کچھ سہاگرات سا – urdu sex font story – .

Share

[size=150:2czf0gvg]میںایک پرائیویٹ سکول میں پڑھاتی ھون। اُسکا ایک بڑا باعث ہے کہ ایک تو سکول کم وقت کےلئیےلگتا ہے اور یہ چھٹٹیاںخوب ملتی ہیں। بی ئیڈ کےبعد میںتب سےاسی ٹیچر کی جاب میں ھون। ھاںبڑےشہر میں رہنےکےباعث میرےگھر پر بہت سےجان پہچان والےآکر ٹھہر جاتےہیں خاص کر میرےاپنے گاؤں کےلوگ। اس سے اُنکا ھوٹل میں ٹھہرنےکا کھرچا , کھانےپینےکا کھرچا بھی بچ جاتا ہے। وہ لوگ یہ کھرچا میرےگھر میں فل سبجی لانےمیں خرچ کرتےہیں। ایک ملٹی سٹوری بلڈنگ میں میرےپاس دو کمرو کا سیٹ ہے। جیسےکہ خالی گھر بھوتوںکا ڈیرا ھوتا ہے ویسےھی خالی دماغ بھی شیتان کا گھر ھوتا ہے। بس جب گھر میں میںاَکیلی ھوتی ھوںتو کمپیوٹر میں مجھےسیکس سائیٹ دیکھنا اچھا لگتا ہے। اُسمیں کئی سیکسی کلپ ھوتےہے چدائی کے , شیمیلس کےکلپ… لیسبین کےکلپ… کتنا وقت کٹ جاتا ہے معلوم ھی نہیںپڑتا ہے। کبھی کبھی تو رات کےبارہ تک بج جاتےہیں। پھر اَنترواسنا کی دلکش کہانیان… لگتا ہے میرا دل کسی نےباہر نکال کر رکھ دیا ھو।ان دنوںمیںایک موٹی مومبتی لےآئی تھی। بڑےجتن سےمیںنے اُسےچاکو سےکاٹ کر اُسکا اَگر حصہ سپارےکی طرح سےگول بنا دیا تھا। پھر اُس پر کنڈوم چڑھا کر میںبہت بےقابو ھونےپر اپنی چوت میں پرو لیتی تھی। پہلےتو بہت کٹھور لگتا تھا। پر دھیرےدھیرےاُسنےمیری چوت کےپٹ کھول دئیے تھی। میری چوت کی جھللیانہیںسبھی کارناموںکی ملاقات چڑھ گئی تھی। پھر میںکبھی کبھی اُسکا استعمال اپنی گانڈ کےچھید پر بھی کر لیتی تھی। میںتیل لگا کر اس سے اپنی گانڈ بھی مار لیا کرتی تھی। پھر ایک دن میںبہت موٹی مومبتتی بھی لےآئی। وہ بھی مجھےاب تو بھلی لگنےلگی تھی। پر مجھےزیادہ تران کاموںمیں زیادہ مزہ نہیںآتا تھا। بس پتتھر کی طرح سےمجھےچوٹ بھی لگ جاتی تھی। اُنہیںدنوںمیرےگاؤں سےمیرےوالد کےمتر کا لڑکا لککی کسیانٹرویو کےسلسلےمیں آیا। اُسکی پہلےتو لکھا ہوا پریکشا تھی… پھرانٹرویو تھا اور پھر گرپ ڈسکشن تھا। پھر اُسکےاگلے ھی دن چینت اَبھیرتھیوںکی لسٹ لگنےوالی تھی। مجھےیاد ہے وہ بارش کےدن تھی… کیونکہ مجھےلککی کو کار سےچھوڑنےجانا پڑتا تھا। گاڑی میں پیٹرول وغیرہ وہ ھی بھروا دتا تھا। اُسکی لکھا ہوا پریکشا ھو گئی تھی। دو دنوںکےبعد اُسکا ایکانٹرویو تھا। جیسےھی وہ گھر آیا تھا وہ پورا بھیگا ہوا تھا। زور کی برسات چل رہی تھی। میںبس غسل کرکےباہر آئی ھی تھی کہ وہ بھی آ گیا। میںنے تو اپنی عادت کےآنسار ایک بڑا سا تؤلیا جسم پر ڈال لیا تھا , پر آدھےمممےچھپانےمیں اَسفل تھی। نیچےمیری گوری