تو نہیںاور سہی – urdu font sex story ..

Share

[size=150:26lqws7s]میںگووا میں رہتی ھوں , ایک کیتھلک سکول میں 12ویںمیں پڑھتی ھون। میںکلاس میں سب سے آگے بیٹھتی ھون। میرےپیچھےبڑا بیٹھتا ہے। مجھےپتہ تھا کہ وہ میرا آشک ہے। یوںتو میرےمیں کوئی خاص بات نہیںتھی پر ھاں , عمر کےھساب سےمیرا جسم جرور جوان دکھتا تھا। پھر یہ مخالف سیکس کا قابل دید بھی ہے। میری چھاتی کےگولےعمر کےھساب سےکچھ زیادہ ھی بڑےہیں تو میںسیکسی بھی لگتی ھون। میری سفید سکول کی شرٹ میں بھی میری چوچیاںکچھ زیادہ ھی کسی ہوئی باہر سےھی اپنا جلوہ دکھاتی ہیں। میری سکول کی نیلی فراک جو گھٹنےسےاُوپر ھوتی ہے , نیچےمیری چکنی سانولی ٹانگیںلڑکوںکو جرور آکرشت کرتی ہیں। میری ٹیچر سینڈی مس مجھسےبہت پیار کرتی ہیں। مس کی نظر بڑا پر بھی ہے। وشال اکثر مجھےپیچھےسےایک چٹ لکھ کر پاس کر دتا ہے , میری سہیلیاںیہ سب جانتی ہیں। وہ چپکےسےمجھےوہ چٹ پاس کر دتی ہیں। اُسمیں سکول کےبعد کافی پینےیا ٹھنڈا پینےکی داوت ھوتی ہے। یہ چٹ کئی بار مس پکڑ بھی لیتی ہیں اور بڑا کو کمیںٹ بھی کر دتی ہیں کہ مس کو بھی پلا دو کبھی کافی। تب پوری کلاس خوب ھنستی। سینڈی مس میری ھی برادری کی ایک گواَن جواناسائی کیتھلک لڑکی ہے। کوئی 21 – 22 عمر کی ھوگی। گوون سٹائیل کا ھی سانولا رنگ چہرہ کا , چکنا چمکدار چہرا , بڑی بڑی لبھاونی آنکھیں… اُسکی چوچیاںبڑی اور زیادہ اُبھار لئیےہیہ بھاری بھاری سی ہیں جو کہ اُسکی کمیج میں سےاُوپر کو آدھےباہر نکلی ہوئی سانولی رنگ کی چمچماتی ہوئی سبھی کو نظر آتی ہیں। پتلی کمر … اُس پر ایک کالا بیلٹ کسا ہوا। نیچےاُسکی لگ بھگ کالی کالی سی چکنی ٹانگیں , جانگھیںاَپیکشاکرت کچھ ساف رنگ کی। اُسکی تنگ سی سکرٹ اُسےسمارٹ کا لک دتی ہے। اُسکےچوتڑ بڑےبڑےاور اُسکی ٹائیٹ سکرٹ میں اُنکےشیپ اور سائج ھوبہو نظر آتےہیں جو طلباء کےاَپرپکو من پر بپانییاںسی گراتےہیں। اُسکی ھنسی بڑی موہک ہے। میز کےنیچےاُسکی ٹانگیںلگ بھگ کھلی کھلی سی رہتی , پر شاید اس سے وہ اَنجان بنی رہتی ہے। اُسکی اندر تک کی سفید کسی ہوئی پینٹی تک نظر آ جاتی ہے। لڑکےچپ سےاُسکا مزہ لیتےرہتےاور میری نجریںبھی دیکھ دکھ کر شرما سی جاتی ہیں। “وشال , چھٹی ھونےکےبعد پلیج تھوڑا رک جانا।” سینڈی مس نےبڑا کو کہا। “جی مس !” “اؤر دویا , تم دو بجے ٹھیک وقت پر آ جانا।” میںنے سر ھلایا اور اپنا بیگ اُٹھا کر چل دی। “دویا , ساری… کافی کل پیہنگی…!” اَرےمیںپلا دونگی اُسےوشال… میری مد کرو , تم کھانا وانا کھاکر دو بجے کاپی کا یh بنڈل پلیج میرےگھر پر پہنچا دنا।” “جی مس … یہ دویا آپکےیہاںٹیوشن پر آتی ہے نا !” “ہاںتو…?” “مس , کیا آپ مجھےبھی گائیڈ کر دنگی?” “ٹھیک ہے , تین سؤ روپیہ لیتی ھوں , گھر پر بول دنا।” اُتسکتاوش میںدرواجےکی سائیڈ پر آکر چھپ گئی تھی। میںنے ایک بار درواجےسےپھر سےکلاس میں جھانکا। باتیںسن کر مجھےتو لگا کہ جیسےبڑا میرےپیچھےھی پڑ گیا تھا। میرےمن میں ایک گدگدی سی ہوئی। کہتا کیوںنہیںہے کہ دویا میںتمہیںپیار کرتا ھون। اُنہ ایک نا ایک دن تو کہ ھی دگا … نہیںتو میںھی اُسےکہ دونگی। پھر مسکرا کر مینےاپنے قدم آگے بڑھا دیہ। دو بجے میںتو ٹھیک وقت پر مس کےگھر آ گئی تھی। کچھ ھی دیر میں بڑا بھی کاپیوںکےدو تین بنڈل لئیےہیہ چلا آیا تھا। مجھےدیکھ کر وہ مسکرایا। میںنے بھی مسکرا کر آپچارکتا پوری کی। مس نےاس سے کاپیاںمسئلہ اَندر رکھ دی। اس وقت مس نےجینس کی ٹائیٹ ھاف پینٹ اُونچی سی پہن رکھی تھی। اُنکی کالی چمکیلی اور چکنی ٹانگیںبہت خوبصورت لگ رہی تھی। اُنکےچوتڑ تو واقعی اُس کسےھیہ ھاف پینٹ میں اُبھرےھیہ اور گہرےسےلگ رہےتھی। شاید کسی مرد کےلئیےوہ جان لیوا ھو سکتےتھی। اَرےھاںبڑا بھی تو وہیںتھا। اُسکی نجریںتو جیسےمس کےچوتڑوںپر جم سی گئی تھی। مس نےحساب کی کتاب رکھی اور پنکھا آن کر دیا। پھر میز پر آکر بیٹھ گئی। اُنہوں نے اپنے ڈھیلےڈھالےبنا آس3 کےٹاپ کو پنکھےکےنیچےاُوپر نیچےھوا کےلئیےہلایا اور ایک لمبی سانس مسئلہ بولی – چلو کھولو یہ والا چیپٹر … اب یہ اُداہرن دکھو اور پھر یہ پروبلم ھل کرکےبتااو। وشال نےاُنکےٹاپ کےھلتےھی مس کےخوبصورت گیند… نہیںشاید فٹبال … زیادہ بڑےھو گئے !!!… ھاں… بڑےوالےگول عام … اوہ چھوڑو نا … جیسےبڑےممموںکو ایک گہری نظر سےدکھا। مجھےتو مس کےایسی کرنےسےبہت شرم آئی। پر وہ ئیکدم بیکھبر سی تھی। تبھی مس نےبڑا کےھاتھ سےایک پرچی جھپٹ لی। “یہ کیا ہے?’ “جی… کچھ نہین…” “دویا … لو لیٹر فور یو?” میںتو سکپکا گئی। میںنے اپنے پیر کی ایک زور سےٹھوکر بڑا کو ماری। “ہائی … او گاڈ … دویا , ساری بولو… یہ تو ھمارا پانو ہے …” “ساری مس , یہ بڑا بھی نا … !’ میںجھینپ سی گئی। “وشال کھڑےھو جاؤ … جیسےھمیں مارا , دویا تم بھی بڑا کےچوتڑ پر ایک زور کا چپت مارو।اسکی سجا یہی ہے!” میںنے دھیرےسےاپنے ھاتھ سےبڑا کےچوتڑ پر ایک چپت مار دی। “ایسی مارتےہیں چپت ؟ یہ دکھو ایسی مارو…” مس نےمیری چوتڑ کو پہلےتو سہلایا پھر ایک چٹ سےآواج آئی। میںتو اُچھل سی گئی। اَبادھر کو دکھو … مس نےبڑا کےچوتڑ کی گولائی کو سہلایا اور اُس پر ایک زور سےچپت لگایا। پر بڑا کےچہرہ پر تو ایک مسکان سی فیل گئی। “اَب تماسکی مارو…” میںنے بھی بڑا کےگول گول چوتڑ کو جان کر بڑی کوملتا سےسہلایا اور زور سےچٹ سےمار دیا। “اَب ٹھیک ہے … اس چٹ میں لکھا ہے … دویا , ٹیوشن کےبعد کافی پینےچلینگی।” میری تو شرم سےگردن جھک گئی। “کب سےچل رہا ہے یہ سب … ؟ اچھا چلو اب یہ پروبلم سولو کرو … کافی یہیںپی لو। ھم پلاتا ہے।” مس اَندر جاکر کافی بنانےلگی। تمنےمیرےچوتڑ پر زور سےکیوںمارا?” “مجھےتو مجا آیا … کتنےگول گول اور کڑےسےہیں…” “اَبھی بتاتا ھوں…!” بڑا کو غصہ آ گیا। اُسنےمیری بانہ پکڑی اور کھڑی کر دیا। پھر جلدی پانیدی سےدو تین بار میری چوتڑ کو سہلا سہلا کر دبا کر چٹ چٹ سےمار دیا। اُسکےایسا کرنےسےمیرےتن میں ایک میٹھی سی ترنگ دؤڑ گئی। میںتو لاز سےگڑ سی گئی। “وشال , اور مار نا … میںنے مارا تھا نا …” میرےجسم میں ایک اُتتیجنا کی میٹھی سی لہر دؤڑ گئی تھی। وہ اس بار میرےچوتڑوںکو دبا دبا کر دھیرےدھیرےمارنےلگا। میرےجسم میں ایک آگ سی بھرنےلگی। مجھےلگا کہ میںبڑا سےلپٹ جااُون। “وشال , یہ سب بند کرو … کیوںکرتےھو ایسا … دویا لگی تو نہین…?” پر میرےچہرہ کو دیکھ کر سمجھ گئی کہ مجھےیہ سب اچھا لگ رہا تھا। مس بھی یہ سب دیکھ کر کچھ کچھ رنگت میں آنےلگی تھی। “وشال , تمنےبیبی کو کہاں- کہاںمارا تھا , اب ھمیں بھی مارو … چلو … اور دویا تم بھی مارو …!” پہلےتو میری ہمت ھی نہیںہوئی। پھر میںنے جیوںھی مس کےچوتڑ کو ھاتھ لگایا تو مس کا جسم کانپ سا گیا। اُسکےچوتڑ ھاےرام کتنےسدھےھیہ … اور کڑےسےتھے… چکنیاتنےکہ … بس। میںنے دو تین بار مس کےچکنےچوتڑوںپر ھاتھ فیرا … اور مارنےکےجگہ پر تھپتھپا دیا। بڑا نےبھی ایسا ھی کیا … سینڈی مس تو جیسےمست ھو گئی। “مس کافی…” “اَرےھاں…” کافی پینےکےبعد مس نےسوال ھل کرنےکا طریقہ بتایا , پھر بڑا سےکہا – تم جاؤ اَب… کل وقت سےآ جانا। “دویا تم رکو …” وشال آج بہت خوش کھش سا نظر آیا। یہ کہانی آپ اَنترواسنا ڈاٹ کانم پر پڑھ رہےہیں। “باےمس … باےدویا …” “بیٹھو دویا … کیس لگتا ہے تمہیںیہ وشال?” میری نظر جمین پر گڑ گئی। “بولو , شرمااو مت …” “اَچچھا ہے مس … شاید مجھےپیار کرتا ہے?” “سچ … تو کل تم بھی اُسےبتا دنا کہ تم بھی اُسےپیار کرتی ھو…” “مس شرم آتی ہے نا…” “جسنےکی شرم , اُسکےفوٹےکرم … فکر مت کرو میںھوںنا। اُسےتمہارےچوتڑ بہت پسند ہیں , کیسےھاتھ سےسہلا رہا تھا !!!” “مس… آپ تو…” مس نےمجھےاپنے سےلپٹا لیا। اور پھر میرےگول گول چوتڑوںکو دبانےلگی। میںنے اپنی آنکھےاُوپر کرکےمس کو دکھا … اُسنےکہا – مجا آ رہا ہے نا …? میںنے اپنا سر ھاںمیں ھلا دیا اور پھر میںمس سےلپٹ سی گئی। مس وہیںکرسی پر بیٹھ گئی اور مجھےگودی میں بیٹھا لیا। میںبڑی سی اور بھاری سی اُنکی جانگھوںپر بیٹھ گئی। مس نےپیار سےمیرےبالوںمیں اپنی اَنگلیاںفیری اور میرےچہرہ کو چوم لیا। مجھےبہت اچھا لگ رہا تھا। اَچانک میرےممموںکو مس نےدبا دیا। ایک تیز سی گدگدی ہوئی اور میںسمٹ سی گئی। “بہت سدھےھیہ ہیں !!!” “مس آپکےتو زیادہ خوبصورت ہیں…” “تو دیکھ لےنا … ھاتھ لگا کر … اُفف … دبا کر بھی دیکھ لےنا।” مس واسنا کی گرفت میں تھی। میںنے بھی دکھا کہ مس ابھی موڈ میں ہے تو اُنکےکٹھور اُروج سہلا کر دکھا। بہت گول گول … بڑےبڑے… کٹھور … نپل تو سکھت کسی کانٹا کی طرح … “دویا پلیج … میرےبیڈ روم میں چلو …” مس کےچہرہ سےواسنا کا بھرپور اَہساس ھونےلگا تھا। مجھےبھی اُتتیجنا سی ھونےلگی تھی। میںنے کچھ نہیںکہا … بس اُنکےساتھ اُنکےبسطح پر چلی آئی। مس نےاپنا ٹاپ اُتار دیا … کسی برا کی ضرورت نہیںتھی مس کو। سیدھےکسی پہاڑ کی بھانت کھڑےھیہ , تنےھیہ… اُنکی آنکھوںمیں واسنا کےلال ڈورےکھنچےھیہ تھی। وہ بسطح پر چت لیٹ گئی। پھر وہ میری ترف بڑی آسکت سےدیکھنے لگی। مجھےسب سمجھ میں آ رہا تھا। میرا جوان جسم بھی مس کو دیکھ کر ڈولنےلگا تھا। مس نےاپنے ھاتھ کھول کر مجھےاپنی طرف بلایا। میںبھی اپنے آپ کو نا روک سکی। میںاُنکی بڑی بڑی چوچیوںکو دیکھنے لگی। میرےھاتھ اپنے آپ چوچیوںکی طرف بڑھ چلی। میرےھاتھ رکھتےھی اُسکےمنھسےایک سکھ بھری سسکی نکل پڑی। اُفف کتنےبڑےاور سالڈ تھےوی। چکنےسانولےسے… نپل سیدھےتنےھیہ , نکلےھیہ। میںنے اپنے ھاتھ کےاَنگوٹھےاور اَنگلیوںسےاُسکےکڑک چوچےدبا دیہ। “ئسسسس … دویا … نپل کو اور زور سےدبا ڈالو …” میںنے اپنے نپلس کی طرف دکھا … مجھےتو شرم سی آنےلگی। اُسکےسامنےچھوٹےچھوٹے , مرجھایہ ھیہ سے… اور میرےمممےاُسکےسامنےچھوٹی گیند جیسے… چھی : … تبھی مس نےمیرا ٹاپ بھی اُوپر کر دیا اور میرےگیندوںکو دبا کر مسل دیا। اُسنےمجھےاپنے اُوپر کھینچ لیا اور پھر ھم دونوںچمما – چاٹی میں لپت ھو گیہ। ھمارےکپڑےایک ایک کرکےاُترتےچلےگیہ। جانےکب جوش ھی جوش میں ننگےھو گیہ। “دویا … پلیج میری چوت کو چوس لو … پلیج …” میںنے اُسکی چوت دیکھی تو سنن سی رہ گئی। کالی چوت اور بڑی بڑی جھانٹے… درمیان میں کھونی لال سی جھانکتی ہوئی لال سرکھ چوت … جانےکسکےنسیب میں تھی اُسکی بلا کی سیکسی چوت। “اُئیئیئی مس …اتنی بڑی بڑی جھانٹیں… یہ تو رس سےبھیگ گئی ہیں …” “اُفف … دویا … جلدی سےچوسو نا …” اُسکی گیلی جھانٹوںسےمیرےھونٹھ گیلےھو گئے تھی। پھر میںنے اپنا منھاُسکی چوت میں جھانٹوںکےساتھ چھپا لیا। جیبھ نکال کر لپ لپ کرکےچاٹنےلگی। وہ مارےاُتتیجنا کےبسطح پر لوٹ لگانےلگی। تبھی اُسنےمجھےپلٹ کر دبا لیا اور اپنے نیچےمجھےدبا کر اَسہاےسا کر دیا। اُسکی بڑی سی چوت میری چھوٹی سی منیا کو اب زور سےرگڑ رہی تھی। میرا بھی اُتتیجنا کےمارےبرا حال ھو گیا تھا। مارےمزہ کےمیںبھی بیہال ہوئی جا رہی تھی। اُسکا بڑا سا جسم مجھےمسئلے جا رہا تھا। مجھےتو اپنی ٹیوشن کی فیس وسول ھو گئی تھی। اُسنےمیری چھوٹی چھوٹی چوچیاںدبا دبا کر مجھےبیہال کر دیا تھا। میںتڑپ اُٹھی تھی اور پھر میری چھوٹی سی چوت نےزور سےاپنا پانی چھوڑ دیا। اُسی وقت سینڈی مس کا بھی سارا جوش تڑپ کر باہر نکل پڑا اور زور سےجھڑ گئی। اَبھی بھی وہ میری ٹانگوںپر گھٹنےکےبل بیٹھی ہوئی تھی। اُسنےمیری گیندوںکو چھوڑ دیا , اُسکےچہرہ پر پسینےکی بوندںاُبھر آئی تھی। اُسکےناک کےنتھنےزور جور سےفول اور پچک رہےتھی। “مس … اب اُترو تو …” مس میرےاُوپر سےاُترتےھیہ بولی – دویا بیبی … بڑا ھوتا تو سالےکا لنڈ چوت میں گھسا لیتی। … اُفف… کیسےبولی تھی وہ ! “چھی : مس … اُسکا تو چھوٹا سا ھوگا …” “بیبی , چدوا کےدکھیگی … تیرا باےفرینڈ ہے نا … ذرا چدوا کےتو دیکھ …” “مس … مجاک کر رہی ھو … میںاور وشال…” “تیرےپیچھےتو وہ اپنا لنڈ لئیےگھوم رہا ہے … کل اُسکا لنڈ گھسوا کےدیکھنا … مس… کیسا ھوگا ? جب لنڈ پورا بڑا ھو جاتا ہے نا تو لڑکا چودنےکےلئیےکتتےکی طرح سےلڑکیوںکےپیچھےحصہتا ہے।” “مس آپ تو بس … کچھ بھی بول دتی ہے … ایسی تھوڑےھی نا ھوتا ہے …” دوسرےدن … میںتو وقت سےپہلےھی مس کےگھر پہنچ گئی , اُسےلگا کہ آج پھر سےکوئی مستی ھوگی। مس تو کچھ کرنےکےموڈ میں تو تھی ھی। اُسنےمجھسےایک محبت خط لکھوایا اور بڑا کےآتےھی سینڈی مس بولی … “وشال کونگریچلیشن…” “کس بات کا مس …?” “ئی لو لیٹر فور یو فروم دویا بیبی …” یہ کہانی آپ اَنترواسنا ڈاٹ کانم پر پڑھ رہےہیں। وشال کی بانچھےکھل اُٹھی। اُسنےجھپٹ کر وہ خط لےلیا। اُسنےمجھےآنکھیںفاڑ کر دکھا … میںبڑی سیکسی سٹائیل سےبڑا کو مسکرا کر دیکھنے لگی। “اَب تم دونوںمیرےبیڈروم میں جاؤ اور سویٹ سویٹ باتیںکرو … ھم تم دونوںکےلئیےکچھ لاتا ہے।” مس نےمجھےاور بڑا کو بیڈروم میں چلےجانےکو کہا اور مجھےآنکھ مار دی। مطلب یہ تھا کہ میںبڑا سےچدوا لون। میرےتو ھاتھ – پانو فولنےلگے , شرم سی آنےلگی। جیسےھی مس نےدرواجا بند کیا … بڑا نےاپنی باہیںفیلا دی। “آئی لو یو دویا …” میںتو شرم سےجمین میں گڑ سی گئی। دوسرےھی پل میںبڑا کی باہوںمیں تھی। اُسکا لنڈ فول کر سکھت ھو گیا تھا। اُسنےمجھےبیتہاشا چومنا شروع کر دیا تھا। مجھےبھی نشا سا آنےلگا تھا। کتنےوقت سےمیںاس پل کاانتجار کر رہی تھی। میںنے بھی فیشمال میں اُسےچومنا شروع کر دیا تھا। اُسنےمیرےستن دبانےشروع کر دئیے تھی। میںاُتتیجنا میں بہ نکلی تھی। مجھےسب کچھ بہت لبھاونا لگ رہا تھا। اُسکا ایک ھاتھ میری چوت کو بھی دبانےلگ گیا تھا। میںنے بھی اپنی چوت کو اُبھار کر اُسکےھاتھوںسےسہلوانےلگی تھی। میری فراک کو اُسنےاُوپر کر دی تھی। اُسنےجلدی سےمیری فراک اُتار دی। مجھےکچھ نہیںسوجھا تو میںنے بھی اُسکی جینس کےبٹن اور جپ کھول کر اُسےڈھیلی کر دی تھی , پھر باقی کام اُتارنےکا اُسی نےکر دیا تھا। پھر کمیج بھی اُتار فینکی। بس میرےجسم پر چڈڈی ھی تھی। اُسنےتو چڈڈی بھی نہیںپہنی ہوئی تھی। وہ ننگا … اُفف کتنا موہک لگ رہا تھا , بلکل کسی کامدو کی طرح … میںنے اُسکا لنڈ دکھا تو چؤنک پڑی।اتنا موٹا … اُففف … ایک دم گورا … سپاڑا کھلا ہوا گلابی سیدھا تنا ہوا। مس ٹھیک کہ رہی تھی … کہ ایک بار گھسوا کر دیکھ , مجا آ جایہگا। اُسنےمجھےدھیرےسےبسطح پر لیٹا دیا , میری چڈڈی دھیرےسےاُتار دی। پھر میرےاُوپر لیٹ گیا , مجھےاپنے نیچےدبا دیا। ھم دونوںپیار میں کھو چلےتھی। اُسکا کٹھور لنڈ میری نرم چوت کو سامنےسےٹھوکرےمار رہا تھا। “ایسی نہیں… ایسی …” مس کی آواج جیسےمیلوںدور سےآ رہی تھی। مس نےبڑا کا لنڈ میری چوت کو کھول کر درار میں فنسا دیا। پھر اُنہوں نے بڑا کےچوتڑوںپر پیار سےھاتھ فیرا اور اُسےمیری چوت پر دبا دیا। دھیرےسےاُسکا لنڈ میری بھیگی ہوئی چوت میں اُتر گیا। ایک تیز میٹھی سی ٹیس اُٹھی اور میری چوت نےاُوپر اُٹھ کر اُسکا لنڈ قبول کر لیا। ایک دو بار دباؤ سےاُسکا لنڈ میری چکنی چوت میں پورا اُتر گیا। میٹھا میٹھا سا اَہساس اندر تک سکھ دے گیا। میری آنکھیںبند ھو چلی تھی। بڑا میرےاُوپر چھا گیا تھا। اُسکےمدھر دھککےمجھےبھی چوت اُچھالنےکےلئیےپریرت کر رہےتھی। اب ایک تال میں ھم دونوںکمر چلا رہےتھی। مس بڑےپیار سےھم دونوںکو سہلا سہلا کر ھمےاُتساہت کر رہی تھی। “مس … آہہہ … بہت مزہ آ رہا ہے … پہلےکیوںنہیںبتایا …” “پہلےمن لگا کر چد تو لو … مجےتو لےلو … بڑا اب زور سےچود جرا…” وشال نےاپنی نجروںکو اُٹھا کر مس کو دکھا اور جوش میں آکر زور جور سےشاٹ لگانےلگا। میںاب چیکھ چیکھ کر اپنی خوشی کااجہار کرنےلگی تھی। خوب اچھے اَچچھے… مدھر سےشاٹ لگایہ اُسنی। اب تو میری نسےبھی کھنچنےلگی تھی। جسم اَکڑنےلگا تھا … اور پھر کچھ ھی وقت میں میںجھڑنےلگی تھی। بڑا بھی زور جور سےجھٹکےلگا کر اپنی اَبھلاشا پوری کر رہا تھا। پھر وہ بھی جھڑنےلگا تھا। سینڈی مس نےچدائی ختم ھونےپر ھم دونوںکو بدھائییاںدی اور مٹھائی کھلائی। پھر بورنوٹا ڈال کر گرم دودھ پلایا। مس نےھماری اس چدائی پر بہت خوشی جاہر کی , پھر کہا – بھئی بڑا … بیبی کو تو تمنےچود چود کر خوش کر دیا …پر میرا ٹیکس…? مجھےشرم آنےلگی। میںسمجھ گئی تھی وہ چدنےکو کہ رہی تھی। میںنے مس کی ترفداری کی। “وشال بھئییا … اب مس کا مطلب سمجھو … اُنہیںبھی ایک بریک چاہیہ।” “ششش… ش… بھئییا نہیںکہو…” “دھتت , میںتو بھئییا ھی کہونگی … ورنا لوگ کیا کہینگے!” مس ھنس پڑی – تو بڑا ٹیکس کا کیا ہوا…? “مس آپکی آجنا چاہیہ…بس…” “جرا دکھوںتو … جناب سویہ ھیہ ہے کہ ابھی بھی فڑفڑا رہےہیں…” مس نےبڑا کا لنڈ پکڑ لیا। اُسےتھامتےھی لنڈ فولنےلگا , کڑک ھونےلگا। مس بڑا کو کھینچ کر بسطح پر لےآئی। اُسنےپہلےاپنے چھوٹےچھوٹےکپڑےاُتار دئیے پھر خاتمہ میں اپنا ھاف پینٹ بھی کھینچ کر اُتار دیا। کالےکالےچمکیلےمممے… سیدھےتنےھیہ … سانولی سی گانڈ … دو گول گول موہک چوتڑ سڈؤل … ایک گہری چکنی کھائی درمیان میں। مس। تھوڑی سی جھکی – بڑا دکھو تو میری گانڈ …” آہہہ … دونوںمست گول چوتڑوںکےمدھےجھرریاںلئیےہیہ ایک گول سا چھید … گیلا گیلا سا … چمچماتا ہوا … بڑا کا من بربس ھی اُس طرف کھنچ چلا … اُسکی جیبھ نکلی اور اُسکےچھید پر چلنےلگی। مس گدگدی کےمارےمست ھونےلگی। بڑا نےمس کی گانڈ کو خوب چاٹا। مس بھی مزہ کےمارےنہال ھو اُٹھی। بڑا کو تو سینڈی مس کےبھرےھیہ گدرایہ جسم کا مزہ مل رہا تھا , وہ بہت ھی جوش سےاُسکا بدن دبا رہا تھا। اُسنےمس کی بڑی سی جھانٹوںبھری چوت دیکھی تو اُسکا من اُسےچاٹنےکےلئیےمچل اُٹھا। اُسنےاپنا چہرا تھوڑا سا جھکایا اور اؤر اُسکی گیلی جھانٹوںکو چاٹتا ہوا اُسکی کھلی ہوئی چوت تک پہنچ گیا। مس نےبھی اپنی ٹانگیںاور چؤڑی کر لی। اُسکی رس بھری فانک اندر سےئیکدم لال تھی। اُسکا دانا بھی بڑا تھا , چھوٹی سی چمڑی سےمارےجوش کےاُبھر کر باہر نکلا ہوا تھا। مس نےبڑا کو اب بسطح پر لیٹا دیا تھا। اُسکےکڑک لنڈ کو وہ اب چوس رہی تھی। بڑا کا لنڈ تو تن کر جیسےفٹا جا رہا تھا। میرےمنھمیں بھی پانی آ گیا اور ایک بار پھر سےچدنےخواہش بلوتی ھونےلگی। مس نےاب اپنا جسم تھوڑا سا اُٹھایا اور آگے جھک کر اپنی چوت کو اُسکےلنڈ کےسامنےکر دیا اور اُسےاپنی چوت سےسٹا لیا। “دویا … تو کیا دیکھ رہی ہے … مد کر نا…” میںنے بڑا کا لنڈ کا سپاڑا مس کی لال سرکھ چوت میں فنسا دیا। مس نےاپنی چوت اُوپر سےدبائی تو لنڈ اندر سرک گیا। مس کی منھسےایک میٹھی سی آہ نکل گئی। پھر تو بس مس نےاپنی طاقت سےاپنی چوت کو اُسکےلنڈ کو اَندر بیٹھا دیا। صرف دو تین دھککوںمیں لنڈ پورا اَندر سمیٹ لیا تھا। بڑا نےمس کےکالےکالےاور بھاری بوبےاپنے ھاتھوںسےدبا رکھےتھی। مس اب اُسکےاُوپر مردو کا آسان بنایہ ھیہ اپنی کوہنی پر آ گئی تھی اور بڑا کےمنھکو چومتےھیہ شاٹ لگانےلگی تھی। بڑا تو مارےمزہ کےنیچےسےاپنا لنڈ اُچھال رہا تھا। کمرےمیں گیلی چوت کی فچ فچ آواجیںتیز ھو گئی تھی। اُنکی آہیںاور سیتکاریںکمرےمیں گونجنےلگی تھی। میںیہ سب دیکھ کر تمتمانےلگی تھی। میںنے بھی بڑا کو چومنا شروع کر دیا تھا। میںاُسکا لؤڑا اپنی چوت میں گھسا لینا چاہتی تھی। پر ھاےخدا یہ کلوٹی اُسکا پیچھا چھوڑےتب نا مس نےتو زور جور سےچد کر اپنی خواہش پوری کر لی تھی। دونوںجھڑ کر خاموش ھو گئے تھی। “وشال … پلیج بس ایک بار مجھےاور چود دے … بڑی چدنےکی لگ رہی ہے।” میںنے بڑا سےونتی کی। “اوہہ دویا پلیج , مس نےتو مجھےپورا ھی نچوڑ دیا ہے … میری تو حالت دیکھ نا …” میںتو بس من مار کر رہ گئی। اب مجھےکل تک کاانتجار کرنا تھا। دوسرےدن میںوقت پر مس کےگھر پہنچ گئی تھی। پر بڑا میرےسےپہلےھی وہاںپہنچ گیا تھا اور بیڈروم میں مس کو چود رہا تھا। میںنے اپنا بیگ وہیںرکھ دیا اور اُنہیںچدائی کرتےھیہ دکھتی رہی। اُن دونوںکو جیسےمیری اُپصورتحال سےجیسےکوئی مطلب ھی نہیںتھا। مس چدائی پوری کرکےاُٹھ کر بیٹھ گئی। کپڑےوگیرہ ٹھیک سےپہن لئے اور کتابیںلےکر میز پر آ گئی। آج مس نےاپنے من سےبہت اچھا پڑھایا। پر فوراً پڈھائی کےبعد اُنہوں نے بڑا کو پھر سےپکڑ لیا اور چدنےکےلئیےبیڈروم میں چلی آئی , مجھےھل کرنےکےلئیےئیک ئیکسرسائیج دے دی। میںتو بس بڑا کاانتجار کرتی رہی کہ مس نپٹ جائے تو میںبھی ایک بار چدوا لون। پر بڑا مس کو چود کر بہت تھک جاتا تھا। اور زیادہ چودنےلائق ھی نہیںپتہ تھا। اب یہی سلسلا چل نکلا تھا। سینڈی مس بڑا سےخوب چدواتی اور میںبسانتجار ھی کرتی رہ جاتی। اَب تو مجھےمس سےاور بڑا سےکھیج سی آنےلگی تھی। میںسمجھ گئی تھی کہ مجھےموہرا بنا کر مس نےبڑا کو اپنے کبجےمیں لےلیا تھا اور میںتو بیچاری بس ترستی ھی رہ جاتی تھی। بڑا سےمیںکئی بار باہر بھی ملی پر وہ تو اب میرےسےنظر بھی چرانےلگا تھا। دھیرےدھیرےمیںنے بڑا سےناتا توڑ لیا تھا। مس سےٹیوشن بھی چھوڑ دی تھی। پریکشا کےبعد ایک دن بڑا مجھسےملا اور بولا – دویا , پلیج مجھسےبات کرو نا … اُسکےآواز میں دینتا تھی ! “اَپنی مس کےپاس جاؤ … خوب چودو اُسکو … جاؤ !!” اَب مجھےاس سے کوئی سروکار نہیںتھا। میںنے اب ایک دوسرےخوبصورت سےلڑکےسےدوستی کر لی تھی। “دویا , مس نےدوسرا لڑکا پٹا لیا ہے … مجھسےاُسکا جی بھر گیا ہے। وہ تو بہت متلبی نکلی।” “میںنے بھی روہن سےدوستی کر لی ہے , وہ مجھےکتنےپیار سےچودتا ہے , مجھےتو وہ بہت پیارا ہے।” وشال مجھےدکھتا ھی رہ گیا … مس نےاُسےکام میں مسئلہ فینک دیا تھا। میںنے نئی دوستی کر لی تھی। بڑا اَدھر میں لٹک سا گیا تھا। … پر ھاں , اُسکا اُداس چہرا اب بھی کبھی کبھی مجھےنظر آ جاتا تھا … مجھےدیا تو بہت آتی تھی … پر شاید وہ اسی قابل تھا…[/size:26lqws7s]

Share
Posted in Uncategorized
Article By :

Leave a Reply