دونوںکی لگائی – urdu font sex story

[size=150:r4zjt10b]اُسکےجانگھ خون سےلتھپتھ تھے. آنکھیںباہر کی طرف اُبال رہی تھی . جسم پر کپڑےکا ایک ریشا نہیںتھا . بور (چوت) سےخون ریس رہا تھا جو اب رکنےلگا تھا اور اُسکی ساسیںبھی رکنےلگی تھی . بدن نےایک آکھری جھٹکا لیا اور ٹھنڈا پڑ گیا . 17 – 18 سال سےاُپر کی نہیںتھی وہ . نینبو سمان چوچیاں , مانسل جانگھیں , پتلی کمر , ساولا رنگ , لنبےبال , ھوٹھ رسبھرے , کل ملکر چدائی کا پورا جگاڑ . اسی سوچ سےرنگا اور جگگا کےبدن میں ھوس کی آگ پانی اُٹھتی تھی اور لنڈ بیکابو ھو جاتا تھا . آج کےشکار نےکو – آپریٹ نہیںکیا ورنا شاید کل کا دن دیکھ لیتی . ئنکا لنڈ بھی صرف کمسن لڑکیوںکو ھی دیکھ کر کھڑا ھوتا تھا . 18 – 20 سال . اس سے اُپر پر تو یہ نظر بھی نہیںڈالتےتھے. جانےکتنےکتل , لوٹ – پاٹ , عصمت دری کئی تھےاُنہونے. رامپر , جو پھلواری شریپھ سے60 کلومیٹر دور ایک گااوںتھا , یہاںکےبیتاج بعدشاہ تھےوہ . لوکل پولسیوالوںسےاچھی ساٹھ گانٹھ تھی اسلئے اپنے گااوںکو چھوڑکےدوسرےگااوںمیں وارداتیںکرتےتھے. اَب تک قریب 40 – 50 لڑکیوںکو اپنے ھوس کا شکار بنا چکےھونگے. جسمےسے15 – 20 لڑکیوںکو توانہونےاپنی گھروالی بناکر کئی بچےبھی جنوایہ . 20 سال کی ھونےکےبعد اُنہےکوٹھےپےبیچ دتے. گااوںسے20 کلومیٹر دور جنگلوںمیں اُنکا مکان تھا . سانڑ جیسےبلیٹ پےجب نکلتےتو سب سڑک خالی کر دتے. 45 کی عمر کےآس – پاس ھونگےوہ اور کد قریب 6’5” , وزن ھوگا یہی کوئی 120 – 140 کلوگرام . گھنی مچھے , چؤڑا پہیلوانی ڈیل – ڈؤل , لنڈ قریب 10” لنبا اور 2 . 5” موٹا . ئنکی ایک خاصیت یہ تھی کی جو لڑکی تھوڑےسمجھانےپر اپنی مرجی سےاپنی آبرو لٹانےپر تیار ھو جائی اُسےیہ بڑےمجےسےچودتےتھےاور اپنے گھر پر بیوی بنا کےرکھتےتھے. ورنا , باکیوںکا وہی حال ھوتا جو 18 سال کی کملا کا ہوا تھا جسےیہ لوگ پھلواری کےگوویرمیںٹ ھائ سکول کی گیٹ سےاُٹھا لائی تھے. دوستو اب چلتےہیں اپنی کہانی کی میںکردار کےپاس جسکو آگے چل کر کلیگ کی درؤعہدےی بنا دیا گیا رانی 11تھ کلاس کی سٹوڈینٹ تھی جو پھلواری کےجلہا ھائ سکول میں پڑہتی تھی . 18 سال کی اُس اَنچئی جوانی میںاتنا رس تھا جو کسی بھی بھنورےکو پیاسا کر دے . چھوٹےتوتاپری عام کےآکر کی اُسکی چوچیوںپر وہ بھورا سا بڑا اَنگور اُسکی چھاتی کی شوبھا بڑہاتےتھے. گاند کےچھید تک لنبےبال اور بھرےبھرےنتنب . اُسکےھوٹھ موٹےتھےاور آنکھیںبڑی – بڑی . ساولےسےتھوڈا مند رنگ اور بھاری جانگھیں. 18 سال کی عمر میں بھی 25 سالا بدن . چہرہ کی ماسومیت ھی اُسےبس 14 – 15 کا احساس دتا تھا . 40 کلوگرام وزن کی وہ کمسن جوانی اپنا رس چھلکانےکو پوری طرح تیار تھی . سیکس کا کوئی علم نا تھا اُسےپر اپنے شرابی رککشےڈرائور باپ کو روز رات میں ما کےساتھ بسطح پےکھٹ – پٹ کرتےسنا تھا . اَبھی تک اُسکی ما نےاُسےبرا نہی پہننےدی تھی جسکی وجہ سےاُسکی گھنڈییاںاُسکےشرٹ یا پھراک پےسےکافی ظاہر ھوتی تھی . چوت پےایک بال تک نا تھا نا کسی نےکبھی اُسکےجوان بدن کو کبھی ٹچ تک کیا تھا . گریب گھر کی وہ لڑکی صبح گھر کا کام کرتی جب اُسکی ما دوسروںکےگھر کام کرتی . ما کےآنےکےبعد وہ دن میں حکومتی سکول جاتی . اُنہی دینو کی بات ہے جب ایک دن رانی کی سکول کی چھٹی ہوئی . قریب دوپہر کے4 بج رہےھونگےاور تیز بارش کی وجہ سےباہر بہت کم روشنی تھی . بارش بھیاتنی تیز کی ھاتھ کو ھاتھ نہی سوجھ رہا تھا . کریب آدھا گھنٹا ویٹ کرنےپر بھی جب بارش کم نا ہوئی تو اُسنےنکلنےکا فیصلہ کیا . آدھےگھنٹےکا پیدل سفر تھا اُسکےگھر تک کا . جوتےگیلےنا ھو جائی اسلئے اُسنےاُتار کر پلاسٹک کےتھیلےمیں ڈال لیا . بستا کندھےپر لٹکائی تیز بارش میں بھیگتےہوئے وہ نکل پڑی . اُسکےوائٹ کلر کا ٹی – شرٹ بھیگنےکی وجہ سےبدن پےچپک گیا تھا اور اُسکےاُبھاروںکو دکھانےلگا . وائٹ پھراک بھی کمر اور جانگھوںپےچپک مندرجہ ذیل تھی . رنگا – جگگا سکول کےآگے کےٹرن پےاپنی بلیٹ پےبھیگتےبیٹھےتھے. 2 ہفتے سےاُنکےلنڈ نےپانی نہیںچھچوڑا تھا اسلئے آج اُنکا پارٹی کا دن تھا . جب رانی اُنکےباجو سےگجر رہی تھی تو رنگا نےلپک کر اُشےپیچھےسےدبوچ لیا اور سٹارٹ بلیٹ پر جگگا کےپیچھےبیٹھ گیا . اُسکی ھتھیلی رانی کےموہ پر تھی اور اُسکا بدن اُن دونو کےدرمیان میں . رانی کےجوتےاس اَچانک ہوئے حملے میں وہی گر گیا اوراتنی جلدی میں اُسےکچھ سمجھ تک نا آیا .[/size:r4zjt10b]

Posted in Uncategorized
Article By :

Leave a Reply