بارش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔best story of the month of may 2015‎

Share

بارش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیلو دوستو کیسے ہو آپ ۔۔؟ سب مزے سے گزر رہی ہے دوستو جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میرے پاس باوا آدم کے زمانے کا ایک بائیک ہے جو چلتا کم ہے اور مجھے پیدل زیادہ چلاتا ہے اس لیئے میں بائیک پر اکثر پیدل مارچ زیادہ کرتا ہوا پایا جاتا ہوں ۔۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی عرض ہے کہ ویسے تو بائیک بڑے مزے کی سواری ہے لیکن کبھی کی س اس پر مشکلیں بھی پیش آتیں ہیں ۔۔ خاص کر جب طوفانی بارش ہو رہی ہو تو۔۔۔۔۔ اس وقت ۔۔۔ چند انچ سےبھی آگے کچھ نظر نہیں آتا اور بائیک والا خاص کر اس وقت خود کر بڑا کوستا ہے ۔۔ تو دوستو یہ سٹوری بھی انہی طوفانی بارش کے دنوں کی ہے پڑھ کر اپنی رائے سے ضرور نوازنا کہ آ پ کو کیسی لگی ۔۔۔
ایک دن کی بات ہے کہ میں گھر سے آفس جانے کے لیئے نکلا تو اس وقت آسمان پر ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے چنانچہ گھر سے نکلتے وقت میں نے ایک نظر آسمان کی طرف دیکھا اور ہلکے بادل دیکھ کر ان پر کوئی خاص توجہ نہ دی اور بائیک کو کک مار ۔۔۔کر ۔۔سوری ۔۔اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ میری بائیک پہلی کک پر تو اس وقت بھی اسٹارٹ نہیں ہوتی تھی کہ جب یہ نئی نئی ہمارے حبالہء دام میں آئی تھی(سیکنڈ ہینڈ لی تھی) ۔۔ سو بائیک کوککیں مار مار کر جب ہمارا دایاں پاؤں شل ہو گیا اور جب دل سے خود بخود بائیک ایجاد کرنے والے کے لیئے گالیاں نکلنا شروع ہو گئیں تو میں خوش ہو گیا کہ یہ اس بات کی نشانی تھی کہ اب بائیک اسٹارٹ ہونے کے قریب آ پہنچا ہے ۔۔۔ اور پھروہی ہوا ۔۔ کہ جب میں نے اپنا بچا کھچا زور لگا تے ہوئے بائیک اور اس کے ساتھ ساتھ بائیک کو ایک موٹی سی گالی ۔دیکر ۔ کک ماری ۔۔۔۔ تو۔۔۔ ۔۔۔پھٹ پھٹ کرتی ہوئی میری پھٹ پھٹی اسٹارٹ ہو گئی اور بندہ خود کہ یہ کہتا ہوا بائیک پر سوار ہو گیا کہ آج واپسی پر مستری کو ضرور دکھاؤں گا ۔ اوردفتر کی طرف چل پڑا ۔۔
ابھی میں گھر سے تھوڑی ہی دور گیاتھا کہ اچانک وہ ہلکے ہلکے بادل گھنگھور گھٹا میں تبدیل ہوگئے اور پھر یکا یک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی اور یہ مینہ اتنی تیزی سے برسنے لگا کہ مجھے سامنے سے سوائے موسلا دھار بارش کے کچھ دکھائی نہ دینے لگا ۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اپنی پھٹ پھٹی کی سپیڈ مزید آہستہ کی اور سوچنے لگا کہ اب کیا کروں؟ پھر میں نے ادھر ادھر دیکھ کر غور کیا تو مجھے یاد آیا کہ یہاں پاس ہی ہمارے ایک نہایت ہی قریبی عزیزوں کا گھر ہے اور جن عزیز کی میں بات کر رہا ہوں ان کا نام جاوید اقبال تھا اور ان کے دو بچے تھے ایک لڑکا اسد جو کہ میٹرک کا سٹوڈنٹ تھا اور دوسری ۔۔۔ جی جی ۔۔دوسری ان کی بیٹی کہ جس کا نام نازیہ تھا اور وہ ایم اے ہسٹری کر کے فارغ تھی اور گھر کے کاموں میں اپنی ماما کا ہاتھ بٹاتی تھی ۔۔۔ ۔۔۔ بڑی خوبصوت اور دلکش لڑکی تھی وہ اور اس کی خاص بات یہ تھی کہ وہ سمائلنگ فیس تھی ۔۔۔ اور اس کی یہی مسکراہٹ تھی کہ جس نے بڑوں بڑوں کو گھائل کیا ہوا تھا اور ان بڑے بڑے ناموں میں ۔۔۔۔ایک نکا سا میں بھی تھا ۔۔۔سمال کراکری چھوٹا بھانڈا۔۔ہاں تو میں آپ کو نازیہ کے بارے میں بتا رہا تھا ۔۔۔کہ ۔نازیہ ایک لمبے قدکی دودھیا گوری لڑکی تھی اور اس کے سینے پر بڑے بڑے ۔۔۔۔۔ابھار ۔۔۔۔ روز ہی ہم جیسوں کی نیت کو خراب کرتے تھے ۔۔اور اس کے ان بڑےبڑے مموں کی ایک خاص بات اس کے نوکیلے نپلز تھے جو عموماً اس کی ٹائیٹ فٹنگ قمیض میں سے صاف چھپتے بھی نہیں تھے اور نظر بھی آتے تھے اور یہ نوکیلے اور گلابی مائل نپلز اب بھی جب یاد کرتا ہوں تو میرے نیچے کچھ ہلچل سی مچ جاتی ہے ۔۔

بیل کے جواب میں مسزز جاوید نے دروازہ کھولا اور مجھے دیکھتے ہی ان کے چہرے پر ایک مہربان مسکراہٹ ابھری اور وہ بڑی شفقت سے کہنے لگیں ۔۔۔ارے۔۔۔آج یہ چاند کدھر سے نکل آیا ۔۔ پھر جیسے ہی ان کی نظریں میرے بھیگے بدن پر پڑیں تو وہ ایک دم چونک گئیں اور بولیں ۔۔۔اوہ۔۔۔او۔۔۔۔ بیٹا تم تو بُری طرح سے بھیگ گئے ہو ۔۔جلدی سے اندر آ جاؤ ۔۔۔ اور خود ایک طرف ہٹ گئیں جیسے ہی میں اندر داخل ہوا تو ۔۔۔۔ تو انہوں نے فورا ً ہی اپنی بیٹی (نازیہ ) کو آواز دی نازیہ۔۔۔۔ ادھر آؤ۔۔۔اور پھر انہوں نے وہیں سے دوبارہ آواز لگائی اور کہنے لگیں ۔۔۔ بیٹا جلدی سے بھائی کے کپڑے لے آؤ ۔۔ اور پھر مجھ سے بولیں ۔۔ ایسا کرو کہ پہلے تم کپڑے تبدیل کر لو ۔۔۔اتنے میں ، میں تمھارے لیئے چائے لیکر آتی ہوں ۔۔ اسی دوران نازیہ بھی کمرے میں داخل ہو گئی اور مجھے دیکھ کر بولی ۔۔۔ اوہو ۔۔ بھائی آپ تو بُری طرح سے بھیگ چکے ہو ۔۔۔۔پھر بولی آپ ایسا کروکہ باتھ روم میں بھائی کا نائیٹ پاجامہ ٹنگا ہے وہ پہن لیں اور یہ بھیگے کپڑے آپ مجھے دےدیں کہ میں ان کو استری کر کے سکھا دیتی ہوں ۔

نازیہ کی بات سُن کر میں جلدی سے واش روم میں گھس گیا اور اس کے بھائی کا نائیٹ پاجامہ شرٹ پہنا اور اور اپنے گیلے کپڑے لیکر باہر آ گیا ۔۔۔۔ نازیہ کمرے کے باہر میرا انتظار کر رہی تھی ۔۔ جیسے ہی میں واش روم سے باہر آیا اور اس کی نظریں مجھ پر پڑی ۔۔۔ پہلے تو وہ ٹھٹھک گئی ۔۔۔اور پھر وہ بڑے زور سے ہنسے لگی ۔۔۔۔ پھر اچانک پتہ نہیں اسے کیا یاد آیا کہ ایک دم سے اس کا دودھیا چہرے لال ہو گیا ۔۔۔۔۔ ادھر میں حیرانی سے اسے تکے جا رہا تھا کہ پتہ نہیں اس لڑکی کو کیا ہو گیا ہے ۔۔ ابھی میں اسی شش و پنج میں تھا کہ اس نےاپنا منہ دوسری طرف کیا اور اپنے ہاتھ سے میرے نیچے کی طرف اشارہ کیا۔۔اور اب جو میں نے ۔ اس کی ڈائیریکشن میں اپنے نیچے کی طرف دیکھا تو ۔۔۔ میں نے دیکھا کہ میرا پہنا ہوا پاجامہ نیچے سے سارا پھٹا ہوا تھااور میرا بڑا سا لن ٹٹوں سمیت پاجامے سے باہر نکلا ہوا تھا یہ دیکھ کر میں فوراً ہی واپس واش روم میں گھس گیا اور نازیہ کو کہا کہ مہربانی کر کے مجھے اسد کا کوئی دوسرا پاجامہ لا دو ۔۔۔ اس نے میری بات سنی اور بولی ۔۔۔اوکے آپ اندر ہی رہنا میں لے کر ابھی آئی ۔۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد اس نے واش روم کے دروازے پر دستک دی میں نے دروازہ کھول کر صرف سر باہر نکالا اور اس نے جلدی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور بنا کچھ کہے اسد کا ایک اور پاجامہ مجھے تھما کر چلنے لگی تو پیچھے سے میں نے اسے آواز دیکر کر شرارت بھرے لہجے میں پوچھا کہ ۔۔۔ یہ تو ٹھیک ہے نا ؟؟؟۔۔ میری بات سُن کر اس نے مُڑ کر میری طرف دیکھااور مسکرا کر بولی ۔۔۔جی۔۔۔ یہ ٹھیک ہے اور پھر باہر بھاگ گئی۔۔۔ میں نے جلدی سے پاجامہ تبدیل کیا اور باہر آ کر دیکھا تو مسزز جاوید کھڑی تھیں ۔۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگیں ۔۔لو بیٹا چائے تیار ہے۔۔۔ تم چائے پی لو اتنے میں نازیہ تمھارے کپڑوں کو سکھا کر لے آتی ہے۔۔ میں کرسی پر بیٹھ گیا اور چائے پینے لگا اور اس کے ساتھ ساتھ مسزز جاوید کے ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ بھی لگاتا رہا ۔۔ اسی دوران نازیہ بھی میرے کپڑوں کو سکھا کر لے آئی تھی ۔۔۔۔ اور میرے سامنے کپڑے رکھ کر وہ بھی بیٹھ گئی اور ہماری گپ میں شامل ہوگئی ۔۔ باتوں باتوں میں اچانک مسزز جاوید نے اپنےسر پر ہاتھ مارا اور بولی ۔۔۔ ایہہ لو ۔۔ میں تو بھول ہی گئی تھی کہ۔۔۔ میں نے ہانڈی چھو لہے پر رکھی ہوئی ہے ۔اور پھر اُٹھتے ہوئے بولیں میں چلوں کہ ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری ہانڈی جل گئی ہو اور پھر وہ تقریباً بھاگتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئی ۔

Share
Posted in Uncategorized
Article By :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *