arabic sex story – ” Bechari Zubaida “

Share

یہ ایک سچی کہانی ہے جو کے مجے ایک کل گرل نے لاہور کے ایک ہوٹل میں مرے ساتھ رات رہنے کے دوران سونائی. میں یہ کہانی اسی کی زبانی یہاں لکھنے جا رہا ہوں . امید ہے آپکو پسند ای گی.
میرا جب بھی لاہور جانا ہوتا تھا تو میں اکثر لکشمی چوک کے قریب ایک ہوٹل میں رات کو قیام کیا کرتا تھا. اس دن بھی سارا دن کام کرنے کے بعد میں شام کو ہوٹل پہنچا . مجے دیکھ کر ہوٹل کے ویٹرز نے میرا استقبال کیا اور مجے وی ای پی روم میں لے گئی. چونکے میں یہں اکثر آتا ہوں اس لیے مجے تمام ویٹرز جانتے تھے . روم میں ٹاول وغیرہ رکھنے کی بعد وہ بولا کے سر مال چیک کریں. ویٹر تین لڑکیوں کو مرے پاسس لیا. ان میں سے زبیدہ کو میں نے رات کے لیے سلیکٹ کیا. زبیدہ بہت خوبصورت، سمارٹ اور شوخ لڑکی تھی. ہم دونو نے مل کر کھانا کھایا پھر میں اسے گری میں بیٹھا کر لبرٹی مارکیٹ لے گیا. وہاں سے اسے جاکے پلایا اور اس کی پسند کی جوتے لے کر اسے گفت کے. رات کو تقریبن دس بجے ہم دوبارہ ہوٹل پہنچے. میں نے واش روم میں جا کر نائٹ سوٹ جو کے ایک گاؤن اور انڈرویر پر مشتمل تھا پہنا اور روم میں آگیا. زبیدہ نے اپنا گاؤں اتارا اور بیڈ پر آکر مرے ساتھ لیٹ گئی. اور اس نے مرے سینے کے بالوں میں ہلکے ہلکے ہاتھ پھیرنا شورو کر دیا. میں نے اس کی طرف کروٹ لی اور اس کے ساتھ دبا کر جپھی ڈالی. اس کے زبردست قسم کے مممے سمارٹ پیٹ، گورا گورا بدن سب میری آغوش میں تھا. میں نے اسے کہا کیا جلوہ نہیں کرو گی اس حسن کا. وہ اٹھی اور اس نے اپنی قمیص اور شلوار اتر کر بیڈ کی سائیڈ پر رکھ دی. اسکا گورا سمارٹ بدن خوب چمک رہا تھا. وہ مرے اوپر لیٹ گئی اور میرا گاؤن سائیڈ پر کر کے مرے سرے بدن کو چومنا شوروۓ کر دیا. جب وہ انڈرویر تک پہنچی تو اس نے اسے اپنے دانتوں سے پکڑا اور نیچے اتر دیا. میرا لن اب آزاد ہو چکا تھا اور پوری طرح سے کھڑا تھا. اس نے تعریفی انداز سے اسے دیکھا اور چوم لیا. پھر اس نے مرے دونو ٹٹوں کو بری باری باری پکڑ کر چوما اور میری ٹانگوں کو کیسس کرتی ہوئی مرے پاؤں تک پہنچ گئی. اچانک اس نے اپنی گرم گرم پھدی میرے لن پر رکھی اور اپنے منہ میں مرے پاؤں کے انگوٹھے کو ڈال کر چوسنے لگی. میرا لن مزید سخت ہوتا جا رہا تھا. وہ تھوڑی در تک مرے دونو پاؤں کے انگوٹھوں کو چوستی رہی

جتنے پیار سے وہ میرے پاؤں کے انگوٹھے چوس رہی تھی میں اتنا ہی مست ہوتا جا رہا تھا. میرا لن پوری طرح کھڑا تھا. اب اس نے آھستہ آھستہ اوپر کی طرف آنا شروۓ کیا . جب وہ میرا لن کے پاسس پہنچی تو اس نے میری دونو ٹانگوں کے درمیان کی جگا اپنی زبان سے چاٹنی شورو کردی. میں مزے کی انتہا پر تھا. پھر اس نے میرا لن کو چاٹنا شورو کر دیا . وہ نیچے ٹٹوں سے لے کر ٹوپی تک لن کو ایسے چاٹ رہی تھی جیسے کون ایس کریم کھا رہی ہو.اس کے بعد اس نے سکنگ شرو کردی. اس کی اپنی حالت بھی غیر ہو رہی تھی. اب وہ منہ دوسری طرف کر کے میرے لن پر چڑھ کر بیٹھ گئی اور آھستہ آھستہ اوپر نیچے ہونے لگی. میرا لن ایک بلکل نی ڈائریکشن سے اس کے اندر بھر ہو رہا تھا. تقریباً ٣ منٹ کے بعد وہ تھوڑا اور آگے ہوئی اور دوگی پوزیشن میں آگہی. اپ میں نے اس کو پیچھے سے گھسسے لگانے سٹارٹ کے. وہ اہ وہ کی آوازیں نکل رہی تھی. مزید ٣ منٹ کے بعد میں اس اندر ہی فارغ ہو گیا. مجے ایسا لگ رہا تھا کے جسے میری ساری منی آج ہی نکلی ہو. اس کی ٹائٹ چوت کا الگ ہی مزہ تھا. وہ ایسے ہی الٹی لیٹ گئی تھی اور میں اس اس کے اوپر لیتا ہوا تھا. پھر میں اٹھا اور واشروم میں چلا گیا. وہ بھی اپنی ٹانگیں اور پھدی دھو کر بد پر آگہی . اب ہم نے باتیں سٹارٹ کردی. جب میں نے اس سے پوچھا کے وہ اس فیلڈ میں کیسے ای تو اس نے پہلے تو تلنے کی کوشش کی لیکن میرے اسرار پر اس نے اپنی کہانی سنی. جو کے میں اسی کی زبانی یہاں لکھ رہا ہوں

جب میں نے آنکھ کھولی تو گھر میں غربت کا راج تھا. میرے ماں باپ نے تھوڑی سی عقل دکھائی اور مزید آبادی نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا. میرے والد ایک سرکاری محکمہ میں چپراسی تھے. گزر بسر اچھی ہو جاتی تھی. میں پانچ جماعت تک اسکول بھی گئی. میری عمر اس وقت 15 سال تھی. کے ہمارے گھر چھوڑ گھس اے. دھینگا مشتی کے دوران میرے والد سے ایک چھوڑ قتل ہو گیا. اگلے دن پتا چلا کے قتل ہونے والا ایک بارے باپ کا بیٹا تھا. انہوں نے پولیس کو مال لگوا اور الٹا میرے ابو کو عمر قید کی سزا ہو گئی. ہم نے جو کچھ جمع کیا ہوا تھا سب مقدمے پر لگ گیا. اب ہم دونو ماں بیٹی دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگی. سب رشتے داروں نے بھی ہم سے منہ مور لیا. اسی دوران میرا ایک رشتہ آیا. لڑکا ہنڈسوم تھا. کماؤ بھی تھا. کھاتے پیتے لوگ تھے. میری ماں نے فورن ہان کردی. اور میں بیاہ کر لاہور آگہی. یہاں ایک عجیب بات ہی کے میرے شوہر نے سہاگ رات کو مجے ہاتھ تک نہیں لگایا. اگلے دن ولیمہ ہوا . میری ماں ولیمہ کھا کر واپس چلی گئی. میرے شوہر کی ووہی روٹین تبدیل نہ ہوئی.تقریبن دس دن بعد میری ساس بولی کے تیار ہو جو. آج رات ایک دعوت میں جانا ہے. میں بارے شوق سے تیار ہوئی. میرا شوہر مجھے گری میں بیٹھا کر ڈیفنس کے ایک بڑے سے بنگلے میں لے گیا. جہاں ہماری ملاقات فرمان سے ہوئی جو کے اس گھر کا ملک تھا. وہ بڑی گرمجوشی سے ہمیں ملا اور پرتکلف کھانا کھلایا. کھانے کے بعد وہ شراب اٹھا کر لے آیا. اور تین گلاس بنے. میں نے پہلے تو منا کیا. مگر شوہر کے اسرار پر ان کے ساتھ پینے لگ گئی. جلد ہی مجھے کچھ ہوش نہ رہا. بس اتنا یاد ہے کے میرا شوہر مجھے پکڑ کر فرمان کے بیڈ روم تک لے گیا. اس کے بعد فرمان نے کس طرح میری عزت کا جنازہ نکالا اس کا مجھے کچھ یاد نہیں. صوبۂ میری آنکھ کھلی تو میری پھددی میں سخت چبھن ہو رہی تھی. بدشیٹ پر میرے خون کے نشان پڑے ہے تھے. میرا شوہر روم میں ہی صوفے پر سویا پر تھا. پہلے تو میں خوش ہوئی کے شاید میرے شوہر نے میرے ساتھ سہاگ رات منی ہے. مگر جلد ہی مجھے اندازہ ہوگیا کے فرمان نے میرے ساتھ یشی کی ہے. میں نے اپنے شوہر کو جگایا اور اس سے گھر چلنے کو کہا. سارا راستہ میں چپ چاپ بیٹھی رہی. جب گھر پہنچے تو میری ساس نے مجھے دیکھا اور پھر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا. شاید انھیں مج سے یہ امید نہ تھی کے میں چپ چاپ واپس ہجوں گی. تھوڑی دیر بعد میری ساس میرے روم میں آئ اور بولی کے بیٹا تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے. پھر انہوں نے کھل کر بتایا کے ان کا کاروبار یہی ہے. اور انہوں نے میرے کنوارے پین کی قیمت فرمان سے لاکھوں میں وصول کی ہے. پھر کہنے لگی کے اب تمھارے پاسس صرف دو راستے ہیں یا تو چپ چاپ ہمارا ساتھ دو اور ہم تمہیں صرف اچھے گاہکوں کو مہنگے دام میں بھیجا کریں گئی. دوسری صورت میں تمہیں ہر روز زبردستی چار سے پانچ لوگوں سے چدوایا کریں گے

یہ ایک سچی کہانی ہے جو کے مجے ایک کل گرل نے لاہور کے ایک ہوٹل میں مرے ساتھ رات رہنے کے دوران سونائی. میں یہ کہانی اسی کی زبانی یہاں لکھنے جا رہا ہوں . امید ہے آپکو پسند ای گیمیرا جب بھی لاہور جانا ہوتا تھا تو میں اکثر لکشمی چوک کے قریب ایک ہوٹل میں رات کو قیام کیا کرتا تھا. اس دن بھی سارا دن کام کرنے کے بعد میں شام کو ہوٹل پہنچا . مجے دیکھ کر ہوٹل کے ویٹرز نے میرا استقبال کیا اور مجے وی ای پی روم میں لے گئی. چونکے میں یہں اکثر آتا ہوں اس لیے مجے تمام ویٹرز جانتے تھے . روم میں ٹاول وغیرہ رکھنے کی بعد وہ بولا کے سر مال چیک کریں. ویٹر تین لڑکیوں کو مرے پاسس لیا. ان میں سے زبیدہ کو میں نے رات کے لیے سلیکٹ کیا. زبیدہ بہت خوبصورت، سمارٹ اور شوخ لڑکی تھی. ہم دونو نے مل کر کھانا کھایا پھر میں اسے گری میں بیٹھا کر لبرٹی مارکیٹ لے گیا. وہاں سے اسے جاکے پلایا اور اس کی پسند کی جوتے لے کر اسے گفت کے. رات کو تقریبن دس بجے ہم دوبارہ ہوٹل پہنچے. میں نے واش روم میں جا کر نائٹ سوٹ جو کے ایک گاؤن اور انڈرویر پر مشتمل تھا پہنا اور روم میں آگیا. زبیدہ نے اپنا گاؤں اتارا اور بیڈ پر آکر مرے ساتھ لیٹ گئی. اور اس نے مرے سینے کے بالوں میں ہلکے ہلکے ہاتھ پھیرنا شورو کر دیا. میں نے اس کی طرف کروٹ لی اور اس کے ساتھ دبا کر جپھی ڈالی. اس کے زبردست قسم کے مممے سمارٹ پیٹ، گورا گورا بدن سب میری آغوش میں تھا. میں نے اسے کہا کیا جلوہ نہیں کرو گی اس حسن کا. وہ اٹھی اور اس نے اپنی قمیص اور شلوار اتر کر بیڈ کی سائیڈ پر رکھ دی. اسکا گورا سمارٹ بدن خوب چمک رہا تھا. وہ مرے اوپر لیٹ گئی اور میرا گاؤن سائیڈ پر کر کے مرے سرے بدن کو چومنا شوروۓ کر دیا. جب وہ انڈرویر تک پہنچی تو اس نے اسے اپنے دانتوں سے پکڑا اور نیچے اتر دیا. میرا لن اب آزاد ہو چکا تھا اور پوری طرح سے کھڑا تھا. اس نے تعریفی انداز سے اسے دیکھا اور چوم لیا. پھر اس نے مرے دونو ٹٹوں کو بری باری باری پکڑ کر چوما اور میری ٹانگوں کو کیسس کرتی ہوئی مرے پاؤں تک پہنچ گئی. اچانک اس نے اپنی گرم گرم پھدی میرے لن پر رکھی اور اپنے منہ میں مرے پاؤں کے انگوٹھے کو ڈال کر چوسنے لگی. میرا لن مزید سخت ہوتا جا رہا تھا. وہ تھوڑی در تک مرے دونو پاؤں کے انگوٹھوں کو چوستی رہی
جتنے پیار سے وہ میرے پاؤں کے انگوٹھے چوس رہی تھی میں اتنا ہی مست ہوتا جا رہا تھا. میرا لن پوری طرح کھڑا تھا. اب اس نے آھستہ آھستہ اوپر کی طرف آنا شروۓ کیا . جب وہ میرا لن کے پاسس پہنچی تو اس نے میری دونو ٹانگوں کے درمیان کی جگا اپنی زبان سے چاٹنی شورو کردی. میں مزے کی انتہا پر تھا. پھر اس نے میرا لن کو چاٹنا شورو کر دیا . وہ نیچے ٹٹوں سے لے کر ٹوپی تک لن کو ایسے چاٹ رہی تھی جیسے کون ایس کریم کھا رہی ہو.اس کے بعد اس نے سکنگ شرو کردی. اس کی اپنی حالت بھی غیر ہو رہی تھی. اب وہ منہ دوسری طرف کر کے میرے لن پر چڑھ کر بیٹھ گئی اور آھستہ آھستہ اوپر نیچے ہونے لگی. میرا لن ایک بلکل نی ڈائریکشن سے اس کے اندر بھر ہو رہا تھا. تقریباً ٣ منٹ کے بعد وہ تھوڑا اور آگے ہوئی اور دوگی پوزیشن میں آگہی. اپ میں نے اس کو پیچھے سے گھسسے لگانے سٹارٹ کے. وہ اہ وہ کی آوازیں نکل رہی تھی. مزید ٣ منٹ کے بعد میں اس اندر ہی فارغ ہو گیا. مجے ایسا لگ رہا تھا کے جسے میری ساری منی آج ہی نکلی ہو. اس کی ٹائٹ چوت کا الگ ہی مزہ تھا. وہ ایسے ہی الٹی لیٹ گئی تھی اور میں اس اس کے اوپر لیتا ہوا تھا. پھر میں اٹھا اور واشروم میں چلا گیا. وہ بھی اپنی ٹانگیں اور پھدی دھو کر بد پر آگہی . اب ہم نے باتیں سٹارٹ کردی. جب میں نے اس سے پوچھا کے وہ اس فیلڈ میں کیسے ای تو اس نے پہلے تو تلنے کی کوشش کی لیکن میرے اسرار پر اس نے اپنی کہانی سنی. جو کے میں اسی کی زبانی یہاں لکھ رہا ہوں
جب میں نے آنکھ کھولی تو گھر میں غربت کا راج تھا. میرے ماں باپ نے تھوڑی سی عقل دکھائی اور مزید آبادی نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا. میرے والد ایک سرکاری محکمہ میں چپراسی تھے. گزر بسر اچھی ہو جاتی تھی. میں پانچ جماعت تک اسکول بھی گئی. میری عمر اس وقت 15 سال تھی. کے ہمارے گھر چھوڑ گھس اے. دھینگا مشتی کے دوران میرے والد سے ایک چھوڑ قتل ہو گیا. اگلے دن پتا چلا کے قتل ہونے والا ایک بارے باپ کا بیٹا تھا. انہوں نے پولیس کو مال لگوا اور الٹا میرے ابو کو عمر قید کی سزا ہو گئی. ہم نے جو کچھ جمع کیا ہوا تھا سب مقدمے پر لگ گیا. اب ہم دونو ماں بیٹی دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگی. سب رشتے داروں نے بھی ہم سے منہ مور لیا. اسی دوران میرا ایک رشتہ آیا. لڑکا ہنڈسوم تھا. کماؤ بھی تھا. کھاتے پیتے لوگ تھے. میری ماں نے فورن ہان کردی. اور میں بیاہ کر لاہور آگہی. یہاں ایک عجیب بات ہی کے میرے شوہر نے سہاگ رات کو مجے ہاتھ تک نہیں لگایا. اگلے دن ولیمہ ہوا . میری ماں ولیمہ کھا کر واپس چلی گئی. میرے شوہر کی ووہی روٹین تبدیل نہ ہوئی.تقریبن دس دن بعد میری ساس بولی کے تیار ہو جو. آج رات ایک دعوت میں جانا ہے. میں بارے شوق سے تیار ہوئی. میرا شوہر مجھے گری میں بیٹھا کر ڈیفنس کے ایک بڑے سے بنگلے میں لے گیا. جہاں ہماری ملاقات فرمان سے ہوئی جو کے اس گھر کا ملک تھا. وہ بڑی گرمجوشی سے ہمیں ملا اور پرتکلف کھانا کھلایا. کھانے کے بعد وہ شراب اٹھا کر لے آیا. اور تین گلاس بنے. میں نے پہلے تو منا کیا. مگر شوہر کے اسرار پر ان کے ساتھ پینے لگ گئی. جلد ہی مجھے کچھ ہوش نہ رہا. بس اتنا یاد ہے کے میرا شوہر مجھے پکڑ کر فرمان کے بیڈ روم تک لے گیا. اس کے بعد فرمان نے کس طرح میری عزت کا جنازہ نکالا اس کا مجھے کچھ یاد نہیں. صوبۂ میری آنکھ کھلی تو میری پھددی میں سخت چبھن ہو رہی تھی. بدشیٹ پر میرے خون کے نشان پڑے ہے تھے. میرا شوہر روم میں ہی صوفے پر سویا پر تھا. پہلے تو میں خوش ہوئی کے شاید میرے شوہر نے میرے ساتھ سہاگ رات منی ہے. مگر جلد ہی مجھے اندازہ ہوگیا کے فرمان نے میرے ساتھ یشی کی ہے. میں نے اپنے شوہر کو جگایا اور اس سے گھر چلنے کو کہا. سارا راستہ میں چپ چاپ بیٹھی رہی. جب گھر پہنچے تو میری ساس نے مجھے دیکھا اور پھر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا. شاید انھیں مج سے یہ امید نہ تھی کے میں چپ چاپ واپس ہجوں گی. تھوڑی دیر بعد میری ساس میرے روم میں آئ اور بولی کے بیٹا تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے. پھر انہوں نے کھل کر بتایا کے ان کا کاروبار یہی ہے. اور انہوں نے میرے کنوارے پین کی قیمت فرمان سے لاکھوں میں وصول کی ہے. پھر کہنے لگی کے اب تمھارے
پاسس صرف دو راستے ہیں یا تو چپ چاپ ہمارا ساتھ دو اور ہم تمہیں صرف اچھے گاہکوں کو مہنگے دام میں بھیجا کریں گئی. دوسری صورت میں تمہیں ہر روز زبردستی چار سے پانچ لوگوں سے چدوایا کریں گے
میں نے ان کی بات ماں لینے ہی رات اس نے مجے شادی کی پیش کش کی. میں نے اسے اپنے اور اپنی سسرال کے بارے میں بتایا. وہ بولا مجے صرف تم اپنی مرضی بتاؤ باقی وہ خود سنبھال لے گا. میں نے ہاں کہ دی. سوچا کے اسی بہانے اس دوزخ سے نکل سکوں گی. قسم نے میری ساس سے بات کی اور مجے ان سے پانچ لکھ میں خرید لیا. قسم نے مجے طلاق دلوا کر میرا ویزا لگوایا اور مجے اپنے ساتھ دبئی لے گیا. وہاں اس نے مجے ایک کمرے کا فلیٹ جس کے ساتھ باتھروم اور کچن بھی تھا. لے کر دے دیا. وہ ہر ہفتے دو یا تین دن مرے ساتھ رہا کرتا. ہم دونو خوب مزے کے ساتھ سیکس کرتے. وہ زیتون کے تیل سے مرے سرے جسم کا مساج کرتا پہلے مجے سرے کپڑے اتارنے کا کہتا اور اپنے کرپڑے بھی اتر دیتا. پھر مرے سرے جسم پر تیل مل دیتا اور مجے کہتا کے میں اسے ہاتھ لگی بگیر اس کے سرے جسم پر اپنے جسم سے تیل ملمیں بھلا چاہا اور چپ چاپ ان کے کہنے کے مطابق مختلف لوگوں سے ملتی رہی. اسی دوران میری ملاقات قسم نام کے آدمی سے ہوئی. قسم بہت سلجھا ہوا بندہ تھا. اس کے ساتھ میں ٣ دن کے لیے بک تھی. اس کا دبئی میں کاروبار تھا. آخریوں

اس طرح سے میں اس کے سرے جسم پر اپنا جسم رگڑ رگڑ کر تیل ملتی. اس مساج سے ہم دونو بیحد گرم ہو جاتے زیادہ مزہ اس وقت آتا جب میں اسے سٹول پر بیٹھا کر اس کی گود میں بیٹھ جاتی اور اس کے کھڑے ہے لوں کو اپنی دونو ٹانگوں میں دبا کر تیل ملتی. پھر اس کے بعد ہم دونو ڈوگی سٹائل میں سیکس کرتے. میں اس کا زیتون کے تیل لگا ہوا گرم گرم لن جب اپنی پھددی میں ڈالتی تو اس کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا تھا. ہنسی خصی اسی طرح ٣ سال گزر گئی.پھر اچانک سے قسم نے آنا بینڈ کر دیا. تقریبن ایک ماہ تک نہ قسم آیا نہ اس کی کوئی خبر. میں پریشن تھی کے کس سے اس کا پوچھوں. پھر ایک دن ایک عورت اور ایک بوڑھا مرد مرے فلیٹ پر ای. انہوں نے بتایا کے وہ قسم کی بیوی اور باپ ہیں. انہوں نے مجے قاسم کے فوت ہونے کی خبر دی. ساتھ ہی فلیٹ خالی کرنے کا بھی کہا. میں نے ان سے التجا کی کے میرا دبئی میں کوئی نہیں. لہذا مجے ٹکٹ لے کر لاہور واپس بھجوا دیں. انہوں نے مجے لاہور کی ٹکٹ اور پچاس ہزار روپے دے اور میں واپس لاہور آگہی

یہاں آ کر پہلے میں نے جاب تلاش کرنی شورو کی مگر ہر بندہ صرف مرے جسم کا بھوکا نظر آیا. پھر آخر کر میں نے اسی فیلڈ میں آنے کا فیصلہ کیا. اور جس ہوٹل میں ٹھہری ہی تھی اس کے مینیجر سے بات کی. اس نے فورن مجے ایک کسٹمر کا اررنگے کر دیا. اب میں اسی طرح اپنی مرضی سے ہر رات ایک نۓ بندے کے ساتھ گزرتی ہوں. اس کے بعد اس نے ویٹر کو فون کیا اور اسے زیتون کے تیل کی ایک بوتل لانے کا کہا. وہ بولی گجر صاحب آپ بھی کیا یاد کرو گے آج میں اسی طرح سے آپ کا مساج کرتی ہوں. پھر اس نے تیل کھولا اور میں نے ہاتھوں سے اس کے سرے جسم پر تیل مل دیا. اب وہ مرے جسم کا مساج اپنے جسم سے کر رہی تھی. پہلے اس نے اپنے ماموں سے مرے سارے سینے پر مساج کیا پھر اپنی ٹانگیں میری ٹانگوں سے رگرنی شورو کردی. میرا لن پورا کھڑا ہو چکا تھا. وہ مرے اوپر لیٹ گئی اور اپنی دونو ٹانگوں میں میرا لن لیکر دائیں بائیں گھومنے لگی. میرا لن مزید اکڑتا جا رہا تھا. پھر وہ اس کے اوپر بیٹھ گئی آھستہ آھستہ لن کو اندر بھر کرنا شورو کردیا. پھر اسی طرح.

Share
Article By :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *