AWARA By SHAHENA CHANDA ( urdu font )

[size=150:3p4wwnmp]AWARA By SHAHENA CHANDA (urdu font)
آوارہ۔۔۔۔۔
.
.
کھڑکی کے دونوں پٹ کھولے کھڑی وہ اپنے آپ سے بھی بےخبر یوں باہر دیکھے جارہی تھی‘ جیسے موسم بہتہی دلکش اور بے حد سہانا ہو۔ جبکہ باہر طوفان بادوباراں اپنی پوری شدتوں پر تھا۔ اگرچہ موسم صبح ہی سے ابر آلود تھا۔ مگر شام ہوتے ہوتے وہ طوفان کی شکل میں ڈھل چکا تھا۔ بارش شروع ہوئی تو پھر رکنے کا نام ہی نہ لیا۔ اندھیرا گہرا ہونے کے ساتھ ساتھ طوفانی بارش شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ رہ رہ کر بجلی کے کوندے لمحہ بھر کے لیے دھرتی کو روشن کرتے‘ پھر پہلے سے زیادہ تاریکی چھا جاتی اور اسگہری تاریکی میں بادلوں کی گھن گرج اوربھی بھیانک لگ رہی تھی۔ اس پر منہ زور ہواکی تیزی کو دیکھتے ہوئے یوںمحسوس ہو رہا تھا۔جیسے ہر چیز آج اڑا کر لے جائے گی۔ فضا میں عجیب سا خوفناک شور تھا۔
رات تو یوں بھی ایک سکوت پرور، اداس اور ڈرائونی چیز کا نام ہے۔ خاص کر تنہا انسان کےلیے۔ اور انسان بھیوہ جو اپنے روم میں ہی نہیں پورے گھر میں تنہا ہو۔ اس پر یہ خوفناک طوفان، بپھرے ہوئے بادلوں کی بھیانک آوازیں اور زوروں سے برستی شدید بارش۔ لگتا تھا صبح ہوتےہوتے سب کچھ ختم ہوجائے گا۔ایسے خوفناک موسم میں انسان توانسان چرند پرند بھی گھونسلوں میں دبکے بیٹھے تھے۔ مگر اس کو تو جیسے کسی بات کا احساس ہینہیں تھا۔ وہ ہر خوف، ہرطوفان اور ہر چیز سے بے نیاز آنکھیں پھاڑےنجانے تاریکی میں کیادیکھنے، کیا محسوس کرنے یا سننے کی کوشش کررہی تھی۔ دفعتاً ہوا کی شائیں شائیں کسی کی سرگوشیوں میں تبدیل ہونے لگیں۔
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ تمواقعی آوارہہو۔ سنا تم نے ذلیل لڑکی! تم آوارہ ہو۔ لوگتمہارے بارے میں جو بھی کہتے ہیں‘ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ اتنی سی عمر میں تم کتنے پراگندہ ذہن کی لڑکی ہو۔ کتنے دن سےمیں تمہاری حرکتوں کودیکھ رہا تھا۔ بالآخر آج اس موسم کا سہارا لے کر تم مجھے گمراہ کرنے بھی آگئیں۔‘‘ وہ رکا، ایک نفرتبھری نگاہ سامنے کھڑی روبی پر ڈالی، پھر زہر خند سے بولا۔
’’میں مرد ہوکر تمہارے پاس نہیں آیا، ورنہ اسموسم کے تقاضے میںبھی سمجھتا تھا۔ یہ بھیگا موسم مجھ پربھی اثر انداز ہوسکتا تھا۔‘‘اس آواز میں زہر بھرا ہوا تھا۔’’مگر تم، تم عورت ہوکر مجھ سے رفاقت کی بھیکمانگ رہی ہو۔ مگر افسوس تم اپنی خواہش پوری کرنے بہت غلط جگہ آئی ہو، کیونکہ میں ایسا مرد نہیں ہوں کہ تم جیسی عورت کی حوصلہ افزائی کروں۔ تمہیں یہاں کچھ نہ ملے گا۔ جائو اپنے کمرے میں چلی جائو۔‘‘ حقارت بھرے لہجے میں کہتے ہوئے بلال نے بڑی بے رحمی سے خود سے لپٹی روبی کو نوچنے والے انداز میںالگ کرتے ہوئے پوری قوت سے دروازے کی جانب دھکیل دیا۔
وہ دروازے کی بجائے پورے زور سے سیدھی دیوار سے جاٹکرائی۔ سر میں شدید درد کا احساس ہوا، مگر بادل اوربجلی کی کڑکتی آوازوں کا خوفہر شے پر حاوی تھا۔ وہ چوٹ بھول کر پھر بلال کی سمت ہی آئی تھی، کہ اس وقت بلال کے علاوہ کوئی ذی روح گھر میں موجود نہیں تھا۔ کڑکتی بجلی سے ڈر کر بلال سے لپٹنا ایک غیرارادی فعل تھا۔ اور وہ کیا سمجھا تھا اورکیا کچھ نہ کہہ ڈالا تھا۔’تم عورت ہوکر مجھ سے رفاقت کی بھیک مانگ رہی ہو‘ کیا وہ عورت تھی، وہ تو 17برسکی ایک بہت پیاری اور بے حد خوبصورت لڑکی تھی۔ بلکہ وہ تو ابھی پورے سترہ برس کی بھی نہیں تھی۔ اس نے ماتھے پر بل ڈالے سامنے کھڑے بلال کو دیکھا۔ پھر اس کے سامنے آتے ہوئے خوف زدہ لہجے میں بولی۔
’’باہر طوفان ہے‘ بادل ہے‘ بجلی ہے۔ مجھے ان سے بے حد ڈر لگتا ہے۔ بہت ڈر لگتا ہے۔‘‘ مگر اس سنگ دل پر کچھ اثرنہ ہوا۔
’’بکواس بند کرو اور فوراً یہاں سے چلی جائو۔ میں کہتا ہوں دفع ہوجائو یہاں سے۔‘‘ وہ پوری قوت سے دھاڑا۔
روبی مارے خوف کے ایک بار پھر دیوار سے جا لگی۔ مگر کمرے سے باہر نہیں گئی کہ اندروہ قہر کا دیوتا بن کر کھڑا تھا‘ تو باہر طوفان بادوباراں عروج پر تھا۔ مگر وہ اس کی مجبوری نہیں سمجھ رہاتھا۔ گو کہ روبی کو اب بلال سے بھی خوف آنےلگا تھا۔ مگر باہر والے طوفان سے زیادہ نہیں۔ وہ اس کی پناہ چاہتی تھی۔ اس لیے سب کچھ سن کر بھی وہیں کھڑی تھی۔ حالانکہ اس کی باتوں کے جواب میں ہونا تو یہچاہیے تھا کہ وہ ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کرکے خودہی کمرے سے نکل جاتی۔ مگر بات پھر وہی خوف کی تھی۔
’’بی بی جی!… بی بی جی!‘‘ اچانک وہ اپنی بوڑھی ملازمہکی آواز سن کر چونک پڑی۔ یکدم پیشانی شکن آلود ہوگئی۔
’’کیا بات ہے اماں؟‘‘ روبی نے وہیں کھڑے کھڑے سخت لہجے میں پوچھا۔ جیسے اس کا اسوقت مخل ہونا ناگوار گزرا ہو۔
’’بی بی جی! باہر بہت زور کا طوفان ہے، کھڑکی بند کرکے اپنے بستر پر آجائیں۔‘‘ ملازمہ نے وہیایک گھسا پٹا جملہ کہا، جو وہ کئی سالوں سے کہہ رہی تھی۔ مگروہ اب بوڑھی ملازمہ کی آواز کب سن رہی تھی۔ اس کاذہن، دل و دماغ، اس کی سماعتیں، پھر وہی بازگشت سن رہے تھے۔
’’تم جیسی خوبصورت عورتیں رات کا حسن تو ہوسکتی ہیں، رات کیدلکشی میں اپنی خوبصورت ادائوں سے اضافہ تو کرسکتی ہیں…
مرد کے جسم و جان کو آسودہ تو کرسکتی ہیں مگر…
دن کے اجالے میں کوئی شریف آدمی تمہیں اپنی شناخت نہیں بناسکتا۔ تمہارے وجود کو اپنا نام نہیں دے سکتا۔ حتیٰ کے دوسروں کے سامنے تم سے بات کرنی گوارہ نہیں کرسکتا۔ تم جو سوچ کر آئی ہو، تم جو چاہتی ہوں،کر آئی ہو، تم جو چاہتی ہوں، اگر میں یہ سب کرڈالوں تو تمہارےپاس سوائےذلت کے کیا رہ جائے گا۔ پلیز جائو یہاں سے، چلی جائو، کیوں اپنے ساتھساتھ مجھے بھی تباہ اور رسوا کرنے پر تل گئی ہو۔ میں کہتا ہوں جائو۔‘‘[/size:3p4wwnmp]

Posted in Uncategorized
Article By :

Leave a Reply