گوری جانگھیںچمک رہی تھی। ئن سب باتوںسےبیکھبر میںنے لککی سےکہا – نہا لو چلو… پھر کپڑےبھی بدل لینا… پر وہ تو آنکھیںفاڑےمجھےگھورنےمیں لگا تھا। مجھےبھی اپنی حالت کا اتفاق سے دھیان ھو آیا اور میںسنکچا گئی اور شرما کر جلدی سےدوسرےکمرےمیں چلی گئی। مجھےاپنی حالت پر بہت شرم آئی اور میرےدل میں ایک گدگدی سی اُٹھ گئی। پر اصل میں یہ ایک بڑی لاپرواہی تھی جسکا اثر یہ تھا کہ لککی کا مجھےدیکھنے کا نجریا بدل گیا تھا। میںنے جلدی سےاپنا کالا پاجاما اور ایک ڈھیلا ڈھالا سا ٹاپ پہن لیا اور گرم – گرم چاےبنا لائی। وہ نہا دھو کر کپڑےبدل رہا تھا। میںنے کسی جوان مرد کو شاید پہلی بار اصل میں چڈڈی میں دکھا تھا। اُسکےچڈڈی کےاندر لنڈ کا اُبھار… اُسکی گیلی چڈڈی میں سےاُسکےسکھت اُبھرےھیہ اور کسےھیہ چوتڑ اور اُسکی گہرائی… میرا دل تیزی سےدھڑک اُٹھا। میں24 سال کی کنواری لڑکی… اور لککی بھی شایداتنی ھی عمر کا کنوارا لڑکا… جانےکیا سوچ کر ایک میٹھی سی ٹیس دل میں اُٹھ گئی। دل میں گدگدی سی اُٹھنےلگی। لککی نےاپنا پاجاما پہنا اور آکر چاےپینےکےلئیےسوفےپر بیٹھ گیا। پتا نہیںاُسےدیکھ کر مجھےابھی قطار بہت شرم آ رہی تھی। دل میں کچھ کچھ ھونےلگا تھا। میںہمت کرکےوہیںاُسکےپاس بیٹھی رہی। وہ اپنے لکھا ہوا پریکشا کےبارےمیں بتاتا رہا। پھر اتفاق سے اُسکےسر بدل گیہ… وہ بولا – میںنے آپکو جانےکتنےسالوں کےبعد دکھا ہے… جب آپ چھوٹی تھی… میںبھی… “جی ھاںآپ بھی چھوٹےتھی… پر اب تو آپ بڑےھو گئے ھو…” “آپ بھی تواتنی لمبی اور خوبصورت سی… میرا مطلب ہے… بڑی ھو گئی ہیں।” میںاُسکی باتوںسےشرما رہی تھی। تبھی اُسکا ھاتھ دھیرےسےبڑھا اور میرےھاتھ سےٹکرا گیا। مجھ پر تو جیسےھجاروںبپانییاںٹوٹ پڑی। میںتو جیسےپتتھر کی بت سی ھو گئی تھی। میںپوری کانپ اُٹھی। اُسنےہمت کرتےھیہ میرےھاتھ پر اپنا ھاتھ جمع دیا। “لککی جی , آپ یہ کیا کر رہےہیں ؟ میرےھاتھ کو تو چھوڑ…” “بہت ملایم ہے جی لکشمی جی… جی کرتا ہے ک…” “بس… بس… چھوڑیہ نا میرا ھاتھ… ھاےرام کوئی دیکھ لیگا…” لککی نےمسکراتےھیہ میرا ھاتھ چھوڑ دیا। اَرےاُسنےتو ھاتھ چھوڑ دیا – وہ میرا متلب… وہ نہیںتھا… میری ھچکی سی بندھ گئی تھی। اُسنےمجھےبتایا کہ وہ لؤٹتےوقت ھوٹل سےکھانا پیک کروا کر لےآیا تھا। بس گرم کرنا ہے। “اوہہہ مجھےتو بہت آرام ھو گیا… کھانےبنانےسےآج چھٹی ملی।” شام گہرانےلگی تھی , بادل گھنی چھایہ ھیہ تھی… لگ رہا تھا کہ رات ھو گئی ہے। بادل گرج رہےتھی… بجلی بھی چمک رہی تھی… لگ رہا تھا کہ جیسےمیرےاُوپر ھی گر جایہگی। پر وقت کچھ خاص نہیںہوا تھا। کچھ دیر بعد میںنے اور لککی نےبھوجن کو گرم کرکےکھا لیا। مجھےلگا کہ لکی کی نجریںتو آج میرےکالےپاجامےپر ھی تھی।میرےجھکنےپر میری گانڈ کی موہک گولائیوںکا جیسےوہ مزہ لےرہا تھا। میری اُبھری ہوئی چھاتیوںکو بھی وہ آج للچائی نجروںسےگھور رہا تھا। میرےمن میں ایک ھوک سی اُٹھ گئی। مجھےلگا کہ میںجوانی کےبوجھ سےلدی ہوئی جھکی جا رہی ھون… مردوںکی نگاہوںکےذریعے جیسےمیرا عصمت دری ھو رہا ھو। میںنے اپنے کمرےمیں چلی آئی। بعدل گرجنےاور زور سےبجلی تڑکنےسےمجھےاَنجانےمیں ھی ایک خیال آیا… من میلا ھو رہا تھا , ایک جوان لڑکےکو دیکھ کر میرا من ڈولنےلگا تھا। “لککی بھییا… یہیںآ جااو… دکھو نا کتنی بجلی کڑک رہی ہے। کہیںگر گئی تو?” “اَرےچھوڑو نا دیدی… یہ تو آجکل روز ھی گرجتے- برستےہیں।” ٹھنڈی ھوا کا جھونکا , پانی کی ھلکی فہارین… آج تو من کو ڈانواڈول کر رہی تھی। من میں ایک عجیب سی گدگدی لگنےلگی تھی। لککی بھی میرےپاس کھڑکی کےپاس آ گیا। باہر سونی سڑک… سٹریٹلائیٹ اَندھیرےکو بھیدنےمیں اَسفل لگ رہی تھی। کوئیاککا دککا راہگیر گھر پہنچنےکی جلدی میں تھی। تبھی زور کی بجلی کڑکی پھر زور سےبادل گرجن کی دھڑاک سےآواج آئی। میںسہر اُٹھی اور اَنجانےمیں ھی لککی سےلپٹ گئی , ”آئیئیئیئیئیئی… اُفف بھییا…” لککی نےمجھےکس کر تھام لیا , ”اَرےبس بس بھئی… اکیلے میں کیا کرتی ھوگی…?” وہ ھنسا। پھر شرارت سےاُسنےمیرےگالوںپر گدگدی کی। تبھی مہللےکی بتتی گل ھو گئی। میںتو اور بھی اس سے چپک سی گئی। گپپ اَندھیرا… ھاتھ کو ھاتھ نہیںسوجھ رہا تھا। “بھییا مت جانا… یہیںرہنا।” لککی نےشرارت کی… نہیںشاید شرارت نہیںتھی… اُسنےجان کرکےکچھ گڑبڑ کی। اُسکا ھاتھ میرےسےلپٹ گیا اور میرےچوتڑ کےایک گولےپر اُسنےپیار سےھاتھ گھما دیا। میرےسارےتن میں ایک گلابی سی لہر دؤڑ گئی। میرا تن کو اب تک کسی مرد کےھاتھ نےنہیںچھآ تھا। ٹھنڈی ھوااوںکا جھونکا من کو اُدویلت کر رہا تھا। میںاُسکےتن سےلپٹی ہوئی… ایک انوکھا سا مزہ اَنبھو کرنےلگی تھی। اَچانک موٹی موٹی بوندوںکی برسات شروع ھو گئی। بوندںمیرےجسم پر اَنگارےکی طرح لگ رہی تھی। لککی نےمجھےدو قدم پیچھےلےکر اَندر کر لیا। میںنے اَنجانی چاہ سےلککی کو دکھا… نجریںچار ہوئی… نا جانےنجروںنےکیا کہا اور کیا سمجھا… وککی نےمیری کمر کو کس لیا اور میرےچہرہ پر جھک گیا। میںبیبس سی , موڑھ سی اُسےدکھتی رہ گئی। اُسکےھونٹھ میرےھونٹھوںسےچپکنےلگی। میرےنیچےکےھونٹھ کو اُسنےدھیرےسےاپنے منھمیں لےلیا। میںتو جانےکس جہاںمیں کھونےسی لگی। میری جیبھ سےاُسکی جیبھ ٹکرا گئی। اُسنےپیار سےمیرےبالوںپر ھاتھ فیرا… میری آنکھیںبند ھونےلگی… جسم کانپتا ہوا اُسکےبس میں ھوتا جا رہا تھا। میرےاُبھرےھیہ مممےاُسکی چھاتی سےدبنےلگی। اُسنےاپنی چھاتی سےمیری چھاتی کو رگڑا مار دیا , میرےتن میں میٹھی سی چنگاری سلگ اُٹھی। اُسکا ایک ھاتھ اب میرےوکش پر آ گیا تھا اور پھر اُسکا ایک ھلکا سا دباؤ میری تو جیسےجان ھی نکل گئی। “لککی… اَہہہہ…!” “دیدی , یہ برسات اور یہ ٹھنڈی ھوایہن… کتنا سہانا موسم ھو گیا ہے نا…” اؤر پھر اُسکےلنڈ کی گدگدی بھری چبھن نیچےمیری چوت کےآس – پاس ھونےلگی। اُسکا لنڈ سکھت ھو چکا تھا। یہ گڑتا ہوا لنڈ مومبتتی سےبلکل الگ تھا। نرم سا… کڑک سا… مدھر صاف طور پر دتا ہوا। میںاپنی چوت اُسکےلنڈ سےاور چپکانےلگی। اُسکےلنڈ کا اُبھار اب مجھےزور سےچبھ رہا تھا। تبھی ھوا کےایک جھونکےکےساتھ بارش کی ایک فہار ھم پر پڑین। میںنے جلدی سےمڑ کر درواجا بند ھی کر دیا। اوہہ یہ کیا ? میرےگھومتےھی لککی میری پیٹھ سےچپک گیا اور اپنے دونوںھاتھ میرےممموںپر رکھ دیہ। میںنے نیچےممموںکو دکھا… میرےدونوںکبوتروںکو جو اُسکےھاتھوںکی گرفت میں تھی। اُسنےایک جھٹکےمیں مجھےاپنے سےچپکا لیا اور اپنا بلشٹھ لنڈ میرےچوتڑوںکی درار میں گھمانےلگا। میںنے اپنی دونوںٹانگوںکو کھول کر اُسےاپنا لنڈ ٹھیک سےگھسانےمیں مد کی। اُفف یہ تو مومبتتی جیسا بلکل بھی نہیںلگا। کیسا نرم – سکھت سا میری گانڈ کےچھید سےسٹا ہوا… گدگدا رہا تھا। میںنے سارےمزہ کو اپنے میں سمیٹےھیہ اپنا چہرا گھما کر اُوپر دیا اور اپنے ھونٹھ کھول دیہ। لککی نےبہت سمہال کر میرےھونٹھوںکو پھر سےپینا شروع کر دیا।ان سارےاَہساس کو… چبھن کو… ممموںکو دبانےسےمسئلہ چمبن تک کےاَہساس کو محسوس کرتےکرتےمیری چوت سےپانی کی دو بوندںرس کر نکل گئی। میری چوت میں ایک میٹھیپن کی کسک بھرنےلگی। “دیدی… پلیج میرا لنڈ پکڑ لو نا… پلیج !” میںنے اپنی آنکھیںجیسےسپتاوستھا سےکھولی , مجھےاور کیا چاہیے تھا। میںنے اپنا ھاتھ نیچےبڑھاتےھیہ اپنے دل کی خواہش بھی پوری کی। اُسکا لنڈ پجامےکےاُوپر سےپکڑ لیا। “بھییا بہت اچھا ہے… موٹا ہے… لمبا ہے… اوہہہہہ !” اُسنےاپنا پجاما نیچےسرکا دیا تو وہ نیچےگر پڑا। پھر اُسنےاپنی چھوٹی سی اَنڈرویر بھی نیچےکھسکا دی। اُسکا ننگا لنڈ تو بلکل مومبتتی جیسا نہیںتھا رام… !! یہ تو بہت ھی گدگدا… کڑک… اور ٹوپےپر گیلا سا تھا। میری چوت لپلپا اُٹھی… مومبتی لیتےھیہ بہت وقت ھو گیا تھا اب اصلی لنڈ کی باری تھی। اُسنےمیرےپاجامےکا ناڑا کھینچا اور وہ جھم سےنیچےمیرےپانوہںپر گر پڑا। “دیدی چلو , ایک بات کہون?” “کیا…?” “سہاگرات ایسی ھی مناتےہیں ہے نا…?” “نہین… وہ تو بسطح پر گھونگھٹ ڈالےدلہن کی چدائی ھوتی ہے।” تو دیدی , دلہن بن جاؤ نا… میںدولہا… پھر اَپن دونوںسہاگرات منایہن?” میںنے اُسےدکھا… وہ تو مجھےجیسےچودنےپر اُتارو تھا। میرےدل میں ایک گدگدی سی ہوئی , دلہن بن کر چدنےکیاچچھا… میںبسطح پر جا کر بیٹھ گئی اور اپنی چننی سر پر دلہنیا کی طرح ڈال لی। وہ میرےپاس دولہےکی طرح سےآیا اور دھیرےسےمیری چننی والا گھونگھٹ اُوپر کیا। میںنے نیچےدیکھتے ھیہ تھرتھراتےھیہ ھونٹھوںکو اُوپر کر دیا। اُسنےاپنے اَدھر ایک بار فر میرےاَدھروںسےلگا دیہ… مجھےتو سچ میں لگنےلگا کہ جیسےمیںدلہن ھی ھون। پھر اُسنےمیرےجسم پر زور ڈالتےھیہ مجھےلیٹا دیا اور وہ میرےاُوپر چھانےلگا। میری کٹھور چوچیاںاُسنےدبا دی। میری دونوںٹانگوںکےدرمیان وہ پسرنےلگا। نیچےسےتو ھم دونو ننگےھی تھی। اُسکا لنڈ میری کومل چوت سےبھڑ گیا। “اُففف… اُسکا سپارا… ” میری چوت کو کھولنےکی کوشش کرنےلگا। میری چوت لپلپا اُٹھی। پانی سےچکنی چوت نےاپنا منھکھول ھی دیا اور اُسکےسپارےکو سرلتا سےنگل لیا – یہ تو بہت ھی لجیج ہے… سکھت اور چمڑی تو ملایم ہے। “بھییا… بہت مست ہے… زور سےگھسا د… آہہہہہ… میرےراجا…” میںنے کینچی بنا کر اُسےجیسےجکڑ لیا। اُسنےاپنے چوتڑ اُٹھا کر پھر سےدھکا مارا… “اُففففف… مر گئی ری… دے ذرا مچکا کی… لنڈ تو لنڈ ھی ھوتا ہے رام…” اُسکےدھککےتو تیز ھوتےجا رہےتھی… فچ فچ کی آواجیںتیز ھو گئی… یہ کسی مرد کےساتھ میری پہلی چدائی تھی… جسمیں کوئی جھللی نہیںفٹی… کوئی خون نہیںنکلا… بس سورگ جیسا سکھ… چدائی کا پہلا سکھ… میںتو جیسےخوشی کےمارےلہک اُٹھی। پھر میںدھیرےدھیرےچرمسیما کو چھونےلگی। مزہ کبھی نا ختم ھو । میںاپنے آپ کو جھڑنےسےروکتی رہی… پھر آخر میںھار ھی گئی… میںزور سےجھڑنےلگی। تبھی لککی بھی چوت کےاندر ھی جھڑنےلگا। مجھسےچپک کر وہ یوںلیٹ گیا کہ مانو میںکوئی بسطح ھون। “ہو گئی نا سہاگ رات ھماری…?” “ہاںدیدی… کتنا مجا آیا نا…!” “مجھےتو آج پتہ چلا کہ چدنےمیں کتنا مجا آتا ہے رام…” باہر برسات ابھی بھی تیزی پر تھی। لککی مجھےمیرا ٹاپ اُتارنےکو کہنےلگا। اُسنےاپنی بنیان اُتار دی اور پورا ھی ننگا ھو گیا। اُسنےمیرا بھی ٹاپ اُتارنےکی گرج سےاُسےاُوپر کھینچا। میںنے بھی ینتروت ھاتھ اُوپر کرکےاُسےٹاپ اُتارنےکی سہولیت دے دی। ہم دونو جوان تھے , آگ پھر بھڑکنےلگی تھی… برساتی موسم واسنا بڑھانےمیں مد کر رہا تھا। لککی بسطح پر بیٹھےبیٹھےھی میرےپاس سرک آیا اور مجھسےپیچھےسےچپکنےلگا। وہاںاُسکااٹھلایا ہوا سکھت لنڈ لہرا رہا تھا। اُسنےمیری گانڈ کا نشانا لیا اور میری گانڈ پر لنڈ کو دبانےلگا। میںنے فوراً اُسےکہا – تمہارےلنڈ کو پہلےدیکھنے تو دو… پھر اُسےچوسنا بھی ہے। وہ کھڑا ھو گیا اور اُسنےاپنا تنا ہوا لنڈ میرےھونٹھوںسےرگڑ دیا। میرا منھتو جیسےآپ ھی کھل گیا اور اُسکا لنڈ میرےمنھمیں فنستا چلا گیا। بہت موٹا جو تھا। میںنے اُسےسپارےکےچھللےکو بلیو فلم کی طرح نکل کرتےھیہ جکڑ لیا اور اُسےگھما گھما کر چوسنےلگی। مجھےتو ھوش بھی نہیںرہا کہ آج میںیہ سب سچ مچ میں کر رہی ھون। تبھی اُسکی کمر بھی چلنےلگی… جیسےمنہ کو چود رہا ھو। اُسکےمنھسےتیز سسکاریاںنکلنےلگی। تبھی لککی کا ڈھیر سارا ویرےنکل پڑا। مجھےئیکدم سےکھانسی اُٹھ گئی… شاید گلےمیں ویرےفنسنےکےکارن। لککی نےجلدی سےمجھےپانی پلایا। پانی پلانےکےبعد مجھےمکمل ھوش آ چکا تھا। میںپہلےچدنےاور پھر منھمیتھن کےاپنے اس کام سےبے حد پریشان سی ھو گئی تھی… مجھےبہت ھی شرم آنےلگی تھی। میںسر جھکایہ پاس میں پڑی کرسی پر بیٹھ گئی। “لککی… ساری… ساری…” “دیدی , آپ تو بیکار میں ھی ایسے باتیںکر رہیںہیں… یہ تو اس عمر میں اپنے آپ ھو جاتا ہے… پھر آپنےتو ابھی کیا ھی کیا ہے?” “ئتنا سب تو کر لیا… بچا کیا ہے?” “سہاگرات تو منع لی… اب تو بس گانڈ مارنی باقی ہے।” مجھےشرم آتےھیہ بھی اُسکی اس بات پر ھنسی آ گئی। “یہ بات ہوئی نا… دیدی… ھنسی تو فنسی… تو ھو جائے ایک بار…?” “ئیک بار کیا ھو جایہ…” میںنے اُسےھنستےھیہ کہا। “اَرےوہی… مست گانڈ مرائی… دیکھنا دیدی مجا آ جایہگا…” “اَری… تو تو بس… رہنےد…” پھر مجھےلگا کہ لککی ٹھیک ھی تو کہ رہا ہے… پھر کرو تو پورا ھی کر لینا چاہیہ… تاکہ گانڈ نہیںمروانےکا گم تو نہیںھو اب مومبتتی کو چھوڑ , اصلی لنڈ کا مجا تو لےلون। “دیدی… بنا کپڑوںکےآپ تو کام کی دوی لگ رہی ھو…!” “اؤر تم… اپنا لنڈ کھڑا کیہ کامدو جیسےنہیںلگ رہےھو…?” میںنے بھی کٹاکش کیا। “تو پھر آ جااو… اس بار تو…” “اَری… دھتت… دھتت… ھٹو تو…” میںاُسےدھیرےسےدھکا دے کر دوسرےکمرےمیں حصہی। وہ بھی لپکتا ہوا میرےپیچھےآ گیا اور مجھےپیچھےسےکمر سےپکڑ لیا। اور میری گانڈ میں اپنا لؤڑا سٹا دیا। “کب تک بچوگی سےلنڈ سی…” “اؤر تم کب تک بچوگی… ؟ اس لنڈ کو تو میںکھا ھی جااُونگی।” اُسکا لنڈ میری گانڈ کےچھید میں مجھےگھستا سا لگا। یہ کہانی آپ اَنترواسنا ڈاٹ کانم پر پڑھ رہےہیں। “اَرےرکو تو… وہ کریم پڑی ہے… میںجھک جاتی ھون… تم لگا دو।” لککی مسکرایا… اُسنےکریم کی شیشی اُٹھائی اور اپنے لنڈ پر لگا لی… پھر میںجھک گئی… بسطح پر ھاتھ لگاکر بہت نیچےجھک کر کریم لگانےکاانتجار کرنےلگی। وہ میری گانڈ کےچھدر میں گول