پڑوس کےبھییا نےمجھےچودا – urdu font sex story desi girl

Share

[size=150:1y91r6kz]میرا نام اَلنکرتا ہے . یہ واقعہ تب کی ہے جب میں12ویںکلاس میں تھی . میرےماں- والد جی کا وقت – وقت پر گاؤں جانا رہتا تھا . میںخود اپنے منہ میاں- مٹٹھو تو نہیںھونا چاہتی , پر ھکیکت یہی ہے کہ میںدکھنےمیں کھوبسورت ھوں , لڑکےہمیشہ سےمیرےآشک رہےہیں . میںنے کافی کےساتھ مزےکئی ہیں , پر جو واقعہ میںیہاںآپکےسنگ بانٹ رہی ھوں , وہ ان میں سےالگ ہے . میرےگھر کےٹھیک بغل میں ایک نوجوان رہتا تھا . اُنکی عمر یہی کوئی 24 – 25 کےآس – پاس تھی , اُسکا نام منوج تھا اور اُنکا میرےگھر میں ہمیشہ آنا – جانا لگا ھی رہتا تھا . وہ پاپا کےآپھس میں ھی کام کیا کرتےتھے. میرا کوئی بھائی نہیںتھا تو کبھی – کبھار منوج بھییا کےساتھ میںبازار بھی چلی جاتی تھی اور سکول سےچھٹی کےبعد اُنکےگاڑی سےھی گھر بھی آتی تھی . میںاُنہیںکہتی تو بھییا تھی , کیونک مجھسےعمر میں تھوڑےبڑےتھے , پر رشتہ بلکل دوستی کا تھا . منوج بھییا سوبھاو سےتھوڑےشرمیلےسےتھے , مجھسےبات کرتےوقت کبھی آنکھوںمیں آنکھیںڈال کر نہیںدیکھتے تھے. جب کہ ایک لڑکی ہمیشہ یہ سمجھتی ہے کہ سامنےوالےمرد کےدل میں اُسکےلئے کیا چھپا ہے . میںجانتی تھی کہ منوج بھییا کےدل میں کہیںنہ کہیںمجھےپانےکی خواہش زرور ہے . اُنہوں نے کبھی کہا نہیں , پر میںسمجھتی تھی . کھیر زیادہ فزول کی بات نہ کرکےمیںآپ سبکو بتاتی ھوںوہ دن , جس دن میںنے منوج بھییا کےساتھ سمبھوگ کا مزہ اُٹھایا . مممی – پاپا باہر گئی تھے , تو میںنے اُس دن اپنے گھر کےکمپیوٹر میں بلو – فلم دیکھ رہی تھی . میںبڑی مست موڈ میں تھی , جب اَچانک کسی نےدروازا کھٹکھٹایا . میںنے دکھا منوج بھییا ہیں , تو دروازا کھول دیا . اُنہیںپتہ نہیںتھا کہ پاپا گھر میں نہیںہیں . میںنے جب اُنہیںبتایا تو وہ واپس جانےلگے , پر میراارادا اُس دن کچھ اور ھی تھا . میںنے ان سے کہا – منوج بھییا , چاےتو پی کر جائئی . وہ مان گئی . میںرسوئی میں چاےبناتےہوئے اپنے اگلے قدم کےبارےمیں سوچ رہی تھی . نہ جانےکیوںایسا لگ رہا تھا کہ بس آج منوج بھییا کےساتھ اگر میںنے سمبھوگ نہ کیا تو یہ موقع دبارا نہیںآنےوالا . میںفوراً کپڑےبدلنےگئی اور ایک بہت ھی نیچےگلےکا ٹاپ پہن لیا , جس سے کی میری چوچیاںدکھیں. میںچاےلےکر منوج بھییا کےپاس گئی اور جان بوجھ کر زیادہ جھکی تاکہ اُنہیںمیرےمممےدکھیں. میںدیکھ سکتی تھی کہ منوج بھییا کی نجریںبلکل میری چوچیوںپر گڑ گئیں. میںنے ھنستےہوئے ان سے پوچھا – کیا بات ہے? تو وہ ٹال گئی , پر میںدیکھ سکتی تھی کہ اُنکا لؤڑا کیسےتن کر اُنکےجینس سےباہر آنےکو بیتاب ھو رہا تھا . میںجاکر منوج بھییا کےپاس بیٹھ گئی اور اُنکےکندھےپر سر رکھ دیا . وہ تھوڑےڈر سےگئی , پھر کہا – چلو کہیںباہر چلتےہیں . میںنے کہا – منوج بھییا ٹھیک ہے , میںتیار ھوکر آتی ھوں , تھوڑا وقت دو . میںدوسرےکمرےمیں چلی گئی اور وہاںسےجھانکنےلگی . منوج بھییا نےفوراً اپنا لؤڑا نکالا اور مٹھ مارنےلگے. میںنے جندگی میں اس سے بڑا لؤڑا نہیںدکھا تھا . مٹھ مارتےوقت اُنکی آنکھیںبند تھیںاور وہ جلدی – جلدی اپنی مٹٹھی مار رہےتھےکہ تبھی میںدبارا کمرےمیں آ گئی . میںنے کہا – بھییا… یہ کیا کر رہےھو? منوج بھییا ڈر گئی , اُنکی شکل دیکھنے والی تھی . انہوںنے کہا – گلتی ھو گئی . . ماف کر دو . . پاپا کو یہ بات مت بتانا . . ! میںنے کہا – ٹھیک ہے , پر اس سے پہلےایک کام کرنا ھوگا . اَب میرےلئے اورانتزار کرنا دوبھر تھا , میںنے منوج بھییا کا کھڑا لنڈ اپنے ھاتھوںمیں لےلیا اور اس سے چلانےلگی . منوج بھییا کسی بچےکی طرح ‘آہین’ بھرنےلگے. میںنے دھیرےسےاُنکا گرم لنڈ اپنے منہ میں لیا اور چوسنےلگی . میںبہت زور – زور سےچوس رہی تھی . اب منوج بھییا نےاپنے دونوںھاتھوںسےمیرا سر تھام لیا اور میرےمنہ میں ھی چودنا شروع کر دیا . مجھےسانس لینےمیں بھی تکلیپھ ھو رہی تھی , پر اب منوج بھییا کسی پیاسےہےوان کی طرح ھو گئی تھے. سالےکو 12ویںکلاس کی چھوری جو مل گئی تھی چودنےکو . میںکچھ سمجھ پاتی اس سے پہلےھی منوج بھییا جھڑ گئی , پورا سڑکا میرےمنہ میں بھر گیا . میںنے باہر تھوکنا چاہا , تو بولے- سالی پی جااسی… آج چودتا ھوںسالی تجھےھرامن… . میںاُنکا سارا سڑکا پی گئی . اُنہوں نے اب ایک – ایک کرکےمیرےکپڑےاُتارنا شروع کیا , پہلےکرتا پھر جینس , پھر میری برا – پینٹی بھی اُتار دی . میںنے اپنی دہ منوج بھییا کو سونپ دی تھی . میںجب پوری ننگی ھو گئی تو کہنےلگے- سالی اب تک بہت سڑکا مارا ہے تیرےنام کا , آج تو تیری چوت ھی پھاڑ دونگا . . ! مجھےاُنہوں نے ایک میز کےاُوپر لٹا دیا اور پھر اپنا لنڈ میری چوت میں ڈالنےلگے. میری چیکھ نکلنےھی والی تھی کہ اُنہوں نے مجھےچمبن کرنا شروع کر دیا , اُنکا لؤڑا میری چوت میں گھس چکا تھا . مارےدرد کےمیںچھٹپٹا رہی تھی , میرا کومل بدن کسی پتتےکی طرح کانپ رہا تھا اور وہیںمنوج بھییا مجھےچود جا رہےتھے. مجھیاتنا مزہ آ رہا تھا اور وہ میرےپیٹ پر اپنی گرم سانسیںچھوڑ رہےتھے. تبھی مجھےلگا میںجھڑنےوالی ھوں , میںنے کہا – بھییا میںجھڑ جااُونگی . . آہ . . آہ . . آآآاَہ آآآآاَہ . . !” پھر میںجھڑ گئی , پر منوج بھییا کہاںماننےوالےتھے. ایک بار پھر وہ میری جوان چوت میں اُونگلی کرنےلگے. میںپھر سےگرم ھونےلگی کہ اُنہوں نے جیبھ سےمیری چوت چاٹنا شروع کر دیا . مجھیاتنا مزا کبھی خود اپنی اُونگلی ڈال کر نہیںآیا تھا . میںبس منوج بھییا کا سر اور زور سےپکڑ کےاپنی چوت کی طرف کھینچ رہی تھی . میںدبارا جھڑنےلگی اور میری چوت کا پورا پانی اس بار منوج بھییا کےمنہ میں چلا گیا . میںدیکھ سکتی تھی , اُنکا لؤڑا ایک بار پھر تن گیا تھا . اَب اُنہوں نے مجھےاپنی گودی میں اُٹھا لیا اور خود کھڑےھو گئی . مجھےاپنی ٹانگیںاُنکی کمر کی گولائی میں لپیٹنےکو کہا , پھر دھیرےسےاپنا لؤڑا اُنہوں نے دبارا چوت میں پیل دیا . پھر مجھےھلکے- ھلکےاُچھالنےلگےاور میری چوچی چوسنےلگے. میںھلکے- ھلکےسسکیاںلیتی رہی , “آہ . . آہ آآآاَہ” میںنے اُنہیںچمبن کرنا شروع کر دیا , میںجیبھ سےاُنکی گلےاور چھاتی کی گھنڈیوںکو چاٹنےلگی . اُنکا کامدو اب پوری طرح جگ چکا تھا . ھم دونوںئیکدم کھل چکےتھے. مجھےبسطح پر لٹا کر اُنہوں نے کہا – چل کتیا کا پوز بنا . . میںنے وہی کیا . اب منوج بھییا نےاپنا لؤڑا میری گانڈ کےچھید میں ڈالنا شروع کیا . میںنے چللا کر کہا – پلیج بھییا میری گانڈ مت مارو , چوت پھاڑ دو میری پر گانڈ مت مارو . . ! پر وہ کہاںماننےوالےتھے؟ کسی گولی کی طرح پہلےھی جھٹکےمیں اُنکا آدھا لنڈ اَندر جا چکا تھا , اور پھر پورا سما گیا . وہ کسی کتے کی طرح اپنی کمر زور سےھلاتےہوئے مجھےچود رہےتھے. پسینےسےتر ھو چکےمنوج نےکہا – بس اب میںجھڑ جااُونگا . . وہ بس مجھےچود ھی چلےجا رہےتھےکہ تبھی ایک جھٹکےسےاپنا لنڈ باہر نکالا اور مجھےسیدھا لٹا دیا , جب تک کچھ سوچ پاتی منوج بھییا کےلنڈ سےسڑکےکی نہر نکل پڑی , جو میری چوچیوںاور پیٹ پر فیل گئی . ہم دونوںکی پست اور نڈھال ھو کر گر پڑے. میںنے پیار سےمنوج بھییا کا لنڈ ھاتھوںمیں لیا اور کہا – بہت جان ہے تمہارےلنڈ میں . . ! منوج بھییا نےمسکرا کر جواب دیا – سالی رنڈی تو تو بھی کم نہیںہے . . ! ئتنا کہ کر ھم دونوںنےایک دوسرےخوب چوما اور کچھ دیر لیٹنےکےبعد اُنہوں نے مجھسےودا لی . اُسکےبعد میںان سے کافی بار چد چکی ھون![/size:1y91r6kz]

Share
Posted in Uncategorized
Article By :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *