جڑ سے ٹوپی تک انگوٹھے کی مدد سے سہلا کر پش کیا تو کچھ قطرے اور نکلے-
سب پھر سے ھنپ رھے تھے سب نے “مسٹربیٹ ” کرلیا” ٹائلز پھر سے گندے ہو گۓمیں نے شارٹس اور کر لۓ سب لوگوں نے پینٹس اور عمارہ نے شارتس پہن لۓ- اس بار پوچا میں نے لگایا-
ھم لوگ آدھا گھنٹا اور رکے میں نے اور عمارہ نے یونیفارم پھنی، اور شام چھے بجے واپس نکل لۓ، مجھے نہال اور جواد نے گھر ڈراپ کیا-<!–nextpage–>امی نے مسکرا کر پوچھا- کیسی چل رہی ہے پڑھائی؟
اممم کچھ سمجھ نہیں آ رہا ابھی تو- میں نے ان کے گلے میں بانہیں ڈال دیں-
سارا سال تھوڑا تھوڑا پڑھتی اور مستی ذرہ کم کرتی تو اتنی محنت نہ کرنی پڑتی-
میں مسکرا دی اور امی کو کس کر کے کمرے میں آگئی- جہاں میں نے شاور لے کر کپڑے چینج کۓ-
رات کو کھانا کھایا- ٹی وی دیکھا اور ساڑھے گیارہ بجے سو گئی-
،،،،،،،،،،،،،،
اگلی صبح نہال مجھے لینے آگیا- میں سوا نو بجے اس کے ساتھ چلی گئی- نہال نے جواد کو بھی گھر سے اٹھایا- دونوں بہت سیرئس اور پریشان لگ رہے تھے-
کوئی مر گیا ہے کیا؟ میں نے پوچھا-
اس سے بھی برا- نہال نے کہا-
کیا ہوا؟
نہال چپ رہا-
بولو بھی یار سسپنس کیوں پھیلا رھے ہو؟ میں نے پوچھا-
تم بتاؤ جواد- نہال نے جواد سے کہا-
وہ وہ- سائیں منظور ھے ناں- جواد ھچکچایا-
ہاں وہ سٹور انچارج، کیا ہوا مرگیا- میں نے ہوچھا-
نن نہیں اس نے کسی طرح سے تمہاری اور نہال کی وڈیو بنالی ہے، کل اس نے نہول کو فون کیا-
میری سانس اٹک گئی-
پورشن تک پہنچتے پہنچتے ہم ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے رہے ،پورشن پہنچ کر ہم نے سب سے زیادہ ذلیل منیب کو کیا-
سب سر پکڑ کر آدھے گھنٹے تک چپ رہے-
میں جنید بھائی کو فون لگاتا ہوں- جواد نے کہا-
وہ کیا کریں گے-؟ میں نے پوچھا-
جنید سٹوڈنٹ ہی نہیں، سٹوڈنٹ ونگ کا جنرل سیکریٹری بھی ہے ہم نے اتنی پینسلیں نہیں توڑی ہونگی جتنی اس نے ہڈیاں-
مانگ کیا رہا ھے، منظور؟ میں نے پوچھا-
پانچ لاکھ- نہال نے بتایا-
تو دے دیتے ہیں ناں-میں نے کہا-
پاگل ہو کیا وہ کاپیز بناۓ گا اور پیسے مانگتا جاۓ گا- جنید کو فون کرتے ہیں- عماد نے کہا-
آکر بحث مباحثے کے بعد ہم نے جنید کو فون کرلیا-
اس نے جواد کو خوب ڈانٹا پہلے تو اور پھر سائیں منظور کو آسرا دینے کو کہا کہ پیسے مل جائیں گے اسے تب تک وہ کچھ کرلے گا-
ہم نے ایک دوسرے کو گالیاں بکی، لڑے اور اس دن جلدی، گھر آگۓ- میری تو ٹانگیں کانپ رہی تھیں-
شام کو نہال نے کلپ ایس ایم ایس کیا- اس میں واضح نہال مجھے چود رہا تھا-
مجھے رونا آ گیا-
اور اس دن کھانا کھانے کے بعد میں اپنے کمرے میں لاک ہوگئی-
اور روتے روتے سو گئی-
،،،،،،،،،،
دوسرے دن ہم پورشن نہیں گئے-
میں گھر پہ رکی رہی ، زیادہ تر اپنے کمرے میں- میں اپنی چھوٹی سی زندگی میں کبھی پریشان نہیں ہوئی تھی- اور آج میرے جسم کے کونے کونے میں بے چینی پھیلی ہوئی تھی-
شام چار بجے، نہال کا فون آیا-
ہاں نہال- میں نے بولا-
تیار ہو جاؤ، مجھے ، جواد اور تمہیں ، جنید نے بلایا ھے-جواد نے کہا-
مگر کہاں-؟
سرجانی ٹاؤن میں ایک گھر ہے وہاں-
وہ تو بہت دور ہے-
تم تیار ہو جاؤ، بحث مت کرو-
اوکے-
میں نے کال کاٹ دی اور ہلکہ سا میک اپ کیا- بیس منٹ بعد نہال آگیا- میں امی سے نوٹس لانے کا جھوٹ بول کر نہال کے ساتھ آگئی-
ہوا کیاھے- میں نے پوچھا-
پتہ نہیں ، جنید بھائی نے کہا ہے آ جاؤ تو بتاؤں گا- نہال نے کہا-
ہم ایک گھنٹے کی ڈرائو کے بعد سرجانی آ گۓ، وہاں ایک الگ سے پرانے گھر کے سامنے نہال نے گاڑی روکی- ہم لوگ اند ر آگئے- اندر چرس کی بو اور بھی شدید بو جیسے کچھ جل رہا ہو- بہت گندی جگہ تھی-
تیں لڑکے چرس بھر رھے تھے، انہوں نے نہال سے ہینڈ شیک کیا- اور ھم سب کو نیچے ایک تہہ خانے سے کمرے میں لے گئے-
وہاں کرسی سے ایک بیس بائیس سالہ لڑکا، کرسی کے ساتھ بندھا تھا، اس کے منہ سے خون نکل رھا تھا، نہت مارا تھا اسے-
سائیڈ میں زمین پر منظور سائیں روۓ جا رہا تھا-
جنید، مسکرا کر ہمارے پاس آیا- میری تو عقل گم ہوگئی-
اس نے سب سے ہینڈ شیک کیا-
یہی ھے نہ منظور- جنید نے اشارہ کیا-
منظور بھاگ کے نہال کے پیروں میں گرا-
سائیں مجھ سے غلطی ہو گئی، میں لالچ میں اندھا ہوگیا- وہ گھگھیا کے بولا- میرے بچے کو چھوڑ دو-
ناں ناں ناں تمہارے پاس اسکی کاپی بھی ہوگی- جنید نے سم کارڈ اسے دکھایا-
مجھے میرے اماں ، بچوں کی قسم یہی ہے- وہ ابھی بھی گھگھیا رھا تھا-
ھممم تمہاری بیٹی بھی ھے صبا- پڑھاتی ھے پرائویٹ سکول میں- سنا ہے بڑی خوبصورت ھے، سوچ رھا ہوں اس کا ایک ایسا وڈیو بنا کر انگریزوں کو بیچوں- جنید سرد لہجے میں بولا-
میں نے سر دوسری جانب کرلیا-
کافی دیر دھمکانے کے بعد جنید نے منظور کے بیٹے کو واش روم بھیجا کے صفائی کرلے ، ایک صاف کپڑوں کا جوڑا دیا- وہ واپس آیا تو منہ تو اس کا سوجا ہوا تھا مگر خون غائب تھا-
جنید نے ایک لڑکے کو انہیں چھوڑ کر آنے کو کہا-
وہ چلے گئے- تو ہم اوپر نسبتن صاف کمرے میں آگۓ-
وہاں جنید نے کولڈ ڈرنکس منگوائیں-
سٹور روم کوئی جگہ ہے لڑکی چودنے کی- منظور نہیں تو کل کسی اور کو پتہ چل جانا تھا- جنید نے سگریٹ سلگائی-
بس بھائی، منیب چوتۓ کی باتوں میں آ گۓ-
ھممم کالیوں کی شکل نہیں ہوتی- اگر چوتۓ لفظ کی شکل ہوتی تو بلکل منیب جیسی ہوتی- جنید نے کہا-
میری ھنسی نکل گئی- مجھے منیب کا گول مٹول چہرا یاد آگیا-
–   اس کے پاس کاپی تو نہیں ہوگی- نہال نے پوچھا
نہیں –وہ بولا۔
واقعٰی ، اس نے دوبارہ پوچھا-
میں کوئی ایسی بات نہیں کرتا جس کا مجھے یقین ن ہو- اگر اس کی اولاد نہ ہوتی خاص طور پر بیٹی تو وہ ایک کاپی ظرور رکھتا-
وہ کیوں- نہال نے پوچھا-
بیٹا- تمہاری اولاد ہوگی تو پتہ چلے گا- جنید ھنسا-
میرے سر سے جیسے کسی نے ٹرک ھٹا دیا ھو، میں دوبارہ سے کھل کر ھنس رہی تھی-
جنید کے ساتھ آدھا گھنٹہ ھم اور رھے ، پھر میں واپس گھر آگئی-
سات بج رھے تھے، عون اپنے طوطوں کو دانہ ڈال رھا تھا-
کہاں گئی تھیں آپ آوارہ خاتون- عون نے روائتی مغلیہ لہجے میں کہا-
ظل تباہی ، میں آپ کے طوطوں کے لۓ زھر لینے گئی تھی- میں بھی چہک کر بولی-
کیوں بدبخت عورت، ان معصوموں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے- اس نے بھوٰیں چڑھا کر بولا-
یہ مجھے گندی گندی نظروں سے دیکھتے ہیں اور مجھے کچھ کچھ ہوتا ہے- میں نے انا کلیہ انداز میں کہا-
تو برقعہ پہن کر گھوما کرو نادان عورت- وہ ھاتھ اتھا کر بولا-
یار عون چھوڑو طوطوں کو، آج ایک پپی تو دو- میں ہونٹ سکیڑ کر اس کی جانب بڑھی- وہ پیچھے ھٹا-
کمینی مجھے سکن الرجی ہوجاتی ہے دور رہو- عون ٹیبل سے فٹ سکیل اتھا کر مجھے چاقو کی طرح دکھانے لگا-
ھا ھا ھا- آج تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا- میں نے آگے بڑھ کر زبردستی اس کے گال پہ کس کیا اس نے مصنوعی مضاحمت کی-
اب مجھے لازمی کوڑھ ھوگا- وہ گال پوچنچھتے ہوۓ بولا
ڈیٹول سے دھو لو- میں ویسے بھی گٹکا اور مین پڑی کھا کر آئی ہوں- میں نے مسکرا کر کہا اور صوفے پر ڈھیر ہو گئی-
گٹکا- اس کی آنکھیں خوف سے پھٹ گئی-
میں نے خوشی خوشی سر ہلایا-
مین پڑی- وہ اور بھی خوف زدہ ہوا- میں نے سر ہلایا-
امی—- وہ واش روم کی طرف بھاگا-
میں کمرے میں آئی اور عمارہ کو خوشخبری سنائی- مگر اسے پہلے ہی نہال بتا چکا تھا
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
اگلا دن اتوار تھا- میں بارہ بجے رکشے پر مارکیٹ گئی اور کچھ کراکری کا سامان- ایک وائٹ بورڈ ، ریمؤبل مارکرز جس سے عماد اچھی طرح پڑھا سکے لۓ اور پورشن آگئی-
میں نے شاہو کو فون کیا- وہ گھر پر ہی تھا- اس نے مجھے سامان اٹھوایا اور اوپر لے آیا-
میں نے کرکری کچن میں سیٹ کروائی- شاہو کہیں سے ڈرل مشین لے آیا اور دیوار میں سوراخ کر کے وائٹ بوڈ دیوار پر لگا دیا-
اچھا ، میں سوچ رہی تھی، ڈرائنگ روم سے صوفے ہتا کر یہاں ایرانی تکۓ اور بیچ میں نرم ایرانی قالین بچھا دیتے ہیں- میں نے شاہو سے پوچھا-
اچھا تو لگے گا، مگر صوفے کہاں کریں گے؟
اوپر انیکسی پر-
بارش ہوا تو- ؟
اوپر چھوتا سا کمرہ جو ہے سٹور روم اس میں رکھ دینا-
جیسا ، آپ کا مرضی-
میں نے پرس سے ایک ہزار روپے نکال کے شاہو کی طرف بڑھاۓ- اس نے دانت نکال کے پیسے لے لۓ-
اچھا- میں چلتی ہوں- میں دروازے کی طرف بڑھی-
بے بی صاب- اس نے پیچھے سے آواز دی-
میں نے مڑ کر دیکھا-
ھمممم- میں نے پوچھا-
وہ وہ کیا ھے-
اور پیسے چاھۓ؟
اڑے ، نہیں ، وہ بہت دن ہو گیا ہے- وہ سر پر ھاتھ پھیر کر دانت نکالنے لگا-
اوہہ ، آج موڈ نہیں ، شاہو- میں نے جواب دیا-
بس دس منٹ ، آپ بہت خوبصورت لگ رھا ھے آج
اھھھھھھ میں نے ٹھنڈیس سانس لی-
اچھا جلدی – کھڑا کرو اسے- میں نے پرس صوفے پر پھینکا اور شلوار اتاردی-
شاہو نے اپنی شلوار اتاری پھر قمیض، اور اپنے کالے کالے لنڈ کو زور زور سے مسلمنے لگا- اس کی آنکھ میری طرف تھی-
تھوڑے ممے دکھاؤ ناں بیبی جی- اس نے منت کی تو میں نے منہ بنا کر شرٹ اور برا بھی اتار دیا-
اس کا لنڈ، کھڑا ہوکر اوپر کی طرف مڑ بھی گیا مطلب ضرورت سے زیادہ کھڑا ھو گیا-
وہ بھاگ کے میری طرف آیا- اور اپنا منہ میری بائیں نپل کے فرد لاک کر کے چوسنے لگا-
اس کے بعد اس نے میری گردن پہ کسز کۓ-
جلدی کرلو شاہو آج ٹائیم نہیں ھے- میں نے جھلا کر کیا-
اووہہ اچھا— وہ جیسے جاگ گیا-
اس نے میرٰی ٹانگیں موڑ کر میرے سو کے دونوں طرف صوفے کے سرھانے لگا دیں ، میری چوت اٹھ کر اوپر آگئی اور اسکے ہونٹ ذرہ سے کھل گئے- شاہو نے ذرہ سی تھوک میری چوت پر لگائی- اور اپنے لنڈ کی ٹوپی میری چوت کے کریک پر رکھ کر آگے کی طرف ایک ہی زوردار جھٹکے میں سارا لنڈ اندر گھسا دیا-
انمممممممممممممم- میں نے ہونٹ بھینچ لۓ- ہلکی سا درد اور بہت سا مزہ میری چوت کے ارد گرد سے ہوتا پورے جسم میں پھیل گیا-
اھھھھھھھ اھھھھھھھھھھ اھھھھھھھھھھ- اس کے جھتکوں سے میری چوت کے ہونٹوں کی پنکڑیاں پنک ہوگئی اور جب اس نے میری رانوں کو نیچے سے تھام کر سپر چارج مشین کی طرح جھٹکے مارنا شروف کۓ تو میرے کان کی پاپڑیاں اور ناک کی نوک گرم ہوکر لال ہوگئیں-
تیس منٹ تک اس نے مجھے سیدھا، ڈوگی- اور اوپر بٹھا کر تین پوزیشن میں چودا- میں اس کے اوپر ھی اس کے لنڈ کے اوپر جھول رہی تھی کہ اس نے مجھے سائڈ میں پھینکا- میں ٹائلز پر آرام سے گری-
آھھھھھھھھھھھ آھھھھھھھھھھھھھ آھھھھھھھھھھھ-
اسکے اسپرم کے پھوارے ہوا میں گۓ اور فرش پر گرے-
میں واش روم گئی اور صفائی کی- شاہو دوسرے واش روم سے صاف ہو کر آیا- ہم نے کپڑے پہن لۓ-
یہ اپنا گند صاف کرو- میں نے اس سے کہا-
شاہو نے سپرم کے لۓ خاص رکھے پوچھے سے اپنا پانی صاف کیا-
پھر ہم نیچے آگۓ-
نیچے آئی تو شاہو کے بچے کھیل رھے تھے، میں نے ان کو پیار کیا-
امارا بیگم آپ سے ملنا چاھتا ھے- شاہو نے دانت نکالے-
پھر کبھی شاہو- میں نے کہا مگر اس نے ضد کی تو میں نیچے والے پورشن میں آ گئی- اس نے اچھا سیٹ کیا تھا نیچے اسکی وائف ضرور سگھڑعررت ہوگی-
تھوڑیس دیر میں سانولی سی ادھیڑ عمر عورت، گھنگھریالے بال ، پان والے دانت میرت پاس آئی- وہ ھنس رہی تھی-
اممم کرسی لے کر آتا اے- شاہو بولا-
نہیں میں بس نکلوں گی-
اس عورت نے مجھ سے ہاتھ ملایا-
ایسا کیسا جاۓ گا کھانا کھا کے جاؤ- وہ بولی
میں ھنس دی-
کیا نام ھے تمھارا؟
نوراں –
نوراں پھر کبھی-
وہ ضد کرنے لگی ، آخر میں نے چۓ پی اور باہر آگئی، نوراں نے ہاتھ سے تیار کی ہوئی ایک “رلی” مجھے گفٹ کی ، میں نے بچوں کے لۓ اس کو ایک ہزار روپے دۓ- اور باہر آگئی-
نوراں کو کیا بتایا ہے، کہ ہم لوگ کون ہیں- میں نے شاہو سے پوچھا-
ام بولا ٹیوشن سینٹر اے اور ام کو چوکیداری ملا اے- وہ بولا-
اچھا –ٹیوشن سینٹر میں چھ ستوڈنٹس بس- میں نے ابرو اتھا کر پوچھا-
ام ان پڑھ لوگ اے بےبی ساب ، وہ گھر سے نکلتا ای نئیں- وہ بولا-
اچھا رکشا لے آؤ- میں نے کہا-
وہ دو منٹ میں رکشا لے آیا اور میں واپس گھر آ گئی-
،،،،،،،،،
دوسرے دن ھم سب دس بجے تک پورشن پر پہنچ گۓ، سب لڑکے بورڈ دیکھ کر بہت خوش ہوۓ، عماد نے ایک بجے تک ہمیں پڑھایا، اسکے پڑھانے کا سٹائل بہت سے ٹیچرز سے اچھا تھا اور اس سے ھم کھل کے سوال کرسکتے تھے-جس کی وجہ سے ہماری ایگزام کی تیاری بہت اچھی ہو رہی تھی-
ایک بجے کے بعد جواد نے سیکس کا مطالبہ کیا جسے میں نے اور عمارہ دونوں نے مسترد کردیا وہ منت کرتا رھا لیکن ھم نہ مانیں-
آخر ھم نے فیصلہ کیا کہ ھفتے میں دو یا تین ار سیک کرین گے بس- لڑکے اس پر خوش نہیں تھے ، مگر ہم لڑکیاں اس پر بضد رہی، ہمارے جسموں میں درد رہنے لگا تھا اس لۓ ہم نے رسٹرکشن لگا دی-
بڑی اچھی جگہ چنی ھے تم لوگوں نے- اچانک دروازے سے آواز آئی- جنید کھڑا مسکرا رہا تھا-
جاری ہے،،،،،،،،،،،،،،،<!–nextpage–>
<div class=”postarea”>
<div class=”post”>
<div id=”msg_787698″ class=”inner”><span class=”bbc_color”><span class=”bbc_size”>8
قسط 8
وردہ انور
ہے برو واٹ اے نائس سرپرائز- جواد اس سے گلے ملا-، پھر ھم باری باری جنید سے ملے-
تو یہ ہے تم لوگوں کا ہائیڈ آوٹ- جنید نے چاروں طرف دیکھ کر کہا-
یس برو- کیسا لگا- نہال نے پوچھا-
نائس پلیس یار، پڑوس میں بھی کوئی نہیں- جنید بولا- اور صوفے پر براجمان ہوگیا- ہم سب بھی بیٹھ گۓ-
یار میں نے صبح سے چاۓ نہیں پی- جنید نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر کہا-
میں ابھی لاتی ہوں- عمارہ  اٹھتے ہوۓ بولی-
تھینکس یار- جنید بولا اور عمارہ مسکرا کر کچن میں چلی گئی-
تو کیا چل رہا ہے- جنید نے سب سے پوچھا-
ابھی تو ہم اینوئل کی تیاری کر رہے تھے- عماد بولا-
ھممم گڈ یار- مطلب تمہارا گروپ صرف سیکس گروپ نہیں ہے- جنید بولا-
نہیں یار ہم سب دوست ہیں ، سیکس تو زندگی کا حصہ ہے، ورنہ ہمارا کام ایک دوسرے کی ہیلپ کرنا ہے- عماد بولا ، مجھے اس کی بات اچھی لگی-
دیٹس گڈ یار- اگر لڑگیاں دوست ہوں تو اس کا مطلب صرف یہ نہ ہو کہ وہ سیکس ڈولز ہیں- ان کا برابر کا اسٹیٹس ہونا چاہۓ- جنید بولا-
بلکل یار- عمارہ اور وردہ میری اتنی ہی دوست ہیں جتنا منیب یا فواد- نہال نے جواب دیا-
ابھی آدھا گھنٹہ پہلے ہم لڑکیوں سے سب سیکس کی منتیں کر رہے تھے، ایک دوسرے سے تو نہیں کی منت کسی نے- میں نے جل کے کہا-
وی آر ناٹ گے یار- تم نے منع کردیا ، ہم نے فورس کیا؟ نہال نے جواب دیا-
ویسے بھی اگر آج کل ہم پڑھائی پر توجھ دیں تو اچھا ہے ورنہ سب فیل ہونگے- میں نے کہا-
وہی تو کر رہے ہیں – عماد مسکرا کر بولا- مگر اگر بیچ بیچ میں میٹھا ہو جاۓ تو—-
سب ھنس دۓ-
ویسے سیکس میں جتنا مزہ ہے اتنا ہی اس سے گند جنریٹ ہوتا ہے، ہوپ تم لوگ صفئی رکھتے ہو- جنید نے پوچھا-
میں تو سیکس کرتی ہی نہانے چلی جاتی ہوں- میں نے کہا-
ھمم ویسے تم کو واش روم میں اپنی وجینا کی صفائی اندر تک کرنی چاہۓ، ڈیٹول کو ذرہ پانی میں ڈال کے ، مائیکرو فائبر کپڑے کو اس پانی سے گیلا کر کے جتنا اندر جا سکے اس کپڑے سے صفائی کرو- جنید نے بتایا-
ھممم بات سمجھ میں آتی ہے- میں نے کہا-
تم لڑکے بھی ڈیٹول سے دھویا کرو یا کوئی اور اینٹی سیپٹک- صابن سے نہیں- جنید مسکر کر بولا-
صابن کیوں نہیں- منیب نے پوچھا-
صابن اگر پیشاپ والے ہول میں چلا جاۓ تو غونرا ہوسکتا ہے ، ایک قسم کی بیماری ہے جس سے لنڈ میں پس بھر جاتا ہے- جنید نے کہا-
جنید بھائی- میرا ٹائم زیادہ نہیں زیادہ سے زیادہ دس منٹ- کبھی پانچ منٹ- اس کا کوئی حل- منیب نے کہا- تو میری ھنسی نکل گئی-
یاردونوں لڑکیاں ہاٹ ہیں- ایک تو تم ان کو چودتے وقت ان کی شکوں کو مت دیکھو پہلے پانچ منٹ، دوسرا، اپنی باڈی کا کانٹیکٹ صرف لنڈ کا رکھو- لڑکیوں کی باڈی سے اپنا باقی جسم دور رکھو- نمک کم کردو- اور جب محسوس ہو کہ تم چھوٹنے والے ہو تو لنڈ کے نیچے بلکل جڑ میں جہاں سے شروع ہوتا ہے لنڈ، وہاں انگوٹھا رکھ کر دو دس سیکنڈ پانی واپس چلا جاۓ گا- پھر لنڈ نکال کے تیس سیکنڈ کا وقفہ دو- جنید بولا-
یہ منیب سے نہیں ہوگا- یہ اہک بار چڑھتا ہے تو جان نکال کے ہی اترتا ہے- میں نے ھنس کر کہا-
تو تم دور کرلیا کرو ناں اسے ایک منٹ کی فکنگ کے بعد- جنید نے مجھ سے کہا-
میں سوچتی ہوں اس کے مزے میں خلل آۓ گا- میں نے کندھا اچکا کر کہا-
ارے نہیں یار اس سے تم دونوں کو زیادہ مزہ آۓ گا- جنید بولا-
ھم باتیں کرتے رہے ، عمارہ چاۓ لے کر آ گئی-
ہم نے مزہ لے کر چاۓ پی- اور باتیں کرتے رہے، میں ایکسپیکٹ کر رہی تھی کہ جنید اس دن مجھے چودے گا مگر مجھے حیرت ہوئی جب وہ جانے کے لۓ اٹھا-
یار مجھے نکلنا ہے، امی کی اپوانٹمینٹ ہے ڈاکٹر کے ساتھ- جنید نے گھڑی دیکھ کر کہا-
میں نے اپنا نچلہ ہونٹ کاٹنا شروع کردیا-
رک جاتے برو- جواد بولا-
نہیں ہار امی کا مسئلہ ہے- وہ بولا-
ہم سب اسے دروازے تک چھوڑنے آۓ- وہ مسکراتا ہوا چلا گیا-
ہم سب واپس آکر بیٹھ گۓ- میں نے شارٹس پہن لۓ اور صوفے پر پیٹ گئی-
سموسے کون کھاۓ گا ڑاڈو بیکری کے- عماد نے ھنس کے پوچھا- تو سب نے تائید کی-
وہ سموسے لینے چلا گیا-
مجھے سمجھ نہیں آیا ، جنید آیا کیوں تھا- میں نے چھت کو تکتے ہوۓ سب سے سوال کیا-
کیوں نہیں آ سکتا- منیب بولا-
آ سکتا ہے مگر کیوں، وہ ہماری اتنی ہیلپ کر رہا ہے-میں نے اس سے پوچھا-
ھممم میں بتاؤں، اگر عمارہ مائینڈ نہ کرے تو- جواد بولا-
میں کیوں ماینڈ کروں گی- عمارہ سر کھجاتے ہوۓ بولی-
وہ تم کو پسند کرتا ہے عمارہ- جواد نے بولا تو میں نے سیدھا جواد کی آنکھوں میں دیکھا-
ہاں تم کو خواب آیا تھا نہ- میں نے جواد سے پوچھا-
نہیں، جنید بھائی نے مجھے بتایا تھا-
مجھے پہلی بار عمارہ سے ہلکی سی جیلسی ہونے لگی-
تو گروپ میں آجاۓ ناں – میں نے کہا-
وہ خود کو ہم سے بڑا سمجھتا ہے، گروپ وغیرہ کو وہ بچگانہ بات سمجھتا ہے، وہ صرف عمارہ سے سیکسوئل تعلق رکھنا چاہتا ہے- جواد نے کہا-
تو عمارہ اس کی ایج گروپ کی ہے- میں نے کہا-
یار مجھ سے بھی پوچھ لو- عمارہ بولی-
ہاں بولو- میں نے اس کی طرف دیکھا-
میں راضی ہوں- وہ ھنس کر بولی-
بھاڑ میں جاؤ- مٰن صوفے سے اٹھی اور کچن میں جا کر غصے میں بسکٹ کھانے لگی-
کچھ دیر میں عماد سماوسے لے کر آگیا- سب نے کھاۓ میں نے منع کردیا- سب لوگوں نے میرے روئئے میں تبدیلی کو محسوس کیا-
،،،،،،،،،،،،،،
دوسرے روز نہال مجھے لینے آیا تو میں نے منع کردیا کہ مجھے سر میں درد ہے، اس نے مجھ سے موبائیل پہ بات کی، مگر میں نے کا اٹینڈ نہیں کی-
،،،،،
(اس دن پورشن پر)
میرے علاوہ سب جمع تھے، اور سب کے منہ لٹکے ہوۓ تھے-
تم اس بات کرنے کی کوشش کرو عمارہ- نہال نے کہا-
میں صبح سے دس مرتبہ کال کرچکی ہوں، کا ل ڈ سکنیکٹ کر رہی ہے- عمارہ نے جواب دیا-
مسئلہ کیا ہے، یار اگر وہ نہیں چاہتی کہ عمارہ اور جنید کا رلیشن ہو، تو نہ ہو اس میں کون سا کروڑں کا نقصان ہو رہا ہے- عماد بولا-
بات یہ نہیں ہے، بات یہ ہے کہ مجھے لگتا ہے وہ جنید کو پسند کرنے لگی ہے- منیب بولا-
تو مجھ سے کہے نہ میں کون سا اس سے شادی کرنا چاہ رہی ہوں- عمارہ اکتا کے بولی-
جو بھی ہے یار- اس طرح تو ہم اچھا دوست کھو دیں گے- نہال بولا-
تو کیا ہوا کوئی اور لڑکی شامل کرلیں گے گروپ میں یار- جواد بولا-
کپ مار کے تیرا سر پھوڑ دوں گا اگر دوبارہ ایسی بات کی- دوست تبدیل نہیں ہوتے- الو کے—- نہال بولتے بولتے رک گیا-
یہ بات سوچتے ہوۓ بھی شرم آنی چاھۓ تم کو یار- منیب نے بھی نہال کی تائید کی-
اور ہم نے سیکس کے لۓ ہی دوستی نہیں کی اس سے ، اس جیسی سنسیئر دوست نہیں ملے گی ہم کو- نہال بولا-
سیکس کی بات کس نے کی؟ قسم لے لو اگر وہ ساری عمر کجھے سیکس سے منع کردے تو بھی میں اس کی دوستی نہ چھوڑوں مگر وہ خود ہی نہیں چاہتی تو منت تو میں بھی نہیں کروں گا- جواد بولا-
میں جنید سے دوستی نہیں کروں گی بس- عمارہ بولی-
یہ بات اس کو بتا دو- نہال بولا-
کہاں ٹی وی پہ اشتہار دوں- کال ہی اٹینڈ نہیں کر رہی- عمارہ جل کے بولی-
شاہو کو بلاؤ اس کا فون اٹینڈ کرے گی- منیب نے آئیڈیا دیا جو سب کو پسند آیا-
منیب شاہو کو لینے نیچے چلا گیا-
،،،،،،،،
میں اپنے کمرے میں ٹی وی دیکھ رہی تھی، کہ میرا موبائیل بجنے لگا- شاہو کا فون تھا-
اس کو کیا ہوا- میں نے سوچا- اور کال آٹینڈ کرلی-
ہاں شاہو؟
میں بول رہی ہوں عمارہ، وردہ-
یار میں سو رہی ہوں باۓ –
ایک منٹ صرف، میں نے جنید کو منع کردیا ہے-
مجھے پتہ نہیں کیوں برا لگنے لگا-
کیوں، اچھا لڑکا تو ہے-
ہار تمہارا مسئلہ کیا ہے-
میں چپ ہو گئی-
بولو نا وردہ-
تمہارے ساتھ کون ہے اس وقت؟
سب ہیں-
ذرہ سائیڈ میں ہو-
کچھ دیر خاموشی رہی-
ھاں بولو اکیلی ہوں اب-
وہ میرے ساتھ سیکس کیوں نہیں کرتا- میں نے دل کی بات بول دی-
وردہ، وہ عون بھائی کا دوست ہے-
تو-
شاید اس لۓ-
عون نے منع کیا ہے اسے-؟
پتہ نہیں-
تم منیب کو بولو مجھے لینے آۓ-
ہاں ہاں ابھی بھیجتی ہوں-
باۓ سی یو-
باۓ-
میں نے کال ڈسکنیکٹ کردی-
کچھ دیر میرا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا، پھر میں مشینی انداز میں عون کے کمرے میں آ گئی-
وہ اپنے لیپ ٹاپ پر لگا ہو تھا-
بات کرنی ہے- میں اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی-
ایپلیکیشن دو پہلے- اس نے سکرین سے نظریں ہٹاۓ بغیر کہا-
میں نے اس کی ٹانگ پر گھونسا مارا-
سسسسسسسسس کیا ھے ہٹلر- وہ مصنوعی غصے سے بولا-
جنید قریشی تمہارا دوست ہے- میں نے پوچھا-
کسی کا مرڈر کروانا ہے؟
بتاؤ-
ہاں ہے ، کیوں؟
مجھے اچھا لگتا ہے-
مجھے بھی- چکنا ہے-
ہو نا پٹھان-
ہزارہ ہوں بیبی-
وہ مجھ سے اس لۓ رلیشن نہیں رکھ رہا کیونکہ میں تمہاری بہن ہوں-
تو-
اسے بولو، تمہیں اعتراض نہیں-
کس قسم کا ریلیشن؟
وہ ہم دونوں کا مسئلہ ہے-
وردہ، تم نے کہا تھا ، کوئی  چار دوست ہیں تمہارے؟
ہاں تو؟
ان سے دوستی ہے یا ؟
سیسکسوئل ریلیشن بھی ہیں-
تو پھر کافی نہیں، وہ تمہاری ایج کے بھی ہیں-
مجھے جنید اچھا لگتا ہے بس، ہاں  یا ناں میں جواب دو-
وہ کچھ دیر سوچتا رہا-
میں بات کرتا ہوں-
تو کرو-
تم جاؤ کرتا ہوں-
وعدہ کرو-
وعدہ یار-
میں اس کے کمرے سے چلی آئی-
،،،،،
عون نے جنید کا نمبر لگایا-
ہو بابے، گم ہی ہو گۓ ہو- جنید نے کال اٹھاتے ہی کہا-
ہاں یار، محبوبائیں، دوستوں کو سوتن سمجھتی ہیں- عون نے ھنس کر کہا-
دو مہینے بعد کانٹیکٹ کیا ہے-
سوری یار-
سوری چھوڑ آ کچھ مزہ کرتے ہیں-
کچھ دن دے ضرور ملوں گا- عون نے کہا-
لوگوں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں اپنا تو دروازہ ہی نہیں- جنید نے کہا- عون مسکرا دیا واقعی عجیب کمرہ تھا جنید کا اس میں دروازہ تھا ہی نہیں-
اچھا ایک بات کرنی ہے-
بولو جگر-
یار وردہ ہے نہ؟
تمہاری بہن-
ہاں
ملتی رہتی ہے مجھ سے کیوں-
وہ تجھ میں انٹریسٹیڈ ہے-
یار اپن شادی وادی میں یقین نہیں رکھتا – جنید بولا-
ابے الو کے پٹھے دوستی کے لۓ انٹریسٹیڈ ہے ، میں نے سنا ہے تم اس سے اس لۓ دور رہتے ہو کہ میری بہن ہے-
یار ، تو جگر ہے اپنا کب کا اس کا کام کرچکا ہوتا مگر میرے لۓ تیری دوستی عزیز ہے-
مجھے کوئی اعتراض نہیں، اگر تم دونوں آپس میں بن سکتے ہو تو میری اور تمہوری دوستی پر فرق نہیں آۓ گا-
پکا بول رہا ھے ھے ناں-
ہاں ہاں-
ویسے شی از ہاٹ یار-
تیری بہن بھی کم نہیں- عون بولا-
چود لے ، اگر مانتی ہے تو- جنید بولا- عون ھنس دیا-
چل پھر بات کرتے ہیں- عون نے کہا-
اور کال کاٹ دی-
،،،،،،،،،
میں نے آدھا گھنٹہ ہی انتظار کیا ہوگا، کہ نہال مجھے لینے آ گیا- میں امی کو لائبریری کا کہہ کر اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی- نہال گاڑی کو لین فور پر لے آیا-
نہال نروس سا لگ رہا تھا-
ناراض ہو؟ اس نے پوچھا-
نہیں تو-
ہو کیا گیا ہے یار، اگر تم کو اچھا نہیں لگتا جنید، دوبارہ وہ شکل نہیں دکھاۓ گا تمہیں-
میں نے کب کہا مجھے اس سے کوئی تکلیف ہے-
تو؟
کچھ نہیں – تم کچھ باتیں نہیں سمجھ سکتے اس لۓ کوشش بھی مت کرو-
کیوں؟
کیوں کہ تم لڑکی نہیں ہو-
ایک بات پوچھوں اگر ناراض نہ ہو؟
پوچھو-
جیلسی فیل کر رہی ہو؟
کس سے؟
عمارہ سے؟
میں کچھ دیر چپ رہی-
اممممم میں- میں نے کچھ کہنا چاہا پر کچھ کہ نہ سکی- نہال نے دوبارہ نہیں پوچھا-
پون گھنٹے میں ہم پورشن پر پہنچ گۓ-
میں اوپر آئی تو سب سے گلے ملی- عمارہ سے خاص طور پر-
تم ناراض ہو- میں نے عمارہ سے پوچھا ، تو وہ روھانسی ہوگئی- اور پھر باقئدہ رونے لگی-
میں نے اسے گلے لگا لیا- اور بار بار معافی مانگنے لگی-
یار ، میرا کیا قصوررر—وہ ہچکچاتے ہوۓ بولی-
ہم سب نے اسے مشکل سے چپ کرایا- خاص طور پہ منیب کے کچھ لطیفوں نے-
اے سی چل رہا تھا پر میں نے شرٹ اتار دی- اور جینز کے چھوٹے شارٹس پہن لۓ- اوپر کوئی شرٹ نہیں پہنی- صرف برا-
صوفے پے لیٹ کر آرام سے ٹی وی دیکھنے لگی- لڑکے منہ پھاڑ کر دیکھ رھے تھے-
میں نے شرارتی مسکراہٹ سے سب کو دیکھا-
شرٹ پہن لو یار- نہال بولا
اے پاگل ہے کیا چوتۓ- منیب نے ڈانٹا-
میں اور عمارہ کھل کھلا کر ھنس دیں-
گرمی ہے یار- میں نے آنکھیں گھما کر کہا-
بہت بہت اے سی شاید الٹا لگوایا ہے گرم ہوا دے رہا ہے- منیب نے اس انداز میں کہا کہ سب ھنس دۓ-
کچھ دیر بعد عمار سے رہا نہیں گیا-
آج پڑھنا نہیں ہے کیا؟
آج نہیں یار، ٹج مزہ کرتے ہیں- میں نے کہا-
ہاں یار تین دن سے نہیں کیا- جواد بولا-
نیا مزہ- میں نے کہا-
مطلب- نہال نے پوچھا-
آج ہم مل کے ایل ای ڈی پر ایکس مووی دیکھیں گے اور اجتماعی مسٹربیشن کریں گے- میں نے کہا-
یہ کیا یار- ڈائریکٹ سیکس کیوں نہیں- عماد بولا-
تم نے کسی لڑکی کو مسٹربیٹ کرتے دیکھا ہے- میں نے عماد سے پوچھا-
نہیں-وہ بولا
</span></span></div>
</div>
</div>
<div class=”moderatorbar”>
<div class=”postarea”>
<div class=”post”>
<div id=”msg_787699″ class=”inner”>

<span class=”bbc_color”><span class=”bbc_size”>میں نے کسی لڑکے کو نہیں دیکھا- آج یہ بھی ہو جاۓ- میں نے شرارتی لہجے میں کہا</span></span>

تھوڑی بحث کے بعد سب مان گۓ-
منیب نے اپنی یو ایس بی ، ایل ای ڈی سے کنیکٹ کی- ھم سب دیوار کے ساتھ نیچے تکیا لگا کر بیٹھ گۓ-
میں نے ایک مووی سلیکٹ کی جس میں کچھ کالے ایک گوری کو مل کے چود رھے تھے- شروع میں وہ اس لڑکی کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہہ رھے تھے مگر وہ مسکرا کے منع کر رہی تھی-
شاہو کے سگے والے لگتے ہیں- نہال نے کہا- میں مسکرا دی-
سب نے اپنی پینٹز اتاردیں- عمارہ نے بھی کپڑے اتار دۓ-
میں نے شارٹس اور برا اتار کر فرش پر پھینک دیا-
ہم ایسے بیٹھے تھے کہ میں عمار اور جواد کے بیچ میں تھی اور عمارہ نہال اور منیب کے بیچ میں-
لڑکی- پیسوں کے بدلے مان گئی اور ان کالون کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی-
یار چھوٹی لگتی ہے زیادہ سے زیادہ 15 سال- منیب نے کہا-
الو 18 سے کم امریکا میں لڑکی کو پورن میں نہیں لیتے- نہال نے ٹوکا-
لڑکی ان کے ساتھ گھر جاتی ھے، وہاں کچھ دیر بکواس کے بعد سب کالے کپڑے اتار دیتے ہیں- اور لڑکی ان کے لنڈ چوسنا شروع کردیتی ہے-
یار اتنے بڑے لنڈ- میرے منہ سے نکلا-
کیوں شاہو کا بھی تو اتنا ہوگا- منیب بولا-
کچھ انچ کم ہے- میں نے بتایا-
میں نے اپنی چوت کے دانے کو انگوٹھے سے مسلنا شروع کردیا-
اھمممممممممم اھممممممم- میرے منہ سے نکلا-
عماد اور جواد اپنے ہاتھ پر تھوک لگا کر لنڈ کو اپنے لیفٹ ہینڈ کا ھول بنا کر اندر باھر کر رھے تھے کس سے ہلکی ہلکی سلرررپپ سلرررپپپپ کی آواز آ رہی تھی-
ھمممممممممم- عمارہ کی آواز آئی وہ بھی اپنی یوریٹس کو مسل رہی تھی- منیب اور نہال اپنا ھاتھ چلا رہے تھے-
اب وہ کالے لڑکی کی چوت چاٹ رھے تھے باری باری کوئی اس کو لنڈ چوسوا رہھا تھا، کوئی ممے چوس رھا تھا-
میں اپنے ہونٹ بھینچے تیزی سے اپنی چوت کو مسل رہی تھی-
ھمممممم——
مجھے اپنی لیفٹ نپل پر جواد کی زبان کی ٹپ محسوس ہوئی- وہ اپنا لنڈ ہلاتے ہوۓ میری نپل لے ستاروں کے بیچ چاند کے درمیان والے چکنے ایریا پر اپنی زبان کی ٹپ چلا رہا تھا- مجھے اور مزہ آنے لگا-
عماد نے میری رائٹ نپل چوسنا شروع کردی-
اھممممممممم-
ادھر منیب اور نہال نے کمال ہی کردیا تھا انہوں نے عمارہ کو لٹا بھی دیا تھا- نہال اسکی ٹانگیں آتھا کر میڈیم سپیڈ سے چودے جا رہا تھا جب کے منیب اس کے ممے چوس رھا تھا-
اھھھمممممم-
میں نے اپنا لیفٹ ھاتھ عماد کے لنڈ پر رکھ دیا اس نے اپنا ھاتھ ھٹا لیا ، میں اس کا لنڈ اپنی مٹھی میں غھسنے لگی- اس نے دو انگلیاں میری چوت کے اندر باھر کرنا شروع کردی-
اھمممممم ایسے نہیں- ئوریٹس کو انگوٹھے سے مسلو- میں نے عماد کے کان میں کہا-
یوریٹس؟
میرا پیشاب والا سوراخ، میری چوت کی ٹوپی کے بلکل نیچے-
اس نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا-
ااھھھھھھھھھھھممممممممممم- مین منمنائی- جواد میری گردن اور تھروٹ پر کسز کر رہا تھا-
آھھھھھھھ آھھھھھھھھھھ آھھھھھھھھھ- عمارہ کی آواز آئی- منیب اب اسے پوری سپٰیڈ کے ساتھ چوس رہا تھا- جب کہ نہال اس سے اتر کر اپنے لنڈ کواس کے مموں کے درمیان گھس رہا تھا-
میں ذرہ نیچے ہوکر جواد کے لنڈ کو اپے منہ میں لینے کی کوشش کرنے لگی مگر میرا ہاتھ عماد کا لنڈ مسلنے میں مصروف تھا تو نیچے نہیں ہو پا رہی تھی- جواد نے اپنی ہپز اوپر کرکے میری ہیلپ کی اور میں اس کا لنڈ چوسنے لگی-
اس کے لنڈ کی نمکین رگڑ مجھے اپنی زبان پر محسوس ہوئی- میری یوریٹس پر عماد کا انگوٹھا چلے جا رھا تھا جس سے میری ٹانگوں کے درمیان مزے کا طوفان اٹھ رھا تھا-
عماد کو محسوس ہوا کے میں ایک ساتھ اس کے لنڈ کو مسل اور جواد کی سکنگ نھیں کر پا رہی تو اس نے میرا ہاتھ انے لنڈ سے ہٹا لیا- میں اب آسانی سے جواد کی سکنگ کرنے لگی-
میں نے اپنی زبان کو موڑ کر ٹپ کو جواد کے پیشاب والے سوراخ میں گھمانا شروع کیا تو اسکی سسکی نکی اور ٹانگیں ہل گئی-
آہہہہہہہہہ مزہ آگیا یاررررررررررر- اھھھھھھھھ- جواد اوپر چھت کو دیکھ رہھا تھا اس کا پورا جسم مزے سے کانپ رہا تھا- عماد نے دو انگلیاں اب میری چوت میں اندر باہر کرنی شروع کردیں-
منیب عمارہ کو ڈوگی اسٹائل میں چود رہا تھا اور نہال کا لنڈ اس کے منہ میں تھا – نہال اس سے سکنگ نہیں بلکہ اس کے سر کو زور سے پکر کر اس کے منہ کو چود رہا تھا-
میں نے آہستہ سے اپنی زبان جواد کے لنڈ کی جڑ سے نیچے سے اس کی ٹوپی کی رک تک لے جا رہی تھی-
مجھے اچانک اپنی چوت کی ٹوپی پر عماد کا لنڈ رگڑتا ہوا محسوس ہوا-
اھممممممممممممممم- میں سمجھ گئی وہ تیار ہے- میں نے جواد کے گوٹے چوسنا شروع کردۓ-
اھمممممممممممم- مجھے ایک جھٹکا سا لگا اور آرام سے عماد کا آدھا لنڈ میری چوت کو چیرتا ہوا گذر گیا- وہ آھستہ سے جھٹکے مارنے لگا- میں آنکھیں بند کرکے دوبرہ سے جواد کا لنڈ چوسنے لگی- میری چوت کی اندرونی دیوار پر عماد کے سخت لنڈ کی رگڑ مجھے پاگل کۓ جا رہی تھی-
عماد نے آہستہ سے اسپیڈ بڑھا کر میری چوت کو مزید چیرا اور لنڈ اندر باھر کرنے لگا- میری چوت کے ہونٹ بند ہونے اور کھلنے لگے اس کے لنڈ نے پوری طرح اسے بھرا ہوا تھا-
عمارہ اب نہال کے اوپر تھی اور اس کا لنڈ اپنی چوت میں لے کر اوپر نیچے ہو رہی تھی- منیب نے اپنے پانی کے پھوارے اس کی پیٹھ پر اسپرے کۓ-
عماد نے میری ایک ٹانگ کو ٹھٹنے کے نیچے سے پکڑ کر اوپر کیا ہوا تھا جب کے دوسری ٹانگ فرش پر تھی- بیچ میں وہ میری چوت میں اپنے لنڈ مکمل اسپیڈ سے ڈرل کر رہا تھا-
آھھھھھھھھھھھ آتھھھھھھھھھھھھھ- جواد نے اپنا لنڈ میرے منہ سے نکال لیا اور نکالتے ہی اس کے لنڈ سے سفید سپرم کے تین بڑے پھوارے نکلے جو دور فرش پر گرے-
میں نے اپنے منہ کو ہاتھ سے پوچھا اور مکمل توجھہ عماد پر کردی جو اب بھی میری چوت کو پھاڑے جا رہا تھا- اس کا لنڈ میری چوت کے اندر پھولتا ہوا محسوس ہوا مجھے پتہ لگ گیا کہ وہ بھی نزدیک ہے-
مووی کو ھم سب بھول گۓ تھے- کالے اس گوری کو چودے جا رھے تھے-
میری چوت سے شدت کا آرگزم ہوا اور میں فارغ ہو گئی- مگر عماد کا اسٹیمنا اچھا تھا- اس کا لنڈ ابھی بھی میری چوت کے اندر تھا – اس نے پورا لنڈ نکال کے واپس جھٹکے سے سارا اندر ڈالا- میرے ممے ھلے- اس نے پھر نے پورا لنڈ نکال کے واپس جھٹکے سے سارا اندر ڈالا- میرے ممےپھر سے ھلے-  اس نے آخری بار نے پورا لنڈ نکال کے واپس اتنے شدید جھٹکے سے سارا اندر ڈالا، میں ہل کر دیوار سے جا لگی اور سسسسسسسسسسسسس میری سسکی نکلی- اس نے لنڈ بہر نکال کر اپنے پھوارے میری ران پر ڈسچارج کۓ- اے سی چل رہا تھا مگر ہم پسینے میں تھے، میں اور عماد- جواد پہلے ہی دیوار سے سر لگا کر لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا اور مینب تو لیٹ کر اپنا پیٹ اوپر نیچے کر رہا تھا-
نہال ، عمارہ کو دوبارہ ڈوگی سٹائل میں چود رہا تھا- عمارہ کے چھوٹے چھوٹھے ممے ہل رہے تھے اور اس نے آنکھیں بند کرکے اپنا نچلا ہونٹ کاٹا ہوا تھا- میں سمجھ گئی وہ مزہ نہیں تکلیف میں تھی نہال اس کی گانڈ مار رہا تھا-
اھھھھھھھھھھ اھھھھھھھھھ- اھھھھھھھھھھھ- نہال نے اس کی پیٹھ کو اپنے پانی سے گیلا کیا- عمارہ ایک طرف لڑھک گئی- اور نہال فرش پر سیدھا سو گیا اس کے پورے بدن سے پسینہ بہہ رہا تھا-
ہم بیس منٹ تک ایسے ہی پڑے رہے آخر عمارہ پہلے اٹھ کر واش روم گئی- پھر ہم سب باری باری گئے-
میں نے شاور لیا اور باہر آکر ٹراؤزر اور لال سلیو لیس شرٹ پہن لی-
مجھے وردہ کی ناک چدنے کے بعد بہت اچھی لگتی ہے- منیب نے کہا-
سب ھنس دۓ میں نے زنان نکال کر اسے چڑایا- سیکس کے دوران میری ناک کی ٹپ اور کان کی لو چوت جتنے ہی لال ہو جاتے تھے اور بہت دیر تک لال رہتے تھے-
تم نے پھر سے عمارہ کی گانڈ ماری- میں نے غصے سے نہال کو دیکھا-
میں نے خود کہا تھا- عمارہ مسکرائی- اس کی ناک بھی کم لال نہیں تھی-
میں اپنے بال سکھانے لگ گئی-
یار ابھی- چار بجے ہیں- آج اکنامکس کا ایک چیپٹر کر لیتے ہیں، دن ہی کتنے بچے ہیں- عماد بولا تو ہم سب نے مان لیا-
ہم نے چھ بجے تک ایک چیپٹر کور کیا- چاۓ پی اور واپس گھر آ گۓ-
،،،،،،،،،،،،،،
میں جیسے ہی گھر آئی تو عون نے بتایا کے اس نے جنید سے بات کرلی ہے- میں نے اسے تھینکس کیا- اپنے کمرے میں آکر میں پریشان ہو گئی کہ کیا ریزن دوں گی جنید کو- اپنے پاگل پن کے دورے کا-
ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ  میرا موبائیل بجنے لگا- عماد کا نمبر تھا-
ہیلو-
ھممم ڈسٹرب تو نہیں کیا؟
نہیں ویسے ہی ٹی وی دیکھ رہی تھی، خیر؟
جنید نے کال کی تھی، جواد کا نمبر بند جا رہا ہے تو اس لۓ مجھ سے بات کی-
کس سلسلے میں-
وہ ملنا چاہ رہا تھا تم سے-
تو آ جاۓ کل پورشن پر-
نہیں وہ پرسوں تم کو لے جانا چاہ رہا ہے کہیں-
تو مجھ سے بات کیوں نہ کی-
نمبر ابھی دیا ہے میں نے-
ھمممم سوچوں گی-
سوچو گی؟ اب بھاؤ کھا رہی ہو- کل تک پاگل ہو رہی تھی اس کے لۓ-
میں زیرلب مسکرادی-
آج ارمان تم نے پورے کردۓ، اسے کہو ویٹ کر ارمان دوبارہ جوان ہونے کا-
وہ ھنس دیا-
اچھا کال کرے تو اٹھا لینا-
اچھا بابا- اب باۓ، مجھے ٹیوی دیکھنے دو-
دیکھو دیکھو- باۓ
باۓ-
میں نے کال کاٹ دی-اور سو گئی-
،،،،،،،،
ابو نے باورچی کی فوتگی کے بعد نیا باورچی رکھ لیا- اسی کے گاؤں کا اٹھارہ ، بیس سالہ لڑکا تھا، ایک اچھے ریسٹورنٹ میں کام کرچکا تھا- چھ فٹ کا قد، پتلہ سا آنکھیں بڑی بڑی سرمہ، اور سر پہ تیل سے چپکاۓ ہوۓ بال ، اچھا خاصہ نوجوان تھا ، خود کو عجوبہ بنایا ہوا تھا-
میں باورچی خانے گئی تو وہ مٹر چھیل رھا تھا- صبح صبح ، عون صاحب نے مٹر قیمہ آرڈر کیا تھا-
میں نے ایک چھیلا ہوا مٹر اپنے منہ میں لے لیا-
کیا نام ہے تمہارا- میں نے پوچھا-
میڈم آپ پہلے مٹر کھانا بند کرو اک کو کام کرے دیو- اس نے سندھی میں اردو بول کہ مجھے ڈانٹا تو میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا-
میرا گھر ہے میرے مٹر- میں نے غصے سے اسے دیکھا اور مٹر کا ٹب ھاتھ میں لے کر کھانے لگی-
تم ام جاتا اے ، دوسرا آدمی رکھ لو- وہ باقاعدہ جانے لگا-
میں حیران ہوگئی- اس سے پہلے مٹر قیمہ مجھے بنانا پڑتا، مٰن نے باؤل رکھ دیا-
اچھا اچھا ساری- آئندہ خیال رکھوں گی- مٰن باہر جانے لگی اسے غصے سے تکتے ہوۓ-
امارا ادھا مٹر کھا گئی- اب ساری- اس نے واپس آتے ہوۓ بڑبڑایا-
دو مٹر کھاۓ ہیں جھوٹے- میں نے غصے سے کہا-
ابو سب دیکھ کر مسکرا رہے تھے-
کہاں سے لاۓ ہیں یہ نمونہ- میں نے ابو سے مسکرا کر پوچھا-
ملتے کہاں ہیں اچھے باورچی- ان کے سارے گاؤں والوں کا بات کرنے کے انداز ایسا ہے- خیریت بھی پوچھتے ہیں تو ایسے لگتا ہے لڑ رھے ہوں- سو عادت ڈال لو- ابو نے مسکراتے ہوۓ کہا-
وہ تو ٹھیک ہے لیکن اگر کھانا بھی کھڑوس نکلا تو آج ہی لات مار کے نکال دوں گی-
بابا کھا تو لو-
جب ناشتہ لگا تو آلو مٹر اور چاۓ دونوں کا مزہ آگیا- میں نے اپنی پندرہ سالہ زندگی میں اس سے اچھے آلو مٹر نہیں کھاۓ تھے-
ھممم پاپا مان گۓ-
ابو ھنس دۓ-
نو بجے ابو اپنے آفس چلے گۓ اور عون کالج، نہال دس بجے مجھے لینے آیا- اور میں اس کے ساتھ پورشن پر آ گئی-
،،،،،،
خلاف معمول، منیب نہیں آیا تھا- اسے بخار تھا- لیکن جنید وہاں تھا- میں سنبھل گئی-
سب سے ملنے کے بعد جنید سے ھاتھ ملایا- اس نے معنی خیز انداز سے مجھے دیکھا تو میں نے نظریں چرالیں-
سنا ہے مجھ سے دوستی کرنا چاہ رہی ہو- اس نے مسکرا کر کہا-
اس نے مذاق کیا، سنجیدہ کہا، مجھے بہت شدید برا لگا-
ہاں مری جا رہی ہوں- پرائم منسٹر سے فون کروانے والی تھی- میں نے جل بھن کر کہا-
مذاق کر رہا تھا یار- مرا تو میں جا رہا ہوں اور یہ سچ ہے- اس نے جلتی پر برف ڈال دی-
میرے خیال میں ہم دوست پہلے سے ہیں- میں نے بیگ، صوفے پر پھنیکا اور بیٹھ گئی-
ہاں ، مگر کچھ غلط فہمی—- اس نے کچھ کہنا چاہا مگر میں نے بات بیچ میں کاٹ دی-
وہ دور ہو گئی-
اچھی بات ہے-
میں مسکرا دی-
یار چاۓ وردہ- نہال نے انگڑائی لے کر کہا-
جی ساب جی ، ساتھ میں کیا- میں نے جل کر کہا-
ساتھ میں تم- اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا-
میرا انگوٹھا- میں نے انگوٹھا اک کے منہ کے سامنے دکھایا تو اس نے واقعی میں آھستہ سے کاٹا-آھھھھھھھھھھھ
14 انجیکشن لگیں گے وہ بھی پیٹ میں- میں نے کچن میں جاتے ہوۓ کہا-
سب ھنس دۓ- میں نے اور عمارہ نے سب کے ؒے چاۓ بنائی اور واپس آکر لڑکوں کے ساتھ بیٹھ گئی-
جنید نے چاۓ پی-
اچھا کل میں تمہیں 11 بجے لینے آؤں گا اوکے- جنید نے پوچھا-
ٹھیک ہے، میں نے مسکرا کر کہا-
اچھا تم لوگ پڑھائی کرو، میں نکلتا ہوں- وہ کھڑا ہوا-
ھم سب نے اسے دروازے تک سی آف کیا- اور واپس آگۓ-
سہاگ رات ہے ، گھونگھٹ اٹھا رہا ہے جنید- عماد نے سریلا گانا چھیڑا-
11 بجے دن کو جا رہی ہوں میں- میں نے کریکشن کی-
اوہ اوکے- سہاگ دن ہے، گھہونگھٹ اٹھا رہا ہے جنید- عماد نے کریکشن کی- سب زیرلب مسکراۓ-
17 دن رہ گۓ ہیں ٹیسٹ میں- میں نے یاد دلایا تو اس دن سب نے چھ بجے تک پڑھائی کی اور کوئی شرارت نہیں-
،،،،،،،
میں نے رات کو اپنی ٹانگیں ویکس کیں، اور چہرے پہ فیشل کیا- میں کل کے لۓ مکمل طور پر تیار ہوکر جانا چاہ رہی تھی-
جاری ہے،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

</div>
</div>
</div>
<div class=”moderatorbar”> <!–nextpage–></div>
</div>
</div>

Share
Article By :

Leave a Reply