جھرریوںپر کریم لگانےلگا। پھر اُسکی اَنگلی گانڈ میں گھستی ہوئی سی ظاہر ہوئی। ایک تیز میٹھی سی گدگدی ہوئی। اُسکےیوںاَنگلی کرنےسےبہت مزہ آنےلگا تھا। اچھا ہوا جو میںچدنےکو راجی ھو گئی ورنااتنا مزہ کیسےملتا। اُسکےسپارا تو چکنائی سےبہت ھی چکنا ھو گیا تھا। اُسنےمیری گانڈ کےچھید پر سپارا لگا دیا। مجھےاُسکا سپارا محسوس ہوا پھر ذرا سےدباؤ سےوہ اَندر اُتر گیا। “اُففف یہ تو بہت آنندت کرنےوالا اَنبھو ہے।” “درد تو نہیںہوا نا…” “اُہہہ… بلکل نہیںبلکہ مجا آیا… اور تو ٹھونس…!’ “اَب ٹھیک ہے… لگی تو نہین।” “اَرےبابا… اَندر دھکا لگا نا।” وہ تعجب چکت ھوتےھیہ سمجھداری سےزور لگا کر لنڈ گھسیڑنےلگا। “اُسسسسس… گھسا نا… جلدی سی… زور سی…” ئس بار اُسنےاپنا لنڈ ٹھیک سےسیٹ کیا اور تیر کی بھانت اَندر پیل دیا। “ئس بار درد ہوا…” “او…او…او… اَرےدھیرےبابا…” “تجھےتو دیدی , درد ھی نہیںھوتا ہے…?” “تو تو… ؟ اَرےکر نا…!” “چود تو رہا ھوںنا…!” اُسنےمیری گانڈ چودنا شروع کر دیا… مجھےمجا آنےلگا। اُسکا لمبا لنڈ اَندر باہر گھستا نکلتا محسوس ھونےلگا تھا। اُسنےاب ایک اَنگلی میری چوت میں گھماتےھیہ ڈال دی। درمیان بیچ میں وہ اَنگلی کو گانڈ کی ترف بھی دبا دتا تھا تب اُسکا گانڈ میں فنسا ہوا لنڈ اور اُسکی اَنگلی مجھےمحسوس ھوتی تھی। اُسکا اَنگوٹھا اور ایک اَنگلی میرےچچوکوںکو گول گول دبا کر کھینچ رہےتھی। سب ملا کر ایک انوکھا سورگک مزہ کی اَنبھوت ھو رہی تھی। مزہ کی زیادہتا سےمیرا پانی ایک بار پھر سےنکل پڑا… اُسنےبھی ساتھ ھی اپنا لنڈ کا ویرےمیری گانڈ میں ھی نکال دیا। بہت مزہ آیا… جب تک اُسکاانٹرویو چلاتا رہا… اُسنےمجھےاُتنےدنوںتک سہانی چدائی کا مزہ دیا। مومبتتی کا ایک بڑا فایدا یہ ہوا کہ اس سے تراشی ہوئی میری گانڈ اور چوت کو ئیکدم سےاُسکا بھاری لنڈ مجھےجھیلنا نہیںپڑا। نا ھی تو مجھےجھللی فٹنےکا درد ہوا اور نا ھی گانڈ میں پہلی بار لنڈ لینےسےکوئی درد ہوا।… بس مزہ ھی مزہ آیا… । ئیک سال کےبعد میری بھی شادی ھو گئی… پر میںکچھ کچھ سہاگرات تو منع ھی چکی تھی। پر جیسا کہ میری سہیلیوںنےبتایا تھا کہ جب میری جھللی فٹیگی تو بہت تیز درد ھوگا… تو میرےشوہر کو میںنے چللا – چللا کر خوش کر دیا کہ میری تو جھللی فاڑ دی تمنی… وگیرہ… گانڈ چداتےوقت بھی جیسےمیںنے پہلی بار اُدگھاٹن کروایا ھو… خوب چلل – پوںکی… آپکو کو جرور ھنسی آئی ھوگی میری اس بات پر… پر یہ ضروری ہے , دھیان رکھیہگا…[/size:2czf0gvg]

Share
Posted in Uncategorized
Article By :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *