arabic sex story – چوت کا تالا …بھیڑ کا آنند

چوت کا تالا …بھیڑ کا آنندمیںدلی کی رہنےوالی ھون। جو کسسا میںآپکو سنانےجا رہی ھوں , وہہ کچھ سال پہلےمیرےساتھ میرےکالیج کےسب سے پہلے سال میں ہوا تھا। کالیج شروع کرنےپر میرا بس سےآنا جانا بڑھ گیا। کالیج کا پہلا سال تھا। سکول سےنکل کر ملی ہوئی آزادی کا پہلا پہلا سواد تھا। دلی کی بسوںمیں چلنےکی عادت بھی پڑنےلگی , اور مزا بھی آنےلگا। ویسےتو دلی کی بسیںلڑکیوںکےلئے مسیبت بھری ھوتی ہیں , اتنی بھیڑ ھوتی ہے , اُوپر سےبھیڑ میں ھر مرد آشک بن جاتا ہے। ویسےتو کالیج جانا شروع ھونےسےپہلےسےھی دلی کی بسوںمیں کوئی نہ کوئی اَنکل ہمیشہ کبھی میرےمممےدبا دتے , تو کبھی میری چوت سہلا دتی। لیکن کالیج کےپہلےسال تک مجھےاس مسیبت میں مزا آنےلگا تھا। میری جوانی خود ھی گرمی کھا رہی تھی। دلی کی بسوںمیں مردوںکےبھوکھےھاتھ

اچھے لگنےلگےتھی। جب سہیلیوںکےساتھ ھوتی تب تو سیدھی رہتی لیکن جب اَکیلی کالیج جا رہی ھوتی تو اگر کوئی بس میں میرےمممےدباتا , تو بجایہ اُسےمنع کرنےکےیا دور ھٹنےکے , میںچپ چاپ اَنجان بنی رہتی। اُسکی ہمت بڑہتی اور وہ راستےبھر میری چوچیاںدباتا , یا پھر میری چوت سہلاتا। کبھی کوئی لڑکا اپنا کھڑا لنڈ میری چوت یا گانڈ سےسٹا کےدباتا। کوئی کوئی تواتنی بیرہمی سےچوچیاںمروڑتا تھا کہ سیدھےبجلی کی طرح چوت میں کررینٹ لگ جاتا। مجھیاتنا مزا آنےلگا تھا کہ کبھی کبھی جانبوجھ کر بنا برا اور پینٹی پہنےکالیج جاتی। برا اور پنٹی بیگ میں رکھ لیتی , کالیج پہنچ کر پہننےکےلئے। بنا برا کےجب کوئی مرد میرےمممےپکڑتا اور دباتا , ایسا لگتا جیسےمیںننگی ھوںاور اُسکےکھردرےھاتھ چودنےسےپہلےمیری چوچیوںکا مزہ لےرہےہیں। بنا پینٹی کےجب کسی کا کھڑا لنڈ میری چوت سےٹکراتا تو بس اُسکی پینٹ اور میری سکرٹ کےپتلےکپڑےکےعلاوہ درمیان میں کچھ نہیںھوتا। اؤر لڑکیاںکبھی کبھی بس میں سفر کرنےسےشکایت کرتی تھیں , پر مجھےتو دلی کی بسوںمیں سفر کرنا بہت بھاتا تھا। ئیک دن ایسا ھی ہوا کہ میںبس میں کالیج جا رہی تھی। پہلی کلاس تھوڑی دیر سےتھی , لیکن بس ٹھساٹھس بھری ہوئی تھی। بس ایک سٹاپ پر رکی اور دو لڑکےبس میں چڑہی। اَندر جگہ نہیںتھی , پر جگہ بناتےہوئے وہ اَندر آ گئی। ان میں سےایک کی نظر مجھ سےملی , اور نہ جانےکیوںاُسنےمیری طرف بڑہنا شروع کر دیا। بھیڑ کو چیرتےہوئے , وہ بس میں اَندر آتا رہا اور میرےپاس آکر رک گیا। دوسرا لڑکا بھی اُسکےپیچھےپیچھےجگہ بنتا ہوا پاس میں آ گیا। پہلا لڑکا اُونچا اور گورا تھا , دوسرا لڑکا عام اُونچائی اور رنگ کا تھا। دونوںمیرےپاس تھوڑی دیر تک چپ چاپ کھڑےرہی। بس چلتی رہی اور اُسکےتیز موڑ اور دھککےبار – بار مجھےاُس اُونچےلڑکےسےٹکرانےپر مجبور کر رہےتھی। شاید اُس لڑکےکو میرےممموںکےاُچھال سےسمجھ میں آ گیا کہ میںنے برا نہیںپہنی ہے। وہ دھیان سےمیرےسینےکی طرف دیکھنے لگا اور پھر تھوڑا اور آگے بڑھ کر میرےاور قریب آ گیا। اَب تو میری ناک اُسکی چھاتی سےٹکرا رہی تھی। اَگلی بار جب بس کا دھکا لگا , تو میںقریب کریب اُسکےاُوپر گر ھی پڑی। سنبھلنےمیں میری مد کرتےہوئے اُسنےمیرےدونوںچوچیوںکو پوری طرح جکڑ لیا।اتنی بھیڑ تھی اور ھماتنےقریب تھےکہ میرےسینےپر اُسکےھاتھ اور میری چوچیوںکا بیدردی سےمسلنا کوئی اور نہیںدیکھ سکتا تھا। میرےسارےجسم میں کررینٹ دوڑ گیا , اپنی چوت میں مجھےاَچانک تیز گرمی محسوس ھونےلگی।اتنا سکھ محسوس ھو رہا تھا کہ درد ھونےکےباوجود میںنے اُسےروکا نہین। بس پھر کیا تھا , اُسکی سمجھ میں آ گیا کہ میںکچھ نہیںبولونگی। پھر تو وہ اور بھی پاس آ گیا اور میرےمممےسہلانےلگا। میری چوچیاںتن کر کھڑی ھو گئی تھی , وہ اُنکو مروڑتا اور سہلاتا। میری آنکھیںبند ھونےلگی , میںتو سورگ میں تھی ! تبھی مجھےاحساس ہوا کہ پیچھےسےبھی ایک ھاتھ آ گیا ہے جو میرےمممےدبا رہا ہے। دوسرا لڑکا میرےپیچھےآکر سٹ کر کھڑا ھو گیا تھا। اُسکا لنڈ کھڑا تھا اور میری گانڈ سےٹکرا رہا تھا। اَب میںاُس دونوںکےدرمیان میں سینڈوچ ھو گئی تھی , دونوںبہت ھی قریب کھڑےتھےاور مجھےگھیر رکھا تھا।اتنےمیں پہلےلڑکےنےاپنا ھاتھ نیچےسےمیری ٹی – شرٹ میں ڈال دیا। اُسکا ھاتھ میرےننگےبندن پر چلتا ہوا میرےممموںکےطرف بڑہنےلگا। میری سانس رکنےلگی , من کر رہا تھا کی چیکھ کر اپنی ٹی – شرٹ اُتار دوںاور اُسکےدونوںھاتھ اپنے ننگےسینےپر رکھ لون। آکھر اُسکےھاتھ میری ننگی چوچیوںتک پہنچ ھی گئی। اب تو میری واسنا بیکابو ہوئے جا رہی تھی। پیچھےکھڑےہوئے لڑکےنےبھی اپنا ھاتھ میری ٹی – شرٹ کےاَندر ڈال دیا। اب تو میںسینڈوچ بن کر کھڑی تھی , میرےایک مممےپر پیچھےوالےکا ھاتھ تھا , اور دوسرےکو آگے والےنےدبوچ رکھا تھا। تبھی آگے والےلڑکےنےاپنا منہ میرےکان کےپاس لا کر کہا , ”مجا آ رہا ہے ن?” میںنے کوئی جواب نہیںدیا। منہ میں زبان ھی نہیںتھی। اُسنےپھسپھسا کےکہا , ”تھوڑی ٹانگےپھیلا دے تو اور بھی مزا دونگا।” میرا دل زور جور سےدھڑکنےلگا। لیکن واسنا کی آگ اتنی تیز پانی چکی تھی کہ اپنے کو روک نہ پائی , بنا کچھ کہےمیںنے اپنے ٹانگیںتھوڑی پھیلا دیاُسنےاپنا ایک ھاتھ میرےمممےپر رکھا , اور دوسرا میری سکرٹ میں گھسا دیا। اُسکی اُنگلیاںمیری کومل کنواری چوت تک پہنچ گئی। جیسےھی اُسکےھاتھ میری چوت کےھلکےبالوںسےٹکرائی , وہ چؤنک گیا , پھر اپنے دوست سےپھسپھسا کر بولا , ”سالی نےپینٹی بھی نہیںپہنی ہے। یہ تو چدنےکےلئے بس میں چڑہی ہے।” پھر اپنی اُنگلاوںسےمیری چوت کی پھانکیںالگ کرکےاُسنےایک اُنگلی میری گیلی چوت میں گھسانی چاہی , لیکن اُسکو راستہ نہیںملا। اَب وہ دبارا چؤنکا اور مجھسےایسے آواز میں بولا کہ بس میںاور اُسکا دوست ھی سن سکتےتھے , ”رانی , اتنی بیتاب ھو چدنےکےلئے لیکن ابھی تک تمہاری چوت کی سیل بھی نہیںٹوٹی ہے। اگر تم چاہو تو ھم تمہاری چوت کا تالا اپنی چابھی گھسا کر کھول دتےہیں , پھر چاہےکتنا بھی مزا کرنا।” اُسکےدوست نےمیری چوچی کو نوچ کر میرےدوسرےکان میں مدہوش کرنےوالےطریقے سےپھسپھسا کےکہا , ”چھآ چھئی میں جو مزا ہے , رانی , اصلی چدائی میں اُس سےکہیںزیادہ مزا آئیگا। اور ھم تجھےچودنگےبھی بہت پیار سی। 3وںمل کےمؤج کرینگےاور پھر تجھےھپھاجت سےچھوڑ دنگی।” پتا نہیںتب تک میری عقل کہاںجا چکی تھی , میری چوت سےندی بہ رہی تھی , مممےاور چوچیاںبری طرح د : کھ رہےتھےلیکن اُنکا میٹھا میٹھا درد میرےجسم میں آگ لگا رہا تھا , میںنے دھیرےسےپوچھا , ”کہاںاور کیسی?” بس , پھر کیا تھا , دونوںکی آنکھوںمیں چمک آ گئی। لمبےکد والا لڑکا بولا , ”جےئین یو میں اُتر جاتےہیں। اُسکا کیمپس بڑا ہے , اور وہاںکافی جنگل ہے। مجھےایک دو جگہ معلوم ہیں , وہاںکہیںاپنا کام بن جائیگا।” جےئین یو تو اگلا ھی سٹاپ تھا ! سوچنےیا سنبھلنےکا موقع ملے , اس سے پہلےھی میںاُنکےساتھ بس سےاُتر چکی تھی। جیسےھی بس ھمیں اُتار کر چلی گئی , مجھےتھوڑا ھوش آیا। یہ میںکیا کر رہی تھی ؟ پر تب تک لمبا لڑکا ایک آٹو روک چکا تھا اور ھم 3وںاُس آٹو میں سوار ھو گئی। اُسنےآٹو والےکو راستہ بتایا।اتنےمیں دوسرےلڑکےنےمجھےدرمیان میں بیٹھا کر میرا بیگ میرےگھٹنوںپر رکھ دیا। اس طرح آٹو والےکی نگاہ بچا کر اُسنےپھر میرےمممےاور چوچیاںمسلنےشروع کر دئی। میرےبدن میں پھر سےگرمی آنےلگی , پر تب تک ڈر بھی لگنےلگا تھا। میںایک نہیں , دو بلکل اَنجانےمردوںسےچدنےجا رہی تھی , مجھےتو یہ بھی پتہ نہیںتھا کہ یہ کنڈوم لایہ ہیں یا نہین। آٹو چلےجا رہا تھا اور راستہ سنسان ھو گیا تھا। سڑک پتلی تھی। آخر ہمت جٹا کر میںنے لمبےلڑکےسےپھسپھسا کےکہا “آج نہیںکرتے , کبھی اور کروا لونگی , آج جانےدو।” اُسنےبولا , ”ایسا مت بول , رانی , آج بات بن رہی ہے , اسےتوڑ مت।اتنا آگے آکر پیچھےمت ھٹ।” میںنے کہا , ”دکھو میںنے پہلےکبھی نہیںکیا ہے। میرےساتھ ایسا مت کرو , مجھےجانےدو।” ہماری باتوںسےآٹو ڈرائیور کو شاید شک ھو گیا। اُسنےاَچانک آٹو کنارےپر روک کےبولا , ”تم لوگ اس لڑکی کو جانتےھو?” مجھےامید بندھی کہ آٹو ڈرائیور کےھوتےیہ لڑکےمیرےساتھ کچھ نہیںکر سکتے , میںنے کہا , “ہم بس میں ملےتھےاور یہ مجھےبیوکوف بنا کر یہاںلایہ ہیں। کرپیا مجھےواپس لےچلئے।” یہ سن کر دوسرا لڑکا بولا , ”چپ سالی بس میں تو ٹانگیںچؤڑی کر رہی تھی , مممےدبوا رہی تھی اور چدنےکو رجامند ھوکر ھمارےساتھ یہاںآئی , اور اب بات سےپھرتی ہے?” پھر آٹو ڈرائیور سےبولا , ”دکھ چپ چاپ چلا چل।اسکی چوت تو آج ھم پھاڑینگےھی , چاہےکچھ بھی ھو جائی। اگر تو درمیان میں پڑے گا تو پٹیگا। اگر ساتھ دگا تو تو بھیاسکی لےلینا।” یہ کہ کر اُسنےمیرا بیگ ھٹا دیا , اور میری ٹی – شرٹ پوری طرح اُتار دی। آٹو ڈرائیور کےبھوکھی نگاہیںمیرےسینےپر گڑ گئین। لمبےلڑکےنےاُسکےسامنےمیرےمممےمسلنےشروع کر دئی। آٹو ڈرائیور نےھاتھ بڑہا کر میرےننگےسینےکو ٹٹولا , میری چوچیاںکھینچی اور پھر دانت دکھا کےبولا , “کیا مال لایہ ھو! کرایا بھی مت دنا।” بس , پھر تو میںسمجھ گئی کہ آج چوت خالی کھلیگی ھی نہیں , چؤڑی بھی ھوگی। آٹو چل پڑا , اور تھوڑی دیر میں ایک کچےراستےپر اُتر گیا। تھوڑی اور دیر کےبعد آٹو کو روک کر 3وںاُتر گئی اور مجھےبھی اُترنےکےلئے کہا। چدنےکا وقت آتا دیکھ کر میرےمن میں رومانچ پیدا ھونےلگا پر دکھاوےکےلئے میںنے اُنکو منع بھی کیا لیکن کوئی اثر نہیںہوا। لمبا لڑکا بولا , “دکھ , کھڑےلنڈ پر لات مت مار। چپ چاپ چدوا لےتو پیار سےچودنگے , خوب مزا دینگے تجھے!” دوسرا لڑکا بولا , ”راکیش , اسکا اُدگھاٹن میںکرونگا !” تو لمبا لڑکا بولا , “نہیںرے , اس کل کا گلاب تو میرےلنڈ سےبنیگا। میںنے اسےپٹایا تھا , اسکی چوت میںلونگا।” یہ کہ کےراکیش نےمیری سکرٹ کھینچ کےاُتر دی , اور میںپوری ننگی ھو گئی। آٹو ڈرائیور بولا , “بابا رےبابا , پینٹی بھی نہیںپہنی ہے। تم لوگ ٹھیک کہ رہےتھے , یہ سالی شریپھ بنتی ہے پر رنڈی ہے।” پھر وہ مجھےپیڑوںکےدرمیان ایک جھرمٹ میں لےگئی , ایک جھٹکےمیں اُنہوں نے مجھےزمین پر لٹا دیا। 3وںاپنے کپڑےاُتارنےلگےاور مجھےپر ٹوٹ پڑے , میرےممموںاور چوچیوںکو نوچنےلگے , اپنی زبان میرےمنہ میں گھسانےلگےاور میری ٹانگیںچؤڑی کرکےمیری چوت چاٹنےلگی। “سالی تیری چوت تواتنی گیلی ہے اور بول رہی ہے کہ چدوانا نہیںچاہتی। یہ میرا لنڈ ایسا جائے گا جیسےمککھن میں چھری آج تو تجھےایسا چودونگا رانڈ کی تیری ساری پیاس بجھ جایہگی।” مجھےمزا آ رہا تھا , ڈر لگ رہا تھا اور سچ مچ میں آج چدائی ھوگی اس خیال سےرومانچ بھی ھو رہا تھا। ئیک ساتھ تین مرد میرےبدن کو آج بیرہمی سےاستعمال کرنےوالےتھی। میںنے کئی بار کھیرا اور گاجر چوت میں گھسانےکی کوشش کی تھی , لیکناتنا درد ھوتا تھا کہ آگے بڑھ نہیںپاتی تھی। اپنے ھاتھ سےچوت کی سیل توڈنا مشکل ہے , پر یہ لڑکےتو بنا گھسائی مانینگیںنہین। آج تو یہ ھونا ھی تھا। میںیہی سب سوچ رہی تھی کہ اَچانک میںنے محسوس کیا کہ راکیش نےاپنے لنڈ کا سپارا میری چوت پر رکھ دیا اور دھیرےدھیرےدھکا لگانا شروع کر دیا تھا। وہ میرےاُوپر لیٹا ہوا تھا اور میری ٹانگیںجتنی پھیل سکتی تھی , پھیلا رکھی تھی। میںابھی اس بات کو سمجھ ھی رہی تھی کہ دوسرےلڑکےنےاپنا لنڈ میرےمنہ میں ٹھونس دیا اور اَندرباہر کرنےلگا। راکیش نےلنڈ پر زور ڈالنا شروع کر دیا تھا। مجھےدرد ھونےلگا , جیسےکوئی ڈنڈا اَندر جا رہا ھو لیکن منہ میں لنڈ ھونےکی وجہ سےکوئی آواز نہیںکر سکتی تھی। راکیش زور ڈالتا رہا اور دھیرےدھیرےاُسکا لنڈ میری چوت کےاَندر جانےلگا। ھر تھوڑی دیر میں وہہ کچھ سیکنڈ کو رک کر پیچھےکھینچتا اور پھر آگے دباتا। ایسا لگا جیسےیہ اَننت وقت تک چلا ھو।راکیش کا لنڈ اب میری چوت میں جڑ تک گھس چکا تھا। ایک منٹ رک کےراکیش نےدھککےلگانےشروع کر دئی। اب بھی درد سےبرا حال تھا لیکن اُسکےدھککےتیز ھونےلگی। میری چوت تھوڑی ڈھیلی ہوئی تو راکیش نےدھککےلمبےکر دئی। اُدھر اُسکا دوست تابڑتوڑ میرےمنہ کو چود رہا تھا। آٹو والا میرےمممےاور چوچیاںمسلنےمیں مست تھا। راکیش کےدھککےاب مجھےاچھے لگ رہےتھے , میری چوت سےپھچ پھچ کی آواز آ رہی تھی। “اَبےدیکھ کیسےگانڈ اُٹھا اُٹھا کر چدوا رہی ہے !” یہ سن کر میںشرم سےپانی ھو گئی , سچ مچ میںچدائی کا مزا لینےلگی تھی। آٹو والےکےھاتھوںاور منہ میں لنڈ کےھونےسےچوت کی چدائی اور بھی مجیدار لگ رہی تھی। اَچانک مجھےراکیش کےدھککےبہت ھی تیز ھوتےمحسوس ہوئی। میری آنکھیںبند تھی اور میری ناک میں جھاٹوںکےچھوٹے تھے , اسلئے کچھ دیکھ نہیںپا رہی تھی। تبھی راکیش رک گیا। اُسنےاپنا لنڈ میری چوت میں جڑ تک گھسیڑ دیا اور مجھےاَہساس ہوا کہ وہ اپنا پانی میری چوت میں چھوڑ رہا ہے। میںچللا پڑی , ”پلیج اپنا لنڈ نکال لو। میرا بچہ ھو گیا تو کیا ھوگا ؟ پلیج ایسا مت کرو।”لیکن راکیش نےاپنا لنڈ نکالنےکی جگہ میری چوت میں اور تھوڑا گھسا دیا। دوسرا لڑکا بولا , ”سالی رانڈ , چدنےکےلئے مر رہی تھی اور اب بک رہی ہے?” جیسےھی راکیش جھڑ کر میری ٹانگوںکےدرمیان سےاُٹھا , اُسکا دوست میری پھیلی ٹانگوںکےدرمیان میں آ گیا। ایک جھٹکےمیں اُسنےمیری ٹانگیںاُٹھا کر اپنے کندھوںپر رکھ لیںاور بولا , “ئس رقم میں لنڈ چوت میں خوب گہرا جاتا ہے। جب تیری چوت میں میںاپنا ویرےچھوڈونگا تو سیدھےتیری بچیدانی میں جائیگا।” ئسسےپہلےکہ میںکچھ بھی کہتی , اُسنےایک جھٹکےمیں اپنا لنڈ میری چوت میں اُتار دیا। میںچللا پڑی تو آٹو ڈرائیور نےمیرےکھلےمنہ میں اپنا لنڈ گھسا کر میری آواز بند کر دی। ئیک بار پھر میری ڈبل چدائی شروع ھو گئی। میری ٹانگیںاب قریب کریب میرےسر تک پہنچ چکی تھی اور میری چوت کےپوری گہرائی میں لنڈ جا رہا تھا। دوسرےلڑکےنےبھی اپنا پانی میری چوت میں چھوڑ دیا। میںاب تک تھک چکی تھی , منہ تھک گیا تھا , چوت د : کھ رہی تھی اور جسم پسینے , مٹٹی اور ویرےسےلتھپتھ تھا। لیکن ابھی آخر کہان? اَب آٹو والےکی باری تھی। اُسنےمجھےاُٹھا کر گھٹنےکےبل جھکنےکو کہا। دماغ تو کام ھی نہیںکر رہا تھا , نہ جسم میں دم تھا। میںچپ چاپ اُسکی بات مان گئی। پھر اُسنےمیرےپیچھےجاکر پیچھےسےمیری چوت میں اپنا لنڈ ڈالا। میرےسر کو اُسنےزمین کی طرف کیا اور کتیا بنا کر مجھےچودنےلگا। میںنے دکھا کہ راکیش اور اُسکےدوست نےکپڈےپہننےشروع کر دئی تھی। کم سےکم یہ دونوںمجھےکئی بار نہیںچودنگی। آٹو والےکےھر جھٹکےکےساتھ اُسکا پورا لنڈ میری چوت میں جاتا اور مجھےاُسکی جھاٹیںاپنی گانڈ پر محسوس ھوتین। گھوڑی بناکر وہ چودتےہوئے میرےمممےبھی دبا رہا تھا। مجھےاَہساس ہوا کہ مجھےمزا آ رہا تھا। میںتھک گئی تھی اور درد ھو رہا تھا , لیکن گھوڑی بن کر چدنا میری سب سے منپسند پوجیشن ہے। آٹو ڈرائیور نےبھی اپنا پانی میری چوت میں چھوڑا اور پھر اپنا لنڈ نکال لیا। راکیش اور اُسکا دوست کپڑےپہن چکےتھی। اُنہوںمیری ٹی – شرٹ اور سکرٹ میری طرف اُچھالتےہوئے کہا , ”پانیدی سےپہن لو , یہاںسےنکلتےہیں।” پانچ منٹ بعد ھم واپس اُسی بس سٹینڈ پہنچ گئی। میرا بیگ مجھےپکڑا کر راکیش اور اُسکا دوست کسی اور بس میں چڑہ گئی , اور آٹو رکشا کوئی سواری لےکر چلا گیا। میںتھوڑی دیر تک بس سٹینڈ پر بیٹھ کر اپنے ٹانگوںکےدرمیان میں بہتےویرے , اپنے ممموںکےجخم اور چوت کےدرد کو محسوس کرتی رہی , پھر مجھےراکیش کی بات یاد آئی , ”…ہم تمہاری چوت کا تالا اپنی چابھی گھسا کر کھول دتےہیں , پھر چاہےکتنا بھی مزا کرنا…”

Article By :

Leave a Reply