urdu sex story – “اوہ دیدی یو ر گریٹ” – بہوت مزا آیا

sisterپٹکتھا: کیسےڈالی نےرو کےلنبےاور موٹےلنڈ کا سواد چکھا اور اپنی پیاسی چوت کی پیاس سکون کی . میرا نام ڈالی ہے । میرا چھوٹا بھائی رو دسوی میںپڑہتا ہے । وہ گورا چٹٹا اور قریب میرےھی برابر لمبا بھی ہے । میںاس وقت 19 کی ھوںاور وہ 15 کا । مجھےبھیییا کےگلابی ھونٹھ بہوت پیارےلگتےہیں । دل کرتا ہے کہ بس چبا لوں। پاپا گلف میں ہے اور ماںگورنمیںٹ جوب میں । ماںجب جوب کی وجہ سےکہیںباہر جاتی تو گھر میںبس ھم دو بھائی بہن ھی رہ جاتےتھے। میرےبھائی کا نام رو ہے اور وہ مجھےدیدی کہتا ہے । ئیک بار مان کچھ دنوںکےلئیےباہر مندرجہ ذیل تھی ।

اُنکیالیکشن ڈیوٹی لگ مندرجہ ذیل تھی । ماںکو ایک ھفتےبعد آنا تھا । رات میںڈنر کےبعد کچھ دیر ٹی وی دکھا فر اپنے – اپنے کمرےمیںسونےکےلئیےچلےگیہ।کریب ایک آدھ گھنٹےبعد پیاس لگنےکی وجہ سےمیری نیند کھل مندرجہ ذیل । اپنی سیدھےٹیبل پر بوٹل دکھا تو وہ خالی تھی । میںاُٹھ کر کچن میںپانی پینےمندرجہ ذیل تو لؤٹتےوقت دکھا کہ رو کےکمرےکی لائٹ اون تھی اور درواجا بھی تھوڑا سا کھلا تھا । مجھےلگا کہ شاید وہ لائٹ اوف کرنا بھول گیا ہے میںھی بند کر دتی ھوں। میںچپکےسےاُسکےکمرےمیں مندرجہ ذیل لیکن اَندر کا نجارا دیکھ کر میںحیران ھو مندرجہ ذیل ।رو ایک ھاتھ میںکوئی کتاب پکڑ کر اُسےپڑہ رہا تھا اور دوسرا ھاتھ سےاپنے تنےہوئے لنڈ کو پکڑ کر مٹھ مار رہا تھا । میںکبھی سوچ بھی نہیںسکتی تھی کہاتنا معصوم لگنےوالا دسوی کا یہ چھوکرا ایسا بھی کر سکتا ہے । میںدم سادھےچپ چاپ کھڑی اُسکی ھرکت دکھتی رہی , لیکن شاید اُسےمیری اُپصورتحال کا آبھاس ھو گیا । اُسنےمیری طرف منہ پھیرا اور درواجےپر مجھےکھڑا دیکھ کر چؤنک گیا। وہ بس مجھےدکھتا رہا اور کچھ بھی نا بول پایا । پھر اُسنےمنہ فیر کر کتاب تکیہ کےنیچےچھپا دی । مجھےبھی سمجھ نا آیا کہ کیا کروں। میرےدل میںیہ خیال آیا کہ کل سےیہ لڑکا مجھسےشرمایہگا اور بات کرنےسےبھی کترایہگا । گھر میںاسکی علاوہ اور کوئی ہے بھی نہیںجس سے میرا من بہلتا । مجھےاپنے دن یاد آیہ। میںاور میرا ایک کجن اسی عمر کےتھےجب سےہم نے مزا لینا شروع کیا تھا تو یہ کون سی بڑی بات تھی اگر یہ مٹھ مار رہا تھا ।میںدھیرے- دھیرےاُسکےپاس مندرجہ ذیل اور اُسکےکندھےپر ھاتھ رکھکر اُسکےپاس ھی بیٹھ مندرجہذیل। وہ چپ چاپ لیٹا رہا । میںنے اُسکےکندھو کو دباتےہوئی کہا , “اَرےرو , اگر یہی کرنا تھا تو کم سےکم درواجا تو بند کر لیا ھوتا” । وہ کچھ نہیںبولا , بس منہ دوسری طرف کیہ لیٹا رہا । میںنے اپنے ھاتھوںسےاُسکا منہ اپنی طرف کیا اور بولی “اَبھی سےیہ مزا لینا شروع کر دیا। کوئی بات نہیںمیںجاتی ھوںتو اپنا مزا پورا کر لی। لیکن ذرا یہ کتاب تو دکھا। میںنے تکیہ کےنیچےسےکتاب نکال لی। یہ ھندی میںلکھےمسطحام کی کتاب تھی। میرا کجن بھی بہوت سی مسطحام کی کتابیںلاتا تھا اور ھم دونوںھی مجےلینےکےلئیےساتھ – ساتھ پڑہتےتھی। چدائی کےوقت کتاب کےڈایلوگ بول کر ایک دوسرےکا جوش بڑہاتےتھی।جب میںکتاب اُسےدکر باہر جانےکےلئیےاُٹھی تو وہ پہلی بار بولا , “دیدی سارا مزا تو آپنےخراب کر دیا , اب کیا مزا کرنگا।”اَری! اگر تمنےدرواجا بند کیا ھوتا تو میںآتی ھی نہین।”اؤر اگر آپنےدیکھ لیا تھا تو چپ چاپ چلی جاتی। اگر میںبحث میںجیتنا چاہتی تو آسانی سےجیت جاتی لیکن میرا وہ کجن قریب 6 منتھس سےنہیںآیا تھااسلیے میںبھی کسی سےمزا لینا چاہتی ھی تھی। رو میرا چھوٹا بھائی تھا اور بہوت ھی سیکسی لگتا تھااسلیے میںنے سوچا کہ اگر گھر میں ھی مزا مل جائے تو باہر جانےکی کیا ضرورت ؟ پھر رو کا لؤڑا ابھی کنوارا تھا। میںکنوارےلنڈ کا مزا پہلی بار لیتی , اسلیے میںنے کہا , “چل اگر میںنے تیرا مزا خراب کیا ہے تو میںھی تیرا مزا واپس کر دتی ھون। پھر میںپلنگ پر بیٹھ مندرجہ ذیل اور اُسےچت لٹایا اور اُسکےمرجھایہ لنڈ کو اپنی مٹٹھی میں لیا। اُسنےبچنےکی کوشش کی پر میںنے لنڈ کو پکڑ لیا تھا। اَب میرےبھائی کو یکین ھو چکا تھا کہ میںاُسکا راج نہیںکھولونگی , اسلیے اُسنےاپنی ٹانگےکھول دی تاکہ میںاُسکا لنڈ ٹھیک سےپکڑ سکون। میںنے اُسکےلنڈ کو بہوت ھلایا – ڈولایا لیکن وہ کھڑا ھی نہیںہوا। وہ بڑی مایوسی کےساتھ بولا “دکھا دیدی اب کھڑا ھی نہیںھو رہا ہے।”اَری! کیا بات کرتےھو ؟ ابھی تمنےاپنی بہن کا کمال کہاںدکھا ہے। میںابھی اپنے پیارےبھائی کا لنڈ کھڑا کر دونگی। ایسا کہ میںبھی اُسکےبغل میں ھی لیٹ مندرجہذیل। میںاُسکا لنڈ سہلانےلگی اور اس سے کتاب پڑہنےکو کہا। “دیدی مجھےشرم آتی ہے। “سالےاپنا لنڈ بہن کےھاتھ میں دتےشرم نہیںآیی। میںنے تانا مارتےہوئے کہا “لا میںپڑہتی ھون। اور میںنے اُسکےھاتھ سےکتاب لےلی । میںنے ایک سٹوری نکالی جسمےبھائی بہن کےڈایلوگ تھی। اور اس سے کہا , “میںلڑکی والا بولونگی اور تم لڑکےوالا। میںنے پہلےپڑھا , “اَرےراجا میری چوچیوںکا رس تو بہوت پی لیا اب اپنا بنانا شیک بھی تو ٹیسٹ کرااو” ।”اَبھی لو رانی پر میںڈرتا ھوناسلیےک میرا لنڈ بہوت بڑا ہے , تمہاری ناجک کسی چوت میں کیسےجایہگا?اؤراتنا پڑہکر ھم دونوںھی مسکرا دئیے کیونکہ یہ حالت بلکل اُلٹےتھی। میںاُسکی بڑی بہن تھی اور میری چوت بڑی تھی اور اُسکا لنڈ چھوٹا تھا। وہ شرما گیا لیکن تھوڑی سی پڑہایی کےبعد ھی اُسکےلنڈ میںجان بھر مندرجہ ذیل اور وہ تن کر قریب 6انچ کا لمبا اور 15 ।انچ کا موٹا ھو گیا। میںنے اُسکےھاتھ سےکتاب مسئلہ کہا , “اَب اس کتاب کی کوئی ضرورت نہیں। دیکھ اب تیرا کھڑا ھو گیا ہے । تو بس دل میںسوچ لےکہ تو کسی کی چود رہا ہے اور میںتیری مٹھ مار دتی ھون” ।میںاب اُسکےلنڈ کی مٹھ مار رہی تھی اور وہ مزا لےرہا تھا । درمیان بیچ میںسسکاریاںبھی بھرتا تھا । اتفاق سے اُسنےچوتڑ اُٹھا کر لنڈ اُوپر کی طرف ٹھیلا اور بولا , “بس دیدی” اور اُسکےلنڈ نےگاڑہا پانی پھینک دیا جو میری ھتھیلی پر گرا । میںاُسکےلنڈ کےرس کو اُسکےلنڈ پر لگاتی اُسی طرح سہلاتی رہی اور کہا , “کیوںبھییا مزا آیا””سچ دیدی بہوت مزا آیا” । “اَچچھا یہ بتا کہ خیالوںمیںکسکی لےرہےتھی?” “دیدی شرم آتی ہے । بعد میںبتااُونگا” । ئتنا کہ اُسنےتکیہ میںمنہ چھپا لیا ।”اَچچھا چل اب سو جا نیند اچھی آیہگی । اور آگے سےجب یہ کرنا ھو تو درواجا بند کر لیا کرنا” । “اَب کیا کرنا درواجا بند کرکےدیدی تمنےتو سب دیکھ ھی لیا ہے” ।”چل شیتان کہیںکی” । میںنے اُسکےگال پر ھلکی سی چپت ماری اور اُسکےھونٹھوںکو چوما । میںاور کس کرنا چاہتی تھی پر آگے کےلئیےچھوڑ کر واپس اپنے کمرےمیں آ مندرجہ ذیل । اپنی سلوار کمیج اُتار کر نائٹی پہننےلگی تو دکھا کہ میری پینٹی بری طرح بھیگی ھیی ہے । رو کےلنڈ کا پانی نکالتے- نکالتےمیری چوت نےبھی پانی چھوڑ دیا تھا । اپنا ھاتھ پینٹی میںڈال کر اپنی چوت سہلانےلگی اُونگلیوںکا صاف طور پر پاکر میری چوت فر سےسسکنےلگی اور میرا پورا ھاتھ گیلا ھو گیا । چوت کی آگ بجھانےکا کوئی راستہ نہیںتھا سوا اپنی اُنگلی کے। میںبیڈ پر لیٹ مندرجہ ذیل । رو کےلنڈ کےساتھ کھیلنےسےمیںبہوت ئیکسائٹڈ تھی اور اپنی پیاس بجھانےکےلئیےاپنی درمیان والی اُنگلی جڑ تک چوت میںڈال دی । تکیہ کو سینےسےکسکر بھینچا اور جانگھوںکےدرمیان دوسرا تکییا دبا آنکھےبند کی اور رو کےلنڈ کو یاد کرکےاُنگلی اَندر باہر کرنےلگی ।اتنی مستی چڑہی تھی کہ کیا بتایہ , من کر رہا تھا کہ ابھی جاکر رو کا لنڈ اپنی چوت میںڈلوا لے। اُنگلی سےچوت کی پیاس اور بڑھ مندرجہ ذیلاسلیے اُنگلی نکال تکیہ کو چوت کےاُوپر دبا اؤندھےمنہ لیٹ کر دھککےلگانےلگی । بہت دیر بعد چوت نےپانی چھوڑا اور میںویسےھی سو مندرجہ ذیل ।سبہ اُٹھی تو پورا بدن اَنبجھی پیاس کی وجہ سےسلگ رہا تھا । لاکھ رگڑ لو تکیہ پر لیکن چوت میںلنڈ گھسکر جو مزا دتا ہے اُسکا کہنا ھی کیا । بیڈ پر لیٹےہوئے میںسوچتی رہی کہ رو کےکنوارےلنڈ کو کیسےاپنی چوت کا راستہ دکھایا جائے । پھر اُٹھ کر تیار ھیی । رو بھی سکول جانےکو تیار تھا । ناشتےکی ٹیبل ھم دونوںآمنے- سامنےتھے। نجریںملتےھی رات کی یاد تاجا ھو مندرجہ ذیل اور ھم دونوںمسکرا دئیے । رو مجھسےکچھ شرما رہا تھا کہ کہیںمیںاُسےچھیڑ نا دوں। مجھےلگا کہ اگر ابھی کچھ بولونگی تو وہ بدک جائے گااسلیے چاہتےہوئی بھی نا بولی । چلتےوقت میںنے کہا , “چلو آج تمہےاپنے سکوٹر پر سکول چھوڑ دون” । وہ فؤرن تیار ھو گیا اور میرےپیچھےبیٹھ گیا । وہ تھوڑا سکچاتا ہوا مجھسےالگ بیٹھا تھا । وہ پیچھےکی سٹیپنی پکڑےتھا । میںنے سپیڈ سےسکوٹر چلایا تو اُسکا بیلینس بگڑ گیا اور سمبھالنےکےلئیےاُسنےمیری کمر پکڑ لی । میںبولی , “کسکر پکڑ لو شرما کیوںرہےھو?””اَچچھا دیدی” اور اُسنےمجھےکسکر کمر سےپکڑ لیا اور مجھسےچپک سا گیا । اُسکا لنڈ کھڑا ھو گیا تھا اور وہ اپنی جانگھوںکےدرمیان میرےچوتڑ کو جکڑےتھا ।”کیا رات والی بات یاد آ رہی ہے رو “”دیدی رات کی تو بات ھی مت کرو । کہیںایسا نا ھو کہ میںسکول میںبھی شروع ھو جااُون” । “اَچچھا تو بہوت مزا آیا رات میں””ہاںدیدیاتنا مزا جندگی میںکبھی نہیںآیا । کاش کل کی رات کبھی ختم نا ھوتی । آپکےجانےکی/کی بعد میرا فر کھڑا ھو گیا تھا پر آپکےھاتھ میںجو بات تھی وہ کہاں। ایسی ھی سو گیا” ।”تو مجھےبلا لیا ھوتا । اب تو ھم تم دوست ہیں । ایک دوسرا کےکام آ سکتےہیں” ।” تو فر دیدی آج راکھ کا پبیماریرام پککا” ।”چل ھٹ صرف اپنے بارےمیںھی سوچتا ہے । یہ نہیںپوچھتا کہ میری حالت کیسی ہے ؟ مجھےتو کسی چیز کی ضرورت نہیںہے ؟ چل میںآج نہیںآتی تیرےپاس।”اَرےآپ تو ناراج ھو مندرجہ ذیل دیدی । آپ جیسا کہینگی دلیا ھی کرنگا । مجھےتو کچھ بھی پتہ نہیںاب آپ ھی کو مجھےسب سکھانا ھوگا” ।تب تک اُسکا سکول آ گیا تھا । میںنے سکوٹر روکا اور وہ اُترنےکےبعد مجھےدیکھنے لگا لیکن میںاُس پر نظر ڈالےبگیر آگے چل دی । سکوٹر کےشیشےمیںدکھا کہ وہ مایوس سا سکول میں جا رہا ہے । میںمن ھی من بہوت خوش ھیی کہ چلو اپنے دل کی بات کااشارا تو اُسےدے ھی دیا ।شام کو میںاپنے کالج سےجلدی ھی واپس آ مندرجہ ذیل تھی । رو 2 بجے واپس آیا تو مجھےگھر پر دیکھ کر حیران رہ گیا । مجھےلیٹا دیکھ کر بولا , “دیدی آپکی تبییت تو ٹھیک ہے?” “ٹھیک ھی سمجھو , تم بتااو کچھ ھومورک ملا ہے کیا” “دیدی کل سنڈےہے ھی । ویسےکل رات کا کافی ھومورک بچا ہوا ہے” । میںنے ھنسی دباتےہوئے کہا , “کیوںپورا تو کروا دیا تھا । ویسےبھی تمکو یہ سب نہیںکرنا چاہیے । صحت پر اثر پڑہتا ہے । کوئی لڑکی پٹا لو , آجکل کی لڑکیاںبھی اس کام میںکافی انٹیریسٹیڈ رہتی ہیں” । “دیدی آپ تو ایسی کہ رہی ہیں جیسےلڑکیاںمیرےلئیےسلوار نیچےاور کمیج اُوپر کیہ تیار ہے کہ آاو پینٹ کھولکر میری لےلو” । “نہیںایسے بات نہیںہے । لڑکی پٹانی آنی چاہیہ” ।پھر میںاُٹھ کر ناشتا بنانےلگی । من میںسوچ رہی تھی کہ کیسےاس کنوارےلنڈ کو لڑکی پٹا کر چودنا سکھااُوں؟ لنچ ٹیبل پر اس سے پوچھا , “اَچچھا یہ بتا تیری کسی لڑکی سےدوستی ہے?””ہاںدیدی سدھا سی” ।”کہاںتک””بس باتیںکرتےہیں اور سکول میںساتھ ھی بیٹھتےہیں” । میںنے سیدھی بات کرنےکےلئیےکہا , “کبھی اُسکی لینےکا من کرتا ہے?””دیدی آپ کیسی بات کرتی ہیں” । وہ شرما گیا تو میںبولی , “ئسمےشرمانےکی کیا بات ہے । مٹٹھی تو تو روز مارتا ہے । خیالوںمیںکبھی سدھا کی لی ہے یا نہیںسچ بتا” । “لیکن دیدی خیالوںمیںلینےسےکیا ھوتا ہے” । “تواسکا مطلب ہے کہ تو اُسکی اصلی میں لینا چاہتا ہے” । میںنے کہا ।”اُسسےزیادہ تو اور ایک ہے جسکی میںلینا چاہتا ھوں , جو مجھےبہوت ھی اچھی لگتی ہے” । “جسکی کل رات خیالوںمیںلی تھی” اُسنےسر ھلاکر ھاںکر دیا پر میرےبار – بار پوچھنےپر بھی اُسنےنام نہیںبتایا ।اتنا جرور کہا کہ اُسکی چودائی کر لینےکےبعد ھی اُسکا نام سب سے پہلےمجھےبتایہگا । میںنے زیادہ نہیںپوچھا کیونکہ میری چوت فر سےگیلی ھونےلگی تھی । میںچاہتی تھی کہ اس سے پہلےکہ میری چوت لنڈ کےلئیےبیچین ھو وہ خود میری چوت میںاپنا لنڈ ڈالنےکےلئیےگڑگڑایہ। میںچاہتی تھی کہ وہ لنڈ ھاتھ میں مسئلہ میری مننت کرےکہ دیدی بس ایک بار چودنےدو । میرا دماغ ٹھیک سےکام نہیںکر رہا تھااسلیے بولی , “اَچچھا چل کپڑےبدل کر آ میںبھی بدلتی ھون” ।وہ اپنی یونیپھورم چینج کرنےگیا اور میںنے بھی پلان کےمطابق اپنی سلوار کمیج اُتار دی । پھر برا اور پینٹی بھی اُتار دی کیونکہ پٹانےکےمدمست مؤکےپر یہ دککت کرتے। اَپنا دسی پیٹیکوٹ اور ڈھیلا بلااُج ھی ایسی مؤکےپر صیح رہتےہیں । جب بسطح پر لیٹو تو پیٹیکوٹ اَپنی/اَپنی آپ آسانی سےگھٹنےتک آ جاتا ہے اور تھوڑی کوشش سےھی اور اُوپر آ جاتا ہے । جہاںتک ڈھیلیںبلااُج کا سوال ہے تو تھوڑا سا جھکو تو سارا مال چھلک کر باہر آ جاتا ہے । بس یہی سوچ کر میںنے پیٹیکوٹ اور بلااُج پہنا تھا ।وہ صرف پایجاما اور بنیان پہنکر آ گیا । اُسکا گورا چتت چکنا بدن مدمست کرنےوالا لگ رہا تھا । اتفاق سے مجھےایک آئڈیا آیا । میںبولی , “میری کمر میںتھوڑا درد ھو رہا ہے ذرا بام لگا د” । یہ بیڈ پر لیٹنےکا پرپھیکٹ بہانا تھا اور میںبسطح پر پیٹ کےبل لیٹ مندرجہ ذیل । میںنے پیٹیکوٹ تھوڑا ڈھیلا باندھا تھا اس لئیےلیٹتےھی وہ نیچےکھسک گیا اور میری درمیان کی درار دکھایہ دنےلگی । لیٹتےھی میںنے ھاتھ بھی اُوپر کر لئیےجس سے بلااُج بھی اُوپر ھو گیا اور اُسےمالش کرنےکےلئیےزیادہ جگہ مل مندرجہ ذیل । وہ میرےپاس بیٹھ کر میری کمر پر (آیوڈیکس پین بام) لگاکر دھیرےدھیرےمالش کرنےلگا । اُسکا صاف طور پر (تچ) بڑا ھی سیکسی تھا اور میرےپورےبدن میں سہرن سی دوڑ مندرجہ ذیل । تھوڑی دیر بعد میںنے کروٹ مسئلہ رو کی اور منہ کر لیا اور اُسکی جانگھ پر ھاتھ رکھکر ٹھیک سےبیٹھنےکو کہا । کروٹ لینےسےمیری چوچیوںبلااُج کےاُوپر سےآدھی سےزیادہ باہر نکال آیی تھی । اُسکی جانگھ پر ھاتھ رکھےرکھےھی میںنے پہلےکی بات آگے بڑہائی , “تجھےپتہ ہے کہ لڑکی کیسےپٹایا جاتا ہے?””اَرےدیدی ابھی تو میںبچہ ھوں। یہ سب آپ بتایہنگی تب معلوم ھوگا مجھی” । آیوڈیکس لگنےکےدوران میرا بلااُج اُوپر کھینچ گیا تھا جسکی وجہ سےمیری گولائیاںنیچےسےبھی جھانک رہی تھی । میںنے دکھا کہ وہ ئیکٹک میری چوچیوںکو گھور رہا ہے । اُسکےکہنےکےاَنداج سےبھی معلوم ھو گیا کہ وہ اس سلسلےمیںزیادہ بات کرنا چاہ رہا ہے।”اَرےیار لڑکی پٹانےکےلئیےپہلےاُوپر اُوپر سےھاتھ پھیرنا پڑتا ہے , یہ معلوم کرنےکےلئیےک وہ بورا تو نہیںمانیگی” । “پر کیسےدیدی” । اُسنےپوچھا اور اپنے پیر اُوپر کیہ । میںنے تھوڑا کھسک کر اُسکےلئیےجگہ بنایی اور کہا , “دکھ جب لڑکی سےھاتھ ملااو تو اُسکو زیادہ دیر تک پکڑ کر رکھو , دکھو کب تک نہیںچھٹاتی ہے । اور جب پیچھےسےاُسکی آنکھ بند کر کےپوچھوںکہ میںکون ھوںتو اپنا کیلا دھیرےسےاُسکےپیچھےلگا دو । جب کان میںکچھ بولو تو اپنا گال اُسکےگال پر رگڑ دو । وہ اگر ان سب باتوںکا بورا نہیںمانتی تو آگے کی سوچون” ।رو بڑےدھیان سےسن رہا تھا । وہ بولا , “دیدی سدھا توان سب کا کوئی بورا نہیںمانتی جب کہ میںنے کبھی یہ سوچ کر نہیںکیا تھا । کبھی کبھی تو اُسکی کمر میںھاتھ ڈال دتا ھوںپر وہ کچھ نہیںکہتی” । “تب تو یار چھوکری تیار ہے اور اب تو اُسکےساتھ دوسرا کھیل شروع کر” । “کؤن سا دیدی” “باتوںوالا । یعنی کبھی اُسکےسنترو کی تاریپھ کرکےدیکھ کیا کہتی ہے । اگر مسکرا کر بورا مانتی ہے تو سمجھ لےکہ پٹانےمیںزیادہ دیر نہیںلگیگی” ।”پر دیدی اُسکےتو بہت چھوٹے- چھوٹےسنترےہیں । تاریپھ کےقابل تو آپکےہے” । وہ بولا اور شرما کر منہ چھپا لیا । مجھےتو اسی گھڑی کاانتجار تھا । میںنے اُسکا چہرا پکڑ کر اپنی اور گھومتےہوئے کہا , “میںتجھےلڑکی پٹانا سیکھا رہی ھوںاور تو مجھی پر نجریںجمایہ ہے” ।”نہیںدیدی سچ میںآپکی چوچیوںبہوت پیاری ہے । بہت دل کرتا ہے” । اور اُسنےمیری کمر میںایک ھاتھ ڈال دیا । “اَرےکیا کرنےکو دل کرتا ہے یہ تو بتا” । میںنےاٹھلا کر پوچھا ।”ئنکو سہلانےکا اورانکا رس پینےکا” । اب اُسکےھؤسلےبلند ھو چکےتھےاور اُسےیکین تھا کہ اب میںاُسکی بات کا بورا نہیںمانونگی । “تو کل رات بولتا । تیری مٹھ مارتےہوئے ان کو تیرےمنہ میںلگا دتی । میرا کچھ گھس تو نہیںجاتا । چل آج جب تیری مٹھ مارونگی تو اُس وقت اپنی مراد پوری کر لینا” ।اتنا کہ اُسکےپایجاما میںھاتھ ڈال کر اُسکا لنڈ پکڑ لیا جو پوری طرح سےتن گیا تھا । “اَرےیہ تو ابھی سےتیار ہے” ।تبھی وہ آگے کو جھکا اور اپنا چہرا میرےسینےمیںچھپا لیا । میںنے اُسکو بانہوںمیںبھرکر اپنے قریب لٹا لیا اور کس کےدبا لیا । ایسا کرنےسےمیری چوت اُسکےلنڈ پر دبنےلگی । اُسنےبھی میری گردن میںھاتھ ڈال مجھےدبا لیا । تبھی مجھےلگا کہ وہ بلااُج کےاُوپر سےھی میری لیفٹ چوچینیاںکو چوس رہا ہے । میںنے اس سے کہا “اَرےیہ کیا کر رہا ہے ؟ میرا بلااُج خراب ھو جایہگا” ।اُسنےجھٹ سےمیرا بلااُج اُوپر کیا اور نپپل منہ میںمسئلہ چوسنا شروع کر دیا। میںاُسکی ہمت کی داد دئیے بگیر نہیںرہ سکی । وہ میرےساتھ پوری طرح سےآزاد ھو گیا تھا । اب یہ میرےاُوپر تھا کہ میںاُسکو کتنی آجادی دتی ھوں। اگر میںاُسےآگے کچھ کرنےدتی تواسکا مطلب تھا کہ میںزیادہ بیکرار ھوںچدوانےکےلئیےاؤر اگر اُسےمنع کرتی تو اُسکا موڑ خراب ھو جاتا اور شاید فر وہ مجھسےبات بھی نا کرے। اس لئیےمیںنے درمیان کا راستہ لیا اور بناوٹی غصے سےبولی , “اَرےیہ کیا تو تو جبردستی کرنےلگا । تجھےشرم نہیںآتی” ।”اوہہ دیدی آپنےتو کہا تھا کہ میرا بلااُج مت خراب کر । رس پینےکو تو منع نہیںکیا تھااسلیے میںنے بلااُج کو اُوپر اُٹھا دیا” । اُسکی نظر میری لیفٹ چوچینیاںپر ھی تھی جو کہ بلااُج سےباہر تھی । وہ اپنے کو اور نہیںروک سکا اور فر سےمیری چوچینیاںکو منہ میںلےلی اور چوسنےلگا । مجھےبھی مزا آ رہا تھا اور میری پیاس بڑھ رہی تھی । کچھ دیر بعد میںنے جبردستی اُسکا منہ لیفٹ چوچینیاںسےھٹایا اور رائٹ چوچینیاںکی طرف لیتےہوئے بولی , “اَرےسالےیہ دو ھوتی ہیں اور دونوںمیںبرابر کا مزا ھوتا ہے” ।اُسنےرائٹ مممےکو بھی بلااُج سےباہر کیا اور اُسکا نپپل منہ میںمسئلہ چبھلانےلگا اور ساتھ ھی ایک ھاتھ سےوہ میری لیفٹ چوچینیاںکو سہلانےلگا । کچھ دیر بعد میرا من اُسکےگلابی ھونٹھوںکو چومنےکو کرنےلگا تو میںنے اس سے کہا , “کبھی کسی کو کس کیا ہے?” “نہیںدیدی پر سنا ہے کہ یہ بہوت مزا آتا ہے” । “بلکل ٹھیک سنا ہے پر کس ٹھیک سےکرنا آنا چاہیہ” ।کیسی”اُسنےپوچھا اور میری چوچینیاںسےمنہ ھٹا لیا । اَب میری دونوںچوچیوںبلااُج سےآزاد کھلی ھوا میںتنی تھی لیکن میںنے اُنہےچھپایا نہیںبلکہ اپنا منہ اُسکیاُسکی منہ کےپاس لیجا کر اپنے ھونٹھ اُسکےھونٹھ پر رکھ دئیے فر دھیرےسےاپنے ھونٹھ سےاُسکےھونٹھ کھولکر اُنہےپیار سےچوسنےلگی । قریب دو منٹ تک اُسکےھونٹھ چوستی رہی فر بولی ।”ایسی” ।وہ بہوت ئیکسائٹڈ ھو گیا تھا । اس سے پہلےکہ میںاُسےبولوںکہ وہ بھی ایک بار کس کرنےکی پرکٹیس کر لے , وہ خود ھی بولا , “دیدی میںبھی کروںآپکو ایک بار” “کر لی” । میںنے مسکراتےہوئے کہا ।رو نےمیری ھی سٹائل میںمجھےکس کیا । میرےھونٹھوںکو چوستےوقت اُسکا سینا میرےسینےپر آکر دباؤ ڈال رہا تھا جس سے میری مستی دو گنی ھو مندرجہ ذیل تھی । اُسکا کس ختم کرنےکےبعد میںنے اُسےاپنے اُوپر سےھٹایا اور بانہوںمیںمسئلہ فر سےاُسکےھونٹھ چوسنےلگی । اس بار میںتھوڑا زیادہ جوش سےاُسےچوس رہی تھی । اُسنےمیری ایک چوچینیاںپکڑ لی تھی اور اُسےکس کسکر دبا رہا تھا । میںنے اپنی کمر آگے کرکےچوت اُسکےلنڈ پر دبایی । لنڈ تو ئیکدم تن کر آیرن روڈ ھو گیا تھا । چدوانےکا ئیکدم صیح موقع تھا پر میںچاہتی تھی کہ وہ مجھسےچودنےکےلئیےبھیکھ مانگیںاور میںاُس پر ئیہسان کرکےاُسےچودنےکیاجاجت دوں।میںبولی , “چل اب بہوت ھو گیا , لا اب تیری مٹھ مار دون” । “دیدی ایک رکویسٹ کرون” “کیا” میںنے پوچھا । “لیکن رکویسٹ ایسے ھونی چاہیے کہ مجھےبرا نا لگی” । ایسا لگ رہا تھا کہ وہ میری بات ھی نہیںسن رہا ہے بس اپنی کہےجا رہا ہے । وہ بولا , “دیدی میںنے سنا ہے کہ اَندر ڈالنےمیںبہوت مزا آتا ہے । ڈالنےوالےکو بھی اور ڈلوانےوالےکو بھی । میںبھی ایک بار اَندر ڈالنا چاہتا ھون” ।”نہیںرو تم میرےچھوٹےبھائی ھو اور میںتمہاری بڑی بہن” । “دیدی میںآپکی لونگا نہیںبس اَندر ڈالنےدیجیہ” । “اَرےیار تو فر لینےمیںکیا بچا” । “دیدی بس اَندر ڈال کر دکھونگا کہ کیسا لگتا ہے , چودونگا نہیںپلیج دیدی” ।میںنے اُس پر ئیہسان کرتےہوئے کہا , “تم میرےبھائی ھواسلیے میںتمہاری بات کو منع نہیںکر سکتی پر میری ایک سرت ہے । تمکو بتانا ھوگا کہ اَکسر خیالوںمیںکسکی چودتےھو?” اور میںبیڈ پر پیر پھیلا کر چت لیٹ مندرجہ ذیل اور اُسےگھٹنےکےبل اپنے اُوپر بیٹھنےکو کہا । وہ بیٹھا تو اُسکےپایجاما کےجربند کو کھولکر پایجاما نیچےکر دیا । اُسکا لنڈ تن کر کھڑا تھا । میںنے اُسکی بانہ پکڑ کر اُسےاپنے اُوپر کوہنی کےبل لٹا لیا جس سے اُسکا پورا وزن اُسکےگھٹنےاور کوہنی پر آ گیا । وہ اب اور نہیںرک سکتا تھا । اُسنےمیری ایک چوچینیاںکو منہ میںبھر لیا جو کی بلااُج سےباہر تھی । میںاُسےابھی اور چھیڑنا چاہتی تھی । سن رو بلااُج اُوپر ھونےسےچبھ رہا ہے । ایسا کراسکو نیچےکرکےمیرےسنترےدھاپ د” । “نہیںدیدی میںاسےکھول دتا ھون” । اور اُسنےبلااُج کےبٹن کھول دیہ। اب میری دونوںچچیاںپوری ننگی تھی । اُسنےلپک کر دونوںکو کبجےمیںکر لیا । اب ایک چوچینیاںاُسکےمنہ میںتھی اور دوسری کو وہ مسل رہا تھا । وہ میری چوچیوںکا مزا لینےلگا اور میںنے اپنا پیٹیکوٹ اُوپر کرکےاُسکےلنڈ کو ھاتھ سےپکڑ کر اپنی گیلی چوت پر رگڑنا شروع کر دیا । کچھ دیر بعد لنڈ کو چوت کےمنہ پر رکھکر بولی , “لےاب تیرےچاکو کو اپنے خربوجےپر رکھ دیا ہے پر اَندر آنےسےپہلےاُسکا نام بتا جسکی تو بہوت دن سےچودنا چاہتا ہے اور جسےیاد کرکےمٹھ مارتا ہے” । وہ میری چوچیوںکو پکڑ کر میرےاُوپر جھک گیا اور اپنے ھونٹھ میرےھونٹھ پر رکھ دئیے । میںبھی اپنا منہ کھولکر اُسکےھونٹھ چوسنےلگی । کچھ دیر بعد میںنے کہا , “ہاںتو میرےپیارےبھائی اب بتا تیرےسپنوںکی رانی کون ہے” । “دیدی آپ برا مت مانیہگا پر میںنے آج تک جتنی بھی مٹھ ماری ہے صرف آپکو خیالوںمیںرکھکر” ।”ہاےبھییا تو کتنا بیشرم ہے । اپنی بڑی بہن کےبارےمیںایسا سوچتا تھا” । “اوہہ دیدی میںکیا کروںآپ بہوت کھوبسورت اور سیکسی ہے । میںتو کب سےآپکی چوچیوںکا رس پینا چاہتا تھا اور آپکی چوت میںلنڈ ڈالنا چاہتا تھا । آج دل کی آرجو پوری ھیی” । اور فر اُسنےشرما کر آنکھےبند کرکےدھیرےسےاپنا لنڈ میری چوت میںڈالا اور واد کےمطابق چپ چاپ لیٹ گیا ।”اَرےتو مجھیاتنا چاہتا ہے । میںنے تو کبھی سوچا بھی نہیںتھا کہ گھر میںھی ایک لنڈ میرےلئیےتڑپ رہا ہے । پہلےبولا ھوتا تو پہلےھی تجھےموقع دے دتی” । اؤر میںنے دھیرے- دھیرےاُسکی پیٹھ سہلانی شروع کر دی । درمیان – درمیان میںاُسکی گانڈ بھی دبا دتی ।”دیدی میری کسمت دکھیہ کتنی جھانٹو ہے । جس چوت کےلئیےتڑپ رہا تھا اُسی چوت میں لنڈ پڑا ہے پر چود نہیںسکتا । پر فر بھی لگ رہا ہے کی سورگ میںھون” । وہ کھل کر لنڈ چوت بول رہا تھا پر میںنے بورا نہیںمانا । “اَچچھا دیدی اب واد کےمطابق باہر نکالتا ھون” । اور وہ لنڈ باہر نکالنےکو تیار ہوا ।میںتو سوچ رہی تھی کہ وہ اب چوت میںلنڈ کا دھکا لگانا شروع کرے گا لیکن یہ تو ٹھیک اُلٹا کر رہا تھا । مجھےاُس پر بڑی دیا آیی । ساتھ ھی اچھا بھی لگا کہ واد کا پککا ہے । اب میرا فرج بنتا تھا کہ میںاُسکی وپھاداری کا انعام اپنی چوت چدواکر دوں। اس لئیےاُسسےبولی , “اَرےیار تونےمیری چوت کی اپنے خیالوںمیںاتنی پوجا کی ہے । اور تمنےاپنا وعدہ بھی نبھایااسلیے میںاپنے پیارےبھائی کا دل نہیںتوڑونگی । چل اگر تو اپنی بہن کو چودکر بہنچود بننا ھی چاہتا ہے تو چود لےاپنی جوان بڑی بہن کی چوت” । میںنے جان کراتنےگند ورڈس اُسےکہےتھےپر وہ بورا نا مان کر خوش ھوتا ہوا بولا , “سچ دیدی” । اور فؤرن میری چوت میںاپنا لنڈ دھکا دھک پیلنےلگا کہ کہیںمیںاپناارادا نا بدل دوں।”تو بہت کسمت والا ہے رو ” । میںاُسکےکنوارےلنڈ کی چودائی کا مزا لیتےہوئے بولی । کیوںدیدی” “اَرےیار تو اپنی جندگی کی پہلی چودائی اپنی ھی بہن کی کر رہا ہے । اور اُسی بہن کی جسکی تو جانےکبسےچودنا چاہتا تھا” ।”ہاںدیدی مجھےتو اب بھی یکین نہیںآ رہا ہے , لگتا ہے سپنےمیں چود رہا ھوںجیسےروز آپکو چودتا تھا” ।

پھر وہ میری ایک چوچینیاںکو منہ میںدبا کر چوسنےلگا । اُسکےدھککوںکی رپھتار ابھی بھی کم نہیںھیی تھی । میںبھی کافی دنوںکےبعد چد رہی تھیاسلیے میںبھی چودائی کا پورا مزا لےرہی تھی ।وہ ایک پل رکا فر لنڈ کو گہرائی تک ٹھیک سےپیلکر زور – زور سےچودنےلگا । وہ اب جھڑنےوالا تھا । میںبھی ساتویںآسمان پر پہونچ مندرجہ ذیل تھی اور نیچےسےکمر اُٹھا – اُٹھا کر اُسکےدھککوںکا جواب دے رہی تھی । اُسنےمیری چوچینیاںچھوڑ کر میرےھونٹھوںکو منہ میںلےلیا جو کہ مجھےہمیشہ اچھا لگتا تھا । مجھےچومتےہوئی کس کس کر دو چار دھککےدئیے اور اؤر “ہاےڈالی میری جان” کہتےہوئے جھڑکر میرےاُوپر چپک گیا । میںنے بھی نیچےسےدو چار دھککےدئیے اور “ہاےمیرےراجا کہتےہوئے جھڑ مندرجہ ذیل ।چدائی کےجوش نےھم دونوںکو نڈھال کر دیا تھا । ہم دونوںکچھ دیر تک یوںھی ایک دوسرےسےچپکےرہے। کچھ دیر بعد میںنے اس سے پوچھا , “کیوںمزا آیا میرےبہنچود بھائی کو اپنی بہن کی چوت چودنےمیں” اُسکا لنڈ ابھی بھی میری چوت میں تھا । اُسنےمجھےکسکر اپنی بانہوںمیں جکڑ کر اپنے لنڈ کو میری چوت پر کسکر دبایا اور بولا , “بہت مجا آیا دیدی । یکین نہیںھوتا کہ میںنے اپنی بہن کو چودا ہے اور بہنچود بن گیا ھون” । “تو کیا میںنے تیری مٹھ ماری ہے” “نہیںدیدی یہ بات نہیںہے” । “تو کیا تجھےاب اَپھسوس لگ رہا ہے اپنی بہن کو چودکر بہنچود بننےکا” ।”نہیںدیدی یہ بات بھی نہیںہے । مجھےتو بڑا ھی مزا آیا بہنچود بننےمیں। من تو کر رہ کہ بس اب صرف اپنی دیدی کی جوانی کا را ھی پیتا رہوں। ھاےدیدی بلکہ میںتو سوچ رہا ھوںکہ بھگوان نےمجھےصرف ایک بہن کیوںدی । اگر ایک دو اور ھوتی تو سبکو چودتا । دیدی میںتو یہ سوچ رہا ھوںکہ یہ کیسےچودائی ھیی کہ پوری طرح سےچود لیا لیکن چوت دیکھی بھی نہین” ।”کوئی بات نہیںمزا تو پورا لیا نا?” “ہاںدیدی مزا تو خوب آیا” । “تو گھبراتا کیوںہے ؟ اب تو تونےاپنی بہن چود ھی لی ہے । اب سب کچھ تجھےدکھااُونگی । جب تک ماںنہیںآتی میںگھر پر ننگی ھی رہونگی اور تجھےاپنی چوت بھی چٹوااُونگی اور تیرا لنڈ بھی چوسونگی । بہت مزا آتا ہے” । “سچ دیدی” “ہاں। اچھا ایک بات ہے تو اس بات کا اَپھسوس نا کر کہ تیرےصرف ایک ھی بہن ہے , میںتیرےلئیےاؤر چوت کا جگاڑ کر دونگی” । “نہیںدیدی اپنی بہن کو چودنےمیںمزا ھی اَنوکھا ہے । باہر کیا مزا آیہگا” “اَچچھا چل ایک کام کر تو ماںکو چود لےاور مادرچود بھی بن جا” । “اوہ دیدی یہ کیسےھوگا””گھبرا مت پوراانتجام میںکر دونگی । ماںابھی 38 سال کی ہے , تجھےمادرچود بننےمیںبھی بڑا مزا آیہگا” ।”ہاےدیدی آپ کتنی اچھی ہیں । دیدی ایک بار ابھی اور چودنےدو اس بار پوری ننگی کرکےچودونگا” । “جی نہیںآپ مجھےاب معاف کریہ” । “دیدی پلیج صرف ایک بار” । اور لنڈ کو چوت پر دبا دیا ।”سرپھ ایک بار” । میںنے زور دکر پوچھا । “سرپھ ایک بار دیدی پککا وادا” । “سرپھ ایک بار کرنا ہے تو بلکل نہین” । “کیوںدیدی” اب تک اُسکا لنڈ میری چوت میںاپنا پورا رس نچوڑ کر باہر آ گیا تھا । میںنے اُسےجھٹکےدتےہوئے کہا , “اَگر ایک بار بولونگی تب تم ابھی ھی مجھےایک بار اور چود لوگی” “ہاںدیدی” ।”ٹھیک ہے باقی دن کیا ھوگا । بس میری دیکھ کر مٹھ مارا کرے گا کیا । اور میںکیا باہر سےکوئی لااُونگی اپنے لئیے। اگر صرف ایک بار میری لینی ہے تو بلکل نہین” ।اُسےکچھ دیر بعد جب میری بات سمجھ میںآیی تو اُسکےلنڈ میں تھوڑی جان آیی اور اُسےمیری چوت پڑا رگڑتےہوئے بولا , “اوہ دیدی یو ر گریٹ” । کیسی لگی یہ کہانی دوستو . . . .

Article By :

Leave a Reply