urdu sex story – شاہدہ کیمسٹریلیب اسسٹنٹ

 پیارے دوستو میری ایک اور کوشش آپ سب سے درخوست ہے کہ غلطیوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کریں، یہ کہانی اسی دن شرو ع ہو گئی تھی جب میں نے اپنے کالج کی کیمسٹری لیب میں پہلا قدم رکھا تھا ، میرا سامنا شاہدہ سے ہوا جو لیب اسسٹنٹ تھی اور اس نے میری لیب میں داخلے کا پرچہ تیار کیا تھا، شاہدہ مجھے پہلی نظر میں اس لیے بھا گئی کیونکے وہ ایک چھوٹے قد کی مگر بھر پور جسم کی مالک تھی بڑے اور بھاری ممے اور اس کے ساتھ پتلی کمر اور خوبصورت ترشے ہوے چو تڑجب وہ چلتی تو دونوں کی حرکت سے پورے جسم میں ایک بجلی سی دوڑ جاتی تھی، بہرحال میرا اسے پسند کرنے کا ایک مقصد اس کا کم وژن ہونا بھی تھا یہ آپ کو آگے چل کر سمجھ میں آ جایے گا شروع کے دنوں میں شاہدہ نے میری نظروں کو نظر انداز کیا مگر میری مسلسل نظروں کی گستاخیوں کو زیادہ دیر نظر انداز نہیں کر سکی شاید اس سے پہلے کسی لڑکے نے اس کو اتنا تا ڑا بھی نہیں ہوگا، آہستہ آہستہ کچھ دنوں میں اس

نے بھی پگھلنا شرو ع کر دیا اور میرا لیب میں استقبال بڑی میٹھی مسکراہٹ سے کرنا شرو ع کر دیا اور اس کا رویہ میرے ساتھ بے تکلفانہ ہو گیا تھا، ہماری اس دوستی کی وجہ سے شاہدہ نے مجھ کو کافی مدد بھی کی پڑھائی میں اور میری کیمسٹری بھی اچھی ہو گئی، پڑھائی کے دوران جب وہ پرکٹیکل کرواتی تھی میں اس کے چو تڈوں کو دباتا رہتا تھا یر پھر سہلاتا رہتا تھا ، میری اس حرکت کا اس نے کبھی بھی برا نہیں منایا ، ایک دن میں نے اسے کہا کے کہ میرا بہت دل چاہ رہا ہے کہ اس کے ہونٹوں اور مموں کو خوب زور سے چوسوں میری بات سن کر شاہدہ نے کہا کے دو بجے کے بعد میں لیب میں آ جاؤ کیونکے دو بجے کے بعد لیب بند ہو جاتی ہے اور کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا کیونکے پھر وہ لیب اندر سے بند کر کے اپنا کام مکمل کرتی ہے، جب میں لیب سے باھر جا رہا تھا تو پیچھے سے شاہدہ نے کہا کہ بجا ے دو کے بعد ، دو سے تھوڑا پہلے آجانا ، میں نے پوچھا اس کی وجہ ، تو وہ کہنے لگی کہ اس وقت تین چار لڑکے ہوں گے ان کے سامننے تم آ کر درخواست کرنا کہ تمہارا پرکٹیکل خراب ہو گیا ہے اور تمھیں دوبارہ کرنے کی اجازت دی جایے میں میں سب کے سامنے منا کر دوں گی، تم سب کے سامنے خوب گڑگڑا کر پھر درخواست کرنا ظاہر ہے پھر دوسرے بھی تمہاری خاطر مجھ سے درخوست کریں گے تو میں تمھیں اجزت دے دوں گی اور پھر کام آسان ہو جایے گا ، یہ سن کر میں کلاسس سے باھر نکل گیا مگر مجھے شاہدہ کی شہوت بھاری مسکراہٹ سکوں نہیں لینے دے رہی تھی بار بار میرا لنڈ کھڑا ہو جاتا تھا پینٹ میری بہت ٹائٹ تھی اس وجہ سے لنڈ کا ابھار بڑا وضا ے طور پر نظر آ رہا تھا ، میں نے اس وجہ سے اپنی قمیض باھر نکال لی تھی، کلاسس میں بلکل دل نہیں لگ رہا تھا بار بار شاہدہ کا خیال تنگ کر رہا تھا اس کے شہد سے بھرے ممے اور رسیلے ہونٹ بری طر ح سے تڈ پا رہے تھے میرا وقت بلکل بھی نہیں گزر رہا تھا خیر جیسے تیسے دو بجنے میں پانچ منٹ پر میں لیب میں تھا شاہدہ اس وقت چار لڑکوں کو پرکٹیکل مکمل کروا رہی تھی مجھے دیکھ کر کہنے لگی کہ آپ تو اپنی کلاسس ختم کر چکے ہیں، میں نے اس سے کہا کہ میرا پرکٹیکل غلط ہو گیا ہے اور میں آپ سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے ایک موقع اور دے دیں کیونکے آج آخری دن تھا اور اب امتحان ہوگا یہ سب کر شاہدہ بولی کے اب تو وقت ختم ہو گیا ہے اور لیب بند ہو چکی ہے اور مجھے اپنا کام مکمل کرنا ہے اگر میں آپ کو وقت دوں گی تو مجھے بہت دیر ہو جایے گی میں آپ سے معافی مانگتی ہوں یہ سن کر میں نے بڑی رقت کے ساتھ گڑگڑا کے دوبارہ درخواست دوہرائی میری یہ حالت دیکھ کر دوسرے لڑکے بھی میرے حق میں بولنے لگے یہ سن کر شاہدہ نے ان لڑکوں سے کہا کے میں آپ لوگوں کی وجہ سے انہیں یہ موقع دے رہی ہوں، اور مجھے کہا کے آپ بیٹھ جایئں میں ان لوگوں کو فارغ کر کے پھر آپ کو دیکھتی ہوں مگر ان لوگوں کے جانے کے بعد مجھے دروازہ اندر سے بند کرنا ہوگا کیونکے اگر پھر مزید کوئی آ گیا تو میرے لیے مشکل ہو جایے گی، میں شاہدہ کا ان سن کے سامنے بہت بہت شکریہ ادا کیا اور سامنے کرسی پر بیٹھ کر اسے کام مکمل کرتے ہوے دیکھنے لگا شاہدہ نے دس منٹ لگایے ان سب کوفارغ کرنے میں اس دوران میں اس کے جسم کے حسین نشیب و فراز میں کھویا رہا اس دن اس نے گلابی قمیض اور سفید شلوار پنہی ہوئی تھی ریشمی شلوار قمیض میں اس کا جسم اور بھی خوبصورت لگ رہا تھا، یہ کہنا بلکل بیکار ہے کہ میرا لنڈ اس وقت کتنی بری طر ح سے اکڑا ہوا تھا بلاخر شاہدہ نے سب کے جانے کے بعد اندر سے دروازے کو کنڈی لگا دی اور دروازے پر ہی کھڑے ہو کر میری طرف اپنے بازو کھول دیے مجھ سے انتظار بلکل نہیں ہو رہا تھا یہ دیکھ کر میں دوڑ کر شاہدہ کے پاس پوھنچا ائر اس سے سختی سے چمٹ گیا میں نے جھک کر اپنے سینے سے شاہدہ کی چھاتیوں کو دبوچ لیا اور اپنے ہونٹوں سے شاہدہ کے ہونٹوں کی بڑی سختی کے ساتھ چسپاں کر دیا شاہدہ نے اپنی زبان میرے منہ میں دل دی جسے میں نے مزے لے لے کر چوسنا اور چاٹنا شرو کر دیا اب کبھی میں شاہدہ کی زبان چوستا تھا اور کبھی وہ میری اسی طر ح ہم دونوں ایک دوسرے کو چومتے اور چاٹتے جا رہے تھے جتنا مزہ مجھے آ رہا تھا اتنا ہی مزہ شاہدہ کو بھی آ رہا تھا میں نے اس کی نرم ملایم چھاتیوں کو سختی سے اپنے سینے میں جکڑا ہوا تھا مگر شاہدہ اس سے زیادہ زور لگا کر میرے سینے کو اپنی چھاتیوں میں دبا رہی تھی شاہدہ کو کو میں اس اپنے بازوں میں جکڑ کر اٹھایا ہوا تھا اور وہ اتنی ہکلی پھلکی تھی کے مجھے ذرا بھی محسوس نہیں ہوا اس دوران مجھے اچانک ایسا لگا کہ میرا لنڈ کہیں جکڑا لیا گیا ہے جس کی وجہ سے مجھے اور بھی لزت ملنی شرو ہو گیی ہم دونوں ایک دوسرے میں گم ایک دوسرے کے مزے لوٹ رہے تھے جتنا میں پیاسا تھا اس سے کہیں زیادہ وہ تڑپی ہوئی تھی ، میں نے شاہدہ کی قمیض اتارنی چاہی تو اس نے اپنے دونوں بازو اپر کر دیے میں شاہدہ کو نیچے اتر کر اس کی قمیض اتاری اور ساتھ میں برازئیر بھی اتر دی جی کی وجہ سے اس کی گول سرخ و سفید ممے کھل کر میرے سامنے آ گیے میں شاہدہ کے نیپل پر منہ لگانا ہی چاہتا تھا کہ اس نے مجھہے اپنی قمیض اور پینٹ اتارنے کو کہا یہ سن کر میں نے فورن اپنی پینٹ اور قمیض اتار دی ساتھ ہی میں نے نے اس کی سفید شلوار بھی نیچے کھینچ کر اتار دی اب ہم دونوں ایک دوسرے کے سامنے بلکل ننگے کھڑے ہوے تھے اور ایک دوسرے کو پیاسی اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے تھے شاہدہ کی نظریں میرے لنڈ پے ٹکی ہویں تھیں میں شاہدہ سے کہا کے میں پہلے تمہارے ممے چوس لوں تھوڑی دیر تو وہ مسکرانے لگی اس کے ساتھ ہی میں نے اپنےہونٹ اور زبان سے دونوں ممے چاٹنے اور چوسنے شرو کر دیے جیسے جیسے میں شاہدہ کے ممے چوستا اور چاٹتا جا رہا تھا ویسے ہی ویسے وہ مستی میں بخود ہوتی جا رہی تھی اسے میرا اس کے ممے چوسنا اور چاٹنا بہت ہی اچھا لگ رہا تھا، مجھے بھی بہت مزہ آ رہا تھا ساتھ ساتھ میں شاہدہ کے چوتروں کو اپنی مٹھیوں میں لے کر مسلتا جا رہا تھا شاہدہ پوری طر ح سے مست ہو چکی تھی اور میرا جو بھی دل چاہ رہا تھا وہ میں کرنے کے لیا آزاد تھا ممے چوسنے کے بعد میں اپنے منہ کو اس کے پیٹ پر لیا اور اس پر اپنی زبان پھیرنے لگا میرے ایسا کرنے سے اس کے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا مگر میں نے سختی سے اسے اس کے چوتروں سے پکڑا ہوا تھا، شاہدہ کی مستی سے بھاری ہی آوازیں لیب میں گونج رہیں تھیں پھر میں نے شاہدہ کی ایک ٹانگ اپنے کندھے پر رکھی ایسا کرنے سے اس کی بالوں سے بھاری ہوئی چھوٹ میرے سامنے آ گیی میں نے اس کی چو ت پر جیسے ہی اپنی زبان لگی تو شاہدہ باختیار سسک اٹھی اور اس کے منہ سے نکلا ہاے میں مر گئی ظالم کیا کر رہے ہو میں نے اس پوچھا کیسا لگ رہا ہے تو وہ اور تڑپ گئی اور کہنے لگی تم بہت ظالم ہو مجھے اتنا ستا اور تڑپا رہے ہو میں پوچھا وہ کیسے تو وہ کہنے لگی تم تو میری چو ت چوسنے میں لگ جاؤ گے اور میری پیاس اور بڑھ جایے گی میں کہا تم پریشن نہ ہو میرے پاس اس کا بھی علاج ہے بس تم دیکھتی جاؤ پھر میں نے شاہدہ کو اپنے بازوں میں اٹھا لیا اور اس کے ہونٹوں پر دوبارہ اپنے ہونٹ جما دیے شاہدہ نے اپنے دونوں بازو میری گردن میں حمائل کر دیے اور اپنے آپ کو تھودا اور اوپر اٹھا لیا اور اپنی دونوں ٹانگیں میری کمر کے گرد کس لیں شاہدہ کے ایسا کرنے کے بعد مجھے ایسا لگا کے میرا لنڈ کسی بہت ہی نرم گرم اور چکنی جگہ پر رگڑ تھا رہا ہے میں نے اپنے لنڈ کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اندازے سے پھر اسی چکنی جگہ پر رگڑا جس سے مجھے یہ اندازہ ہو گیا کے یہ شاہدہ کی چو ت ہے جو بری طر ح سے چکنی ہو رہی تھی نیرہ فولادی لوڑا جو بلکل سیدھا اکڑ کر شاہدہ کی چو ت پر اٹکا ہوا تھا اور صرف ایک دھکے کا انتظار کر رہا چو ے میں گھسنے کے لیے میں نے شاہدہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے اپنے لوڑے کو ایک ہلکا سا جھٹکا دیا میرا یہ جھٹکا لگنا ہی تھا کے شاہدہ کی ٹانگوں کی گریپ میری کمر پر اور سخت ہو گئی اور اس کے ساتھ ہی اس نے میرے ہونٹوں کو اور زور سے دبوچ لیا شاہدہ کے ایسا کرنے سے مجھے صاف اشارہ مل گیا اس کی رضامندی کا اب میں نے اپنے لنڈ کی پھولی ہوئی ٹوپی کو زور سے اندر گھسانا شرو کر دیا میرے اس زور دے دھکے نے میرے لوڑے کو کافی اندر داخل کر دیا میں شاہدہ کو دیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر ایک سکوں سا آتا جا رہا تھا اس نے اپنی آنکھیں بند کی ہوئیں تھیں اور سختی سے مجھ سے چمٹی ہوئی تھی، میں بھی مزے لیتے ہوے شاہدہ کے دونوں چوتروں کو اپنی مٹھیوں میں دبوچے ہوے آھستہ آھستہ اپنے لنڈ کو اس کی چو ت میں گھسیڑ رہا تھا شاہدہ کی چو ت بہت ٹائٹ تھی مگر میرے لنڈ کی سختی کے اگے اس نے بھی ہار ماننی شرو کر دی اور پھر چند لمحوں میں میرے ایک زور دار جھٹکے نے میرے لنڈ کو شاہدہ کی چو ت کی گہرایوں میں پوھنچا دیا، میرے پورے لنڈ کے گھستے ہی شاہدہ کی چیخ نکل گئی جس کے لیے میں پہلے ہی سے تیار تھا جیسے ہی اس کی چیخ نکلی ہاے میری ما ں میں مر گئی میں نے پھر اس ہونٹوں کواپنے ہونٹوں میں دبوچ لیا اور آہستہ آہستہ نیچے سے اپنے لنڈ کو اندر باھر کرنے لگا میری اتنے پیار سے جھٹکے لگانے سے شاہدہ کو بھی لطف آنے لگا اور اس نے بھی اپر سے نیچے ہلنا شرو کر دیا میں پہلے اپنے لنڈ کو نیچے لاتا تو شاہدہ اپنی چو ت کو اپر لے جاتی اور جیسے ہی میرے لنڈ کی ٹوپی شاہدہ کی چو ت کے سوراخ کے پاس پوھنچتی تو ہم دونو ایک جھٹکے کے ساتھ دوبارہ لنڈ اور چو ت کو ٹکرا دیتے ہمارے ایسا کرنے سے دونوں کو بہت مزہ آ رہا تھا مجھے شاہدہ پر بہت پیار آ رہا تھا، اور شاہدہ مجھ پر بری طر ح سے فدا ہوئی وی تھی ہمارے جہتوں کی آوازیں لیں میں گونج رہیں تھیں شاہدہ کی چو ت اور میرے لنڈ کے پانی نے شاہدہ کی چو ت کو بہت ہی گیلا اور چکنا بنا دیا تھا اور اس کی وجہ سے پچ پچ کی آوازیں نکل رہیں تھیں شاہدہ کی گریپ مجھ پر بہت سخت تھی اور میں نے بھی شاہدہ کو اپنے سے سے چمٹایا ہوا تھا، شاہدہ مجھ سے زیادہ تیزی سے اپنی چو ت کو میرے لنڈ پر اپر نیھے دھکے لگا رہی تھی جس کو وجہ سے ہم دوں کا لطف دوبالا ہوے جا رہا تھا، ہم دوں ایک دوسرے کو بے تحاشا چوم چاٹ رہے تھے مجھے لگ رہا تھا شاہدہ اور میں ایک دوسرے کے لیے بہترین چود ای پارٹنر تھے ، شاہدہ سے میں پوچھا اب اسی ہی طر ح چودنا ہے یہ کچھ اور کریں ، شاہدہ کہنے لگی کہ یہ میری پہلی یادگار چود ای ہے اس لیے جب تک وہ چھوٹ نہیں جایے گی اسی ہی طر ح سے دھکے لگاتی رہے گی ساتھ ہی اس نے مجھے کہا کے ایسے بہت مزہ آ رہا ہے میں اسے دھکے مارتا رہوں جب وہ چھوٹ جایے گی پھر کسی اور طریقے کے بارے میں سوچے گی کیونکے مجھے بھی اتنا ہی مزہ آ رہا تھا جتنا شاہدہ کو تو میں نے بھی کوئی جلدی نہیں کی اور اطمینان سے شاہدہ کو اس کے چوتروں سے پکڑ کر دھکے مارتا رہا کبھی ہمارے دھکوں میں تیزی آ جاتی تھی تو کبھی تھک کر آہستہ ہو جاتے تھے یہ پر لطف کھل ہم دوں کے بیچ میں بڑی مہارت کے ساتھ چل رہا تھا شاہدہ مجھ سے بہت خوش تھی اور اس اظہر اپنے گرمجوش اور گیلے بوسوں سے تھوڑی تھوڑی دیر میں دے رہی تھی اپنی زبان سے اس نے میرے چہرے کو چاٹ چاٹ کر گیلا کر دیا تھا اس کے دیکھا دیکھی میں بھی اس کے چہرے کو چاٹ رہا تھا جس سے وہ بھی بہت مہزوس ہو رہی تھی، پھر اچانک شاہدہ کے دھکوں میں بہت تیزی آ گئی اس کی مجھ پر گرفتسخت سے سخت ہوتی جا رہی تھی اور وہ مھجے بھی کہ رہی تھی کے میں اسے برق رفتاری سے کس کس کے دھکے ماروں ہم دوں کی اس تیز رفتاری کا نتیجہ آنا شورو ہو گیا شاہدہ ایک زور دار سانس اور جھٹکا لینے کے بعد ایک دم سے بری طر ح سے اکڑ گئی اور پھر اس کے جسم نے ایک زور دار جھٹکا خانے کے بعد بلکل مجھ پر ڈھیلی ہو کر بکھر گئی اب صرف میرے دھکے نیچے سے شاہدہ کی چھوٹ میں لگ رہے تھے شاہدہ کا چہرہ ایک دم سے مطمئن ہو گیا تھا اور میرے زور دار جھٹکوں سے اس کے کھڑے پر ایک مسکان سی پہیل گئی تھی اس نے مجھ سے کہا کے اسے اب اس کی چو ت میں میرے پانی کا پوارا پھوٹ [اڑنے کا انتظار ہے وہ میری منی کا مزہ اپنی چو ت میں محسوس کر کے اس کا مزہ لوٹنا چاہتی ہے، بہرحال تھوڑی دیر میں میرے لوڑے سے پانی چھوٹ گیا اور ایک پر لطف چود ای کا رنگین خاتمہ ہو گیا میرا پانی چھوٹنے کے بعد شاہدہ میری گود میں سے عطر آئی میں بھی تھک کر کرسی پر بیٹھ گیا، شاہدہ پھر دوبارہ میری گود میں آ کر بیٹھ گئی اور مجھے چومنے لگی مجھے بھی اس کے چومنے سے مزہ آ رہا تھا خاص طور پر جب وہ زبان سے زبان رگڑتی تھی تو بہت مزہ آتا تھا .


دوستو شاہدہ کے ساتھ وہ پہلی یادگار دوپہر کی داستان ابھی جاری ہے ، اگلے ہفتے کا انتظار کیجیے اور اپنی قیمتی آرا سے زیادہ سے زیادہ لکھیے

Article By :

Leave a Reply