urdu sex story – شاہدہ کیمسٹریلیب اسسٹنٹ

Share

 

پیارے دوستوں آپ کا دوست اس رنگین دوپہر کی داستان کے باقی حصے کے ساتھ حاضر ہے سب سے پہلے ، پہلے حصے کی پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ ، میری آپ سے درخواست ہے یا تو غلطیوں کو نظر انداز کر دیا کریں یا پھر ان غلطیوں کو بتا دیا کریں تا کے اگے انے والی کہانیوں میں ان کا ازالہ ہو سکے ، اس کے ساتھ میری ان دوستوں سے گزارش ہے کے اس حصے کو پڑھنے سے پہلے اس کہانی کا پہلا حصہ ضرور پڑھ لیں .

شاہدہ میری گود میں بیٹھ کر بیخودی کے ساتھ میرے چہرے پر اپنی زبان پھیر رہی تھی اس کی زبان کا لمس اور گیلا ہٹ نے میرے جسم میں دوبارہ بجلی کو دوڑا دیا اور میرا مرجھایا ہوا لند جو میرے اور شاہدہ کے پیٹ کے بیچ میں دبا ہوا تھا دوبارہ کھڑا ہونا شرو ع ہو گیا میرے لند کی سختی اپنے پیٹ پر دوبارہ محسوس کر کے شاہدہ کے چہرے پر دوبارہ شہوانی مسکراہٹ دوڑگئی اور اس نے میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں دبوچ کر چوسنا شرو ع کر دیا اس کی اس بیتابی اور جوش نے مجھے بھی بہت زیادہ کھولا دیا اور میں بھی اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا، ٹھوڈی دیر کے بعد شاہدہ نے کہا سہیل تمھیں معلوم ہے مجھے تم سے چدوانا نہیں تھا صرف چوما چا ٹی اور ممے چوسوانے تھے مگر تمہارا لوڑا دیکھنے کے بعد مجھے بلکل بھی ہوش نہیں رہا میری چھوٹ میں اتنی جلن اور تکلیف ہو رہی ہے جس کی کوئی حد نہیں تم خود بھی دیکھ سکتے ہو تمہارا لوڑا بری طر ح سے میری چو ت کے خون میں لتھڑا ہوا ہے میں نے بھی جواب میں شاہدہ کو چومتے ہوے کہا کہ تم بلکل صحیح بول رہی ہو مجھے بھی نہیں لگتا تھا کے میں تمھیں اس لیب میں کھڈے کھڈے چود سکوں گا مگر دیکھ لو تم ایسے ہی چود گئیں یہ سن کر شاہدہ نے پوچھا تمہاری مہارت بتا رہی ہے کے تم نے کافی لڑکیوں کو چودہ ہوا ہے یہ سن کر مجھے ہنسی آ گئی اور میں نے شاہدہ سے کہا تم یقین کرو تم میری زندگی کی پہلی لڑکی ہو جسے میں نے ہاتھ لگایا ہے باقی رہی بات مہارت کی تو انٹرنیٹ زندہ باد جو بھی مہارت حاصل کرنی ہو وہ انٹرنیٹ پر موجود ہے یہ سن کر شاہدہ نے کہا کہ ہاں یہ بات تو بلکل صحیح ہے مجھے بھی جب اپنی پیاس بجھانی ہوتی ہے تو میں انٹرنیٹ کا ہی استمال کرتی ہوں کسی قسم کا خوف نہیں اور آرام سے مٹہ بھی لگ جاتی ہے یہ سن کر میں بھی ہنس پڑا اور کہا کہ اب ہم دونوں کو انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی یہ سن کر شاہدہ نے میرا لند سہلاتے ہوے کہا کے یہ تو ہے مگر اب ہم دوبارہ لیب لیب میں چو دائی نہیں کریں گے یہ تمہاری ذمےداری ہے کہ تم گھر کا انتظام کرو اور مجھے سکوں سے پلنگ پر لیٹا کر چودو یہ سن کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ ایسا کیسے ممکن ہو گا اس دوران شاہدہ نے تھودا سا اٹھ کر اپنی ٹانگیں کھولیں اور میرے لند کو اپنی چو ت کی موری پر جما دیا اور پھر آہستہ آہستہ اوپر نیچے اٹھنا بیٹھنا شرو ع کر دیا شاہدہ کے ایسا کرنے سے اور میرے لند کے پانی کی وجہ سے شاہدہ کی چو ت چکنی ہونی شرو ع ہو گی اور میرا لوڑا آسانی سے شاہدہ کی ٹائٹ مگر چکنی چو ت میں گھسنا شرو ع ہو گیا شاہدہ اب بڑی مہارت کے ساتھ میرے لند کو اپنی چو ت میں اندر باہر کر رہی تھی اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے کندھے جکڑے ہوے تھے اور وقفے وقفے سے مجھے چومتی جا رہی تھی شاہدہ کی دیوانگی اپنے عروج پر تھی اور میں اسے اتنی بیخودی کے ساتھ چو واتے ہوے دیکھ کر خوش ہو رہا تھا اور ساتھ ساتھ یہ بھی سوچ رہا تھا کے شاہدہ کا کہنا بلکل صحیح تھا مجھے شاہدہ کو چود نے کے لیے اب کوئی باقاعدہ انتظام کرنا ہو گا، کیونکے جتنا مزہ مجھے آ رہا تھا اتنا ہی مزہ شاہدہ کو بھی آ رہا تھا اور میں چاہتا تھا کے ہم دوں اس وقت کو مل کر خوب انجویے کریں اس دوران شاہدہ کے جھٹکے میرے لند پر متواتر لگ رہے تھے اور ساتھ ساتھ شاہدہ کی سسکیاں بھی نکل رہیں تھیں جو مجھے اور بھی زیادہ مست کر رہیں تھیں پھر شاہدہ اچانک مجھ سے بڑی سختی سے لپٹ گی اور اس کے جسم میں بڑی زور کے جھٹکے لگنے لگے اور ساتھ ساتھ اس جسم بھی کاپنے لگا اور پھر وہ ایک دم سے بیجان ہو کر مجھ پر گر پڑی میرا لند ابھی نہیں چھوٹا تھا مگر میں نے شاہدہ کو ایسے ہی اپنے اوپر پڑا رہنے دیا اور اپنے لند کو شاہدہ کی ٹائٹ چو ت کی گہرایوں میں ہی پڑا رہنے دیا اور اس کی کمر سہلا نا شرو ع کر دیا شاہدہ کے ماتھے پر پسینا پھیل رہا تھا اور اس کا جسم ٹھنڈا ہوتا جا رہا تھا شاہدہ اب تھوڑی شرمندہ سی لگ رہی تھی میں اس سے پوچھا کے ایسا کیوں ہوا تو وہ کہنے لگی کے بس اس بار میں جلدی چھوٹ گی ہوں اور اب تمہارا لند میری چو ت کو تکلیف پوہچا رہا ہے میں نے پوچھا کے اب میرا کیا ہو گا تو وہ کہنے لگی کے پریشان کیوں ہوتے ہو چو ت نہیں تو کیا ہوا میں تمہاری مٹہ مر دوں گی اور تم یقین کرو تمھیں چو ت سے زیادہ مزہ آئے گے یہ شاہدہ کا تم سے وعدہ ہے یہ سن کر میں نے شاہدہ کی چو ت میں سے اپنا اکڑا ہوا فولادی لند باہر نکال لیتا میرے لند کے باہر نکالے سے شاہدہ ایک دم پر سکوں ہو گی اور اس کی سانسیں دوبارہ اعتدال پر آ نا شرو ع ہو گئیں ساتھ ہی ساتھ شاہدہ میری گود میں ہی آنکھیں بند کر کے سستانے لگی ایک ہاتھ اس ننے میرے کندھے پر رکھا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سیٹ میرے لند کو پکڑ کر آہستہ آہستہ اوپر نیچے دبتی اور سہلاتی جا رہی تھی تھوڑی دیر اس طر ح آرام کرنے کے بعد شاہدہ میری گود سے اتر کر زمین پر میری ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھ گئی ایک ہاتھ سے اس نے میرے لند کی ٹوپی کو دبوچا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے وہ میرے ٹٹو ںکو سہلا رہی تھی شاہدہ کی اس حرکت نے مجھے بلکل ہی پاگل کر دیا میں اس کے گالوں اور سر پر اپنے ہاتھ پھیررہا تھا اور وہ میرے لند کو خوب زور زور سے مسل رہی تھی اور پھر اس نے دونوں ہاتھوں سے مٹہ مارنی شرو ع کر دی شاہدہ جیسے جیسے مٹہ میں تیزی لا رہی تھی میرے اندر ایک لاوا سا بہکتا جا رہا تھا کافی دیر تک شاہدہ میری مٹہ مارتی رہی مگر میرا پانی تھا کے چھوٹ کے نہیں دے رہا تھا شاہدہ اب بڑی سفاکی کے ساتھ میرے لند کی ٹوپی کو رگڑ رہی تھی مگر جہاں میری لذتوں میں اضافہ ہو رہا وہاں شاہدہ کی تھکاوٹ بھی بڑھتی جا رہی تھی شاہدہ نے مٹہ مرتے ہوے مجھ سے پوچھا کے آخر تم اپنا پانی چھوڑ کر مجھے فارغ کیوں نہیں کر دیتے ہو میں بہت تھک گئیں ہوں میں نے کہا کے شاہدہ میں تو چاہتا ہوں مگر پتا نہیں کیوں میرا پانی نہیں چھوٹ رہا اب یہ تمہاری مرضی ہے جو بھی تمہارا دل چاہے وہ کرو اس بات چیت کے درمیان شاہدہ کا چہرہ میرے لند کے بہت ہی قریب آ گیا اور شاہدہ اب مٹہ مارتے ہوے میرے لند کی ٹوپی کو بڑے غور سے گھور رہی تھی میرے لند کی ٹوپی رطوبت کی وجہ سے چکنی ہو رہی تھی اور شاہدہ کی مٹہ مرنے کی وجہ سے پھولی ہوئی وی تھی اچانک شاہدہ نے اپنے ہاتھ کو میرے لند کی جڑ میں روک کر اسے وہیں سے سختی سے پکڑ لیا اور میرے لند کو اپنے چہرے پر مارنے لگی کبھی اپنے ماتھے پر مارتی کبھی اپنے گالوں پر رگڑتی شاہدہ کے ایسا کرنے سے مجھے اور بھی مزہ آ نے لگا اور وہ مجھے اور بھی پیاری لگنے لگی پھر بلاخر وہ ہوا جس کا مجھے انتظار تھا مگر میں خود سے شاہدہ سے کہنا نہیں چاہ رہا تھا، شاہدہ نے میرے لند کی ٹوپی اپنے ہونٹوں میں دبوچ لی اور اپنی زبان میرے لند کی ٹوپی پر پھیرنے لگی واہ کیا لمحے تھے میں بلکل مدہوش ہو چکا تھا اور شاہدہ کا مکمل رحم و کرم پر تھا مگر اب شاہدہ میرا پورا خیال کر رہی تھی اور میرے لند کی ٹوپی کے نیچے کا حصہ جو اس کے منہ سے باہر تھا وہ اس نے اپنے ماموں کے بیچ میں دبا لیے تھے اس وقت مجھے لگا کے شاہدہ میرے لیے لازم و ملزوم بن چکی تھی میں اس کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہنے کا نہیں سوچ سکتا تھا بہرحال شاہدہ اب میرے لند کی ٹوپی کو بڑی رغبت اور شہوت کے ساتھ چاٹ چاٹ کر چوستی جا رہی تھی کبھی وہ اپنے دانتوں سے میرے لند کی ٹوپی کو کچوکے بھی لگا دیتی تھی جس میرے جسم میں مزید بجلیاں سی دوڑ جاتی تھیں اب شاہدہ کو اس بات کی فکر نہیں تھی کے میں کب چھوٹوں گا بجاے اس کے اب وہ خود دوبارہ کھولنا شرو ع ہو گئی تھی اور میرے لند کو چوسا اسے چدنے سے بھی زیادہ اچھا لگ رہا رہا تھا شاہدہ میرے لند سے کھیل رہی تھی اور مجھے بےتحاشا مزہ آ رہا تھا اچانک مجھے خیال آیا کے کیوں نا میں بھی شاہدہ کی چو ت چوسنا اور چاٹنا شرو ع کر دوں اس طر ح ہم دوں کا کام بھی ہو جایےگا شاہدہ میرے لند کو بڑی شاد و مد سے چوس رہی تھی جب میں نے شاہدہ سے کہا کے وہ ذرا اپنے چوتر میرے منہ کے سامنے کر دے تکے میں اس کی چو ت کو چوسنا شرو ع کر دوں اور وہ ساتھ میرے لند کو چوستی رہے یہ سن کر شاہدہ بہت خوش ہوئی اور میرے ہونٹوں کو چومتی ہوئی میرے اوپر چڑھ کر الٹی لیٹ گئی اب میرے سامنے شاہدہ کی بھیگی ہوئی بالوں سے بھری ہوئی چو ت تھی اور شاہدہ دوبارہ سے میرے لند کو اپنے مموں کر بیچ میں دبوچ کر میرے لند کی تپوئی چوسنا شرو ع کر چکی تھی میں نے بھی شاہدہ کی چھوٹ میں اپنا منہ دے کر اس کی چو ت کو زور زور سے بھنبھوڑنا شرو ع کر دیا میری اس حرکت کی وجہ سے شاہدہ کو بھی جھٹکا لگا اور اس نے بھی جوابن میرے لند کو اپنے دانتوں سے کچوکے مارنے لگی اب جیسے میں شاہدہ کی چو ت کے ساتھ زیادتی کرتا تھا وہ اس کے جواب میں میرے لند کی ٹوپی کے ساتھ زیادتی کرتی تھی ہمارے اس کھیل کی وجہ سے دونوں ہی مست ہووے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ کھیلے جا رہے تھے میں نے شاہدہ سے کہا کے اب میں زیادہ دیر تمہارا مقابلہ نہیں کر سکوں گا بس اتنا بتا دو کے جب میرا پانی چھوٹنے والا ہو گا تو میں کیا کروں تمہارے منہ میں چھوڑ دوں یا یا پھر تم پانی کا فوارہ دیکھنا پسند کرو گی یہ سن کر شاہدہ نے کہا کے کے میں فوارہ دیکھوں گی اگلی مرتبہ میں پی جاؤں گی مگر میں اس بار تمہاری بےپناہ طاقت کا مظاہرہ دیکھنا پسند کروں گی اور ساتھ ہی دوبارہ میرے لند کو اپنے ہونٹوں میں چبانے لگی میں تو چھوٹنے ہی والا تھا مگر شاہدہ کی اس حرکت نے ایک دم ہی میرے لند کو جھٹکا دیا اور میں نے چیخ کر شاہدہ سے کہا کے لند کو منہ سے نکال لو یہ سنتے ہی شاہدہ نے میرے لند کو اپنی مٹھی میں لے زور زور سے مسلنا شرو ع کر دیا اور پھر ایک زور دار پچکاری کے ساتھ میرے لند نے پانی اگلنا شرو ع کر دیا ساتھ ہی ساتھ میں نے بھی زور زور سے شاہدہ کی چو ت کے چوسنے کے عمل کو تیز کر دیا اور اگلے ہی لمحے شاہدہ کے جسم نے بھی جھٹکے لینا شرو ع کر دیے اور پھر وہ ٹھنڈی پڑ گئی میں نے شاہدہ کو اپنے اوپر سے اتار کر صوفے پر لیٹا دیا وہ بلکل بے سدھ ہو کر صوفے پڑ لیٹ گئی پھر میں نے اپنے لند کو واش روم میں جا کر دھویا اتنی دیر میں شاہدہ بھی واش روم میں آ گئی گو کہ شاہدہ کو چلنے میں تھوڑی تکلیف ہو رہی تھی مگر پھر بھی وہ بہت خوش تھی اس نے بھی اپنی چو ت کو دھویا اور پھر ہم دوں نے کپڑے پہنے اور لیب کو بند کر کے کولج سے باہر نکال آے میں شاہدہ کو اس کے ہوسٹل اتارا اور پھر اپنے ہوسٹل آ کر شاہدہ کی باتوں کے بارے میں سوچنے لگا کیونکے شاہدہ نے بائیک سے اترتے ہووے مجھے دوبارہ یاد دلایا کہ اگلی چو دای کا مجے کہیں بہتر انتظام کرنا ہے شاہدہ نے بائیک پر مجھے پیچھے سے جکڑ کر پکڑا ہوا تھا اور میرے دل پر اپنی انگلیاں پھیرتی رہی سارے وقت اس کی اس مہبت نے مجھے اور بھی بچیں کر دیا تھا اور اب مجھے شاہدہ کو مستقل اپنے ساتھ رکھنے کا انتظام کرنا تھا،

دوستوں میرا خیال تھا کے میں اس کہانی کو یہاں پر ہی ختم کر دوں گا مگر یہ سلسلہ ابھی جاری رہے گا اپنی قیمتی آرا سے کھل کر نوازئے کیونکے اس سے مجھے اپنی لکھائی میں مہارت حاصل کرنے میں مدد ملے گی

 
Share
Article By :