بالی عمر کی پیاس بالی عمر کی پیاس – urdu long sex story

بالی عمر کی پیاس

بالی عمر کی پیاس

میں آج آٹھویں جماعت میں پہنچ گئی ہوں۔ کچھ سال پہلے تک میں باِلکل ‘فلیٹ’ تھی۔۔ آگے سے بھی۔۔ اور پِچھے سے بھی۔ لیکن اسکول بس میں آتے جاتے ہوئے لڑکوں کے کندھوں کی رگڑ کھا کھا کر مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ کب میرے کولہوں اور چھاتیوں پر گوشت چڑھ گیا۔۔ اتنی کم عمر میں ہی میرے چوتڑ بیچ سے کٹے ہوئے اسپرنگ لگے ہوئے ایک گول تربوز کی طرح ابھر گئے۔ میری چھاتیاں بھی اب ‘امرودوں’ سے بڑی ہوکر موٹے موٹے ‘سنگتروں’ جیسے ہو گئے تھے۔ میں کئیِ بار باتھ روم میں ننگی ہوکر حیرت سے انہیں دیکھا کرتی تھی۔۔ چھو کر۔۔ دبا کر۔۔ مسل کر۔ مجھے ایسا کرتے ہوئے عجیب سا مزہ آتا ۔۔ ‘وہاں بھی۔۔ اور نیچے چوت میں بھی۔

میرے گورے چِٹ جسم پر اس چھوٹی سی چوت کو چھوڑکر کہیں بھی بالوں کا نام ونِشان تک نہیں تھا۔۔ ہلکے ہلکے سے بال میری بغلوں میں بھی تھے۔ اسکے علاوہ گردن سے لیکر پیروں تک میں بالکل مکھن کی طرح چِکنی تھی۔ کلاس کے لڑکوں کو للچائی نظروں سے اپنی چھاتی لیکن جھولتے ہوئے ‘سنگتروں’ کو گھورتے دیکھ کر میری رانوں کے بیچ چھِپیِ ہوئی ہلکے ہلکے بالوں والی، مگر چِکناہٹ سے بھری ہوئی تِتلی کے پر پھڑپھڑنے لگتے اور مموں پر گلابی رنگت کے ‘انار دانے’ تن کر کھڑے ہو جاتے۔ لیکن مجھے کوئی فرق نہیں پڑا۔ ہاں، کبھی کبھار کچھ کچھ شرم آ جاتی تھی۔ یہ بھی نہیں آتی اگر ممی نے نہ بولا ہوتا،”اب تو بڑی ہو گئی ہے انجو ۔۔ برا پہننی شروع کر دے اور شمیز بھی پہن لِیا کر!“
سچ بتاؤں تو مجھے اپنے خوبصورت کسے ہوئے مموں کو برا میں قید کر کے رکھنا کبھی اچھا نہیں لگا اور نہ ہی انکو شمیز کے پردے میں رکھنا۔ اسکول میں موقع مِلتے ہی میںشمیز اور برا کو جان بوجھ کر اسکول کے باتھ روم میں اتار آتی اور کلاس میں منچلے لڑکوں کو اپنے مموں کے جلوے دیکھنے کے چکر میں اِرد گِرد منڈلاتے ہوئے دیکھ کرخوب مزے لیتی۔۔ میں اکثر جان بوجھ کر اپنے ہاتھ اوپر اٹھا کر انگڑائیاں لیتی جس سے میرے ممے تن کر جھولنے لگتے۔ اس وقت میرے سامنے کھڑے لڑکوں کی حالت خراب ہو جاتی۔۔ کچھ تو اپنے ہونٹوں لیکن ایسے زبان پھیرنے لگتے جیسے موقع مِلتے ہی مجھے نوچ ڈالیںگے۔ کلاس کی ساری لڑکِیاں مجھ سے جلنے لگی تھیں۔۔ حالانکہ ‘وہی’ سب انکے پاس بھی تھا۔۔ لیکن میرے جیسا نہیں۔۔
میں پڑھائی میں بِالکل بھی اچھیِ نہیں تھی لیکن سارے مرد ٹیچروں کا ‘پورا پیار’ مجھے مِلتا تھا۔ یہ انکا پیار ہی تو تھا کہ ہوم-ورک نہ کرنے کے باوجود بھی وہ مسکراکر بغیر کچھ کہے چپ چاپ کاپی بند کرکے مجھے پکڑا دیتے۔۔ باقی سب کی پِٹائی ہوتی۔ لیکن ہاں، وہ میرے پڑھائی میں دھیان نا دینے کا ہرجانا وسول کرنا کبھی نہیں بھولتے تھے۔ جِس کِسی کا بھی خالی پیرِیڈ نِکل آتا۔کِسی نا کِسی بہانے سے مجھے اکیلے میں سٹاف روم میں بلا لیتے۔ میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیکر مسلتے ہوئے مجھے سمجھاتے رہتے۔ کمر سے چِپکا ہوا انکا دوسرا ہاتھ آہستہ آہستہ پھِسلتا ہوا میرے چوتڑوں پر آ ٹِکتا۔ مجھے پڑھائی کی ‘طرف زیادہ’ دھیان دینے کو کہتے ہوئے وہ میرے چوتڑوں پر ہلکی ہلکی چپت لگاتے ہوئے میرے چوتڑوں کے تھِرکنے کا مزہ لوٹتے رہتے۔۔ مجھے پڑھائی کے فائدے گِنواتے ہوئے اکثر وہ ‘کھو’ جاتے تھے، اور چپت لگانا بھول کر میرے چوتڑوں پر ہی اپنے ہاتھ جما لیتے۔ کبھی کبھار تو انکی انگلیاں سکرٹ کے اوپر سے ہی میری گانڈ کی دراڑ کی گہرائیوں کو ناپنے کی کوشِش کرنے لگتیں۔۔

Article By :

Leave a Reply