امتحان – kahaniya urdu wording, ( ایک پھدی دو لن )

Share

یہ کہانی میں نے ایک ڈرامہ جو جیو ٹی وی پر چل رہا تھا “دل ہے چھوٹا سا” اُس سے آیئڈیا لے کر لکھی ہے لکین ذرا اپنے اسٹائل سے اچھی بری فیصلہ آپکا ۔۔۔۔۔۔۔ لکین ڈرامہ تو مست ہے
بھائی یہ آپ کیا بول رہے ہیں آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو۔ عاطف تو بھائی کی بات سن کر ہی تڑپ اُٹھا تھا
بات تھی کچھ ایسی ہی کے اُس کا تڑپنا اتنا بے وجہ بھی نہیں تھا عاطف کی فمیلئ میں صرف وہ اور ایک اُس کا بھائی باقر ہی تھے اماں ابا عاطف کچھ سال پہلے چل بسے تھے۔ باقر اور عا طف کی عمر میں دس سال کو فرق تھا جیس کی وجہ یہ تھی کے باقر کی پئدئیش کے بعد اُن کی اماں کو کچھ کملیکیشنز ہو گئی تھی ڈاکڑں نے لمبا وقفہ دینے کا بولا تھا اس لیے باقر کے پیدا ہونے دس سال بعد عاطف اس دنیا میں ایا تھا ۔عا طف کی عمر اس وقت 25 تھی جب کے باقر کی 35۔ اماں ابا کے مرنے کو بعد عاطف سب چھوڑ چھاڑ باقر کے پاس دوبئی میں ہی آ گیا تھا۔ اماں ابا کی زندگی میں ہی باقر کی شادی اُن کی ایک کزن جس کا نام شمع تھا اور جو باقر کی ہم عمر ہی تھی اُس کے ساتھ کر دی گئی تھی اتفاق یہ تھا کے شمع بھابی کے بھی اماں ابا اب اس دنیا میں نہیں تھے اور اُن کا بہن بھائی بھی کوئی نہیں تھا یعنی اُن تینوں کی کل ملا کر فیملی بس وہی تھے اور ساتھ باقر کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا تھا بیٹی بڑی تھی جو 7 سال کی تھی اور بیٹا پانچ سال کا تھا۔ باقر کی شادی کو ابھی 9 سال ہو گئے تھے۔ ہو کچھ یوں کے۔
کچھ دن پہلے ہی ایک معمول کی لڑائی میں باقر نے شمع کو غصے میں آکر طلاق دے دی تھی۔ جب تک باقر سھبلتا وہ سب کچھ بول چکا تھا اُن کے گھر میں تو مانو سانپ سونگھ گیا تھا۔ شمع کا اس دنیا میں اُن کے علاوہ کوئی نہیں تھا اس لیے وہ جاتی بھی تو کدھر اور اب مسلہ باقر کے بچوں کا بھی تھا ۔ باقر کے ساتھ ساتھ شمع تو پریشا ن تھی ہی لکین عاطف بھی کافی پریشان تھا بچوں کو ابھی تک کچھ پتہ نہیں تھا لکین گھر کا ماحول دیکھ کر وہ بھی کافی سمہے ہوئے تھے۔
باقر نے ایک کسی جاننے والے سے مشورہ لیا تھا اور اُس کے مطابق باقر کی شادی اب ٹوٹ چکی تھی اور اب صرف اسی صورت میں شادی واپس ہو سکتی تھی کے پہلے شمع اپنی عدت پوری کرے اور پھر کسی اور سے شادی کرے اور پھر اُس سے طلاق لے کر واپس عدت پوری کرے اور پھر باقر سے شادی کرے۔اور سب سے ضروری بات کے دوسرے مرد سے صرف نکاح کر کے طلاق نہیں لے سکتے بلکے اُن کو جسمانی تعلق چاہے وہ ایک رات کا ہی کیوں نہ یو بنانا ضروری ہے۔
باقر نے بہت سوچا کے ایسا کون آدمی ہو سکتا ہے جس کو وہ اس کام کے لیے بول سکتا ہے۔
بہت سوچنے کے بعد صرف ایک ہی نام اُس کے ذہن میں آیا تھا اور وہ تھا اُس کا اپنا بھائی عاطف جس پر وہ اعتبار بھی کر سکتا تھا اور جو اُس کے اس بورے وقت میں اُس کے کام بھی آسکتا تھا لکین وہ یہ بات کرنے سے گھبرا رہا تھا کیوں کے اُس کو ریکشن معلوم تھا۔ اور پھر وہی ہوا عاطف اُس کی بات سنتے ہی بھڑک اُٹھا تھا۔
دیکھ میرے بھائی ایک تو ہی تو جس پر میں اعتبار کر سکتا ہوں اگر تم اس بورے وقت میں میرا ساتھ نہیں دو گئے تو اور کون دے گا میں مانتا ہوں میری غلطی ہے اور سزا تم سب لوگوں کو مل رہی ہے لکین میرے بھائی مجھے میری غلظی سدھارنے کو موقع دے ۔ باقر نے عاطف سے منت کرتے ہوئے بولا
لکین بھائی سوری آپ میری جان مانگ لو میری جان خاظر ہے لکین میں یہ نہیں کر سکتا ۔ اُپ خود سوچو میں کیسے کر پاو گا یہ میری بھابی ہیں بہت چھوٹی عمر سے میں اُن اپنا گھر کا ایک بڑا فرد دیکھتا ایا ہوں۔ عاطف نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
باقر نے ہاتھ جھوڑ لیا اور بولا
عاطف میرے ہاتھوں کی طرف دیکھ یار مجھے اور ذلیل ہونے سے بچا لے۔
عاطف کا دل بھی روتے بھائی کو دیکھ کع بھر آیا اور اُس نے اُس کے ہاتھ پکڑ لیے اور بولا
بھائی ایسا مت کرو میرے ساتھ اور تم خود سوچو کیا بھابی کے لیے یہ سب ٹھیک ہو گا وہ کیا یہ سب کر پائے گی۔
باقر بولا ۔ شمع سے بات کر لی ہے میں نے وہ راضی ہے۔
عاطف ہاتھ چھوڑ کر بولا پتہ نہیں تم لوگ کیا چاہتے ہو جو دل میں آتا ہے کرو اور باہر نکل گیا ۔
باقر شمع کے پاس آیا وہ بچوں کے پاس لیٹی ہوئی تھی
ایسا نہیں تھا کے باقر شمع کو پسند نہیں کرتا تھا لکین اُس کو غصہ پر کنٹرول نہیں تھا اور اُس دن بھی اُس نے غصے میں یہ سب بول دیا۔ اُس نے شمع کو بتایا کے عاطف مان گیا ہے۔
اگلے کچھ دنوں میں شمع کی عدت پوری ہوتے ہی عاطف کا نکاح شمع کے ساتھ کر دیا گیا۔۔۔
بچے سو رہے تھے کمر ے میں اور سارے ڈرامے کو اُن سے پوشیدہ رکھا گیا تھا
باقر نے وہ پوری رات انگاروں پر بسر کی ۔ صبع کی اذان شروع ہوئی تو شمع کمرے سے باہر آئی باقر جو باہر ہی بیٹھا تھا اُس کی طرف دیکھنے لگا شمع کو اُس پر غصہ تو بہت تھا لکین وہ اُس کی خالت بھی دیکھ رہی تھی اور یہ
بھی جانتی تھی کے اُسکا اس گھر علاوہ کوئی ٹھکانہ بھی نہیں اس لیے اُس کا ساتھ دے رہی تھی۔وہ باقر کے دیکھنے کا مطلب صاف سمجھ رہی تھی۔
اُس نے بولا۔۔ وہ رات کو جاتے ہی اپنا کمبل لے کر صوفے پر سو گیا تھا۔
باقر بولا ۔ کیا مطلب میں نے تم کو سب سمجھایا بھی تھا
شمع کو بھی غصہ آ گیا وہ آواز کو دباتے ہوئے بولی ۔
تم نے سمجھ کیا رکھا ہے مجھے تم کیا چاہتے تھے مجھ سے میں کیا کرتی وہ میرے سے دس سال چھوٹا ایک بچا ہے جب سے وہ پیدا ہوا ہے میرے لیے ایک بچہ ہی ہے اور اب پچھلے دس سالوں سے میرے لیے وہ میرے شوہر کا چھوٹا بھائی ہے اور تم چاہتے ہو کے میں پہلی ہی رات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمع نے آگے بات اُدھوری چھوڑ دی باقر بھی اُس کی مشکل سمجھ گیا تھا پھر دن پر دن گزرتے گے اور کچھ نہ ہوا باقر عاطف سے یہ بات کھل کے کر نہیں سکتا تھا جو بھی تھا شمع اُس کی بیوی رہی تھی اور عاطف جو اب شمع کا شوہر تھا اُس کا چھوٹا بھائی تھا۔ شمع جس سے وہ کھل کے بات کر سکتا تھا اور جس کو وہ بولتا بھی تھا ہر روز وہ ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔
باقر نے بہت سوچا پھر اُس کو اس مسلہ کا ایک ھل ملا اُس نے فجیرہ ( آمارات کی ایک ریاست کا نام ہے جو ایک ہل سٹشین ہے) میں ایک ہوٹل روم سات دن کے لیے بک کیا اور شمع کو بولا تم عاطف کو لے کر اُدھر چلی جاو وہاں جا کر ماحول بدلے گا تو تم لوگوں کے لیے آسان ہو جائے گا شمع نے جب عاطف سے بات کی تو پہلے تو وہ بدک گیا لکین آخر کار مان ہی گیا۔بچوں کو بتایا کے امی اور چچا کچھ ضروری کام کے لیے کہیں جا رہے ہیں ساتھ دن کے لیے۔
ُ
وہ لوگ شام کو ہوٹل میں پہنچ گے اپنا سامان روم رکھنے کے بعد کھانا کھانے کے لیے باہر نکل آئے رات کو جب وہ ہوتل پہنچ تو کمرے میں کافی سردی تھی کچھ تو موسم بھی اچھا تھا اور اُپر سے اے سی چل رہا تھا ۔ اب بیڈ پر کمبل بھی ایک ہی تھا عا طف کپرے بدل کر بغیر کمبل کے ہی صوفے پر لیٹ گیا شمع بولی
سردی ہے ادھر ہی آ جاو
عاطف کو بھی محسوس ہو چکا تھا کے کمبل کے بغیر گزارا نہیں وہ اُٹھا اور بیڈ کی ایک سائیڈ پر کمبل کے اندر لیٹ گیا ۔ شمع سوچ رہی تھی کے اب کیسے وہ کرے اُس کو باقر نے عجیب حالات میں پھنسا دیا تھا اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔ پھر اُس نے کمرے کی لائیٹ بند کر دی اور دوسرئ طرف سے وہ
بھی کمبل میں گھس گئی پھر کچھ دیر رکنے کے بعد اُس نے جان بوجھ کر اپنے جسم کا پچھلا حصہ عاطف کے بیک کے ساتھ لگا دیا کچھ دیر تک کو ئی ریکشن نہ ایا تو اُس نے ایسے جیسے سوتا بندہ کروٹ لیتا ہے ویسے ہی کروٹ لی اور عاطف کو پیچھے سے گلے لگا لیا اب اُس کے جسم کا اگلا حصہ عاطف کے جسم کے پچھلے حصہ سے چپکا ہوا تھا ور اُس کی بازو عاطف کے اُپر تھی
دوسری طرف اب جوبھی تھو عاطف تھا تو ایک جوان مرد ہی وہ جاگ رہا تھا اور اُس کے لیے اب یہ سب برداشت کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا وہ ایک جھٹکے سے اُٹھا تبی شمع نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی۔
کیوں کر رہے ہو ایسا جب تم کو پتہ ہے کے ہم کو یہ کرنا ہی پڑے گا اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔
عاطف نے دوسری طرف منہ کر کے ہی بولا۔ بھا۔۔۔۔۔۔ وہ شائید بھابی کہتے کہتے رکا تھا شمع سمجھ گئی وہ بولی ۔
عاطف اب جب تک ہم ایک دوسرے کے نکاح میں ہے میں تماری بیوی ہو اس میں کچھ غلط نہیں ہے ۔
لکین میرے سے نہیں ہو پائے گا یہ سب۔ عاطف نے جواب دیا
اچھا تم ایک منٹ لیٹ جاو ۔شمع نے اُس کو لیٹاتے ہوئے بولا
پھر وہ لیٹ گیا تو شمع نے اُس کے ساتھ لگ کر ایک ہاتھ اُسکے سینے پر رکھا اور ایک ٹانگ اُس کی ٹانگوں پر اور بولی۔
تم کیا سمجھتے ہو میرے لیے یہ سب کرنا کیا آسان ہے لکین اب جب خالات نے ہم کو اس چکر میں ڈال دیا ہے تو کیا کر سکتے ہیں۔ شمع نے یہ بولا اور عاطف کے گال پر چوم لیا عاطف کے تو مانو کانٹے نکل آئے ہوں بیڈ پر ایک دم اُٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا شمع شرمندگی کے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی اُس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کرے کیوں کے اُس نے اپنی ساری شرم ایک طرف رکھ کر بڑی ہمت کر کے اپنا قدم بڑایا تھا لکین اب تو وہ اپنی نظروں میں بھی گر گئ تھی عاطف اُس کو ٹھکرا کر چلا گیا تھا۔
وہ ابھی رو ہی رہی تھی کے کمرے کا دروازا واپس کھلا اور عاطف اندر آیا وہ سیدھا بیڈ کی طرف آیا اور آتے ہی اُس نے شمع کو پکڑا اور لیٹا کر چومنا شروع کر دیا۔

پھر اُس نے شمع کی شلوار کو ہاتھ ڈالا اور شلوار کو کھینچ کر نییچے کر دیا
پھر اپنا پجامہ بھی تھوڑا نیچے کر دیا شمع کو اُس کا لن اپنی چوت پر محسوس ہوا کچھ بھی تھا دونوں انسان ہی تھے اب اُن کی سانسوں بڑھنے لگی تھی وہ اب دونوں ہی تیار تھے۔ اس لمھے دونوں صرف ایک دوسرے سے ایک چیز چاہتے تھے اور وہ تھی چدائی۔
عاطف نے اپنا لن پکڑ کر شمع کی چوت پر رگڑا اور شمع کی چوت کافی گیلی ہو چکی تھی عاطف نے لن کو سوراخ پر اندازے سے رکھا اور جٹھکا مارا لن پھسل کے سائیڈ پر ہو گیا کمرے میں اندھیرہ تھا اور ویسے بھئ عاطف نے کمبل اُپر لے لیا تھا ۔عاطف واپس ایک ٹرائی کی لکین پھر نکام ہوا وہ کانپ رہا تھا ۔ شمع نے اُس کو روکا پھر اُس نے ہاتھ اندر کر کے اُس کا لن پکڑا اور چوت کے سوراخ پر رکھ دیا ۔ عاطف نے اس بار دھکا مارا تو لن گہرائی میں آُترتا چلا گیا شمع کے منہ سے ایک سسکاری نکل گئی ۔
باقر دونوں بچوں کی پئدئیش کے بعد بہت کم سکسس کرتا تھا اور اب تو با یہاں تک آ چکی تھی کے کئی کئی مہنے وہ شمع کو چھوتا تک نہین تھا اور جب کبھی چھوتا تھا تو بھی اُس کے لن میں اب وہ دم نہیں رہا تھا۔
شمع کو عاطف کا لن جوانی کی یاد دلانے لگا جب اُس کی باقر کے ساتھ نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ عا طف اب دھکے مار رہا تھا اور شمع نے اُس کو اپنے بازو میں گھیرا ہوا تھا روم میں اُن دونوں کی آوازیں اور پچک پچک دھک دھک کی آواز کھو نج رہیں تھی شمع نے اپنی ٹانگوں کو اُٹھایا اور اور عاطف کی کمر پر رکھ دیا عاطف اب زور زور سے چدائی کر رہا تھا ۔
شمع نے عاطف کو زور سے جھکڑا اور اُس کے کندھے کو دنتوں سے کاٹ لیا اُس کو جب بھی اُرگیزم ہوتا تھا وہ یا تو ناھن مارتی تھی باقر کو یا کاٹ لیتی تھی لیکن اب تو بہت ہی عرصہ ہو گیا تھا اس بات کو پچھلے دو تین سالوں سے شائید ہی شمع کبھی آرگیزم تک پہنچی تھی۔
جب وہ فارغ ہو چکی تو اُس اُس نے عاطف کو چھوڑا عاطف ابھی بھی لگا ہوا تھا اُس کا لن اب بہت ہی پھسل رہا تھا کیوں کے آرگیزم کے بعد شمع کی چوت میں اور زیادہ پانی آ گیا تھا شمع نے اُس کو روکا اور پھر اُس کو تھوڑا اُپر کر کے اپنی پوری شلوار جو اب صرف ایک ٹانگ پر تھی اُتار دی اور عاطف کا بھی پورا پاجامہ اُتار دیا جس میں عاطف نے اُس کی مدد کی لکین کمبل کو اُنھوں نے جسموں پر رہنے دیا ویسے بھی کمرے میں فل اندھیرہ تھا ۔ شمع نے اپنی شلوار سے اپنی چوت صاف کی ۔ اور عاطف کو واپس اشارہ کیا عاطف نے ایک بار پھر اپنا لن اُس کی چوت میں گھسا دیا۔ عاطف کوئی اگلے
دس پندرہ منٹ تک لگا رہا جس کے دروان شمع ایک بار اور فارغ ہو چکی تھی پھر عاطف نے اپنا پانی شمع کی چوت میں چھوڑنا شروع کر دیا ۔
تھوڑی دیر بعد عاطف ایک طرف کو منہ کر کے لیٹ گیا اُس کو اچھا تو لگا تھا مزا بھی آہا تھا لکین اُس کو عجیب شرمندگی بھی محسوس ہو رہی تھی۔
دوسری طرف شمع بہت ہی سکون میں تھی اُس بہت عرصہ بعد جسمانی خوشی نصیب ہوئی تھی۔

صبع شمع کی آنکھ کھلی تو عاطف روم میں نہیں تھا اور شمع کے موبئیل کی بیل بج رہی تھی۔ اُس نے نمبر دیکھا باقر کا فون تھا
باقر نے اُس کو پوچھا یوا کچھ ۔
شمع نے کچھ سوچتے ہو ئے بولا۔ نہیں آج تو کچھ نہیں ہوا لکین فکر نہیں کرو میری بات ہو گئی ہے وہ مان گیا ہے کے ساتویں دن کر دے گا ۔
باقر بولا۔ کیوں ساتویں دن کیوں۔
شمع بولی۔ یہ سب تماری ہی وجہ سے ہو رہا ہے ۔ ان یہ سب کرنا ہمارے لیے اتنا آسان نہیں ہے اگر اتنی جلدی ہے تو خود اپنے بھائی کو فون کر بولو کے کر دے۔
باقر بولا۔ اچھا چلو چھوڑو لکین پلیز اب یہ کام کر کے ہی واپس آنا اگر اب نہ ہوا تو پھر کبھی نہیں ہو گا
شہمع بولی۔ کوشش کر رہی ہو نا میں تم بے فکر رہو۔
اُس نے فون بند کر دیا۔
وہ بیڈ سے اُٹھی اور پھر اُس نے کمبل پیچھے کیا اور اپنی شلوار ڈھونڈ کر پہنی ۔ تبی عاطف اندر آیا ۔ وہ اُس کو دیکھ کر شرما گیا تھا۔
شمع کیوں کے کافی مچیور تھی اس لیے وہ جلدی سنھبل گئی تھی۔
وہ بولی کدھر تھے۔
عاطف بولا ۔ ناشتے کا آرڈر دے کر آیا ہوں۔
شمع بولی۔ باقر کا فون آیا تھا اور میں نے بولا ہے کے ۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کچھ نہیں ہوا
عاطف نے سر ہلا دیا شمع ہوش ہو گئی یعنی عاطف بھی وہی چاہتا تھا جو وہ چاہتی تھی۔
اُس کو دکھ بھی ہوا کے اُس نے باقر سے جھوٹ بولا لکین اس سب چکر میں پھنسی بھی تو اُس کی وجہ سے تھی اور عاطف اب اُس کا شوہر تھا۔ اس لیے اۃس کے ساتھ سکسس کرنا کوئی بری بات نہیں تھی وہ اندر سے
مطمین ہو گئی ۔وہ سوچ رہی تھی اگر جائز طریقے سے وہ اپنے جسم کی آگ کو کچھ اور دن ٹھنڈا کر سکتی ہے تو مسلئہ کیا ہے۔
دوسرا دن

شمع ایک مکمل گھریلو اور شریف عورت تھی اُس نے اج تک اپنے شوہر سے

بے وفائی نہیں کی تھی خالانکہ بہت سے مردوں کی طرف سے اُس کو بہت

بار اشارہ ملا تھا لکین اُس نے ہمشہ اپنے شوہر کو ہی اپنے جسم کا مالک

سمجھا تھا اور اپنی ہر چیز کو وہ شوہر کی امانت سمجتھی تھی۔
اُس نے زندگی میں پہلی بار اپنے شوہر باقر کے علاوہ کسی دوسرے مرد کا

لن اپنے اندر لیا تھا اور وہ بھی اپنے سے دس سال چھوٹے مرد کا اُس کے

لیے یہ تجربہ بہت ہی زبردست تھا اور وہ بہت خوشی تھی۔ اُس کی جنسی

تسکین ایسی کبھی نہیں ہوئی تھی جیسی اُس کو کل رات کے ایک جلدی جلدی

کے سکسس نے دی تھی ۔اب یہ بات کم از کم اُس نے پکی اپنے دماغ میں طہ

کر لی تھی کے اُس اپنی زندگی کے اگلے سات دن مزا کرنا ہے اُس کو اپنی

زندگی ان سات دنوں میں کھل کر جینا ہے۔ اور اس میں کچھ غلط بھی نہیں

تھا کیونکہ اب عاطف کوئی نامحرم مرد نہیں تھا بلکے اُس کا شوہر تھا۔
دوسری طرف عاطف کے لیے اپنی بڑی بھابھی جو کے اب خالات کی وجہ

سے اُس کی بیوی تھی کے ساتھ یہ سب کرنا سے مزا تو بہت آیا تھا لکین

شرمندگی سی ہو رہی تھی وہ بھابھی یعنی شمع سے نطریں نہیں ملا پا رہا تھا

۔لکین جب صبع شمع نے اُس کو بتایا کے شمع نے باقر بھائی کو بول دیا ہے

کے ابھی کچھ نہیں ہوا۔ تو اس کو دل میں بہت خوشی ہوئی تھی کیونکے

رات کے بعد وہ بھی چاہتا تھا کے اُس کو شمع کے ساتھ کچھ اور وقت ملے۔

اُس کی ایک گرل فرنیڈ تھی عالیہ جو کے عاطف کی ہی ہم عمر تھی اور

عاطف اُس کو کئی بار چود چکا تھا ۔ لکین جو مزا اُس کو رات کے تاریکی

میں اور تھوڑے سے وقت کے لیے شمع کو چود کر آیا تھا ایسا مزا کبھی

عالیہ کو دن کی روشنی میں چود کر بھی نہیں آیا تھا۔ اس کی وجہ شاید کچھ

نفسیاتی تھی یا کچھ اور لکین وہ رات کا واقعہ اُس کو آج دن میں بھی گرما

رہا تھا وہ سوچ رہا تھا کب رات ہو اور کب وہ دوبارہ شمع کو چودے۔ وہ تو

شاید دن میں بھی کرنے سے باز نہ آتا لکین ایک تو شمع اُس کی سابقہ بری

بھابھی تھی اور دوسرا شمع ناشتے کے فورا بعد ہی اُس کو لے کر گھومنے آ

گئی تھی۔
عاطف تو پہلے بھی کئی بار فیجرہ آ چکا تھا لکین شمع پہلی بار آئی تھی اس

لیے اُس کو گھومنا تھا ۔ عاطف اُس کو کافی نئی جگہ دیکھا رہا تھا۔
ویسے تو شمع میں بھی اندر سے بے چین تھی لکین وہ بھی تھوڑا کنفیوز تھی

کیونکے عاطف اُس کا دیور تھا جو کے اُس سے کافی چھوٹا بھی تھا اور طلاق

کے واقعہ سے پہلے تک وہ ہمشہ اُس کو اپنے چھوٹے بھائی کی نظر سے ہی

دیکتھی تھی کبھی سوچا بھی نہیں تھا کے اُس کو زندگی ایسا دن بھی دیکھائے

گی کے وہ اسی کے ساتھ یہ سب کرئے گی۔
خیر وہ پورا دن اُن دونوں نے بہت زیادہ بات چیت نہیں کی بس ادھر اُدھر

گھومتے رہے ۔ پھر رات کو ہوٹل واپس جانے سے پہلے اُنہوں نے ایک

پاکستانی ریستوران پر کھانا کھایا اور اب چائے کا انتظار کر رہے تھے ۔ جب

اچانک عاطف بولا ۔
بھابھی وہ میں یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس نے ابھی اتنی بات ہی کی تھی کے شمع نے اُس

کو ٹوکتے ہوئے بولا۔
بھابھی مت بولو ، میں تماری بیوی ہوں بھابھی نہیں۔
عا طف بولا۔ سوری لکین آپ پہلے تھی ۔ اور اب کچھ دنوں بعد واپس میری

بھابھی ہی بننا ہے اُپ کو تو میں عادت کیوں بدلوں۔ عا طف نے آخری جملہ

ایسے افسوس سے بولا تھا کے شمع بھی چونک گئی
پھر شمع بولی۔ جب واپس بنو گی تب کی تب دیکھی جائے گی لکین ابھی تو

تماری بیوی ہوں نہ۔
عا طف بھی چپ کر گیا وہ بات جو وہ بولنے والا تھا وہ تو وہی رہے گئی

لکین دونوں عاطف کی اُس بات کے بارے میں سوچنے لگے کے”سات دن بعد

واپس شمع کو اُس کی بھابھی ہی بننا تھا” شمع کو اب عجیب سی بے چینی

ہونے لگی ۔ وہ سوچنے لگی کے اُس نے بہت بُرا کیا ہے اپنی تھوڑی سی

جسمانی خوشی کے لیے اُس نے صبع باقر سے جھوٹ بولا اور اگر وہ اب

برداشت نہیں کر پا رہی تو تب کیا ہو گا جب وہ واپس باقر کی بیوی بن جائے

گی۔
اسی پریشانی میں دونوں نے اپنی اپنی چائے ختم کی اور ہوٹل آگئے کہاں تو

وہ دونوں پورا دن رات کا انتظار کر رہے تھے ۔ اور اب دونوں مختلف

سمتوں کی طرف میں کر کے لیٹے سوچوں میں گم تھے شمع کا دل عجیب سا

ہو رہا تھا ایک طرف وہ عاطف کے ساتھ انجوائے کرنا چاہتی تھی تو دوسری

طرف اُس کو باقر یاد آ رہا تھا ۔ وہ یہ سب سوچتے ہی پتہ نہیں کب سو گئی۔
اُس کی آنکھ کھولی تو اُس نے اپنی کمر پر عاطف کا ہاتھ پایا جو اُس کی کمر

پر آہستہ آہستہ ہل رہا تھا وہ چپ کر کےلیٹی رہی اُس کی جسم میں گرمی
آنے لگی تھی ۔ عاطف نے تھوڑی دیر بعد ہاتھ ہٹا لیا پھر شمع انتطار کرتی

رہی کے عاطف کچھ کرے لکین عاطف نے واپس کچھ نہیں کیا ۔
ایک گھنٹے سے بھی زیادہ گزر گیا شمع کو واپس ننید بھی نہیں آئی ۔ اب جسم

کی بھوک انکھوں کی نیند سے زیادہ تھی۔ لکین عاطف اُس کی بھوک جگا کر

خود پتہ نہیں سو چکا تھا اُس نے سوچا کیوں نہ چیک کروں وہ سو رہا ہے یا

جاگ رہا ہے۔
عاطف۔
جی کیاہوا۔ عاطف نے جواب دیا۔ اس کو مطلب تھا وہ بھی اُسی آگ میں جل

رہا تھا جس میں شمع جل رہی تھی۔
کیا ہوا نیند نہیں آ رہی۔ شمع نے اُس کو پوچھا
آپ بھی تو جاگ رہی ہیں۔ عاطف بولا
پھر شمع نے کروٹ لی اور منہ عاطف کی طرف کر لیا۔ پھر بولی
کیا سوچ رہے ہو۔
عاطف بولا۔ جو سوچ رہا ہوں وہ مجھے گناہ لگتا ہے۔
شمع نے ایک لمبی آہ بھری اس کا اندازہ سہی تھا عاطف بھی اُتنا ہی بے چین

تھا جتینی وہ تھی، بات سمجھ میں بھی آتی تھی وہ ایک ایسی جگہ پر تھے

جہاں اُن کو دیکھنے والا کوئی نہیں تھا اور سکسس کی بھوک دونوں کے اندر

جاگ چکی تھی لکین دیور تھی تو صرف اُن کا سابقہ رشتہ جو اُن کو سب

حدیں پار کرنے سے روک رہا تھا۔
لکین پھر شمع کا صبر جواب دے گیا اُس نے عاطف کا ہاتھ پکڑا اور اپنی کمر

پر رکھ کر اُس کے پاس ہو کر اُس کو اپنے ساتھ لگا لیا ۔عاطف بھی اپنے اندر

کی جنگ سے ہار چکا تھا اور اُس نے بھی دیر نہیں لگائی اور شمع کو پکڑ کر

اپنے ساتھ دبا لیا۔
عاطف نے اپنے ہونٹوں کو شمع کے ہونٹوں پر رکھ کر شمع کے ہونٹوں

چوسنا شروع کر دیا اندھیرے میں وہ صرف ایک دوسرے کی سانسوں کی

آوازیں ہی سن سکتے تھے دیکھنا بہت مشکل تھا کچھ بھی صاف نظر نہیں آ

رہا تھا صرف ایک عکس ہی نظر آ رہا تھا
عاطف نے اپنا ایک ہاتھ شمع کے ممے پر رکھ دیا اُسکے ممے بہت بڑے

تھے۔ اُتنے ہی بڑے جتینے ایک سات سال کے بچے کی صخت مند ماں کے

ہو سکتے تھے۔ شمع دیکھنے میں کافی خوبصورت تھی گوری چٹی ۔ شادی

کے وقت وہ کافی سمارٹ بھی تھی لکین جیسے جیسے بچے ہوتے گے اور
عمر بڑھتی گئی اُس کا وزن بھی برھتا گیا اور اب اُس کا فگر کافی بڑا تھا ۔

وہ 40 کا برا پہنتی تھی اُس کی کمر اُس کی 36 انچ تھی اور گانڈ اُس کی

42 انچ کی
تھی۔ ویسے تو کافی مردوں کو بڑی عمر کی موٹی عورتوں میں کشش

محسوس ہو تی ہے ۔ لکین اُس کے چہرے میں اتنی معصومیت اور کشش تھی

کے اگر کسی کو موٹی عورت پسند نہیں بھی تھی تو اُس کو بھی شمع ضرور

پسند آ جاتی تھی۔ اُس کا جسم موٹا ضرور تھا لکین لٹکا ہوا نہیں تھا سخت

جسم تھا یعنی وہ موٹی صحت مند ہونے کی وجہ سے تھی۔ بیماری کی وجہ

سے موٹاپا نہیں تھا۔
قد لمبا ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ موٹی لگتی بھی نہیں تھی اُس کا جسم بلکل

اداکارہ صائمہ کی طرح کا تھا۔
عاطف کو اُس کے ممے کو ہاتھ میں لے کر بہت مزا آیا اور شمع کے لیے

بھی یہ بہت خوش کن احساس تھا ۔ عاطف اُس کے ممے کو دباتا رہا اور اُس

کے ہونٹوں کو چوستا اور کاٹتا رہا ۔
کچھ دیر جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ چپکے ایسی خالت میں رہے تو ۔ شمع

نے ہاتھ بڑھا کر اپنا ہاتھ عاطف کے لن پر رکھا تو وہ تنا ہوا تھا ۔ عاطف نے

سونے کے لیے شلوار پہنی ہوئی تھی۔ شمع نے شلوار کے اُپر سے ہی اُس کا

لن ہاتھ میں لیا ۔ کل شائید جوش کی وجہ سے یا جلد بازی کی وجہ سے شمع

نے اپنے اندر لینے کے باوجود محسوس نہیں کیا تھا لکین آج ہاتھ میں لینے

کے بعد آس کو احساس ہو رہا تھا کے عاطف کا لن کافی بڑا تھا باقر سے اور

موٹا بھی لگ رہا تھا اُس کے دل میں شدید تمنا ہوئی اُس کا لن دیکھنے کی

لکین نسوانی شرم نے اُس کو روکے رکھا ۔
شمع کی لن پکڑنے والی حرکت نے عاطف کے رگوں میں خون کی رفتار تیز

کر دی تھی ۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اور شمع کے اُپر آگیا اُس نے شمع کے

ہونٹوں کو چھوڑا اور اس کی گردن کو چومتا ہوا اُس کی سینے کی طرف آ

گیا پھر اُس نے شمع کے مموں کو کمیض کے اُپر سے ہی چومنا شروع کیا ۔

شمع کو جب اُس کی سانسس اور اُس کے ہونٹوں نرم لمس اپنے مموں پر

محسوس ہوا تو اُس کی منہ سے بلکل ہلکی آواز میں ایک سسکاری نکل گئی

اور اُس کی سانسسوں کی رفتار اور بڑھ گئی۔ سانس تیز ہونے کی وجہ سے

اُسکے مموں نے بھی واضع طریقے سے اُپر نیچے ہونا شروع کر دیا۔
اب عاطف نے چومتے ہوئے اُس کے پیٹ کی طرف جانا شروع کیا ۔ تب ہی

شمع کی ہمت جواب دے گئی ۔ وہ بولی۔
عاطف شروع کرو پلیز
عاطف نے اپنا منہ اُس کے پیٹ سے اُٹھایا اور پھر ہاتھ نیچے کر کے اُس

نے شمع کی شلوار اُتار دی شمع نے اپنا جسم اُٹھا کر اُس کا ساتھ دیا تھا۔
عاطف کا بہت دل چاہا کے وہ شمع کی کمیض بھی اُتار دے لکین اُس نے

Share
Article By :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *