urdu sex story – گیلی چوت کی چدائی

Share
گیلی چوت کی چدائی

یرا نام ندیم ہے۔ مجھے آپ جانتے ہی ہیں اور اس سے پہلے آپ میرے دو واقعات “بیوی کی مدد سے شازیہ کا ریپ” اور “لڑکیوں اور عورتوں کی گانڈ مارنے کے درست طریقے” پڑھ چکے ہیں۔آج میں ایک اور سچا واقعہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔
میں 28 سال کا ہوں اور ایک پرائیویٹ فرم میں جاب کرتا ہوں۔ میری شادی ہو چکی ہے اور میں اپنی بیوی عروج کے ساتھ اسلام آباد میں رہ رہا تھا۔ دو مہینے پہلے میری ماموں زاد بہن 12ویں کے امتحانات کے بعد ہمارے ساتھ رہنے آ گئی۔ اس کو ابھی سپوکن انگلش کا ایک کورس کرنا تھا پھر نمل یونیورسٹی سے بی اے۔ اس کے ممی پاپا اسے ہمارے گھر چھوڑ کر چلے گئے اور مجھے اس کا گارڈین بنا گئے۔ بی اے میں داخلہ کے بعد اسے ہاسٹل ملنے پر اسے ہاسٹل جانا تھا۔ اس کا نام نوشین تھا، 18 سال کی نوشین کی پر جوانی خوب چڑھ رہی تھی۔ 5’5″ کی نوشین کا رنگ تھوڑا سانولا تھا، پر اکہرے بدن کی نوشین کی فگر میں غضب کا نشہ تھا۔ 34 22 34 کی نوشین کو جب بھی میں دیکھتا میرا لنڈ کھڑا ہونا شروع ہو جاتا۔ حالانکہ میں دکھاوا کرتا کہ مجھے اس کے بدن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، پر مجھے پتا تھا کہ نوشین کو بھی میری نظر کا احساس ہے۔ تقریباً ایک مہینے میں ہم لوگ کافی گھل مل گئے۔ انہی دنوں میری بیوی عروج کو اپنے میکے جانا پڑا اور میں نے نوشین کو چودنے کا ارادہ عروج کے واپس آنے تک ملتوی کر دیا۔
میرے دونوں قریبی دوستوں سلیم اور انور سے بھی نوشین خوب فرینڈلی ہو گئی تھی۔ وہ دونوں لگ بھگ روز میرے گھر آتے تھے۔ مئی کے دوسرے سوموار کے ایک دوپہر کی بات ہے۔ نوشین کوچنگ کلاس گئی تھی اور ہم تینوں دوست بیٹھ کر بیئر پی رہے تھے۔ بات کا موضوع تب نوشین ہی تھی۔ میرے دونوں دوست اس کی فگر اور باڈی کی بات کر رہے تھے، پر میں چپ تھا۔

انور نے مجھے چھیڑا کہ میں ایکدم بیوقوف ہوں کہ اب تک اس کی جوانی بھی نہیں دیکھی ہے۔ میرے یہ کہنے پر کہ وہ مجھے بھائی بولتی ہے، دونوں ہنسنے لگے اور کہا کہ ٹھیک ہے، ہم لوگ کوشش کر کے اس کو تھوڑا ڈھیٹ بنائیں گے، پر ان دونوں نے شرط رکھی کہ میں بھی موقع ملتے ہی اسے چود دوں گا اور پھر ان دونوں کو یہ واقعہ بتاؤں گا۔
پھر انور بولا یار اس کی ایک پینٹی لا دو، تو میں ابھی مٹھ مار لوں۔ تبھی دروازے کی گھنٹی بجی اور نوشین گھر آ گئی۔ سفید شلوار اور پیلے چکن کے کرتے میں وہ غضب کی سیکسی دکھ رہی تھی۔ ہم سب کو بیئر کے مزے لیتے دیکھ وہ مسکرائی، سلیم نے اس کو بھی بیئر میں ساتھ دینے کو دعوت دی۔ میری توقع کے خلاف وہ ہم لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئی۔
ہم لوگ ادھر ادھر کی بات کرتے ہوئے بیئر کا مزا لے رہے تھے۔ نوشین بھی خوب مزے لے رہی تھی۔ ایک ایک بوتل پینے کے بعد سلیم بولا کیوں نہ ہم لوگ تاش کھیلیں، وقت اچھا کٹے گا۔ سب کے ہاں کہنے پر میں تاش لے آیا اور تب سلیم بولا چلو اب آج کے دن کو فن ڈے بنایا جائے۔
نوشین نے ہاں میں ہاں ملائی۔
سلیم اب بولا ہم سب سٹریپ پوکر کھیلتے ہیں، اگر نوشین ہاں کہے تو! ویسے بھی اب آج فن ڈے ہے۔
نوشین کا جواب تھا اگر بھیا کو پریشانی نہیں ہے تو مجھے بھی کوئی پریشانی نہیں ہے۔
اب انور بولا نوشین! ہم لوگوں کے بدن پر چار چار کپڑے ہیں، تم اپنا دوپٹا ہٹاؤ نہیں تو تمہارے پانچ کپڑے ہوں گے۔
نوشین مزے کے موڈ میں تھی، بولی نہیں، اکیلی لڑکی کھیلوں گی، تین لڑکوں کے ساتھ مجھے اتنی تو چھوٹ ملنی چاہیے۔
سلیم فیصلہ کرتے ہوئے بولا ٹھیک ہے، پر ہم لڑکوں کے کپڑے تم کو اتارنے ہوں گے، اور تمہارا کپڑا وہ لڑکا اتارے گا جس کے سب سے زیادہ پوائنٹس ہوں گے۔
میں سب سن رہا تھا، اور من ہی من میں خوش ہو رہا تھا۔ اب مجھے لگ رہا تھا کہ میں سچ میں بیوقوف ہوں، نوشین تو پہلے سے ہی مست لونڈیا تھی۔
میرے سامنے انور تھا، نوشین میرے داہنے اور سلیم میرے بائیں تھا۔ پہلا گیم انور ہارا اور گیم کے مطابق نوشین نے انور کی قمیض اتار دی۔
دوسرے گیم میں میں ہار گیا، اور نوشین مسکراتے ہوئے میرے قریب آئی اور میری ٹی شرٹ اتار دی۔ پہلی بار نوشین کا ایسا لمس مجھے اچھا لگا۔
تیسرے گیم میں نوشین ہار گئی اور سلیم کو اس کا ایک کپڑا اتارنا تھا۔ سلیم نے اپنے داہنے ہاتھ سے اس کا دوپٹا ہٹا دیا اور اپنے بائیں ہاتھ سے اس کی ایک چونچی کو ہلکے سے چھو لیا۔ میرا لنڈ اب سرسرانے لگا تھا۔
اگلے دو گیم سلیم ہارا اور اس کے بدن سے ٹی شرٹ اور بنیان دونوں اتر گئے۔
اس کے بعد والی گیم میں ہارا اور میرے بدن سے بھی بنیان ہٹ گئی اور پھر جب سلیم ہارا تو اب پہلی بار کسی کا کمر کے نیچے سے کپڑا اترا۔ نوشین نے خوب خوش ہوتے ہوئے سلیم کی جینز کھول دی۔ میکرومین برف میں سلیم کا لنڈ ہارڈ ہو رہا ہے، صاف دکھ رہا تھا۔
ایک نئی بیئر کی بوتل تبھی کھلی۔ اس کے مزے لیتے ہوئے پتے بٹے، اور اس گیم میں نوشین ہار گئی، اور انور کو اس کے بدن سے کپڑا ہٹانا تھا۔ نوشین اب میرے سامنے انور کی طرف پیٹھ کر کے کھڑی ہو گئی، جس سے انور کو اس کے کرتے کی زپ کھولنے میں سہولت ہو۔
انور نے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو پیچھے سے اس کی چونچی پہ لا کر دو تین بار چونچیاں مسلیں، اور پھر اس کے کرتے کی زپ کھول کے کرتے کو اس کے بدن سے الگ کر دیا۔ اب نوشین صرف شلوار اور برا میں ہمارے سامنے تھی۔ ایک بار ہماری نظر ملی، وہ مجھے دیکھ کر مسکرائی۔ گلابی رنگ کی برا میں کسی اس کی شاندار چھاتی کسی کو بھی مست کر سکتی تھی۔ اس کا ایکدم سپاٹ پیٹ اور گہری ناف دیکھ ہم تینوں لڑکوں کے منہ سے ایک ایئیئیس سس نکلتے نکلتے رہ گیا۔
وہ ایکدم مست دکھ رہی تھی۔ اس کی ناف کے ٹھیک نیچے ایک کالا تل دیکھ سلیم بول اٹھا بیوٹی سپاٹ بھی شاندار جگہ پر ہے نوشین۔ اتنی جاندار فگر ہے تمہاری، تھوڑا اپنے بدن کا خیال رکھو۔
نوشین بولی کتنا ڈایٹنگ کرتی ہوں ندیم بھائی سے پوچھیے۔
سلیم اب بولا میں تمہارے انڈر آرم کے بالوں کے بارے میں کہہ رہا ہوں۔
سچ نوشین کے بغلوں میں خوب سارے بال تھے، کافی بڑے بھی۔ ایسا لگتا تھا کہ نوشین کافی دنوں سے ان کو صاف نہیں کیا ہے۔ پہلی بار میں ایک جوان لڑکی کی بغلوں میں اتنے بال دیکھ رہا تھا اور اپنے دوستوں کو دل میں تھینکس بول رہا تھا کہ ان کی وجہ سے مجھے نوشین کے بدن کو دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔
نوشین پر بیئر کا میٹھا نشا ہو گیا تھا اور وہ اب خوب مزے لے رہی تھی ہم لڑکوں کے ساتھ۔ ویسے نشا تو ہم سب پر تھا بیئر اور نوشین کی جوانی کا۔
نوشین مسکرائی اور بولی چلیے اب پتے بانٹیے بھیا۔ پتے بانٹنے کی میری باری تھی۔
برا میں کسے ہوئے نوشین کی جاندار چونچیوں کو ایک نظر دیکھ کر میں نے پتے بانٹ دیے۔ یہ گیم میں ہار گیا۔ مجھے تھوڑی جھجھک تھی۔
پر جب نوشین خود میرے پاس آکر بولی بھیا کھڑے ہو تا کہ میں تمہاری پینٹ اتاروں!
تب میں بھی مست ہو گیا۔
میں نے کہا اوکے، جب گیم کا یہی اصول ہے تب پھر ٹھیک ہے، کھول دو میری پینٹ، اور میں کھڑا ہو گیا۔
نوشین نے اپنے ہاتھ سے میرے برموڈا کو نیچے کھینچ دیا اور جب جھک کر اس کو میرے پیروں سے باہر کر رہی تھی تب میری نظر اس کے برا میں کسی ہوئی چونچیوں پر تھی، جو اس کے جھکے ہونے سے تھوڑا زیادہ ہی دکھ رہی تھی۔
انور نے اپنا ہاتھ آگے کیا اور نوشین کی شلوار کے اوپر سے ہی اس کے چوتڑ پر ایک ہلکا سا چپت لگایا۔ وہ چونک گئی، اور ہم سب ہنسنے لگے۔
میرا لنڈ فرینچی میں ایکدم کھڑا ہو گیا تھا اور نوشین کو بھی یہ پتا چل رہا تھا۔
اگلی بازی انور ہارا، اور اس کی بھی بنیان اتر گئی۔ پر جب تک نوشین اس کی بنیان اتار رہی تھی، وہ تب تک اس کے ننگے پیٹ اور ناف کو سہلاتا رہا تھا۔
اگلی بازی میں جیتا اور نوشین ہار گئی۔ پہلی بار مجھے نوشین کے بدن سے کپڑا اتارنے کا موقع ملا۔ نوشین میرے سامنے آکر کھڑی ہو گئی۔ میرے دل میں جوش تھا پر تھوڑی جھجھک بھی تھی۔ مجھے نوشین کی شلوار کھولنی تھی۔
میں نے ابھی شلوار کا ازاربند پکڑا ہی تھا کہ انور بولا تھوڑا سنبھل کے! جوان لڑکیوں کی شلوار کے اندر بم ہوتا ہے، دھیان رکھنا ندیم۔
میں جھینپ گیا، نوشین بھی تھوڑا جھینپی، پر پھر سنبھل گئی اور بولی میں کوئی دہشت گرد نہیں ہوں، سیدھی سادھی لڑکی ہوں بھائی، ایسا کیوں بولتے ہیں انور بھیا۔
میں تب تک اس کا ناڑا کھول کے اس کی شلوار نیچے کھسکا چکا تھا، اور وہ اپنے پیر اٹھا کے اس کو پوری طرح سے ٹانگوں سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے کندھوں کو پکڑ کر اپنے پیر اوپر کر رہی تھی، تا کہ میں اس کی شلوار پوری طرح سے اتار سکوں۔
اب جب میں نے نوشین کو دیکھا تو میرا لنڈ ایک بار پوری طرح سے تن گیا۔ گلابی برا اور میرون پینٹی میں نوشین ایک مستانی لونڈیا لگ رہی تھی۔ اس کا سانولا سلونا بدن میرے دوستوں کے بھی لنڈ کا برا حال بنا رہا تھا۔
اس کے بعد کی بازی انور پھر ہارا اور نوشین نے اس کا پینٹ کھول دیا۔ اس بار نوشین کے چوتڑ پہ سلیم نے طبلا بجا دیا، پر اب نوشین نہیں چونکی، وہ شاید سمجھ گئی تھی کہ اکیلی لڑکی ہونے کی وجہ سے اس کو اتنی چھوٹ ہم لڑکوں کو دینی ہوگی۔
اب جب کہ ہم سب اپنے انڈرگارمینٹس میں تھے، سلیم بولا کیا اب ہم لوگ گیم روک دیں؟ کیونکہ اس کے بعد الف ننگا ہونا پڑے گا۔
اس نے اپنی بات ختم بھی نہیں کی تھی کہ انور بولا کوئی بات نہیں، ننگا ہونے کے لیے ہی تو سٹریپ پوکر کھیلا جاتا ہے۔
میں دل سے چاہ رہا تھا کہ کھیل نہ رکے اور میں ایک بار نوشین کو پوری ننگی دیکھوں۔
سلیم نے نوشین سے پوچھا بولو نوشین، تم اکیلی لڑکی ہو، آگے کھیلوگی؟
اس پر تو مزے کا نشا تھا۔ وہ چپ چاپ مجھے دیکھنے لگی، تو انور بولا ارے نوشین تم اپنے اس بھیا کی فکر چھوڑو۔ اگر تم میری بہن ہوتی، تو جتنے دن سے تم اس کے ساتھ ہو، اتنے دن میں یہ سالا تم کو سو بار سے کم نہیں چودتا۔ دیکھتی نہیں ہو، اس کا لنڈ ابھی بھی ایکدم کھڑا ہے، سوراخ میں گھسنے کے لیے۔

Share
Article By :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *